اُن کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا - صبا لکھنوی

فرخ منظور

لائبریرین
اُن کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا
رُندھ گیا، پِس گیا، مٹی ہوا، پامال ہوا

دشت وحشت کا علاقہ مجھے امسال ہوا
داغ سودا، صفتِ نیّرِ اقبال ہوا

اس بکھیڑے سے الٰہی کہیں چھٹکارا ہو
عشقِ گیسو نہ ہوا، جان کا جنجال ہوا

نظرِ لطف نہ کی تو نے مرے رونے پر
طفلِ اشک اے مہِ خوبی نہ خوش اقبال ہوا

ہیں وہ صوفی جو کبھی نالہء ناقوس سنا
وجد کرنے لگے ہم، دل کا عجب حال ہوا

پڑگیا ان پہ مرے پیچ میں لانے کا وبال
کیا پریشان ترے گیسوؤں کا حال ہوا

دولتِ فقر ہو اے منعمو اور کملی ہو
فخر کیا ہے جو دوشالہ ہوا، رومال ہوا

اپنی قسمت کا نوشتہ جو دکھایا ہم نے
حشر کے روز غلط نامہء اعمال ہوا

آسماں نے مجھے محرومِ شہادت رکھا
تیغِ قاتل کے لیے بختِ سیاہ ڈھال ہوا

لوگ کہنے لگے "کندن پہ چڑھا ہے مینا"
سبزہء خط سے وہ خوش رنگ ترا گال ہوا

تیغِ حسن اے گلِ تر ہوگئی خون آلودہ
مجھ پہ غصے میں ترا منہہ جو بہت لال ہوا

طائرِ دل کے لیے آپ نے صیّادی کی
رشتہء دامِ بلا، زلف کا ہر بال ہوا

لامکاں تک کہیں‌ ٹھہرا نہ مرا پائے خیال
مزرع سبز فلک بیچ میں پامال ہوا

اے صبا آپ رعایت نے کرے لفظوں کی
زرِ گل پایا جو گلچیں نے تو کیا مآل ہوا

(میر وزیر علی صبا لکھنوی)
 
Top