عباس تابش انتخاب ِعباس تابش

فلک شیر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 11, 2014

  1. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    عباس تابش آج کی غزل کے نمائندہ شعراء میں سے ہیں۔آج ہی محمداحمد بھائی نے ان کے ایک مصاحبہ کا ربط ارسال کیا، تو سوچا کہ سال بھر قبل جو عباس تابش کی کلیات "عشق آباد" ڈھونڈی تھی، کیونکہ مدت سے شائع نہ ہوئی تھی ،اب اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئےتابش کے کلام میں سے پسندیدہ اشعار کو اکٹھا کیوں نہ کر دیا جائے۔ یہ اشعار مجھے کیوں پسند ہیں، بلکہ عباس تابش خود مجھے کیوں پسند ہے، اس کا جواب کسی اور مجلس کے لیے اٹھا رکھتے ہیں ، سر دست تو یہ اشعار ، نظمیں یا خال خال مکمل غزل ہی ملاحظہ فرمائیے۔
    سب سے پہلے حمدہے۔
    حمدیہ
    نہ صدا کا سمت کشا ہوں میں
    نہ ورق پہ میرا وجود ہے
    مرے حرف میں وہ چمک نہیں جو ترے خیال کی چھب میں ہے
    مرا انگ کیا مرا ڈھنگ کیا
    سرِ خامہ روح کادُود ہے
    یہی میرا رازِ شہود ہے
    میں شکست خوردہ خیال ہون مجھے آیتوں کی کمک ملے
    مجھے آگہی کی چمک ملے
    مجھے درسِ عبرت شوق دے
    مری انگلیوں کو پکڑ کے حرفِ جنوں پہ رکھ

    رہِ خواندگاں پہ مری کجی مری گمرہی کو بھی ڈال دے
    نہ قلم پکڑنے کا ڈھنگ ہے نہ ورق ہے میری بساط میں
    مرا منہ چڑاتی ہے لوحِ گل
    ابھی وہ ورق نہیں سامنے ترا پاک نام کہاں لکھوں
    کہ سپیدی صفحہ صاف کی مری آنکھوں میں ہے بھری ہوئی
    جہاں کوئی سطر ہے خواب کی نہ خرام موجہِ اشک ہے
    مجھے خوابِ خوش سے نواز دے کہ یہ چشمِ وا بھی عذاب ہے
    میں تہی نوا
    میں تہی ثنا
    میں لکھوں گا کیا؟
    مگر اے خدا مری پوٹلی میں جو تیرے دھیان کی جوت ہے
    یہی رت جگا مرا مال ہے
    یہی مال مرا کمال ہے

    عباس تابش
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 11, 2014
    • زبردست زبردست × 10
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کھڑی ہیں رہ میں دُرودوں کی ڈالیاں لے کر
    یہ مدحتیں ہیں کہ ہیں بچیاں مدینے کی
     
    • زبردست زبردست × 8
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    نہ جانے کون مرا کھو گیا ہے مٹی میں
    زمیں کریدتی رہتی ہیں انگلیاں میری
     
    • زبردست زبردست × 8
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    سن رہا ہوں ابھی تک میں اپنی ہی آواز کی بازگشت
    یعنی اس دشت میں زور سے بولنا بھی اکارت گیا
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ثبت کر اور کوئی مہر مرے ہونٹوں پر
    قفلِ ابجد سے نہیں بند ہوا باب مرا

    جس قدر آئی فراخی مرے دل میں تابش
    اتنا ہی تنگ ہوا حلقہ احباب مرا
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    پہلے تو چوپال میں اپنا جسم چٹختا رہا تھا
    چل نکل جب بات سفر کی پھیل گئی اعصاب میں چپ


    اب تو ہم یوں رہتے ہیں اس ہجر بھرے ویرانے میں
    جیسے آنکھ میں آنسو گم ہو جیسے حرف کتاب میں چپ
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    پہنچے تو سبھی بارگہِ حسن میں لیکن
    جلدی کوئی آیا کوئی تاخیر سے پہنچا
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    دستک نے ایسا حشر اٹھایا کہ دیر تک
    لرزاں رہا ہے جسم بھی زنجیرِ درکے ساتھ
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    فقط مال و زر ِدیوار و در اچھا نہیں لگتا
    جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا
     
    • زبردست زبردست × 4
  10. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    راستے گم ہو رہے ہیں دھند کی پہنائی میں
    سردیوں کی شام ہے پھر اس کا چک آنے کو ہے
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شب کی شب کوئی نہ شرمندہ رخصت ٹھہرے
    جانے والوں کے لیے شمعیں بجھا دی جائیں
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    مرے حروفِ تہجی کی کیا مجال کہ وہ
    تجھے شمار میں لائیں ترا حساب کریں
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یہ آج شام بھی گزری کسی خیال کے ساتھ
    نہ اس سے ملنے گیا میں نہ اپنے گھر بیٹھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  14. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
    سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  15. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میں جب بھی دھوپ کے صحرا میں جا نکلتا ہوں
    وہ ہاتھ مجھ پہ دعا کا شجر بناتے ہیں
     
    • زبردست زبردست × 3
  16. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کہیں لالی بھری تھالی نہ گر جائے سمندر میں
    چلا ہے شام کا سورج کہاں آہستہ آہستہ


    مکیں جب نیند کے سائے میں سستانے لگیں تابش
    سفر کرتے ہیں بستی کے مکاں آہستہ آہستہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  17. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    قیدی بھی ہیں اس شان کے آزاد تمہارے
    زنجیر کبھی زلف سے بھاری نہیں رکھتے


    مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کارِ محبت
    آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  18. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کوئی روندے تو اٹھاتے ہیں نگاہیں اپنی
    ورنہ مٹی کی طرح راہ سے کم اٹھتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  19. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ادھوری نظم

    اندھیری شام کے ساتھی
    ادھوری نظم سے زور آزما ہیں
    برسرِ کاغذ بچھڑنے کو
    سنو.......تم سے دلِ محزوں کی باتیں کہنے والوں کا
    یہی انجام ہوتا ہے
    کہیں سطرِ شکستہ کی طرح ہیں چار شانے چت
    کہیں حرفِ تمنا کی طرح دل میں ترازو ہیں
    سنو......ان نیل چشموں سخت جانوں بے زبانوں پر
    جو گزرے گی سو گزرے گی
    مگر میں اک ادھوری نظم کے ہیجان میں کھویا
    تمہیں آواز دیتا ہوں
    کہ تنہا آدمی تخلیق سے عاری ہوا کرتا ہے
    جانِ من!
    سنو......میرے قریب آؤ
    کہ مجھ کو آج رات اک ادھوری نظم پوری کر کے سونا ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  20. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,302
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ویسے تو اس بت کے گھر کا فاصلہ اتنا نہیں
    دو قدم چلیے تو مرگِ ناگہاں ہے سامنے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر