امریکہ کے ہاتھوں کتا بھی مارا جائے تو وہ شہید ہے۔ مولانا فضل الرحمان

حسینی

محفلین
انما الاعمال بالنيات - اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔ جو اللہ کی رضا کی خاطر جان دے وہی شہید ہے

تو کیا "نیک نیت" رکھ کر دہشت گردی کرے، بے گناہ کو قتل کرے، خودکش حملے کرے َ، اسکولوں اور اداروں کو بموں سے اڑائے، زمین پر فساد پھیلائے تو بھی "شہید" کہلائے گا کیا؟؟
ایک اہم بات جس کی طرف ہم سب کی توجہ ہمیشہ رہنی چاہیے۔۔۔ کہ حقوق کی دو قسم ہے۔۔ حقوق اللہ اور حقوق الناس۔
حقوق اللہ جتنے بھی ہو۔۔۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت کے ساتھ کسی کو بھی معاف کر سکتا ہے۔۔۔
لیکن حقوق الناس کا تعلق لوگوں سے ہے۔۔۔ جب تو وہ متعلقہ شخص معاف نہیں کرتا۔۔ خداوند متعال بھی اسے معاف نہیں فرماتا۔۔
دہشت گردی کے سارے معاملات کا تعلق "حقوق الناس" سے ہے۔۔۔ لہذا مفت میں جنت کے ٹکٹ بانٹنے سے ہمیں پرہیز کرنا چاہیے۔
 

سید ذیشان

محفلین
تو کیا "نیک نیت" رکھ کر دہشت گردی کرے، بے گناہ کو قتل کرے، خودکش حملے کرے َ، اسکولوں اور اداروں کو بموں سے اڑائے، زمین پر فساد پھیلائے تو بھی "شہید" کہلائے گا کیا؟؟
ایک اہم بات جس کی طرف ہم سب کی توجہ ہمیشہ رہنی چاہیے۔۔۔ کہ حقوق کی دو قسم ہے۔۔ حقوق اللہ اور حقوق الناس۔
حقوق اللہ جتنے بھی ہو۔۔۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت کے ساتھ کسی کو بھی معاف کر سکتا ہے۔۔۔
لیکن حقوق الناس کا تعلق لوگوں سے ہے۔۔۔ جب تو وہ متعلقہ شخص معاف نہیں کرتا۔۔ خداوند متعال بھی اسے معاف نہیں فرماتا۔۔
دہشت گردی کے سارے معاملات کا تعلق "حقوق الناس" سے ہے۔۔۔ لہذا مفت میں جنت کے ٹکٹ بانٹنے سے ہمیں پرہیز کرنا چاہیے۔

ویسے اسلامیات کی کتاب کی ایک بات جو مجھے ابھی بھی یاد ہے جو اس حدیث انما الاعمال بنیات کی تشریح میں لکھی تھی کہ ان میں صرف اچھے اعمال شامل ہیں اگر اچھے اعمال بری نیت سے کئے جائیں تو وہ قابل قبول نہیں ہوں گے۔ برے اعمال کے اوپر اس حدیث کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔
 
تو کیا "نیک نیت" رکھ کر دہشت گردی کرے، بے گناہ کو قتل کرے، خودکش حملے کرے َ، اسکولوں اور اداروں کو بموں سے اڑائے، زمین پر فساد پھیلائے تو بھی "شہید" کہلائے گا کیا؟؟
ایک اہم بات جس کی طرف ہم سب کی توجہ ہمیشہ رہنی چاہیے۔۔۔ کہ حقوق کی دو قسم ہے۔۔ حقوق اللہ اور حقوق الناس۔
حقوق اللہ جتنے بھی ہو۔۔۔ اللہ تعالی اپنی خاص رحمت کے ساتھ کسی کو بھی معاف کر سکتا ہے۔۔۔
لیکن حقوق الناس کا تعلق لوگوں سے ہے۔۔۔ جب تو وہ متعلقہ شخص معاف نہیں کرتا۔۔ خداوند متعال بھی اسے معاف نہیں فرماتا۔۔
دہشت گردی کے سارے معاملات کا تعلق "حقوق الناس" سے ہے۔۔۔ لہذا مفت میں جنت کے ٹکٹ بانٹنے سے ہمیں پرہیز کرنا چاہیے۔
میری بات کا یہ مطلب نہیں جو آپ نے نکالا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس بات کا علم حاصل کرے کہ کونسا کام اللہ تعالی کو پسند ہے اور کونسا نہیں۔ اور اسکے بعد اللہ کے پسندیدہ کام نیک نیتی سے کرے جیسا کہ حدیث پاک میں آیا جو میں نے بیان کی " اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے" اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ بے گناہ مسلمان بلکہ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل ناحق اللہ تعالی کو پسند نہیں۔
 
مبارک ہو پاک فوج جاگ گئی
منور حسن کا بیان قابل مذمت، ذاتی مفاد کے لیے دہشتگرد کو شہید قرار دیا ، پاک فوج
headlinebullet.gif

shim.gif

dot.jpg

shim.gif

Print Version November 10, 2013 - Updated 2040 PKT
shim.gif


راولپنڈی…پاک فوج کے ترجمان نے دہشتگردوں کوشہیدقراردینے پر امیر جماعت اسلامی منورحسن کے بیان کی مذمت کی ہے ،آئی ایس پی آر کی جانب سے اتوار کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ منورحسن کے بیان کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔دہشتگردوں کوشہیدقراردینا قابل مذمت ہے۔مسلح افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ منورحسن کے بیان سے فوجیوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ دہشتگردکوشہید قراردیناہزاروں بے گناہ عوام اورفوجیوں کی شہادت کی توہین ہے۔شہیدفوجیوں کے بارے میں منور حسن کا بیان افسوسناک ہے۔امیر جماعت اسلامی نے سیاسی مفاد کیلیے نئی منطق ایجاد کی ہے۔عوام جانتے ہیں کہ ریاست کے وفا دار کون اور دشمن کون ہیں۔منور حسن کا بیان گمراہ کن ،توہین آمیز اورذاتی فائدے کے لیے ہے۔ترجمان نے کہا کہ مولانامودودی کی جماعت کے امیرکی جانب سے فوجیوں کیخلاف بیان بدقسمتی ہے۔اس قسم کے گمراہ کن اورمفادپرمبنی بیان قابل تبصرہ بھی نہیں ہوتے۔تاہم ترجمان نے کہا کہ جماعت اسلامی منورحسن کے بیان پراپنی پوزیشن کلیئر کرے۔دریں اثناء حالیہ سالوں میں وطن اور قوم کی خاطر اپنی جان نشاور کرنے والے شہداکے اہل خانہنے کہا ہے کہ ہمیں یا ہمارے شہیدوں کو منورحسن کی توثیق کی ضرورت نہیں،منور حسن قوم سے غیر مشروط معافی مانگیں۔
http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=125931

اس طرح جماعت اسلامی کیا ایک باغی جماعت ثابت نہیں ہوتی؟
 
میڈیا اور فوج نے ضرورت سے زیادہ شور مچاکر اصل مدعہ پر آنے ہی نہیں دے رہے (کہیں کوئی اور سازش نہ ہورہی ہو)
حالانکہ فوج کے بارے میں دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی الٹے سیدھے بیانات دئیے ہیں ۔۔۔
اگر فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے ، تو ڈرون حملے کس کی حمایت سے ہورے ہیں ؟؟
یہ بات کوئی نہیں کررہا ۔۔۔
بس چلائے جارہے ہیں ، فوجی شہید ہے ، فوجی شہید ہے
 
جتنے عورتیں بندے اور بچے طالبان نے صرف مون مارکیٹ لاہور میں شہید کئے اتنے طالبان ظالمان اب تک نہیں مارے گئے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، جان کے بدلے جان۔۔۔ طالبان ظالمان کا حساب جاں
 

حسینی

محفلین
میڈیا اور فوج نے ضرورت سے زیادہ شور مچاکر اصل مدعہ پر آنے ہی نہیں دے رہے (کہیں کوئی اور سازش نہ ہورہی ہو)
حالانکہ فوج کے بارے میں دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی الٹے سیدھے بیانات دئیے ہیں ۔۔۔
اگر فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے ، تو ڈرون حملے کس کی حمایت سے ہورے ہیں ؟؟
یہ بات کوئی نہیں کررہا ۔۔۔
بس چلائے جارہے ہیں ، فوجی شہید ہے ، فوجی شہید ہے
پاکستان کے آئین کے تحت فوج کس کے ما تحت ہوتی ہے؟؟
پالیسی میٹرز کون ہوتے ہیں؟؟ یہ ڈرونز روکنے کا حکم کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔ حکم دینے کی جرات کر کے دیکھیں ذرا۔
یقینا ڈرونز ہماری خودمختاری کے خلاف ہے اگر ہماری اجازت کے بغیر ہو۔۔۔ لیکن سب کو معلوم ہے کہ ہماری اجازت کے ساتھ ڈرون حملے ہوتے ہیں۔۔ بلکہ یوں کہیے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری حکومت نے امریکی ڈرونز کی مدد لی ہوئی ہے۔
ہمارے ووٹوں سے منتخب ہونے اگر جھوٹ ہم سے جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ تو اس میں فوج کا کوئی قصور نہیں۔۔
لہذا فوج کو کوسنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔
اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ڈرون سے بڑے بڑے دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔۔۔۔ لہذا اس کی ایک نوع اپنی افادیت بھی ہے۔
 

x boy

محفلین
فوج کے لئے تو سب سے خطرناک بات زرداری حکومت کا "میموگیٹ" تھا فوج کو چاہیے تھا کہ کان پکڑ کر سب کو نکال دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا، چند دنوں تک میڈیا پر چلتا رہا، سب دشمنوں نے اپنے اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے کبھی اس کشتی میں سوار کبھی اس کشتی میں سوار ہوئے۔
ویسے "سگ" نہیں بولنا چاہیے، یہ کچھ مولویوں کی عادت ہے کوئی کہتا ہے ہم قادر جیلانی کے کتوں کا کتا ہیں، کوئی کہتا ہے ہم مدینے کے سگ ہیں جبکہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو اور انکی اولادوں کو انسان بنایا ہے، میں نے مدینۃ المنورہ دیکھا ہے لیکن وہاں ایک بھی "سگ" نہیں تھے شاید جن راستوں پر ہم چلے وہاں سگ ہی نہ ہو۔ الحمدللہ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جس گھرمیں تصویر لگی ہو یا کتا ہو وہاں فرشتے رحمت لے کر داخل نہیں ہوتے۔
ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل امین روح القدس علیہ السلام گھر میں داخل نہیں ہورہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ گھر میں تصویر لٹکی ہوئی ہے اور کتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں داخل ہوکر دیکھا تو ایک پردا تھا جو دروازے پر کہیں لٹکی ہوئی تھی اور ایک کتے کا پلا تھا جس سے حسنین کھیلتے تھے وہ کہیں کسی کونے میں چھپا ہوا تھا یا گھسا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردا اتاردیا اورکتےکے پلے کو گھر سے باہر کردیا، پھر جبرائیل امین علیہ وسلم تشریف لائے، بعد میں ایسا ہوا کہ تصویر والے پردے کوکسی اور کام میں استعمال کرلیا تصوریر روندی جائے تو کئی خرج نہیں۔
تو ہمیں پتا چلا کہ "سگ" کتا کہیں کا بھی ہو ناپاک ہوتا ہے۔
اور تصویر کسی کی بھی ہو اسکو لٹکانا جائز نہیں۔
انتھی۔
 
پاکستان کے آئین کے تحت فوج کس کے ما تحت ہوتی ہے؟؟
پالیسی میٹرز کون ہوتے ہیں؟؟ یہ ڈرونز روکنے کا حکم کیوں نہیں دیتے۔۔۔ ۔ حکم دینے کی جرات کر کے دیکھیں ذرا۔
یقینا ڈرونز ہماری خودمختاری کے خلاف ہے اگر ہماری اجازت کے بغیر ہو۔۔۔ لیکن سب کو معلوم ہے کہ ہماری اجازت کے ساتھ ڈرون حملے ہوتے ہیں۔۔ بلکہ یوں کہیے کہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری حکومت نے امریکی ڈرونز کی مدد لی ہوئی ہے۔
ہمارے ووٹوں سے منتخب ہونے اگر جھوٹ ہم سے جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ تو اس میں فوج کا کوئی قصور نہیں۔۔
لہذا فوج کو کوسنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔
اور یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ڈرون سے بڑے بڑے دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔۔۔ ۔ لہذا اس کی ایک نوع اپنی افادیت بھی ہے۔

ہاں یہ کی بات آپ نے کچھ سمجھنے والی ، جزوی طور میں متفق ہوں
جب ڈرون حملہ ہماری مرضی سے ہورہے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ ہم امریکہ کے اتحادی ہیں ،
پھر مذاکرات کا رونا کیوں روتے ہیں ، کھل کر ان دہشتگردوں سے جنگ کرے مگر اپنے بل بوتے پر امریکہ کی مدد نہ لے ، مذاکرات کو لات مارے ،
بے شک تحریکی خوارجی دہشتگرد جو ملک کے لیے ناسور بنے ہوئے ہیں جنکے خونی پنجے بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ، اگر ان ڈرون حملہ میں مارے جاتے ہیں تو یہ مفید بات ہوگی ، مگر ان ڈرون میں بھی ہر دشتگرد نہیں مارا جاتا بلکہ بے گناہ عوام جو دونوں طرف سے عذاب جھیل رہے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں
اور یہ کہ فوج کو اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لیے خود سے کارروائی کرنی چاہیے ، امریکہ کی مدد لینا انتہائی ناپسندیدہ اور قابل ہتک فعل ہے ۔۔
جو ہماری فوج کے کردار کو داغدار کیئے دے رہی ہے
 
فوج کے لئے تو سب سے خطرناک بات زرداری حکومت کا "میموگیٹ" تھا فوج کو چاہیے تھا کہ کان پکڑ کر سب کو نکال دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا، چند دنوں تک میڈیا پر چلتا رہا، سب دشمنوں نے اپنے اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے کبھی اس کشتی میں سوار کبھی اس کشتی میں سوار ہوئے۔
ویسے "سگ" نہیں بولنا چاہیے، یہ کچھ مولویوں کی عادت ہے کوئی کہتا ہے ہم قادر جیلانی کے کتوں کا کتا ہیں، کوئی کہتا ہے ہم مدینے کے سگ ہیں جبکہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو اور انکی اولادوں کو انسان بنایا ہے، میں نے مدینۃ المنورہ دیکھا ہے لیکن وہاں ایک بھی "سگ" نہیں تھے شاید جن راستوں پر ہم چلے وہاں سگ ہی نہ ہو۔ الحمدللہ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جس گھرمیں تصویر لگی ہو یا کتا ہو وہاں فرشتے رحمت لے کر داخل نہیں ہوتے۔
ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل امین روح القدس علیہ السلام گھر میں داخل نہیں ہورہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ گھر میں تصویر لٹکی ہوئی ہے اور کتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں داخل ہوکر دیکھا تو ایک پردا تھا جو دروازے پر کہیں لٹکی ہوئی تھی اور ایک کتے کا پلا تھا جس سے حسنین کھیلتے تھے وہ کہیں کسی کونے میں چھپا ہوا تھا یا گھسا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردا اتاردیا اورکتےکے پلے کو گھر سے باہر کردیا، پھر جبرائیل امین علیہ وسلم تشریف لائے، بعد میں ایسا ہوا کہ تصویر والے پردے کوکسی اور کام میں استعمال کرلیا تصوریر روندی جائے تو کئی خرج نہیں۔
تو ہمیں پتا چلا کہ "سگ" کتا کہیں کا بھی ہو ناپاک ہوتا ہے۔
اور تصویر کسی کی بھی ہو اسکو لٹکانا جائز نہیں۔
انتھی۔

صحیح کہا آپ نے ، "سگ" نہیں بولنا چاہیئے تھا ، مولانا جزبات میں آکر الٹا سیدھا بول گئے ،
لیکن جو اپنے نام کے ساتھ "سگ" لکھنا باعث افتخار سمجھتے ہو ، انہیں کم ازکم مولانا صاحب سے اختلاف نہیں کرنا چاہیئے ۔۔
 

حسینی

محفلین
ہاں یہ کی بات آپ نے کچھ سمجھنے والی ، جزوی طور میں متفق ہوں
جب ڈرون حملہ ہماری مرضی سے ہورہے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ ہم امریکہ کے اتحادی ہیں ،
پھر مذاکرات کا رونا کیوں روتے ہیں ، کھل کر ان دہشتگردوں سے جنگ کرے مگر اپنے بل بوتے پر امریکہ کی مدد نہ لے ، مذاکرات کو لات مارے ،
بے شک تحریکی خوارجی دہشتگرد جو ملک کے لیے ناسور بنے ہوئے ہیں جنکے خونی پنجے بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ، اگر ان ڈرون حملہ میں مارے جاتے ہیں تو یہ مفید بات ہوگی ، مگر ان ڈرون میں بھی ہر دشتگرد نہیں مارا جاتا بلکہ بے گناہ عوام جو دونوں طرف سے عذاب جھیل رہے ہیں وہ بھی متاثر ہوتے ہیں
اور یہ کہ فوج کو اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لیے خود سے کارروائی کرنی چاہیے ، امریکہ کی مدد لینا انتہائی ناپسندیدہ اور قابل ہتک فعل ہے ۔۔
جو ہماری فوج کے کردار کو داغدار کیئے دے رہی ہے
بھائی جی ہم تو شروع سے مذاکرات کے خلاف ہیں۔۔۔ ان دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنےکی ضرورت ہے۔۔
ان مذاکرت سے کچھ بھی نہیں نکلنا۔۔۔ سب کو یقین ہے۔۔ لیکن صرف اتمام حجت کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں شاید۔۔۔
اور جہاں تک ڈرون حملوں میں معصوم عوام کے مرنے کی بات ہے۔۔۔ یقینا یہ قابل مذمت ہے۔۔ لیکن پیچھے خبر آئی تھی کہ یہ دہشت گرد ان معصوم لوگوں کو بطور شیلڈ استعمال کرتے ہیں۔۔ اب تو یہ کام شروع ہو گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں یہ لوگ گھروں کے نیچے زیر زمین بنا کر ان میں چھپ جاتے ہیں۔۔ جبکہ اوپر کے منزل میں موجود عام لوگ اس ڈرون کا نشانہ بنتے ہیں۔۔
باقی امریکہ سے دفاعی امداد لینا۔۔۔ میرا خیال ہے جب تک ہماری دفاعی پالیسی بلکہ پوری خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوتی یہ کام جاری رہے گا۔
 

x boy

محفلین
جنگ اور مذاکرات دونوں کے لئے وقت اور صحیح جگہہ کا معلوم ہونا لازمی ہے ورنہ دونوں میں معصوم ہی کچلے جائنگے، جنکو جنگ پسند وہ بھیجے اپنے بچوں کو وزیرستان اور خود بھی جاکر دیکھے، گولیوں اور بارودوں کی آواز سن کر مجنوں ہوجائنگے۔ انکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نکل جائے گی۔
سیاست دان بھیجے نا اپنی اولادوں کو فوج بناکر۔
میں نے ایک ویڈیوں دیکھی تھی 911 کے بعد امریکی فوج کی کچھ تو ویسے بھی پاگل ہوگئے ، ایک صحافی نے ایک جنرل سے پوچھا کہ تمہارے بچے بھی فوج میں ہیں انکو بھی بھیجو افغانستاں کیوں تم لوگ گدی میں بیٹھ کر امریکی نوجوانوں کو جنگ کے حوالے کررہے ہو، جنرل سوال کا جواب نہ دیتے ہوئے چہرے کو چھپاتے ہوئے پتلی گلی سے نکل لیے۔
امریکی مفاد کی خاطر جنگ میں شامل ہونے پر
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے علمائے کرام کا مشترکہ بیان

ملک کے نامورعلمائے کرام نے ایک اہم بیان میں حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ پاکستان کی خودمختاری کوبرقراررکھنے کےلئے فی الفور امریکی بلاک سے نکلنے کااعلان کیاجائے اور ملک وقوم کے مفادات کومدنظررکھتے ہوئے آزادخٓارجہ وداخلہ پالیسی تشکیل دی جائے۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکاکسی کادوست نہیں اورپاکستان میں ہرطرح کی بدامنی ودہشتگرد ی میں بھی امریکا اوراس حواری بھارت ،افغانستان اوراسرائیل کاہاتھ ہے۔امریکاونیٹوکی جانب سے دنیابھرمیں مسلم ممالک کےخلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی میں پاکستانی سرزمین کے استعمال پرہونے والے جانی ومالی نقصانات کے جرم میں وقت کے پاکستانی حکمران برابرکے شریک جرم ہیں۔

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم ،مولاناعبدالحمیدخان غوری،مولاناغلام رسول،مولانامحمدنعمان مولانامسعودبیگ، مولانامحمدیار،
مولاناساجدمحمود، مولانا انصر محمود،مولاناسیف اللہ ربانی،مفتی سیف اللہ جمیل،مفتی محمدنادرجان ودیگرعلماکرام
 
آخری تدوین:

قیصرانی

لائبریرین
’’ کہیں پرچہ لگے، خبر گزرے !‘‘
کالم نگار | اثر چوہان

07 نومبر 2013




قومی اخبارات میں ہر روز اور الیکٹرانک میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ۔ خبروں کی اتنی بھرمار ہوتی ہے کہ…ع ’’ خبروں ‘‘ کے انتخاب نے،رسواکیا مجھے ‘‘
کی صورت ہوجاتی ہے۔کبھی کبھی ایک ہی خبر کو موضوع بنا کر کالم لکھتے وقت یو ں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ’’ پانی میں مدھانی‘‘ گھما رہا ہوں یا لفظوں کی جُگالی کر رہا ہوں۔اس عمل کو کالم کا پیٹ بھرنا بھی کہاجاسکتا ہے،جیسے سرکاری دفتروں میں ’’ فائل کا پیٹ بھرنا‘‘ کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔اکثر و بیشتر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مختلف قائدین کی تقریروں میں بھی یہی فارمولا استعمال ہوتا ہے تو صاحبو!آج کے کالم میں کئی خبروں کو موضوع کیوں نہ بنایاجائے؟ اُستاد سحرؔ نے کہا تھا…؎
’’ بے محل عاشقی سے،درگُزرے ۔۔۔ ۔ کوئی پرچہ لگے، خبر گُزرے‘‘
خبر ہے کہ ’’ جمعیت علماء اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے ایک صحافی کے اس سوال کے جوا ب میں کہ ’’ کیا حکیم اللہ محسود ہلاک ہوا ہے یا شہید؟ کہا ’’ امریکہ اگر کسی کتے کو بھی ہلاک کردے تو میں اسے بھی شہید ہی کہوں گا‘‘مولانا صاحب کے اس بیان یا فتوے کواُن کا ’’اجتہاد‘‘ ہی کہاجاسکتا ہے۔اب مولانا فضل الرحمن اور دوسرے علماء دین سے پوچھا جاسکتا ہے کہ’’ فرض کیا پاکستان کے کسی گلی محلے میں گھومنے پھرنے والا یا کوئی پالتو کُتا کسی امریکی سیّاح،مہمان یا سفارت کار کو کاٹ لے اور وہ امریکی اُس کتے کے کاٹنے سے مر جائے تو کیا اُس کتے کو ’’ غازی‘‘ کہاجاسکتا ہے ؟۔ہمارے یہاں گھوڑے کو تو پہلے ہی ’’غازی مرد‘‘ کہاجاتا ہے۔
عام طورپر کُتے کو ناپاک جانور سمجھاجاتا ہے،لیکن ’’ اصحابِ کہف‘‘ کے کُتے کو قابلِ عزت سمجھاجاتاہے۔اصحاب کہف( وہ سات اشخاص) جو دقیانوس بادشاہ کے خوف سے غار میں چھپ کر تین سو نو برس تک سوتے رہے۔مولوی نور الحسن نیّر نے اپنی ’’نوراللغات‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ علماء نے اصحاب کہف کے کُتے کو انسان کے زمرے میں داخل کیا ہے‘‘

بہرحال مولانا فضل الرحمن کی طرف سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کیا امریکی حملے سے ’’ شہید‘‘ ہونے والے کُتے کی نمازِ جنازہ اور باقاعدہ تجہیزو تکفین بھی ہوگی؟۔ 6نومبرکے ’’ سیاست نامہ ‘‘ میں مَیں نے لکھا تھا کہ متحدہ مجلسِ عمل کے اکابرین کے ایک دوسرے کے خلاف کُفر کے فتوے ریکارڈ پر ہیں لیکن متحدہ مجلس عمل کے قائدین ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھتے رہے ہیں۔اِس پر ڈائریکٹر آپریشن المرکز اسلامی مفتی محمد تصّدق حسین صاحب(والٹن لاہور) نے مجھے وضاحت(بذریعہ ایس۔ایم۔ایس) بھجوائی ہے لکھتے ہیں۔
(’’جناب اثر چوہان صاحب۔آپ کے آج کے کالم میں ایک جملہ نظر سے گزرا کہ ’’ متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام دینی جماعتوں کے اکابرین نے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دئیے ہیں اور سب قائدین ایک دوسرے کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیتے تھے ‘‘۔آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ جملہ صحیح نہیں ہے۔اہلِ سنت حنفی( بریلوی) کے ترجمان۔امام شاہ احمد نورانی نے کبھی کسی بد عقیدہ شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی۔مملکت اسلامیہ کے مفاد کی خاطر وہ اتحاد کے داعی رہے لیکن وہ نماز کی امامت خود کرواتے تھے۔تاریخ درست فرمادیں بے حد شکریہ)مفتی تصدق حسین (فون نمبر اخبار کے صفحہ پر ہے، محفل کی پالیسی کی رعایت کرتے ہوئے حذف کیا۔ عبدالرزاق قادری)
میں مفتی صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے وضاحت فرمائی اس بات کی کہ ’’امام شاہ احمد نورانی نے متحدہ مجلسِ عمل میں شامل کسی بھی ’’ بد عقیدہ امام‘‘ کی اقتداء میں نماز کبھی نہیں پڑھی بلکہ وہ وقتِ نماز خود امامت کرواتے تھے‘‘۔

خبر ہے کہ’’ وزارتِ دفاع نے اعتراف کرلیا ہے کہ ڈرون حملوں کے بارے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعدادو شمار غلط اور جعلی ہیں‘‘۔مرزا غالب نے کہا تھا…؎
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ ۔۔۔ ۔ لوگ نالہ کو رسا باندھتے ہیں
بھلا غلط گوئی اور غلط بیانی پر مسماۃ وزارتِ دفاع کو کون پکڑے گا کہ محترمہ جناب وزیراعظم کے عقدِ سیاسی میں ہیں۔مسماۃ وزارتِ خارجہ اُن کی سوتن ہیں۔اُن کا بھی یہی چلن ہے۔وہ وقت بہت دور ہے جس کی آس میں حضرتِ آتش چل بسے…؎
’’سکۂ داغِ وفا اِک دن ،مرے کام آئیںگے ۔۔۔ ۔ عشق کے بازار میں، اُن کا چلن ہوجائے گا‘‘
خبر ہے کہ ’’بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی۔ایم۔ایف) پاکستان کے گردشی قرضے کے دوبارہ 160 ارب تک پہنچنے پر پریشانی کا شکار ہے ‘‘ خبر میں وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار کا بھی تذکرہ ہے جو بذریعہ کلاسیکی موسیقی، دم توڑتی ہوئی معیشت کو تندرست کرنے کی نوید دیتے رہتے ہیں اور موصوف نے باقی معاملہ آئی۔ایم۔ایف حکام پر چھوڑ دیا ہے یعنی ’’ یک دو گیر و محکم گیر!‘‘…مرزا داغؔ دہلوی کا بھی یہی مسلک تھا،جب انہوں نے کہا …؎
’’ وہ سمجھے کیا، فلک کینہ خواہ کی گردش ۔۔۔ اُٹھائی جس نے،تمہاری نگاہ کی گردش‘‘
خبر ہے کہ ’’ جمعیت علماء اسلام(ف) نے وزیراعظم نواز شریف سے دوبارہ اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئر مین شپ مانگ لی ہے ‘‘۔ اس پر ایک انگریزی پنجابی ملا جلا ماہیا ہوجائے…؎
’’ حاضر اے دل ماہیا
GIVE AND TAKEکرئیے
اَیویں سُکّے تے نہ مِل ماہیا‘‘
پیپلز پارٹی کے راہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ’’چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں’’مگر مچھ کے آنسو بہائے !‘‘ اگرچہ معاملہ دو چودھریوں کا ہے لیکن میں تو یہی کہوں گا کہ ہمارے ہاں’’مگر مچھ‘‘ تو ہوتا ہی نہیں !

http://www.nawaiwaqt.com.pk/columns/07-Nov-2013/255093
بشکریہ: نوائے وقت
یہ بڑے حروف دیکھیں، سبحان اللہ
 
لیکن صرف اتمام حجت کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں شاید۔۔۔
دلی طور پر میں مذاکرات کا حامی نہیں ، کہ ہم مذاکرات کی بات کرے اور وہ الٹا دھمکی پر دھمکی دیئے جائے ، یقینا انکی دھمکی کسی بڑی طاغوتی طاقت کی شہہ پر ہے جو ممکنہ طور بھارت ، اسرائیل اور خود امریکہ ہوسکتا ہے ۔۔
لیکن چونکہ ہم شکست کھاچکے ہیں نیز اس دہشترگردی کی کارروائی سے عوام اور خود فوج نشانہ بن چکی ہے اور بنتی جارہی ہے ۔۔۔
لہٰذا وقتی طور مذاکرات کرکے اس خونی کھیل کو تو روکے نا پہلے ، اور کتنے بے گناہوں کی جان جاتا دیکھتے رہینگے ہم
اپنی خودمختار پالیسی مرتب کرے ، ٹکے کا قانون نہیں اور نہ ہی قانون نافذ کرنے میں کوئی سنجیدہ ، پھر بات کرتے ہیں ، دہشتگردی ہورہی ہے
اگر دہشتگرد ڈرون حملے کو جواز بناکر خودکش حملہ کررہے ہیں ، تو بھائی پہلے ڈرون حملہ روکوائے ، اگر رکوا نہیں سکتے تو مارگرائے ، سمپل
اسکو اتنا الجھا کیوں دیا گیا ہے ، تب جاکر اتمام حجت بھی قائم ہوگی
 
یہ بڑے حروف دیکھیں، سبحان اللہ
یہ امام والی بات ۔۔۔مضحیکہ خیز ہے ۔۔۔
:grin:
ایک طرف تو ملی یک جہتی کی بات کرتے ہیں ، امت کو ایک کرنے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنا خودساختہ اجتہاد ۔۔۔
متحدہ مجلس عمل میں "بدعقیدہ امام" کے ساتھ شامل ضرور رہے ، مگر نماز میں اپنے عقیدے کا خیال آگیا ، ما شاء اللہ
 

ساقی۔

محفلین
جتنے عورتیں بندے اور بچے طالبان نے صرف مون مارکیٹ لاہور میں شہید کئے اتنے طالبان ظالمان اب تک نہیں مارے گئے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ، جان کے بدلے جان۔۔۔ طالبان ظالمان کا حساب جاں

امریکی عینک اتاریئے جناب
یہی بات اگر امریکیوں کے حوالے سے دیکھی جائے کہ جتنے مسلمان انہوں نے شہید کیے اگر ناک کے بدلے ناک اور جان کہ بدلے جان کا فارمولا اپلائی کیا جائے تو کوئی امریکی شاید ہی باقی بچے۔
 
Top