الف بے پے کا کھیل 54 ویں قسط۔

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

محمد امین

لائبریرین
دیکھیے جناب۔۔۔ یہ ایک کھیل ہے اور یہ ایک عالمی حقیقت ہے کہ کھیل جنگ کی طرح کھیلا بلکہ لڑا جاتا ہے۔۔۔ اور چونکہ جنگ (اور محبت میں بھی) سب کچھ جائز ہے، لہٰذا میں ثمرقند کی بات کروں یا شکرقند کی، یہ میرا جمہوری حق ہے۔۔ اور اوٹ پٹانگ باتیں نہ کی جائیں تو اس کھیل کا مزا بھی نہیں۔۔۔ ایک ایک جملہ لکھ کر یار لوگ کونسا تیر مار لیتے ہیں؟؟؟
 

شمشاد

لائبریرین
رات بھر بھی کہانی سناتے رہیں تو صبح اٹھ کر پوچھیں گے کہ لیلٰی مرد تھی کہ عورت ویسے کئی ایک ہیر کے متعلق بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔
 

محمد امین

لائبریرین
سوچتے ہیں لیلیٰ و ہیر کے قصے پرانے ہوئے، اب ہم بھی اپنی کوئی ماہ رُو پری خصال دنیا کے سامنے لا کر ادب پر احسانِ عظیم کریں۔۔۔ جیسا کہ حضرت ضمیر جعفری نے فرمایا تھا:

اقبال کا شاہیں تو کب کا اڑ چکا
اب تم اپنا اک مقامی جانور پیدا کرو

مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس شعر کے آخری دو الفاظ میں جو مشورہ دیا گیا ہے وہ ہمارا کام نہیں ہے۔۔۔ دوسرے یہ بھی کہ ضمیر صاحب نے تو شاہین پرندہ فرمایا تھا مگر ہم نے اسے "مسماۃ شاہین" سمجھ لیا۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
شاھین پرندہ بھی ہے اور مسماۃ بھی ہے، ٹانگیں دونوں کی دو دو ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک کے دو پر ہیں اور ایک کے دو عدد ہاتھ۔
 

الف عین

لائبریرین
سوچ رہا ہوں کہ یہ محاورے کا خون کیوں کیا جا رہا ہے، یوں کہا جاتا ہے کہ پوری رامائن ختم ہو گئی، اور پوچھ رہے ہیں کہ سیتا کون تھا؟
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top