محمد وارث

لائبریرین
اگر تو بھٹو کی بات ہے تو جب اسے پھانسی دی گئی وہ وزیر اعظم نہیں بلکہ ایک عام شہری تھا :)
بھٹو پھانسی کے وقت بھی وزیرِ اعظم ہی تھا، کیونکہ اس کو کسی بھی قانونی طریقے سے وزارت عظمیٰ سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔
یہ معطل معطل کھیل نے اتنی پذیرائی حاصل کی کہ میں بھی للچا رہا ہوں، شاید اسی تبصرے سے کوئی بات بن جائے :)
 
بھٹو پھانسی کے وقت بھی وزیرِ اعظم ہی تھا، کیونکہ اس کو کسی بھی قانونی طریقے سے وزارت عظمیٰ سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔
سربُھٹو وزیر اعظم تھا تو اب تک زندہ ہے نا ۔۔ عام بندے کو پھانسی دیں تو وہ مر جاتا ہے :D
 

فہیم

لائبریرین
بھٹو پھانسی کے وقت بھی وزیرِ اعظم ہی تھا، کیونکہ اس کو کسی بھی قانونی طریقے سے وزارت عظمیٰ سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔
یہ معطل معطل کھیل نے اتنی پذیرائی حاصل کی کہ میں بھی للچا رہا ہوں، شاید اسی تبصرے سے کوئی بات بن جائے :)
پھر ہمیں اپنی بات واپس لینی پڑے گی:)
کیونکہ میرے دماغ میں تھا کہ شاید جب اس کا تختہ الٹا تبھی اس کی وزیر اعظم شپ بھی ختم کردی گئی تھی۔

باقی سرگوشی پر تو ایک قہقہہ ہی بنتا ہے:laughing:
 

محمد وارث

لائبریرین
پھر ہمیں اپنی بات واپس لینی پڑے گی:)
کیونکہ میرے دماغ میں تھا کہ شاید جب اس کا تختہ الٹا تبھی اس کی وزیر اعظم شپ بھی ختم کردی گئی تھی۔

باقی سرگوشی پر تو ایک قہقہہ ہی بنتا ہے:laughing:
مزاح سے ہٹ کر، وزاتِ عظمیٰ ختم کرنے کے سارے طریقے آئینِ پاکستان میں لکھے ہوئے ہیں، افسوس کہ مسلح تختہ پلٹائی ان میں شامل نہیں ہے، یہی چیز تو آٹھویں ترمیم کی بنیاد تھی۔
 

فہیم

لائبریرین
مزاح سے ہٹ کر، وزاتِ عظمیٰ ختم کرنے کے سارے طریقے آئینِ پاکستان میں لکھے ہوئے ہیں، افسوس کہ مسلح تختہ پلٹائی ان میں شامل نہیں ہے، یہی چیز تو آٹھویں ترمیم کی بنیاد تھی۔
یہی تو ہمارے ملک کی انوکھی بات ہے۔
جو چیز آئین و قانون میں ہوتی ہے وہ عملی طور پر مردہ ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے غیر آئینی و قانونی باتیں عمل میں آتی ہیں۔
 
میری رائے میں تو یہ ایک myth ہے کہ محفل جمود سے گذر رہی ہے۔ کچھ لوگوں کے معطل ہونے کے باوجود محفل میں اتنی گرمجوشی ہونا اس جمود کو غلط ثابت کرتا ہے۔
جمود یا جمود نما سے مراد یہ تھا کہ موضوعات میں کچھ ٹھہراؤ آ گیا ہے. اوریجنل کونٹینٹ کی کمی ہے. :)
بہرحال ایک رائے ہے. غلط بھی ہو سکتی ہے. :)
 

محمد وارث

لائبریرین
یہی تو ہمارے ملک کی انوکھی بات ہے۔
جو چیز آئین و قانون میں ہوتی ہے وہ عملی طور پر مردہ ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے غیر آئینی و قانونی باتیں عمل میں آتی ہیں۔
ہمارے ہمسائیوں کے ہاں بھی ہے کچھ کچھ۔ اندرا گاندھی 1975ء میں وزیرِ اعظم تھی جب انڈیا کی کورٹ نے ان کو سزا سنائی، پارلیمنٹ کی سیٹ خالی کر دی اور چھ سال کے لیے نا اہل بھی کر دیا، بجائے فیصلہ ماننے کے اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی لگا دی، فیصلے خود ہی کالعدم ہو گئے :)
 

فہیم

لائبریرین
ہمارے ہمسائیوں کے ہاں بھی ہے کچھ کچھ۔ اندرا گاندھی 1975ء میں وزیرِ اعظم تھی جب انڈیا کی سپریم کورٹ نے ان کو سزا سنائی، پارلیمنٹ کی سیٹ خالی کر دی اور چھ سال کے لیے نا اہل بھی کر دیا، بجائے فیصلہ ماننے کے اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی لگا دی، فیصلے خود ہی کالعدم ہو گئے :)
بس دو فیملیوں کی چاندی ہے
یہاں بھٹو ہے، وہاں گاندھی ہے :)
 

محمد وارث

لائبریرین
لیکن ہمارے ایک بھائی اُن کے سب بھائیوں پر بھاری ہیں۔ وہی غالب کے شاگرد کے نام والے :)
بجا لیکن شرفاء کے الطافات کو آپ کم نہ سمجھیں۔ پنجابی میں آپ کی طرف کے بھائی کو "لُچا" اور ہماری طرف کے بھائی کو "مِیسنا" کہتے ہیں، نوازشات اور الطافات میں دونوں کو برابر ہی سمجھیں۔ :)
 

فرحت کیانی

لائبریرین
اس دنیا کے اصول بہت عجب ہیں۔ جب کوئی شخص سزا یا قید کاٹ کر آبھی جاتا ہے۔ تو اس کی تصویر تھانے کی دیوار پر لٹکی رہتی ہے۔ جیلر کے رجسٹر میں اس کا اندراج ہوا رہتا ہے۔ کبھی کسی کو تھانوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو۔ تو وہاں اشتہاریوں کے بورڈ پر تصاویر لگی ہوتی ہیں، ان افراد کی جن کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یا جو سزا کاٹ کر دوبارہ نہیں آتے۔ یا وہ بھی جو سزا کاٹنے گئے تو واپس ہی نہیں آئے۔ الغرض اس اشتہاری بورڈ پر چند تصاویر رہتی ہی ہیں۔ پرانے اشتہاریوں کی تصاویر اتار کر دفتر بند کر دی جاتی ہیں۔ اور نئے اشتہاریوں کی تصاویر لگا دی جاتی ہیں۔
ہماری محفل میں کسی دور میں تھانہ ہوا کرتا تھا۔ وہاں لوگ شکایات بھی لگاتے تھے۔ لیکن چونکہ علاقہ میں عرصہ سے کوئی نیا تھانیدار نہیں ہے سو محفل میں اشتہاریوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ابھی ہی دیکھیے۔ چند تازہ تازہ اشتہاری اپنی سزا کاٹ کر دوبارہ آئے ہیں۔ اصل میں یہ اشتہاری ہی ہیں جو ہر دلعزیز ہوتے ہیں۔ ان کے دم سے رونقیں ہوتی ہیں۔ عوام جس دلجمعی سے ان کا استقبال کر رہی ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت بھی ہے۔
انہی اشتہاریوں کی محفل واپسی سے مجھے یہ خیال آرہا ہے کہ محفل میں بھی اشتہاری کوچہ ہونا چاہیے۔ تاکہ جب کوئی اشتہاری عارضی طور پر معطل ہو۔ تو واپس آکر وہاں پر حاضری دے۔ تاکہ اشتہاری بورڈ بالکل تازہ معلومات کا ذخیرہ بن سکے۔
تازہ اشتہاری جو اپنی سزا کاٹ کر آئے ہیں۔ ان کے بارے میں چند تفصیلات حاضر ہیں۔
arifkarim :
یہ ایک مانے ہوئے اشتہاری ہیں۔معطلی ان کا دوجا گھر ہے۔ اور ان کو تازہ دم کرنے کا وسیلہ بھی۔ ہر چھوٹے اور بڑے جھگڑے میں یا تو باقاعدہ شامل ہوتے ہیں، یا کم از کم اس کے پاس سے ضرور گزرتے ہیں۔ کافی بار معطل ہوچکے ہیں۔ لیکن خاص فضل ہے کہ اسی طور طریق سے روش رنداں پر قائم ہیں۔ محفل کی آدھی رونقیں ان کے طفیل ہیں۔ جس عزم و ہمت سے یہ مسلسل مدتوں سے اس روش پر قائم ہیں یقینی طور پر مجھ جیسے شخص کے لیے مشعل راہ ہے۔ عارف یوں ہی سدا اپنے ہونے کا ثبوت دیتے رہیں۔

اکمل زیدی :
اکمل زیدی صاحب بالکل ہلکے پھلکے تو اکثر ہی چونچ لڑاتے نظر آجاتے ہیں۔ تاہم کبھی کسی بڑے جرم پر تھانیدار کی گرفت میں نہیں آئے تھے۔ ماشاءاللہ سے پہلی بار سزا کاٹ کر آئے ہیں۔ معطلی والا ڈر بھی اتر گیا ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں اب زیادہ گرم جوشی سے اپنے "ہونے" کا ثبوت دیں گے۔
اے خان :
محفل کی عدالت بڑی ظالم ہے۔ بچوں کو بھی عارف جیسوں کے ساتھ معطلی والے خانے میں رکھا گیا۔ میرا ارادہ ہے کہ اس ظلم کے خلاف باقاعدہ چند محفلین لے کر احتجاج کیا جائے۔ جس عمر میں یہ معطلی کی سزا بھگت آئے ہیں۔ امید ہے کہ بڑے پر پرزے نکالیں گے۔ ہم مستقبل میں انہی "محفلی گلو بٹ" کی کرسی پر رونق افروز دیکھتے ہیں۔
سید عمران :
رینجر کا حملہ ہی لگتا ہے کہ بڑے بڑے نام گرفت میں آئے ہیں۔ سید عمران بھی کبھی کبھار تفریح طبع کے لیے یوں ہی چونچ لڑا لیا کرتے ہیں۔ تاہم اس بار جھگڑے کی جگہ سے گرفتار کیے گئے تو یہ ستارہ امتیاز ملا۔ یوں ستاروں پر کمند ڈالنے کا کام بھی کیا۔ ایک غیر سرکاری گفتگو کے دوران بتاتے ہیں کہ میری نظر تمغہ جرأت پر ہے۔ جو محنت اور لگن ان کا خاصہ ہے۔ ہم وہ مقام بھی ان کے پاؤں میں دیکھتے ہیں۔

سید لبید غزنوی :
آہاں۔۔۔ "نکلے جو میکدے سے تو دنیا بدل گئی" والا معاملہ تو ہمیں آپ کو دیکھ کر سمجھ میں آیا۔ یہ عمر اور یہ بال و پر۔۔۔ شاہین بچے تو آپ ہی ہیں۔ آپ کے انداز و اطوار اور جنگ جیتنے کے اصول بہت زبردست ہیں۔ اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی آپ کی بحثی حکمت عملی کسی دوراہے کا شکار نہ ہوگی او رآپ یوں ہی حق بات کا پرچار کرتے رہیں گے۔ اور یوں اس اشتہاری کوچے میں آپ کا آنا جانا رہے گا۔

فاخر رضا :
کہتے ہیں کہ پوت کے پاؤں پالنے سے نظر آجاتے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ یہ چند ماہ کا جنگجو بنا کسی تربیت کے ایسا میدان میں اترے گا کہ حشر اٹھا رکھے گا۔ اللہ اللہ۔ کیا بات ہے۔ کیا ہی بات ہے۔ بھئی میدان جنگ میں آپ خوب لڑے۔ آپ کی ہمت و جرأت کی داد نہ دینا زیادتی ہوگا۔ امید ہے کہ آپ آئندہ بھی اپنے جوہر دکھلاتے رہیں گے اور یوں ہی محفل کی رونق کو بڑھاتے رہیں گے۔

کچھ احباب نے خود ساختہ معطلی اختیار کر رکھی ہے۔ اور اس اشتہاری کوچے میں ان کا ذکر نہ ہو تو کوچے کی اشتہاریت پر شبہ کیا جا سکتا ہے۔ سو ان کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔
قیصرانی :
قیصرانی جب محفل میں ہوتے تھے۔ تب بھی اشتہاری ہی تھے۔ اب جب وہ اپنے تئیں دنیا کو تیاگ کر درویش ہوگئے ہیں تو بھی ان کے اشتہاری ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کم از کم میرے نزدیک۔ کہتے ہیں چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں۔ سو خاقان نے خود ساختہ معطلی تو اختیار کر رکھی ہے لیکن اردو کتابوں کی ٹائپنگ اور ترجمے سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ ہمیں ان کی معطلی ہر گز نہیں بھاتی۔ اور اب ان سے بھی یہی کہنا ہے کہ زمانہ آیا بےحجابی کا عام دیدار یار ہوگا کے مقصداق محفل کو بھی اپنے دیدار سے فیضیاب فرمائیں۔ بڑا اشتہاری اگر عرصہ منظر عام سے غائب رہے تو تمثیل بن جاتا ہے۔ سو فکر کریں۔ اور واپس آئیں۔

فرحت کیانی :
لو بھئی! اب میں کیا بات کروں۔ یہ محترمہ تو ہر جگہ ہی معطل ہیں۔ اتنی معطل ہیں کہ لگتا ہے کسی دن جاب سے معطل ہو کر رہیں گی۔ پہلے کیانی آیا جایا کرتی تھیں۔ اور کچھ نہیں تو کبھی کبھار کوچہ کی رکنیت خطرے میں ڈال کر کچھ پکا بھی لیتی تھیں۔ اور پھر سال بھر اس کی تصاویر دیکھ کر ہی دل بہلایا کرتی تھیں۔ لیکن اب تو لگتا ہے کہ اپنی حرکتوں کے سبب کچن سے بھی نکال باہر کر دیا گیا ہے۔ کیانی آپ بھی خود ساختہ معطلی کو معطل کریں اور اپنے ہونے کا ثبوت دیا کریں۔

متفرق: میری محفل سے گزارش ہے کہ محمداحمد ، محمد امین اور فلک شیر کو بھی معطل کر دیا جائے۔ قسم سے حد ہوتی ہے۔ مدتوں سے یہ لوگ رکن ہیں اور کسی جھگڑے میں حصہ نہیں لیتے۔ اور اپنے تئیں خود کو سنائپر سمجھتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ انتظامیہ ایسے لوگوں کو اس لیے معطل نہیں کرتی کہ ایسا نہ ہو ان کو معطل ہونے کی خبر ہی نہ ملے۔ اور لوگوں کے دل سے معطلی کا ڈر نکل جائے۔ بھئی اصول بھی یہی ہے کہ "ڈر بنا رہنا چاہیے"۔

کئی ایک احباب کا تذکرہ میں نے خود چھوڑ دیا ہے۔ آخر آپ لوگوں نے بھی کسی کے بارے میں کچھ لکھنا ہوگا۔ سب کا میں ہی لکھ دوں گا تو پھر آپ کیا کریں گے۔
نوٹ: ہم ایک بار پھر سے ایک نئے کوچے کے ساتھ حاضر ہیں۔ پرانے کوچوں سے عوام اکتا رہی ہے۔ سو وقت کی ضرورت کے تحت ایک نیا کوچے کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس کوچے کو متحرک اور پررونق رکھنے کے لیے آپ احباب سے گزارش ہے کہ پوری محفل میں "ات اٹھائے" رکھیں۔

اعلان: میں اس کوچے کی بنیاد محض دوستانہ بنیادوں پر رکھ رہا ہوں۔ معطلی کو لے کر ہلکی پھلکی گپ شپ کر لینی چاہیے۔ تنقید و تضحیک ہرگز مقصد نہیں ہے۔تاہم مذکور اراکین سے اگر کوئی اعتراض کرے تو میں اس کا نام اور وہ سطریں حذف کر دوں گا۔​
شدید معلوماتی و تعصباتی پوسٹ۔


دنیا میں کیا کیا ہو جاتا ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں چلتا۔
 

یاز

محفلین
بھٹو پھانسی کے وقت بھی وزیرِ اعظم ہی تھا، کیونکہ اس کو کسی بھی قانونی طریقے سے وزارت عظمیٰ سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔
اسی طرح رفیق تارڑ بھی ابھی تک صدرِ پاکستان ہیں۔
سکندر مرزا کا پوتا بھی شاید دعویٰ کر سکتا ہو۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اسی طرح رفیق تارڑ بھی ابھی تک صدرِ پاکستان ہیں۔
سکندر مرزا کا پوتا بھی شاید دعویٰ کر سکتا ہو۔
شاید، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اصل میں جب بھی پاکستان میں کوئی مارشل لا ختم ہوا اور آئین کو بحال کیا گیا تو مارشل لائی حکومتوں کے سارے فیصلوں کو "لیگل" کیا گیا۔ ایوب خان نے آئین ہی نیا دے دیا 1962ء کا۔ 1985ء میں ضیا صاحب نے آٹھویں ترمیم داخل کی آئین میں اور اسی طرح مشرف نے کیا۔ مارشل لا ختم ہونے کے بعد اگر آئین میں یہ تبدیلیاں نہ کی جائیں تو پھر تو مارشل لا دور کا ہر اچھا برا فیصلہ نہ صرف چیلنج ہو سکتا بلکہ کالعدم ہو سکتا ہے اور آئین توڑنے والے کو سزا مل سکتی ہے۔ سو جب آئین میں ترامیم ہو گئیں تو ان کے فیصلے بھی "جائز" ہو گئے۔

بجا ہے کہ آٹھویں ترمیم 1985ء کے بعد سے جنرل ضیا کے فیصلے "لیگل" ہو گئے تھے لیکن جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی 1979ء میں تو اس وقت یہ فیصلے لیگل نہیں ہوئے تھے اور آئین معطل تھا، اور قانونی طور پر پھانسی کے وقت بھٹو وزیر اعظم ہی تھا، 85ء کی آئینی ترمیم کے بعد نہ رہا۔
 
Top