میر الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا - میر تقی میر

فرخ منظور

لائبریرین
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا

عہد جوانی رو رو کاٹا پیر ی میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اُس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا مئے خانے میں
جُبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی مستی میں انعام کیا

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا اور دن کو جوں توں شام کیا

ساعدِ سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے
بُھولے اُس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا

کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت ہے
استغنا کی چوگنی اُن نے جُوں جُوں میں ابرام کیا

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت شکریہ وارث صاحب اور زینب صاحبہ - وارث صاحب آج کل "مِیری" ہونے کی کوشش کر رہا ہوں - دیکھیں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں - ;)
 

فرحت کیانی

لائبریرین
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا

عہد جوانی رو رو کاٹا پیر ی میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا سو مرنے کا پیغام کیا

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اُس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا مئے خانے میں
جُبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی مستی میں انعام کیا

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا اور دن کو جوں توں شام کیا

ساعدِ سمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے
بُھولے اُس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا

کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت ہے
استغنا کی چوگنی اُن نے جُوں جُوں میں ابرام کیا

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا


بہت شکریہ وارث صاحب اور زینب صاحبہ - وارث صاحب آج کل "مِیری" ہونے کی کوشش کر رہا ہوں - دیکھیں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں - ;)


یعنی غالب امکان یہ ہے کہ پہلے آپ 'سودائی' تھے ;)

قبلہ سودائی تو نہیں بلکہ ابھی تک غالبا" غالبی ہی ہوں :) -

بہت خوب :) :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت شکریہ فرحت - مگر افسوس کہ محفل کے جو "مِیری" ہونے کے دعوے دار ہیں، وہ اِدھر توجہ نہیں‌کر رہے - :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
جی اقبال تو قبلہ ہوتا ہی بلند ہے اور غالب یقینا" سب پہ غالب اور فیض‌ کے فیض‌سے ہی یہ دونوں سمجھ میں‌ آتے ہیں :)
 

محمد وارث

لائبریرین
بجا فرمایا محترم، غالب کا فیض شاملِ حال ہو جائے تو سخنوروں کا اقبال تو بلند ہوتا ہی ہے، وہ 'ساحر'بھی ہو جاتے ہیں۔ ;)
 
معذرت کیساتھ فرخ بھائی جی مکمل غزل پوسٹ کر رہا ہوں کیونکہ چند اشعار آپ کی غزل میں سے کم ہیں ۔

غزل

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیمارئ دل نے ، آخر کام تمام کیا

عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے ، صبح ہوئی آرام کیا

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا ، سو مرنے کا پیغام کیا

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ، ہم کو عبث بدنام کیا

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

کس کا کعبہ ،کیسا قبلہ، کون حرم ہے ، کیا احرام
کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سلام کیا

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا، رات کو تھا میخانے میں
جبہ، خرقہ ، کرتا، ٹوپی، مستی میں انعام کیا

کاش اب برقع منہ سے اٹھاوے ورنہ پھر کیا حاصل ہے
آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کی، یا دن کو جوں توں شام کیا

صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی
رخ سے گل کو مول لیا ، قامت سے سرو غلام کیا

ساعدِ سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے
بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا

کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے
استغنا کی چوگنی ان نے ،جوں جوں میں ابرام کیا

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ، ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا ، کب کا ترک اسلام کیا

میر تقی میر​
 

فرخ منظور

لائبریرین
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے ، آخر کام تمام کیا

عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے ، صبح ہوئی آرام کیا

حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا ، سو مرنے کا پیغام کیا

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ، ہم کو عبث بدنام کیا

سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا

کس کا کعبہ ،کیسا قبلہ، کون حرم ہے ، کیا احرام
کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سلام کیا

شیخ جو ہے مسجد میں ننگا، رات کو تھا میخانے میں
جبہ، خرقہ ، کرتا، ٹوپی، مستی میں انعام کیا

کاش اب برقع منہ سے اٹھاوے ورنہ پھر کیا حاصل ہے
آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کی، یا دن کو جوں توں شام کیا

صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی
رخ سے گل کو مول لیا ، قامت سے سرو غلام کیا

ساعدِ سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے
بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا

کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے
استغنا کی چوگنی ان نے ،جوں جوں میں ابرام کیا

ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ، اُن نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا ، کب کا ترک اسلام کیا

(میر تقی میرؔ)​
 

عدیل ہاشمی

محفلین
السلام علیکم!!

اس غزل کے پندرہ شعر ہیں آپ نے بارہ لکھے
آخری شعر کی کوئی تشریح کردے۔۔۔





الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیمارئ دل نے ، آخر کام تمام کیا


عہدِ جوانی رو رو کاٹا، پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے ، صبح ہوئی آرام کیا


حرف نہیں جاں بخشی میں اس کی خوبی اپنی قسمت کی
ہم سے جو پہلے کہہ بھیجا ، سو مرنے کا پیغام کیا


ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ، ہم کو عبث بدنام کیا


سارے رند اوباش جہاں کے تجھ سے سجود میں رہتے ہیں
بانکے ٹیڑھے ترچھے تیکھے سب کا تجھ کو امام کیا


سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا


کس کا کعبہ ،کیسا قبلہ، کون حرم ہے ، کیا احرام
کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سلام کیا


شیخ جو ہے مسجد میں ننگا، رات کو تھا میخانے میں
جبہ، خرقہ ، کرتا، ٹوپی، مستی میں انعام کیا


کاش اب برقع منہ سے اٹھاوے ورنہ پھر کیا حاصل ہے
آنکھ مندے پر ان نے گو دیدار کو اپنے عام کیا


یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کی، یا دن کو جوں توں شام کیا


صبح چمن میں اس کو کہیں تکلیف ہوا لے آئی تھی
رخ سے گل کو مول لیا ، قامت سے سرو غلام کیا


ساعدِ سیمیں دونوں اس کے ہاتھ میں لا کر چھوڑ دیے
بھولے اس کے قول و قسم پر ہائے خیالِ خام کیا


کام ہوئے ہیں سارے ضائع ہر ساعت کی سماجت سے
استغنا کی چوگنی ان نے ،جوں جوں میں ابرام کیا


ایسے آہوئے رم خوردہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا، اعجاز کیا، جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا


میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ، ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا ، کب کا ترک اسلام کیا
 
Top