انتخابِ کلامِ میر (دیوان اول)

477

طاقت نہیں ہے دل میں، نَے جی بجا رہا ہے
کیا ناز کر رہے ہو، اب ہم میں کیا رہا ہے

جیب اور آستیں سے رونے کا کام گزرا
سارا نچوڑ اب تو دامن پر آرہا ہے

کاہے کا پاس اب تو رسوائی دُور پہنچی
رازِ محبت اپنا کس سے چھپا رہا ہے

وے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سب
کس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے

اب چاہتا نہیں ہے بوسہ جو تیرے لب سے
جینے سے میر شاید کچھ دل اُٹھا رہا ہے​
 
478

تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے
میں کشتہ ہوں اندازِ قاتل کا اپنے

نہ پوچھو کہ احوال ناگفتہ بہ ہے
مصیبت کے مارے ہوئے دل کا اپنے

دلِ زخم خوردہ کے اور اک لگائی
مدوا کیا خوب گھائل کا اپنے

بِنائیں رکھیں میں نے عالم میں کیا کیا
ہوں بندہ خیالات باطل کا اپنے​
 
479

جب تک کہ ترا گزر نہ ہووے
جلوہ مری گور پر نہ ہووے

رونے کی ہے جاگہ آہ کریے
پھر دل میں ترے اثر نہ ہووے

بیمار رہے ہیں اُس کی آنکھیں
دیکھو کسو کی نظر نہ ہووے

کربے خبر اک نگہ سے ساقی
لیکن کسو کو خبر نہ ہووے

رکھ دیکھ کے راہِ عشق میں پا
یاں میر کسو کا سر نہ ہووے​
 
480

رات گزری ہے مجھے نزع میں روتے روتے
آنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے

کھول کر آنکھ اُڑا دید جہاں کا غافل
خواب ہو جائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے

جم گیا خوں کفِ قاتل پہ ترا میر زبس
اُن نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
 
481

یعقوب کے نہ کلبہء احزاں تلک گئے
سو کاروان مصر سے کنعاں تلک گئے

بارے نسیم صعف سے کل ہم اسیر بھی
سناہٹے میں جی کے گلستاں تلک گئے

کو موسمِ شباب، کہاں گُل، کسے دماغ
بلبل وہ چہچہے اُنھیں یاراں تلک گئے

کچھ آبلے دیے تھے رہ آوردِ عشق نے
سو رفتہ رفتہ خرِ مغیلاں تلک گئے

پھاڑا تھا جیب پی کے مئے شوق میں نے میر
مستانہ چاک لوٹتے داماں تلک گئے
 
482

جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مر گئے

صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیں
گویا متاعِ دل کے خریدار مر گئے

افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں
لگتے ہی اس کے ہاتھ کی تلوار مر گئے

تجھ سے دُچار ہونے کی حسرت کے مبتلا
جب جی ہوئے وبال تو ناچار مر گئے

گھبرا نہ میر عشق میں اس سہل زیست پر
جب بس چلا نہ کچھ تو مرے یار مر گئے​
 
483

تمام اُس کے قد میں سناں کی طرح ہے
رنگیلی نپٹ اُس جواں کی طرح ہے

(ق)

اُڑی خاک گاہے، رہی گاہ ویراں
خراب و پریشاں یہاں کی طرح ہے

تعلق کرو میر اس پر جو چاہو
مری جان یہ کچھ جہاں کی طرح ہے​
 
484

کہاں تک غیر، جاسوسی کے لینے کو لگا آوے
الٰہی اس بلائے ناگہاں پر بھی بلا آوے

تر آنا ہی اب مرکوز ہے ہم کو دمِ آخر
یہ جی صدقے کیا تھا پھر نہ آوے تن میں یا آوے

اسیری نے چمن سے میری دل گرمی کو دھو ڈالا
وگرنہ برق جا کر آشیاں میرا جلا آوے

بہ رنگِ بوئے غنچہ ، عمر اک ہی رنگ میں گزرے
میسر میر صاحب گر دلِ بے مدعا آوے​
 
485

اچھنبھا ہے، اگر چپکا رہوں مجھ پر عتاب آوے
وگر قصہ کہوں اپنا تو سنتے اس کو خواب آوے

بغل پروردہء طوفاں ہوں میں ، یہ موج ہے میری
بیاباں میں اگر روؤں تو شہروں میں بھی آب آوے​
 
486

حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے
سماجت اتنی بھی سب سے، کوئی خدا بھی ہے

مُوئے ہی جاتے ہیں ہم دردِ عشق سے یارو
کسو کے پاس اِس آزار کی دوا بھی ہے!

اُداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابلِ سیر
صنم کدے میں تو ٹک آکے دل لگا بھی ہے

یہ کہیے کیوں کے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب
لگے جو پھرتے ہیں ہم ، کچھ تو مدعا بھی ہے

ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیراہن میں ہوں
نگاہ غور سے کر، مجھ میں کچھ رہا بھی ہے!

جو کھولوں سینہء مجروح تو نمک چھڑکے
جراحت اُس کو دکھانے کا کچھ مزا بھی ہے

کہاں تلک شب و روز آہ دردِ دل کہیے
ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے

ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن
کہیں ہجوم سے اندوہ و غم کے جا بھی ہے

غمِ فراق ہے دُنبالہ گردِ عیشِ وصال
فقط مزہ ہی نہیں عشق میں، بَلا بھی ہے

جگر میں سوزنِ مژگاں کے تئیں کڈھب نہ گڑا
کسو کے زخم کو تُو نے کبھو سِیا بھی ہے

گزار شہرِ وفا میں سمجھ کے کر مجنوں
کہ اس دیار میں میرِ شکستہ پا بھی ہے​
 
487

صید افگنوں سے ملنے کی تدبیر کریں گے
اس دل کے تئیں پیش کشِ تیر کریں گے

فریادِ اسیرانِ محبت نہیں بے ہیچ
یہ نالے کسو دل میں بھی تاثیر کریں گے

دیوانگی کی شورشیں دکھلائیں گے بلبل
آتی ہے بہار اب ہمیں زنجیر کریں گے

رُسوائیِ عاشق سے تسلی نہیں خوباں
مرجاوے گا تو نعش کو تشہیر کریں گے

یارب وہ بھی دن ہووے گا جو مصر سے چل کر
کنعاں کی طرف قافلے شب گیر کریں گے

غصے میں تو ہووے گی توجہ تری ایدھر
ہرکام میں ہم جان کے تقصیر کریں گے

نکلا نہ مناجاتوں سے کام کچھ اپنا
اب کوئی خراباتی جواں، پیر کریں گے

بازیچہ نہیں میر کے احوال کا لکھنا
اس قصے کوہم کرتے ہی تحریر کریں گے​
 
489

جہاں میں روز ہے آشوب اُس کی قامت سے
اُٹھے ہے فتنہ ہر اک شوخ تر قیامت سے

مُوا ہوں ہو کے دل افسردہ رنجِ کلفت سے
اُگے ہے سبزہء پژ مردہ میری تُربت سے

تسلی اُن نے نہ کی ایک دو سخن سے کبھو
جو کوئی بات کہی بھی تو آدھی لکنت ہے

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور
کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انھیں کی دولت سے

یہ جہل دیکھ کہ اَن سمجھے میں اُٹھا لایا
گراں وہ بار جو تھا بیش اپنی طاقت سے

وہ آنکھیں پھیرے ہی لیتا ہے، دیکھیے کیا ہو
معاملت ہے ہمیں دل کی، بے مروت سے

جو سوچے ٹک تو وہ مطلوب ہم ہی نکلے میر
خراب پھرتے تھے جس کی طلب میں مدت سے​
 
490

رمق ایک جانِ وبال ہے، کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے
دلِ داغ گشتہ کباب ہے ، جگر گداختہ آب ہے

مرے خلق محوِ کلام سب، مجھے چھوڑتے ہیں خموش کب
مرا حرف رشکِ کتاب ہے، مری بات لکھنے کا باب ہے

جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی مجھ میں تری نہاں
تری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جوابِ خط کا جواب ہے

نہیں کھلتیں آنکھیں تمہاری ٹک کہ ماآل پر بھی نظر کرو
یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھوتو خواب ہے

گئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب، ہوئے ہیں گنوا کے خراب سب
تجھے کرنا ہووے سو کر تُو اب کہ یہ عمر برقِ شتاب ہے

کبھو لطف سے نہ سخن کیا، کبھو بات کہہ نہ لگا لیا
یہی لحظہ لحظہ خطاب ہے، وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے

تُو جہاں کے بحرِ عمیق میں، سرِ پُر ہوا نہ بلند کر
کہ یہ پنج روزہ جو بود ہے، کسو موج پر کا حباب ہے

رکھو آرزو مئے خام کی، کرو گفتگو خطِ جام کی
کہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے

مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا
جسے میر کہتے ہیں صاحبو! یہ وہی تو خانہ خراب ہے​
 
491

سینہ ہے چاک ، جگر پارہ ہے، دل سب خوں ہے
تِس پہ یہ جان بہ لب آمدہ بھی محزوں ہے

اُس سے آنکھوں کو ملا جی میں رہے کیوں کر تاب
چشم اعجاز، مژہ سحر، نگہ افسوں ہے

کیوں کے بے بادہ لبِ جُو پہ چمن میں یہ رہے
عکسِ گُل آب میں تکلیفِ مئے گُل گُوں ہے

خون ہر اک رقم شوق سے ٹپکے تھا ولے
وہ نہ سمجھا کہ مرے نامے کا کیا مضموں ہے

میر کی بات پہ ہر وقت یہ جھنجھلایا نہ کر
سڑی ہے، خبطی ہے، وہ شیفہ ہے، مجنوں ہے
 
492

اس دشت میں اے سیل سنبھل ہی کے قدم رکھ
ہر سمت کو یاں دفن مری تشنہ لبی ہے

ہر اک سے کہا نیند میں، پر کوئی نہ سمجھا
شایدکہ مرے حال کا قصہ عربی ہے

اے چرخ نہ تُو روزِ سیہ میر پہ لانا
بے چارہ وہ اک نعرہ زنِ نیم شبی ہے​
 
493

دو سونپ دودِ دل کو، میرا کوئی نشاں ہے
ہوں میں چراغِ کشتہ ، بادِ سحر کہاں ہے

روشن ہے جل کے مرنا پروانے کا، ولیکن
اے شمع کچھ تو کہہ تُو تیری بھی تو زبان ہے

بھڑکے ہے آتشِ گُل اے ابرِ تر ترحم
گوشے میں گلستاں کے میرا بھی آشیاں ہے

اُس دور میں اُٹھایا مجھ سینہ سوختہ کو
پیوند ہو زمیں کا، جیسا یہ آسماں ہے

پیرِ مغاں سعادت تیری جو ایسا آوے
یہ میر مے کشوں میں اک طرز کا جواں ہے​
 
494

مژگاں بھی پھر گئیں تری بیمار چشم دیکھ
دکھ درد میں سوائے خدا ، یار کون ہے

نالے جو آج سنتے ہیں سو ہیں جگر خراش
کیا جانیے قفس میں گرفتار کون ہے​
 
495

بے کس ہوں، مضطرب ہوں، مسافر ہوں بے وطن
دوریِ راہ بِن مرے ہمراہ کون ہے

رکھیو قدم سنبھل کے کہ تُو جانتا نہیں
مانندِ نقشِ پا، یہ سرِ راہ کون ہے​
 
496

دیکھا کروں تجھی کو منظور ہے تو یہ ہے
آنکھیں نہ کھولوں تجھ بِن ، مقدور ہے تو یہ ہے

نزدیک تجھ سے سب ہے، کیا قتل کیا جلانا
ہم غم زدوں سے ملنا اک دُور ہے تو یہ ہے

رونے میں دن کٹے ہیں، آہ و فغاں سے راتیں
گر شغل ہے تو یہ ہے، مذکور ہے تو یہ ہے​
 
Top