آدھی نہیں ، پوری نقل کیجئے

محمداحمد

لائبریرین
تبدیلی نہیں آئے گی

یہ نقل نہیں بلکہ بالکل اصل ہے کہ پاکستانی عوام کا المیہ ہے کہ ہم سیاسی لیڈرز کو صرف اپنا آئیڈیل ہی نہیں بلکہ اپنا پیر و مرشد مان لیتے ہیں
طرفہ تماشا یہ کہ ہمارے خیال میں پیر و مرشد سے غلطیاں نہیں ہوتیں بلکہ پیر و مرشد تو انسان سے ماورا کوئی ہستی ہوتا ہے
جب تک ہم اپنے سیاسی لیڈرز اور آئیڈیلز کو انسان تسلیم نہیں کریں گے

تبدیلی نہیں آئے گی

اچھی بات ہے۔

"تبدیلی نہیں آئے گی " سے تیار کردہ بریکٹس بھی اچھے ہیں۔ :)
 

فرحت کیانی

لائبریرین
صرف بجلی کی بات نہیں، ہم لوگ ہر جگہ صرف اس وقت بچت یا اصول کی پابندی کا سوچتے ہیں جہاں ہماری ذاتی منفعت شامل ہو۔
بجلی کا بل سرکار کی جیب سے جانا ہے یا خاندان کے کسی اور فرد کی جیب سے تو کوئی فکر نہیں۔ لیکن خود دینا ہو تو ہر بات کا خیال رکھتے ہیں۔ اسی طرح اپنے گھر کی صفائی بہت ضروری ہے لیکن وہی کچرا کوڑے دان کے اندر پھینکنے کی بجائے سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہماری زمین نہیں۔ بڑے بڑے لوڈ علاقوں میں بھی یہی حالات ہیں کہ مین ایریا میں گندگی کا ڈھیر لگا ہے اور گھروں کو دیکھیں تو شیشے کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں۔
وجہ ہمارے اندر احساس ذمہ داری کو بچپن سے ہی فروغ نہ دینا ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
صرف بجلی کی بات نہیں، ہم لوگ ہر جگہ صرف اس وقت بچت یا اصول کی پابندی کا سوچتے ہیں جہاں ہماری ذاتی منفعت شامل ہو۔
بجلی کا بل سرکار کی جیب سے جانا ہے یا خاندان کے کسی اور فرد کی جیب سے تو کوئی فکر نہیں۔ لیکن خود دینا ہو تو ہر بات کا خیال رکھتے ہیں۔ اسی طرح اپنے گھر کی صفائی بہت ضروری ہے لیکن وہی کچرا کوڑے دان کے اندر پھینکنے کی بجائے سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہماری زمین نہیں۔ بڑے بڑے لوڈ علاقوں میں بھی یہی حالات ہیں کہ مین ایریا میں گندگی کا ڈھیر لگا ہے اور گھروں کو دیکھیں تو شیشے کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں۔
وجہ ہمارے اندر احساس ذمہ داری کو بچپن سے ہی فروغ نہ دینا ہے۔

درست بات ہے۔

بچپن سے ہی احساس ذمہ داری کو فروغ دینا والدین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن چونکہ والدین خود ہی اسے اہمیت نہیں دیتے سو بچوں کی تربیت میں بھی یہ بات شامل نہیں ہو پاتی۔

خشتِ اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
 

نسیم زہرہ

محفلین
ایک اور صاحب سے میری دیرینہ شناسائی ہے جنہوں نے دوسروں کی زندگیوںکو جہنم بنا کر اپنی زندگی کو جنت بنا رکھا ہے۔ یہ صاحب ریٹائرڈ ہیڈ کلرک ہیں اور لاہور کے ایک نواحی گائوں میں رہتے ہیں۔ ضلع کچہری کے پاس انہوں نے ایک کمرہ کرائے پر لے رکھا ہے۔ ان کا واحد شوق لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمے دائر کر کے انہیں تھانوں اور عدالتوں میں خوار کرنا ہے۔ وہ زیادہ تر مقدمے لاہور سے باہر کے لوگوں پر کرتے ہیں، دو چار سال بعد یہ مقدمہ خارج ہو جاتا ہے لیکن ان دو چار برسوں میں بیچارا ملزم لاہور کے پھیرے لگا لگا کر اپنے علاقے میں ’’بھائی پھیرو‘‘ مشہور ہو جاتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ ان صاحب سے پوچھا ’’آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ’’بولے‘‘ پولیس کے غریب اہلکاروں، وکیلوں کے منشیوں اور عدالتوں کے درجہ چہارم کے مظلوم ملازموں کے گھروں کا چولہا مجھ ایسے دردمند لوگوں ہی کی وجہ سے جلتا ہے۔ میں تو سوچتا ہوں اگر میں فوت ہوگیا تو ان بے چاروں کا کیا بنے گا؟

عطا ء الحق قاسمی
 

جاسمن

لائبریرین
بہت اچھا موضوع ہے اور تحریر بھی زبردست ہے۔ گھروں میں ایسی تربیت اب کم ہوتی جارہی ہے۔
صرف بجلی ہی نہیں ہمیں اپنے سب وسائل کی حفاظت کرنی چاہیے۔ کوشش کریں کہ کوئی چیز ضائع نہ ہو۔
گھر میں ہوں یا اداروں میں، کوشش ہوتی ہے کہ فالتو بتیاں اور دیگر چیزیں بند کر دی جائیں۔ صبح کی سیر کے دوران تو کھمبوں پہ بھی بٹن ڈھونڈ ڈھانڈ کے بند کرتی جاتی ہوں۔ بینک کے باہر لگے بلب۔
ایک مرتبہ تو مجھے خاصا غصہ آیا کہ صبح کافی دیر ہوچکی تھی اور ایک گھر کا باہر کا بلب روشن تھا۔
اب سوچوں تو ہنسی آتی ہے۔ بچے میرے ساتھ تھے۔ روکتے رہے لیکن میں نے گھنٹی بجا ہی دی۔ ایک بچہ باہر نکلا تو اسے کہا کہ اپنا بلب بند کریں۔
ایک فزیوتھیراپسٹ کے کلینک میں جانا ہوا کئی بار تو ساری روشنیاں، پنکھے چلتے ہیں۔ انہیں ٹوکا تو کہنے لگے کہ مریض آتے رہتے ہیں۔ انہیں حدیث بھی سنائی لیکن۔۔۔۔
خالی بوتلیں ، ردی، اور اسی طرح کی چیزیں ایک بوری میں ڈالتی رہتی ہوں۔ جب وہ بھر جائے تو ماسی سے کہتی ہوں کہ بیچ لے۔ اخبارات کی اچھی ردی تو میں اپنے ادارے کو دے دیتی ہوں۔ کہ اگر کبھی بھولے سے/غلطی سے وہاں کی کوئی چیز استعمال کر لی تو معاملہ کچھ بہتر ہوجائے۔
جب میں کنٹرولر امتحانات تھی تو پرچوں کی ردی میں آیات وغیرہ کے صفحات علیحدہ کر کے باقی دونوں طرف لکھے صفحے ردی میں بیچ کے پیسے ادارہ کے اکاؤنٹ میں ، ایک طرف سے خالی اور دوسری طرف سے لکھے صفحات ایسے طلباء کو سٹیپل کر کے دے دیے جاتے جو بہت ضرورت مند ہوتے اور ان کے پاس رف کاپی بھی نہ ہوتی۔ اور دونوں طرف سے خالی صفحات اگلے امتحانات کی ضروریات کے لئے رکھ لئے جاتے۔
گھر میں بچ جانے والی ادویات کبھی ضائع نہیں کرتی۔ مہنگی ہوں یا سستی۔ الحمداللہ ہسپتال کو جاتی ہیں۔ کوئی آلہ اگر اب کام نہیں آرہا۔ ہسپتال جاتا ہے۔ بچے بہت سی کتابیں اپنے سکول و جماعت کی لائبریری کو دیتے ہیں۔
فالتو کتابیں، کاپیاں، پینسلیں اور دیگر سٹیشنری کسی نہ کسی کو دے دی جاتی ہے۔ ہمارے گھر میں الحمداللہ کوئی چھوٹا ہؤا یونیفارم یا جوتا نہیں نظر آئے گا۔ موسم بدلا اور چھوٹے ہوئے کپڑے دے دیے گئے۔
ایمی کپڑے نکالو جو تم نہیں پہن رہیں۔ محمد ان میں سے کون سے کپڑے اب تم نے نہیں پہننے۔
مجھے ہنسی آتی ہے دیکھ کے کہ گھر میں بچے جو صفحات ایک طرف سے لکھ کے چھوڑتے ہیں۔۔۔میں وہ بھی سنبھال کے رکھ لیتی ہوں۔
 

جاسمن

لائبریرین
ایک حدیث کے مطابق۔
"اگر تم بہتی ہوئی ندی کے کنارے پہ بھی بیٹھے ہو، تب بھی پانی کا ضیاع مت کرو۔"
 

جاسمن

لائبریرین
پہلے تو مجھے اتنا نہیں پتہ تھا لیکن جب میں نے یہ حدیث پڑھی تو اسے پانی کے ساتھ ساتھ دیگر چیزوں پہ بھی منطبق کیا۔
تب تو پانی کی کمی کے بارے یہ خوفناک اعدادوشمار بھی نہیں پڑھے تھے۔
تب سے وضو کرتے بھی اگر کُلّی کے لیے پانی لیا تو ٹونٹی بند کر دی۔ دانت صاف کرتے ہوئے بھی پانی چلتا نہیں رہنے دیا۔ برتن دھوتے پانی بند کر کے برتن پہ صابن لگایا۔ پھر پانی سے کنگھال کے پانی بند کر دیا۔ کوشش کی کہ پانی کم سے کم استعمال ہو۔
 
پہلے تو مجھے اتنا نہیں پتہ تھا لیکن جب میں نے یہ حدیث پڑھی تو اسے پانی کے ساتھ ساتھ دیگر چیزوں پہ بھی منطبق کیا۔
تب تو پانی کی کمی کے بارے یہ خوفناک اعدادوشمار بھی نہیں پڑھے تھے۔
تب سے وضو کرتے بھی اگر کُلّی کے لیے پانی لیا تو ٹونٹی بند کر دی۔ دانت صاف کرتے ہوئے بھی پانی چلتا نہیں رہنے دیا۔ برتن دھوتے پانی بند کر کے برتن پہ صابن لگایا۔ پھر پانی سے کنگھال کے پانی بند کر دیا۔ کوشش کی کہ پانی کم سے کم استعمال ہو۔
پانی کے استعمال پر کافی آگہی دینے کی ضرورت ہے۔
مساجد میں کھلے نلکوں کے بجائے بٹن والے نلکے استعمال کرنے چاہئیں۔
گھروں میں شاور کے استعمال کے بجائے یا تو بالٹی کے استعمال کو دوبارہ فروغ دیا جائے یا پھر ہینٖڈ شاور استعمال کیے جائیں، جو پریس کرنے پر ہی آن ہوتے ہیں۔
اسی طرح گاڑی، فرش وغیرہ دھونے کے لیے بھی نلکے سے ڈائریکٹ دھونے کے بجائے بالٹی بھر کر استعمال کی جائے۔
اگر کوئی نلکا خراب ہو جائے اور قطرہ قطرہ پانی بہتا ہو تو فوراً تبدیل کریں۔

اور بھی نکات شامل ہو سکتے ہیں۔
 

La Alma

لائبریرین
صبح کی سیر کے دوران تو کھمبوں پہ بھی بٹن ڈھونڈ ڈھانڈ کے بند کرتی جاتی ہوں
کیا سٹریٹ لائٹس کے سوئچز کھمبوں پر لگے ہوتے ہیں؟
جب میں کنٹرولر امتحانات تھی تو پرچوں کی ردی میں آیات وغیرہ کے صفحات علیحدہ کر کے باقی دونوں طرف لکھے صفحے ردی میں بیچ کے پیسے ادارہ کے اکاؤنٹ میں ، ایک طرف سے خالی اور دوسری طرف سے لکھے صفحات ایسے طلباء کو سٹیپل کر کے دے دیے جاتے جو بہت ضرورت مند ہوتے اور ان کے پاس رف کاپی بھی نہ ہوتی۔ اور دونوں طرف سے خالی صفحات اگلے امتحانات کی ضروریات کے لئے رکھ لئے جاتے۔
یہ ادارے کی پالیسی میں شامل تھا یا آپ رضاکارانہ طور پر یہ سب کرتی تھیں۔ امتحانی پرچوں میں سے پھاڑے گئے خالی صفحات سے کیا واقعی اگلے امتحانات کے لئے جوابی کاپیاں بنائی جاتی تھیں؟
 

نسیم زہرہ

محفلین
بہت اچھا موضوع ہے اور تحریر بھی زبردست ہے۔ گھروں میں ایسی تربیت اب کم ہوتی جارہی ہے۔
صرف بجلی ہی نہیں ہمیں اپنے سب وسائل کی حفاظت کرنی چاہیے۔ کوشش کریں کہ کوئی چیز ضائع نہ ہو۔
گھر میں ہوں یا اداروں میں، کوشش ہوتی ہے کہ فالتو بتیاں اور دیگر چیزیں بند کر دی جائیں۔ صبح کی سیر کے دوران تو کھمبوں پہ بھی بٹن ڈھونڈ ڈھانڈ کے بند کرتی جاتی ہوں۔ بینک کے باہر لگے بلب۔
ایک مرتبہ تو مجھے خاصا غصہ آیا کہ صبح کافی دیر ہوچکی تھی اور ایک گھر کا باہر کا بلب روشن تھا۔
اب سوچوں تو ہنسی آتی ہے۔ بچے میرے ساتھ تھے۔ روکتے رہے لیکن میں نے گھنٹی بجا ہی دی۔ ایک بچہ باہر نکلا تو اسے کہا کہ اپنا بلب بند کریں۔
ایک فزیوتھیراپسٹ کے کلینک میں جانا ہوا کئی بار تو ساری روشنیاں، پنکھے چلتے ہیں۔ انہیں ٹوکا تو کہنے لگے کہ مریض آتے رہتے ہیں۔ انہیں حدیث بھی سنائی لیکن۔۔۔۔
خالی بوتلیں ، ردی، اور اسی طرح کی چیزیں ایک بوری میں ڈالتی رہتی ہوں۔ جب وہ بھر جائے تو ماسی سے کہتی ہوں کہ بیچ لے۔ اخبارات کی اچھی ردی تو میں اپنے ادارے کو دے دیتی ہوں۔ کہ اگر کبھی بھولے سے/غلطی سے وہاں کی کوئی چیز استعمال کر لی تو معاملہ کچھ بہتر ہوجائے۔
جب میں کنٹرولر امتحانات تھی تو پرچوں کی ردی میں آیات وغیرہ کے صفحات علیحدہ کر کے باقی دونوں طرف لکھے صفحے ردی میں بیچ کے پیسے ادارہ کے اکاؤنٹ میں ، ایک طرف سے خالی اور دوسری طرف سے لکھے صفحات ایسے طلباء کو سٹیپل کر کے دے دیے جاتے جو بہت ضرورت مند ہوتے اور ان کے پاس رف کاپی بھی نہ ہوتی۔ اور دونوں طرف سے خالی صفحات اگلے امتحانات کی ضروریات کے لئے رکھ لئے جاتے۔
گھر میں بچ جانے والی ادویات کبھی ضائع نہیں کرتی۔ مہنگی ہوں یا سستی۔ الحمداللہ ہسپتال کو جاتی ہیں۔ کوئی آلہ اگر اب کام نہیں آرہا۔ ہسپتال جاتا ہے۔ بچے بہت سی کتابیں اپنے سکول و جماعت کی لائبریری کو دیتے ہیں۔
فالتو کتابیں، کاپیاں، پینسلیں اور دیگر سٹیشنری کسی نہ کسی کو دے دی جاتی ہے۔ ہمارے گھر میں الحمداللہ کوئی چھوٹا ہؤا یونیفارم یا جوتا نہیں نظر آئے گا۔ موسم بدلا اور چھوٹے ہوئے کپڑے دے دیے گئے۔
ایمی کپڑے نکالو جو تم نہیں پہن رہیں۔ محمد ان میں سے کون سے کپڑے اب تم نے نہیں پہننے۔
مجھے ہنسی آتی ہے دیکھ کے کہ گھر میں بچے جو صفحات ایک طرف سے لکھ کے چھوڑتے ہیں۔۔۔میں وہ بھی سنبھال کے رکھ لیتی ہوں۔

بہترین، اس سے صرف آپ کو اجرو ثواب ہی نہیں مل رہا یا یہ کام بچت کا باعث ہی نہیں بن رہے بلکہ آپ کے بچوں کی بھی بہترین تربیت ہو رہی ہے
 

جاسمن

لائبریرین
کیا سٹریٹ لائٹس کے سوئچز کھمبوں پر لگے ہوتے ہیں؟

یہ ادارے کی پالیسی میں شامل تھا یا آپ رضاکارانہ طور پر یہ سب کرتی تھیں۔ امتحانی پرچوں میں سے پھاڑے گئے خالی صفحات سے کیا واقعی اگلے امتحانات کے لئے جوابی کاپیاں بنائی جاتی تھیں؟
سٹریٹ لائٹس کے بٹن عموما (ہمارے یہاں) کھمبوں پہ لگے ہوتے ہیں اور ان تک ہاتھ لے کے جاتے وقت ڈر بھی لگتا ہے۔
ادارے کی پالیسی نہیں ہے۔ رضاکارانہ طور پہ اور امتحانات کے چند سالوں بعد والے۔
خالی صفحات جوابی کاپیوں کے لیے نہیں، دیگر کاموں کے لئے استعمال ہوتے تھے۔
 

ام اویس

محفلین
ان باتوں کی تربیت گھر اور تعلیمی ادارے سے ہی ممکن ہے ۔ ماں باپ اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں جواب دہی کا احساس پیدا کریں ۔
تربیت کے لیے سب سے اہم بات کہ الله کے سامنے حساب دینا ہے اس بات کا شعور اجاگر کیا جائے ورنہ کسی بات کا ڈر چیزوں کو بے دردی اور لاپرواہی سے ضائع کرنے سے روک نہیں سکتا ۔
الله سبحانہ وتعالی کی عطا کردہ تمام نعمتیں جو ہم استعمال کرتے ہیں ان کا حساب ہر ایک کو اپنا اپنا خود ہی دینا ہوگا وہ نعمت مادی شکل میں ہو ، کسی سہولت کی شکل میں ہو یا کسی صلاحیت کی شکل میں ۔
کیونکہ نعمت کے صحیح استعمال اور فضول ضیاع پر صرف ایک ہی ہستی گرفت کر سکتی ہے جو ظاہر وباطن سے خوب واقف ہے ، نیت و ارادے اور ہر عمل سے باخبر ہے
 

جاسمن

لائبریرین
سنٹرل لائبریری میں تو گرمیوں میں ہر وقت پنکھے چلتے ہیں اور لائیٹیں بھی جلتی رہتی ہیں۔ انھیں احساس دلایا۔ خود بھی بند کیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آگیا (چیکنگ پہ )تو سوچے گا کہ یہاں کوئی نہیں آتا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
سنٹرل لائبریری میں تو گرمیوں میں ہر وقت پنکھے چلتے ہیں اور لائیٹیں بھی جلتی رہتی ہیں۔ انھیں احساس دلایا۔ خود بھی بند کیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی آگیا (چیکنگ پہ )تو سوچے گا کہ یہاں کوئی نہیں آتا۔

اچھا!

یہ بھی خوب کہی۔ :)
 
Top