ایطائے خفی کو کیسے پہچانا جائے؟

محمد ریحان قریشی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 16, 2016

  1. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اس موضوع پر آتے ہی کتابوں والے دانا اور بینا کی مثال دے کر بغیر وضاحت کے موضوع بدل لیتے ہیں.
    حیراں ہوں دل کو رؤوں یا پیٹوں جگر کو میں
    مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
    کیا اس شعر میں ایطا ہے اگر نہیں تو کیا تمام غزل کے قوافی میں گر نہیں آنا چاہیے تھا؟
    اور
    سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
    ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
    اس میں تو مرزا یاس کے اصول کے حساب سے ایطائے جلی ہے . ہندو اور گل دونوں با معنی الفاظ ہیں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,207
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ہم تم ایسا کریں تو ایطا ہے، غالب اور اقبال کریں تو واہ واہ!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,254
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    یہ ایطائے خفی کی مثال ہے جسے جائز شمار کیا جاتا ہے

    یہاں بھی دونوں قافیوں کو دیکھا جائے تو ایک قافیہ واحد لفظ جگر ہے جب کہ دوسرا قافیہ نوحہ گر ہے جو کہ ایک ترکیب ہے دونوں میں صرف ایک حرف گاف کی تکرار ہے محض۔ جو اتنی نمایاں نہیں اس لیے اسے بھی ایطائے خفی میں شمار کیا جائےگا۔ ہاں اگر دونوں مصرعوں میں کچھ ایسا قافیہ ہوتا جیسے دولت مند اور حاجت مند تو یہ دونوں تراکیب ایطائے جلی کی طرف اشارہ کرتی
    صرف ہم معنی الفاظ ہونا ایطا کی نشانی نہیں ۔ گلستاں اور ہندوستاں ہم معنی کی جو بات آپ نے کی اس کا مدعا کچھ اور ہے وہ یہ کہ ایک ہی لفظ دونوں مصرعوں میں قافیہ کیا جائے اور معنی بھی ایک باندھا جائے یہاں لفظ ایک نہیں بلکہ دو الگ الگ لفظ ہیں ان کے معنی ایک ہونا بھی دور کی کوڑی ہے کہ ہندوستاں ایک ملک کا نام ہے اور اگر ملک کا نام نہ بھی ہوتا تو بھی یہ ایک الگ لفظ ہے۔ ہاں اگر دونوں مصرعوں میں ایک سا قافیہ جیسے گلستاں ہی استعمال کیا جاتا اب چونکہ معنی بھی ایک ہی اور لفظ بھی ایک تو یہ یاس کی تائید ہوتی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جناب میں نے ہم معنی نہیں با معنی کہا تها. جیسے درد مند اور حاجت مند سے مند خارج کر دیا جائے تو حاجت اور درد دو با معنی الفاظ بچتے ہیں. جو کہ ایطاے جلی کی نشانی ہے بقول یاس . اسی طرح گلستاں اور ہندوستاں سے ستاں جو کہ مشترک ہے خارج کیا جائے تو ہندو اور گل با معنی الفاظ بچتے ہیں جن میں حرف روی مشترک نہیں ہے اس لیے یہ بهی ایطائے جلی میں شمار
    ہونا چاہیے.
     
    • متفق متفق × 3
  5. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    یہی تو "کمال" ہے صاحب! اور یہی "سببِ زوال" بھی ہے اگر دیکھا جائے! مگر ہمارے پاس تاویلات کے ڈھیر ہیں، جس ناک کو چاہے موم کی بنا دیں اور جسے چاہے فولاد کی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,254
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
    غالب

    اگر یہ ایطا "کبھی کبھار" غالب کے لیے جائز ہے تو میرے لیے بھی کبھی کبھار جائز ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  7. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بڑے بڑے قافیہ پیما گزرے جنهوں نے بہت احتیاتیں کیں مگر
    غالبے نکتہ داں سے کیا نسبت
    خاک کو آسماں سے کیا نسبت
     
    • زبردست زبردست × 1
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,278
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    غالبِ نکتہ داں ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,792
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    یہی بات بغیر کاٹا لگائے کہہ دی ہوتی بھائی عاطف۔:)
     
  10. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,792
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    اب سے یہ سب بکھیڑے ختم! آج تمام قوافی آزاد ہو کر رہیں گے۔ :pissed-off:
     
  11. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    موبائل کی بوڑڈ پر زبر زیر ڈالنا مجهے نہیں آتا اس لیے معذرت خواہ ہوں.
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,341
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    ریحان بھائی ! اقبال کےمطلع میں ایطائے جلی موجود ہے ۔ آپ نے ایطائے جلی معلوم کرنے کے جس طریقے کا ذکر کیا ہے وہ بالکل درست ہے ۔ ایطائے جلی عموما تبھی واقع ہوتا ہے جب مطلع کے قوافی مرکب الفاظ پر مشتمل ہوں ۔ یعنی ان میں کوئی لاحقہ موجود ہو جیسے اقبال کے محولہ بالا شعر میں ستاں کا لاحقہ ۔ یا جیسا کہ آ پ نے حاجت مند اور دردمند کی مثال دی ۔ اس عیب کو جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ایک بڑا عیب ماناگیا ہے کیونکہ اس عیب کی وجہ سے مطلع میں حرفِ روی کا تعین ہی نہیں ہوپاتا جبکہ مطلع میں حرفِ روی کا اعلان قافیہ قائم کرنے کے لئے بنیادی شرط ہے ۔ اس کی مزید تفصیل اس ربط پر دیکھ لیجئے ۔

    http://www.urduweb.org/mehfil/threads/خواب-آنکھوں-میں-کئے-ایسے-کسی-نے-روشن.87718/

    غالب کے مطلع میں ایطائے خفی ہے ۔ ایطائے خفی کو ایک عیب گردانا گیا ہے ۔ ایطائے خفی قافیہ کی تمام شرائط کو پورا کرتا ہے یعنی ان دونوں قوافی میں حرفِ روی کا اتحاد اور اعلان موجود ہوتا ہے چنانچہ غزل کے بقیہ اشعار کے لئے قافیہ درست طریقے سے قائم ہوجا تا ہے ۔ لیکن دونوں قوافی میں حرفِ روی سے پہلے ایک یا ایک سے زیادہ حروف کی تکرار نظر آتی ہے ۔ جس کے باعث قاری کو یہ گمان گزرتا ہے کہ اب آنیوالے شعر میں روی کے ساتھ ان تمام ماقبل حروف کی تکرار بھی لازمی ہوگی ۔ جبکہ درحقیقت یہاں حرفِ روی کے علاوہ اور کسی ماقبل حرف کی تکرار ضروری نہیں ۔ مثال کے طور پر پاگل ، ہلچل ، بوجھل، آنچل ، بیکل تمام ہم قافیہ حروف ہیں جن کا حرفِ روی لام ہے ۔ لیکن اگر آپ مطلع میں ہلچل اور آنچل کو قوافی بنالیں تو یہاں ایطائے خفی کا عیب واقع ہوجائے گا ۔ اب قاری توقع کرے گا کہ آئندہ قوافی میں حرفِ روی لام کے ساتھ ماقبل چ کی پابندی بھی ضروری ہے حالانکہ ایسی کوئی پابندی نہیں ۔ چنانچہ غزل کے بقیہ اشعار میں پاگل ، بوجھل اور دلدل کے قوافی دیکھ کر قاری کے ذہن میں ایک خلجان سا رہے گا کہ یہ قوافی ہلچل اور آنچل کی صوتی حالت پر پورا نہیں اترتے ۔ اسی لئے ایطائے خفی کو ایک عیب مانا گیا ہے ۔

    ایطائے خفی کی ایک دوسری مثال دیکھئے ۔ احسان ، دہقان ، بے جان ، درمان ، انسان ، شیطان ، ریحان سب کے سب ہم قافیہ ہیں جن کا حرف روی نون ہے ۔ نوٹ کیجئے کہ اس حرفِ روی سے ماقبل الف موجود ہے ۔ (حرفِ روی سے پہلے آنے والے حرفِ علت الف، واؤ اور یائے کو اصطلاح میں حرفِ ردف کہا جاتا ہے اور روی کے ساتھ حرفِ ردف کی پابندی بھی ہر قافیے میں لازم ہوتی ہے )۔ لیکن اگر مطلع میں انسان اور احسان کے قوافی استعمال کر لئے جائیں تو ایطائے خفی کا عیب واقع ہوجائے گا ۔ یعنی بظاہر یوں معلوم ہوگا کہ اب بقیہ تمام قوافی کے آخر میں سان کے حروف آنا لازمی ہیں حالانکہ ایسا کرنا ضروری نہیں ۔ صرف الف اور نون کی تکرار لازمی ہے ۔ یہی چھوٹا سا عیب (خفی) غالب کے مطلع میں موجود ہے ۔ جگر اور نوحہ گر درست قوافی ہیں لیکن حرفِ روی سے پہلے گ کی تکرار سے ایطائے خفی کا عیب درآیا ۔

    بھائی ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اساتذہ کے لئے عروضی قوانین اور ہیں اور ہم جیسوں کے لئے اور تو یہ بات بالکل بھی درست نہیں ہے بلکہ کسی غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ عروضی قوانین سب کے لئے برابر ہیں ۔ بلا استثناء ہر شاعر کی شاعری میں کچھ عیوب پائے جاتے ہیں ۔لسانی و عروضی لحاظ سے بھی اور محاسنِ کلام کے اعتبار سے بھی ۔ یہ عیوب کسی کی شاعری میں بہت کم کسی میں زیادہ اور کسی مین بہت زیادہ ہیں ۔ اور ان اغلاط اور عیوب کا تناسب ہی اچھے اور برے شاعر کو ممیز کرتا ہے ۔ اساتذہ کے کلام میں لسانی اور عروضی عیوب بہت کم ملیں گے اور اانہیں اساتذہ کہنے کی ایک وجہ یہی ہے ۔ لیکن کسی استاد کی غلطی ہمارے لئے حجت اور دلیل کا درجہ نہیں رکھتی ۔ دلیل اور حجت صرف اور صرف وہی اصول ہیں جنہیں بحیثیت مجموعی تمام اساتذہ اورعلمائے فن کی عملی تائید حاصل ہے ۔ اساتذہ کے ہزاروں لاکھوں اشعار میں سے دو چار اشعار میں کسی عیب کا پایا جانا ایک استثناء کو ظاہر کرتا ہے دلیل اور حجت نہیں بن سکتا ۔ ایک اور بات غور کرنے کی یہ بھی ہے کہ یہ اساتذہ پیدائشی طور پر اساتذہ نہیں تھے ۔ یہ بھی ہماری طرح اکتساب اور پختگی کے تمام مراحل سے گزرے ہیں ۔ ہر استاد کا کلام شروع سے آخر تک ایک جیسی پختگی اور کمالِ فن کا حامل نہیں رہا ۔ یہ عام بات ہے کہ اکثر اساتذہ اپنے اولین ادوار کا کلام بعد میں ضائع کردیا کرتے تھے ۔ ( یہ الگ بات کہ اب محققین اس رد کئے ہوئے کلام کو بھی اکثر کہیں نہ کہیں سے ڈھونڈ نکالتے ہیں اور وہ شائع ہوجاتا ہے )۔ اگر اساتذہ کی غلطیوں کو بھی اپنے لئے حجت اور دلیل بنا لیا جائے تو میں شرطیہ کہتا ہوں کہ پھر کسی قسم کا کوئی عروضی یا لسانی مسئلہ باقی ہی نہیں رہے گا ۔ ہر چیز جائز قرار پائے گی ۔ میر و غالب کے ہاں تو رکاکت آمیز اور ابنذال سے بھرپور مضامین بھی مل جائیں گے۔ عطار کے لونڈے اور بھوں پاس آنکھ والے اشعار کو اگر دلیل بنالیا جائے تو شعریت اور جمالیات کی تعریف ہی بدل جائے گی ۔ وغیرہ وغیرہ۔ حاصلِ کلام یہ کہ اساتذہ کی خطائیں ہمارے لئے حجت اور دلیل کا درجہ نہیں رکھتیں ۔ صرف یہ ثابت کرتی ہیں کہ بے عیب کلام کسی بشر کا نہیں ۔ عیبِ تنافر کس استاد شاعر کے ہاں نہیں ؟ لیکن پھر بھی ہمیں حتی الامکان اس سے بچنا چاہیئے ۔ بحیثیت طالبانِ علم و ادب ہمارا کام یہ ہے کہ ان عیوب سے جتنا ممکن ہوسکے بچا جائے ۔ اگر نہ بچ سکیں تو کوئی تھانہ پولس کی نوبت نہین آجائے گی ۔ کوئی شہر بدر نہین کرے گا ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اہلِ علم ان عیوب کی نشاندہی ضرور کریں گے اور اسی سنجیدہ نقد و نظر سے جہاں کلام کی ادبی حیثیت متعین ہوتی ہے وہیں شاعر کے کلام میں بہتری بھی پیدا ہوتی ہے ۔
     
    • زبردست زبردست × 8
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  13. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی محفلین

    مراسلے:
    6,852
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اللہ آپ کا بھلا کرے؛ آپ نے بہت عمدہ پیرائے میں بہت اصولی بات کر دی! بہت سی دعائیں!
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر