ناصر زیدی

  1. محمد تابش صدیقی

    غزل: آج پھر دل میں اضطراب اٹھا ٭ ناصر زیدی

    آج پھر دِل میں اضطراب اٹھا آج پھر درد بے حساب اٹھا کس قدر بڑھ رہی ہے تاریکی رُخ سے اپنے ذرا نقاب اٹھا دو قدم چال ہی قیامت ہے اور مت فتنۂ شباب اٹھا میں نے ہی تجھ سے بے وفائی کی لا اٹھا تو ذرا کتاب اٹھا نغمۂ زندگی کے تار بَجیں اے مری جاں ذرا رباب اٹھا بام پر اُس نے زُلف لہرائی پھر گھٹا ٹوپ...
  2. الف نظامی

    کرو نہ بات مگر نامہ و پیام تو لو ۔۔۔ ناصر زیدی

    کرو نہ بات مگر نامہ و پیام تو لو کبھی کبھی نگہ شوق کا سلام تو لو ہے کون میری طرح تم کو چاہنے والا مثال کے لیے تم ایک آدھ نام تو لو اگرچہ پینا پلانا ہے ناروا پھر بھی مئے خلوص و محبت کا ایک جام تو لو خراب حال ہوں ، ہوجائے اک نگاہِ کرم تم اپنی چشم فسوں گر سے کوئی کام تو لو مجھے تعلقِ خاطر میں...
  3. ملائکہ

    اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا

    اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا مجھ کو جو مزا لذتِ گفتار سے آیا ہر چند تھا وہ سارے زمانے سے گریزاں پر میری طرف تیر کی رفتار سے آیا کس واسطے سمجھوں میں اسے جان کا دشمن جو شخص مرے پاس بڑے پیار سے آیا میں بن پیے مخمور تھا کچھ اس کی نظر سے کچھ اور نشہ زلف سے، رخسار سے آیا حق بات کہوں برسراحباب و...
  4. ملائکہ

    باتیں ہیں اُجلی اُجلی اور من اندر سے کالے ہیں،ناصر زیدی

    باتیں ہیں اُجلی اُجلی اور من اندر سے کالے ہیں اس نگری کے سارے چہرے اپنے دیکھے بھالے ہیں نینوں میں کاجل کے ڈورے رُخ پہ زلف کے ہالے ہیں من مایا کو لوٹنے والے کتنے بھولے بھالے ہیں تم پر تو اے ہم نفسو! کچھ جبر نہیں، تم تو بولو ہم تو چپ سادھے بیٹیے ہیں اور زباں پر تالے ہیں آنکھوں میں روشن...
Top