فلک شیر

محفلین
جانے والے نے کہا جی کو برا مت کیجے
اس سے بہتر ہے کوئی اور محبت کیجے

تو جو ہر بات پہ دیتا ہے پرندوں کی مثال
اس کا مطلب ہے، ترے شہر سے ہجرت کیجے​
 

فلک شیر

محفلین
عشق ہی کارِ مسلسل ہو گیا
زندگی کا مسئلہ حل ہو گیا

میرے آنسو میرے اندر ہی گرے
رونےسے جی اور بوجھل ہو گیا

آسماں پہلے نہیں تھا بے ستوں
لیکن اب دستِ دعا شل ہو گیا

گھومتا پھرتا ہے تنہا رات کو
سردیوں کا چاند پاگل ہو گیا​
 

فلک شیر

محفلین
یہ جو اس سے مجھے محبت ہے
اک ضرورت بلا ضرورت ہے

اپنی تعریف سن نہیں سکتا
خود سے مجھ کو بلا کی وحشت ہے

یہ مرا یوں ہی بولتے رہنا
ان کہی بات کی وضاحت ہے

اپنی تلوار تیز رکھتا ہوں
جانے کس سے مجھے عداوت ہے

دکھ ہوا آج دیکھ کر اس کو
وہ تو ویسا ہی خوبصورت ہے

بات ابھی کی ابھی نہیں ہے یاد
ایک لمحے میں کتنی وسعت ہے​
 

فلک شیر

محفلین
اس کا مطلب ہے یہاں اب کوئی آئے گا ضرور
دم نکلنا چاہتاہے خیر مقدم کے لیے

اس خزاں میں بھی وہی کاغذ کے پرزے جوڑ کر
اک شجر میں نے بنایا اپنے موسم کے لیے​
 

فلک شیر

محفلین
یہ جان کر کہ بالآخر تو مجھ کو گرنا ہے
میں خستگی کو چھپاتا رہا مکاں کی طرح

مرے ہی گھر میں مرا معتبر حوالہ ہے
کہیں نہیں ہے کوئی سچ بھی میری ماں کی طرح​
 

فلک شیر

محفلین
تہمت اتا ر پھینکی لبادہ بدل لیا
خود کو ضرورتوں سے زیادہ بدل لیا

جب دیکھا رہزنوں کی توجہ نہیں ادھر
شہزادگی سے خرقہ سادہ بدل لیا​
 

فلک شیر

محفلین
اک دربدری ہم کو بھی لاحق ہے مگر ہم
کونجون کی طرح شور مچایا نہیں کرتے

یہ لوگ بھی قامت میں صنوبر کی طرح ہیں
اُگتے ہیں جہاں، وہاں سایہ نہیں کرتے​
 

فلک شیر

محفلین
دیکھا نہ جائے دھوپ میں جلتا ہوا کوئی
میرا جو بس چلے کروں سایہ درخت پر

سب چھوڑے جا رہے تھے سفر کی نشانیاں
میں نے بھی ایک نقش بنایا درخت پر​
 

فلک شیر

محفلین
آڑے آتی ہے یہ حساس طبیعت ورنہ
جی تو کرتا ہے یہاں روز تباہی آئے

راستہ اتنابھی ویراں نہیں دیکھا جاتا
کوئی خوشبو، کوئی جھونکا ، کوئی راہی آئے​
 
Top