میر اس کا خیال چشم سے سب خواب لے گیا ۔ میر تقی میر

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 29, 2012

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اس کا خیال چشم سے سب خواب لے گیا
    قسمی کہ عشق جی سے مری تاب لے گیا

    کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
    مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

    آوے جو مصطبع میں تو سن لو کہ راہ سے
    واعظ کو ایک جامِ مئے ناب لے گیا

    نَے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
    آیا جو سیلِ عشق سب اسباب لے گیا

    میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا
    رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا

    احوال اس شکارِ زبوں کا ہے جائے رحم
    جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا

    منہ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے
    شب ہم کو میرؔ پرتوِ مہتاب لے گیا

    (میر تقی میر)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
    مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

    بہت اعلیٰ انتخاب فرخ صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,844
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
    کیا ہی خوب کلام ہے
    واہ


    نَے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
    آیا جو سیلِ عشق سب اسباب لے گیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ شیزان صاحب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    انتخاب کی پذیرائی کے لئے بہت شکریہ باباجی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر