اٹھائے کون حجاباتِ شاہد و مشہود - از اختر حسین جعفری

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 8, 2007

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اختر حسین جعفری کی طویل نظم "آئینہ خانہ" سے ایک اقتباس

    اٹھائے کون حجاباتِ شاہد و مشہود
    کہاں کسی پہ طلسم ِ پس ِ نگاہ کھلا

    بتائے کون کہ کاغذ کی سطح ِ خالی پر
    بغیرحرف بھی نقطہ وجود رکھتا ہے

    وہ قتل گاہ کہاں ہے جہاں پہ لفظوں نے
    فراق ِ حسن ِ تمنّا میں خود کشی کرلی

    ہجوم ِ راہگزر منتظر ہے کس کے لیے
    سحر ہوئی تو در ِنیم وا پہ قفل پڑا

    چلی صبا تو پہاڑوں نے راستہ نہ دیا
    جواں ہوئیں تو گھروں سے نہ لڑکیاں نکلیں
     
  2. زرقا مفتی

    زرقا مفتی محفلین

    مراسلے:
    3,591
    جھنڈا:
    Pakistan
    بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ زرقا صاحبہ! نظم کا یہ اقتباس کافی دن سے پوسٹ کیا ہوا تھا لیکن شائد کسی کو پسند نہیں‌ آیا سوائے آپ کے- میں آپ کے ذ وق کی داد دیتا ہوں-
     

اس صفحے کی تشہیر