اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا

ملائکہ

محفلین
اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا
مجھ کو جو مزا لذتِ گفتار سے آیا

ہر چند تھا وہ سارے زمانے سے گریزاں
پر میری طرف تیر کی رفتار سے آیا

کس واسطے سمجھوں میں اسے جان کا دشمن
جو شخص مرے پاس بڑے پیار سے آیا

میں بن پیے مخمور تھا کچھ اس کی نظر سے
کچھ اور نشہ زلف سے، رخسار سے آیا

حق بات کہوں برسراحباب و رقیباں
یہ حوصلہ مجھ میں مرے کردار سے آیا

مفقود ہے وہ عہد رواں کے شعراء میں
جو لطف مجھے،میر کے اشعار سے آیا

تھا سہما ہوا صبح کے اخبار سے ناصر
کچھ خوف اسے شام کے اخبار سے آیا

ناصر زیدی
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ ملائکہ شیئر کرنے کیلیئے، بہت اچھی غزل ہے۔

ناصر زیدی کا کلام ہماری محفل پر بہت کم ہے، امید ہے کہ اگر ممکن ہوا تو آپ ان کا مزید کلام شیئر کریں گے!
 

ملائکہ

محفلین
کچھہ جانی پہچانی لگتی ہے یہ غزل کیوں ملائکہ;)

یاد نہیں:confused::confused::confused:

شکریہ ملائکہ شیئر کرنے کیلیئے، بہت اچھی غزل ہے۔

ناصر زیدی کا کلام ہماری محفل پر بہت کم ہے، امید ہے کہ اگر ممکن ہوا تو آپ ان کا مزید کلام شیئر کریں گے!

دو غزلیں نظر سے گزریں تھیں تو یہاں بھی شئیر کردیں اگر اور کہیں سے ملی تو ضرور کروں گی:):)
 
Top