ایمرجنسی نمبر پر بیکار کالیں

زیک

تکنیکی معاون
ایمرجنسی فون نمبر کا مقصد کسی ایمرجنسی کی صورت میں مدد ہوتا ہے اس کے لئے امریکہ میں 911 ہے تو برطانیہ میں 999 اور پاکستان میں پولیس کے لئے 15۔

مجھے یاد ہے کہ ایک ڈیڑھ سال پہلے میری تین سالہ بیٹی نے فون کے ساتھ کھیلتے ہوئے 911 ڈائل کر دیا۔ دس منٹ میں گھر کی گھنٹی بجی۔ دروازہ کھولا تو پولیس والا کھڑا تھا اور پوچھ رہا تھا کہ خیریت ہے 911 کو کال آئ تھی۔

مگر مجھے پاکستان میں ایمرجنسی نمبر کے بارے میں‌ یہ خبر پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔

خبر کے مطابق لاہور میں پچھلے سال ایمرجنسی نمبر 15 پر 96 لاکھ کالیں کی گئیں۔ یعنی روزانہ 26 ہزار کالیں، گھنٹے میں 1100 کالیں اور ہر سوا تین سکینڈ‌ میں ایک کال۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ اس کی وجہ حالات کی خرابی تھی تو نہیں ایسا نہ تھا اگرچہ لوگوں‌ نے پولیس کو خودکش دھماکوں سے متعلق بھی جھوٹی کالیں کیں۔ ان 96 لاکھ کالوں میں سے صرف 52,486 یعنی آدھ فیصد صحیح ایمرجنسی کالز تھیں۔ اتنی زیادہ prank کالز کے نتیجے میں پولیس کے لئے صحیح ایمرجنسی پر توجہ دینا کتنا مشکل ہو جاتا ہے اس کا اندازہ شاید ان لوگوں کو نہیں ہے۔
 

زیک

تکنیکی معاون
سزا تو ملنی چاہیئے مگر اتنی زیادہ کالز ہیں تو یہ کافی لوگوں کا کام ہو سکتا ہے۔ لہذا سزا کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ باور کرانے کی بھی ضرورت ہے کہ اس ایمرجنسی نمبر کا کیا مقصد ہے اور ان کی کالوں سے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
شوقیا کرتے ہیں یہ لوگ اس قسم کی کالیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ فائر بریگیڈ کو بھی بہت سےلوگ شوقیا کالیں کرتے تھے۔
 

بلال

محفلین
جناب یہاں تو لوگ ایمرجنسی نمبر پر کال کر کے آگے سے کہتے ہیں
"ہائے رے میرا دل، چرا لے گیا، چرانے والا میرا قاتل" اب آپ نے اس قاتل کو پکڑنا ہے۔۔۔
آپ خود اندازہ کریں لوگوں کا حال یہ ہے تو پولیس کیا کرے؟؟؟
 

جہانزیب

محفلین
کئی دفعہ تو میں‌ سوچتا ہوں‌ پتہ نہیں‌ یہ حماقت کب ختم ہو گی ۔ آپ یو ٹیوب پر پاکستان لکھ کر سرچ کریں‌ تو ایسی کئی کالز فون کمپنیوں‌ کو کی جاتی ہیں‌ ، اور فخر سے پھر آگے تشہیر کی جاتی ہے، بلکہ ایک بندے تو تو انت ہی چکی ہوئی ہے، شائد اسکائپ کے ذریعے دنیا میں‌ موجود فون ڈڑائکٹریز میں سے نام ڈھونڈ‌ کر کال کر دیتے ہیں‌ ۔ جب میں‌ کراچی تھا تو اس وقت ڈائل پیڈ‌ نام کی سروس تھی امریکہ مفت کال کرنے کے لئے، اور میں‌ گھر اس کے ذریعے کال کرتا تھا سائبر کیفے سے ، وہاں‌ نمبر کمپیوٹر میں‌محفوظ ہو جاتا تھا، جو کئی جیالے فون کھڑکانے لگے، اور بعض‌ اوقات تو یہاں‌ رات کے تین بجے ہوتے تھے اور فضول کال ملا دی جاتی تھی، خیر اس کا جلد پتہ چل گیا، اور میں‌ نے سدباب کر لیا ۔
 

تعبیر

محفلین
شروع شروع میں جب یہ سروس شروع ہوئی تھی تو مین نے سنا تھا کہ لوگوں نے انہیں فون کر کے اپنے گھروں کے کام بھی کروائے تھے یہ کہ کر کہ پولیس کا فرض مدد آپکی اور ہمارے گھر کوئی مرد نہیں تو ہمارا یہ کام کر دیں۔ اسکے بعد بہت پہلے ٹی وی پر شاید 90z میں میں نے سنا تھا کہ اب یہ سروس چارجز پر ہو گئی ہے۔۔۔
 

arifkarim

معطل
پرینک کالز یا فضول کال معاشرے کی ایک لعنت ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی جنگلی کے ہاتھ میں فون تھما دیا جائے۔ دوسرا چکر عوام کی فرصت کا بھی ہے کہ کیا انکے پاس پرینک کالز کے علاوہ اور کوئی کام نہیں؟
 

شمشاد

لائبریرین
پرینک کالز یا فضول کال معاشرے کی ایک لعنت ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی جنگلی کے ہاتھ میں فون تھما دیا جائے۔ دوسرا چکر عوام کی فرصت کا بھی ہے کہ کیا انکے پاس پرینک کالز کے علاوہ اور کوئی کام نہیں؟

ہمارے ہاں ایسے لوگ ہیں جن کے پاس فضول کام کرنے کے لیے وقت کے علاوہ پیسہ بھی ہے۔ اصل بات ہے معاشرتی ذمہ داری کی، جو یہ خواتین و حضرات اپنی معاشرتی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔
 

شمشاد

لائبریرین
بات امریکہ کے حل کی نہیں ہو رہی، بات ہو رہی ہے ایمرجنسی نمبر کی۔

امریکہ میں آپ کے موبائیل میں سم کارڈ ہو یا نہ ہو، آپ کے موبائیل کو قفل لگ گیا ہو، آپ اسے کسی بھی طرح استعمال نہ کر سکتے ہوں، پھر بھی اس سے ایمرجنسی نمبر پر فون ہو جاتا ہے۔ یہ ہے عوام کو سہولت دینے کا ایک طریقہ۔

اور پاکستان میں جو فون کالز ہوئیں ہیں، وہ ہے انتظامیہ کو تنگ کرنے کا ایک طریقہ۔
 
Top