اعراب لگا کر عربی عبارت پیش کیجیے

محمد خلیل الرحمٰن نے 'عربی کے اسباق' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 17, 2019

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    اصل میں وجوہات بہت مختصر سی ہوتی ہیں
    یا مرفوعات میں سے ہو گا یا منصوبات میں سے یا مجرورات میں سے
    باقی صرف اعراب کی بھی کون سا کسی کو سمجھ آتی ہے
    خیر یہ یہ محض ایک رائے تھی.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,455
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    أَلَمٌ أَلَمَّ أَلَمْ أُلِمَّ بِدَائِهِ
    إِنْ آنَ آنٌ آنَ آنُ أوَانِه

    ایسے درد نے مجھے آگھیرا ہے کہ جس کے مرض کا مجھے اس سے پہلے کچھ علم نہیں تھا۔ سو اب اگر کوئی زمانہ آنا ہے تو وہ اسی بیماری کا زمانہ ہے۔
    أَلَمٌ: درد
    أَلَمَّ: (صیغہ ماضی) درد یا بیماری کا لاحق ہونا۔
    أَلَمْ: ہمزہ استفہام اور لم صیغۂ نفی۔
    أُلِمَّ: صیغہ مضارع، منفی بہ لم، (فعل جحد) مجھے معلوم نہ تھا۔
    بِدَائِهِ: داء بمعنی بیماری۔
    إِنْ: اگر۔ حرف شرط۔
    آنَ: کسی وقت کا آنا، صیغہ ماضی۔
    آنٌ: وقت، زمانہ، دور۔
    آنَ
    : کسی وقت کا آنا، صیغہ ماضی۔
    آنُ: وقت، زمانہ، دور۔
    أوَانِه: وقت۔

    یہ تو ہوا ترجمہ۔ باقی یہ شعر جیسا کہ آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کسی فیسبکی متنبی کا تو ہوسکتا ہے، ابو الطیب المتنبی کا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ایک تو اس میں اس معنویت کا کوئی پرتو نہیں جو متنبی کا خاصہ ہے۔ دوسرے اس میں تمام تر لفظی تکلفات سے قطع نظر عربیت کی واضح غلطی ہے کہ پہلے مصرع میں "ہمزہ استفہام" بے معنی طور پر محض وزن کے ساتھ زور زبردستی کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,448
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ انصاری صاحب قبلہ۔

    ویسے عربی زبان سے عقیدت کی وجہ سے سمجھتا تھا کہ عربی والے وہ حرکتیں اپنے شعرا کے ساتھ نہیں کرتے جو ہم اردو والے فراز و اقبال کے ساتھ کرتے ہیں لیکن آپ کی بات نے یہ بت پاش پاش کر دیئے۔ :)

    تصویر دیکھیے:

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,448
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ایک اور اسی طرح کا "شغل"، فیس بُک کے "مشاغل" ہی میں سے۔ :)

    تین کافوں کے تلفظ کے بعد اوپر تلے پانچ کافوں کا تلفظ ہے:

    ما رایت کککا کککککم

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  5. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,373
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اسی طرح ایک بیت یہ بھی معروف ہے ۔ اس میں کوئی بھی حرف دوسرے سے ملتا نہیں ۔ ترجمہ اور اعراب ماہرین جانیں ۔
    زُرْ دَارَ وُدٍّ إنْ أرَدْتَ وُرُوْدَا
    زَادُوْكَ وُدَّاً أنْ رَأوْكَ وَدُوْدَا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    عبید بھائی ، ترجمہ تو آپ نے ظاہر ہے بالکل ٹھیک ہی لکھا تھا ۔ جملے کا اصل مدعا بلکہ لب لباب آ گیا تھا ترجمے میں ۔ لیکن شکوہ میرا آپ سے یہی تھاکہ آپ نے اختصار سے کام لیا اور لب لباب پر ہی ٹرخادیا ۔ خواہش تھی کہ مَنْ مَنَّ ، مِنْ مَنٍّ اور مُنَّ مِنَ الْمَنَّانِ تینوں ٹکڑوں کاایسا ترجمہ ہوجاتا کہ جو لطف اصل عربی مقولے کا ہے وہ اردو میں بھی کچھ عیاں ہوتا ۔ ہم جیسے مبتدیوں کو بھی معلوم ہوتا کہ اعراب کی تبدیلی سے ایک ہی لفظ من اسم بھی ہوسکتا ہے ، حرف بھی اور فعل بھی ۔ بلکہ فعل کے دو مختلف صیغوں کو ظاہر کرسکتا ہے ۔ یعنی عربی کتنی عظیم الشان زبان ہے اور کتنی وسعت اپنے اندر رکھتی ہے ۔ سبحان اللہ ۔اب میں ہی لفظی ترجمہ کردیتا ہوں ۔ اگر ضرورت ہو تو آپ تصحیح فرمائیے گا ۔
    مَنْ مَنَّ : جس نے بھی کسی کو نوازا (عطا کیا ، احسان کیا)
    مِنْ مَنٍّ: نوازشات میں سے (مال و متاع ، عطایا وغیرہ میں سے)
    مُنَّ مِنَ الْمَنَّانِ : وہ نوازا جائے گا منان کی جانب سے ( یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ)
    ویسے آپ نے کمال کیا ۔ ماشاء اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العظیم ۔ اللہ کریم آپ کے علم و فضل میں ترقی عطا فرمائے اور منبعِ فیضِ عام بنائے ۔ آمین۔
    ارے نہیں عبید بھائی ۔ یہ ڈھکن بھی آپ ہی کا ہے۔ آپ ہی لے جائیے ۔ اور پلیٹ ادھر میری طرف بھجوادیجئے ۔ بس یہ خیال رہے کہ خالی نہ ہو ۔ :D
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یہ عقیدت والی بات آپ کی بالکل درست ہے ۔( اس پر کئی لطیفے یاد آکے رہ گئے )۔ لیکن حقیقت عقیدت سے کہیں مختلف ہے ۔ پچھلی تین دہائیوں سے عرب خواتین و حضرات کو یہاں امریکا میں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ۔ اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ اکثر لوگ قرآن مجید درست نہیں پڑھ سکتے ۔ الٹا سیدھا جیسے چاہا پڑھ دیتے ہیں ۔ اعراب کی اتنی غلطیاں کرتے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے ۔ اور اگر ٹوکو تو برا بھی مان جاتے ہیں ۔ معیاری عربی کہ جسے فصحیٰ کہا جاتا ہے وہ معدودے چند پڑھے لکھے لوگ ہی جانتے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں پاک و ہند کے مدرسوں سے سند یافتہ لوگ بدرجہا بہتر عربی جانتے ہیں ۔ یہ لوگ واقعی عربی کے زبان دان ہوتے ہیں ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    372
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    خوبصورت شعر ہے۔ دوسرے مصرعہ میں أن والا ھمزہ نیچے(إن) ہوناچاہئے۔۔۔

    ترجمہ اپنی غیر معیاری اردو میں:۔
    اگر کہیں جانا چاہیں تو ان کے ہاں جائیں جہاں پیار ومحبت ملے۔
    یوں وہ بھی آپ کا جذبۂ الفت دیکھ کر آپ سے ٹوٹ کر چاہنے لگیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,163
    جھنڈا:
    Pakistan
    ایک یہ تحقیق بھی دریافت ہوئی ہے!!!
    :rolleyes::rolleyes::rolleyes:
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,163
    جھنڈا:
    Pakistan
    اگر تم آنا چاہتے ہو تو دوست کے اور محبت والے کے گھر آؤ۔۔۔
    وہ تمہیں زیادہ دوستی اور محبت دیں گے اگر تمہیں محبت کرنے والا پائیں گے ۔۔۔
    ہمیں لفظی ترجمہ میں کبھی وہ لطف نہیں آتا جو بامحاورہ میں آتا ہے!!!
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 19, 2019
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,373
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    زبردست عمران بھائی:star2: ،
    ویسے میری رائے میں اگر اصل زبان کا کچھ ادراک (اور ذوق) ہو تو لفظی ترجمہ بھی خوب رہتا ہے کہ اصل زبان کا لطف بھی تازہ ہوجاتا ہے ۔ لیکن بامحاورہ ترجمہ کی کایک علیحدہ لطافت ہوتی ہے ۔ شاد آباد رہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,455
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    انین کی صورت میرے سامنے بھی تھی، لیکن "آنٌ" بمعنی مریض کی مجھے کوئی لغوی سند نہیں ملی۔ اور انین سے اسم فاعل تو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,455
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    أن بفتح الھمزۃ کی توجیہ ممکن ہے۔ ایسی صورت وہاں پیش آتی ہے جہاں یہ تعلیل کے لیے مستعمل ہو۔ اس وقت یہاں لام تعلیل محذوف ہوگا۔
    راجع الى قوله تعالى: أن دعوا للرحمان ولدا.
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,404
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    برصغیر میں مدارس میں کلاسک عربی سکھائی جاتی ہے۔ مذہبی سکالرز کے علاوہ میں کسی عرب کو نہیں جانتا جو کلاسک عربی اچھی طرح جانتا ہو۔ تمام مقامی عربی ہی بولتے ہیں اور مختلف حد تک ماڈرن سٹینڈرڈ لکھنے پڑھنے سے واقف ہوتے ہیں۔ یہ سب آج ہی کی بات نہیں بلکہ میری امی، ماموں خالہ وغیرہ سب بنیادی طور پر صرف مصری عربی ہی جانتے ہیں اور مصر چھوڑے بھی ساٹھ سال ہو گئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  15. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,827
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
  16. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اور مقامی عربی بھی ہر ملک کی الگ ۔ اور اتنا تیز بولتے ہیں کہ سب کچھ سر پر سے گزر جاتا ہے ۔ ہم لوگ مذاق میں مصری دوستوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ عربی نہیں بلکہ اگِپ شین بولتے ہو ۔ :)
    کچھ فلسطینی تو بعض الفاظ میں "چ" کی آواز بھی بولتے ہیں ۔
     
  17. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    372
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    جنابِ زیک! معاف کریں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی یہ ایک واحد زبان ہے جس میں کلاسک اور ماڈرن کا تصور ۔۔۔ یا تو نہیں ہے یا اگر ہے تو غلط ہے۔
    آپ تو انگریزی اور اردو کے ماہر ہیں ماشاءاللہ۔ آپ تو جانتے ہیں کہ انگریزی ، اردو اور دیگر تمام زبانیں ماڈرن لکھی بھی جاتی ہیں۔ لیکن عربی زبان کی پڑھائی لکھائی اور تمام چیزیں عربی کلاسک میں ہوتی ہیں۔ جو الفاظ عربی زبان میں تھے وہ اب بھی ہیں۔ لیکن زمانے کی جدت طرازیوں نے نئی اصطلاحات اور نئے الفاظ کو نئے نام ضرور دئیے۔ جیسے کہ سائنس نے ہر زبان میں نئے الفاظ اور اصطلاحات کو وجود بخشا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عربی کلاسک اور ماڈرن کا تصور صحیح ہے۔ اور عربی پڑھا لکھا ہر شخص کلاسک زبان بالعموم سمجھ سکتا ہے۔ ہاں ہر قدیم اصطلاح اور الفاظ کا سمجھ میں آنا ضروری نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ہم بھی تمام اردو کے الفاظ نہیں جانتے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  18. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,455
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    فونیٹک فونٹ یا کیبورڈ؟
    عریبک فونیٹک کیبورڈ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  19. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,455
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ظہیراحمدظہیر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,373
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    در اصل عربی زبان میں تلفظ اور ادائیگی کا تنوّع صوتی لحاظ سے اتنا زیادہ اختیار کر گیا ہے کہ ایک دوسرے سے بہت زیادہ متفاوت معلوم ہوتا ہے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ پوری عرب دنیا اسے لہجات سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی ۔ اور زبان کے قاعدے اور اصول وہی ہیں جو کلاسیکی عربی میں متعین اور مستحکم ہیں اور کسی بھی قسم کے اختلاف ہی صورت میں انہی اصولوں سے کلام کو پرکھا جاتا ہے ۔ عربی زبان میں (یعنی لہجات میں ) حروف کا تغیر اور تبدل بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ گویا (بظاہر) زبان ہی الگ ہے ۔ ان مروجہ لہجات میں نہ صرف نئے مخارج شامل ہیں بلکہ کئی الفاظ کے عربی میں ہی ایک دوسرے سے مخارج میں متبدل ہیں ۔
    مثلاََ ۔گ۔ چ۔ وغیرہ کی شمولیت (بطور حرف یعنی کتابت نہیں بلکہ بطور صوتی شمولیت) ۔
    کہیں بھی چ اور گ لکھا نہیں جاتا لیکن صرف بولا جاتا ہے۔کہیں کہیں ک کو س بھی بولا جاتا ہے ۔
    میڈیا کی دنیا میں انٹرتینمنٹ انڈسٹری میں کیوں کہ مصری لہجہ غالب ہے اس لیے انٹرٹینمنٹ کی حد تک یہ لہجہ کئی عرب ممالک میں مشہور ہے ۔ اس میں بھی مخارج بہت تبدیل شدہ ہیں ۔جو ہماری عجمی سماعتوں پر انتہائی مشکل بلکہ مضحکہ خیز بھی بن جاتے ہیں ۔
    لیکن بین الاقوامی رسمی ،سیاسی اور صحافتی ماحول میں مصری اور دیگر ممالک کے افراد بھی اصلی عرب لہجے میں کلام کرتے ہیں ۔
    مصر میں جہاں تک مذہبی تقاریر کی بات ہے تو مصری شیوخ بھی مصری علاقائی آڈئینس میں اپنے ہی لہجے ہی میں کلام کرتے ہیں الا یہ کہ انہیں بین الاقوامی آڈئینس کی موجودگی میں خطاب کرنا ہو ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر