اشعار

فرحت کیانی

لائبریرین
umeedaurmohabbat نے کہا:
عنوان سے یکدم یوں لگا جیسے کسی نے پکارا ہو ۔ ۔ بہرحال

کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی

(غالب)

یہی سمجھ لیجئے :)

کم سے موت سے ایسی مجھے امید نہیں!!!!
زندگی تُو نے تو مجھے دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
 
میں نے یہ مان لیا ۔ ۔ ۔

اس نے ہی کہا تھا تو یقیں میں نے کیا تھا

امید پہ قائم ہے
یہ دنیا ، اسے کہنا ۔ ۔ ۔ ۔


(سرور مجاز)
 

فرحت کیانی

لائبریرین
شکریہ مان کر مان رکھنے کا :)

امید کے دیے کے سوا کچھ بھی نہیں یہاں
اس گھر میں روشنی کا یہی انتظام ہے
 
Top