]::::: اسلام میں موسیقی اور گانے ::::: پہلا حصہ ::: شرعی حیثیت :::::

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
فاروق بھائی ، ریفرنس بھی ساتھ ہی نقل کر دیا کیجیے ، ادھر ادھر جانے سے پڑہنے والے کا تسلسل خراب ہو جاتا ہے ،
حوالہ ساتھ ہی نقل ہے۔ ویب سائٹ کا لنک دیا ہوا ہے عربی میں۔

باقی اصحاب کے تمام ذاتی حملے درگزر کرریا ہوں۔ صرف دلائل دیجئے۔
 

شمشاد

لائبریرین
بحث اپنے اصل موضوع سے ہٹتی نظر آ رہی ہے۔

اگر تواراکین نے اپنے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں تو اس بحث کو ختم کر دیا جائے یا پھر صرف اصل موضوع پر رہا جائے تو پڑھنے والوں کا بہت بھلا ہو گا۔
 
برادر من شمشاد،
آپ بہت ہی صائب الرائے ہیں۔ جب بھی کہتے ہیں‌منصفانہ کہتے ہیں۔
ہم پہلے اتفاق کرچکے ہیں‌کہ جو کچھ کتب روایات میں قرآن کے موافق ہے وہ قابل قبول اور مستند سنت ہے۔ اور جو قرآن کے موافق نہیں‌ ہے وہ قابل قبول اور مستند سنت ، قانون یا اصول نہیں ہے۔

میں یہ تجویز کروں‌گا کہ ------ کتب روایات میں درج خلاف قران روایات بھی مستند اور قابل قبول ہیں --- کے نام سے ایک الگ دھاگہ کھول لیا جائے۔ جس میں‌ لوگ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ خلاف قرآن روایات بھی مستند سنت رسول کو ثابت کرتی ہیں۔ جب ایسا ثابت ہوجائے تو پھر ہم اس اصول کو بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ جب تک یہ طے نہیں ہوتا، نئے آنے والوں کو اس دھاگہ کا رخ‌کرنا چاہئیے۔ اس طرح خواہ مخواہ کی بحث سے ہر نیا آنے والا بچ جائے گا۔

اس طرح ہم ہر ہر دھاگہ میں ایک ہی بحث ----- کہ کتب روایات میں درج ہر روایت پر ایمان لانا ضروری ہے چاہے وہ خلاف قرآن ہی کیوں‌نہ ہو ----- سے بچ جائیں گے اور اصل موضوع پر دھیان دے سکیں‌گے۔ منظمین اس قسم کے مباحثین کو جو خلاف قران روایات کو مستند سنت تسلیم کرتے ہیں اور ہر ہر روایت پر ایمان رکھتے ہیں، اس دھاگہ میں‌بھیج سکتے ہیں۔

والسلام۔
 
السلام علیکم عادل،
روایت:
ابو مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا ( لَیَکُونَنَّ مِن اُمَّتِی اَقوامٌ یَستَحَلُّونَ الحِرَ و الحَرِیرَ و الخَمرَو المَعازِفَ ) ( ضرور میری اُمت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زِنا، ریشم اور شراب اور باجوں کوحلال کرنے کی کوشش کریں گے ) صحیح البُخاری / حدیث٥٥٩٠/ کتاب الأشربہ /باب ٦ ،

آپ سے استدعا کی تھی کہ اس روایت کی اسناد اور ان میں کمی کو واضح‌فرمائیے۔ بناء حوالہ پیش کررہا ہوں، اصل روایت: تحقیق آپ فرمائیے۔ تاکہ اندازہ ہو کہ آپ ادھر ادھر سے کٹ پیسٹ کرتےہیں یا کسی کتاب روایت کو بھی دیکھتے ہیں۔

اصل روایت:
ابو عامر یا ابو مالک العشری سے روایت ہے کہ ۔۔۔۔ باقی متن اوپر دیا ہوا ہے۔

یہ روایت جو کچھ حرام قرار دے رہی ہے وہ صحیح حدیث کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ شیخ‌محمد الحنوطی۔ کیوں؟ (‌کتاب کے نام اور صفحہ کا حوالہ آپ کے ذمہ)
1۔ امام البخاری نے حدیث‌ المعازف (‌اس کتاب کا نام آپ کے لئے چھوڑ رہا تھا لیکن سوچا کہ بہت آسان ہے، صفحہ نمبر آپ نایت کیجئے)‌ میں خود لکھا کہ اس روایت کی اسناد ٹوٹی ہوئی ہیں۔ دوسرے راوی اور بخاری کے درمیان خلاء ہے لہذا اس نے ان اسناد کے پہلے راوی کا نام نہیں‌لکھا۔ اس کو کہیں‌گے کہ یہ روایت معلق ہے۔
2۔ ابن حجار نے اس ٹوٹی ہوئی اسناد کو جوڑنے کی کوشش کی میں بہت ریسرچ کی لیکن اس کے باوجو ابتدائی راویوں میں سے ایک ہشام ابن عمار ، جس کا تذکرہ ---- ابن حجار کی کتاب تہذیب التہذیب ۔۔۔۔ (جلد نمبر اور صفحہ نمبر کا ‌آپ حوالہ دیجئے) میں‌کیا گیا ہے، بیشتر سکالرز کے لئے قابل قبول راوی نہیں ہے۔

3۔ اس روایت میں مستند حرام اور غیر مستند حرام و حلال کو ملایا گیا ہے۔ شراب و زنا حرام ہیں۔ ہر مسلمان مانتا ہے۔ لیکن ریشم حرام ہے یا حلال کوئی نہ مانے تو کفر نہیں ، اسی طرح آلات موسیقی ہیں‌ کہ جن کے بارے میں نہ کوئی روایت ہے اور نہ ہی کوئی آیت۔ جبکہ دوسری روایات جو دوست نے پیش کی ہیں وہ رسول اکرم و امہات مومنیں کی موجودگی میں --- المعازف --- موسیقی و غناء‌ وقوع پذیر ہونا ثابت کرتی ہیں۔ لہذا یہ روایت بہت ہی کمزور یا ضعیف روایات میں‌شمار ہوتی ہے۔

چلئے آپ کی خدمت میں ٹوٹی ہوئی اور مشتبہ اسناد کا متن پیش کردیا اب دیکھتے ہیں کہ آپ جلد نمبر اور صفحہ نمبر کا حوالہ کب لاتے ہیں۔ دو کتب کے نام بھی فراہم کردئے ہیں۔ اگر آپ یہ تحقیق نہ کرسکیں تو وعدہ کیجئے کہ بنا تحقیق ادھر ادھر سے کٹ‌پیسٹ نہیں کریں گے جب تک خود آپ کو یقین نہ ہو کہ یہ درست ہے۔

یہ روایت تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں:
ایک موقع پر سیدنا صدیق اکبر حضور کے گھرمبارک میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور چند انصاری عورتیں دف پر کچھ گا رہی ہیں ۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیق نے سختی سے ڈانٹ کر کہا کہ “ رسول اللہ کے گھر میں شیطانی گانا بجانا کر رہی ہو۔“ بچیاں ڈر گئیں اور سیدہ عائشہ صدیقہ بھی خاموش ہو گئیں۔ کمرے کے ایک طرف حضور نبی اکرم بھی چادر اوڑھے لیٹے تھے لیکن حضرت ابو بکر صدیق کی شاید نگاہ انکی طرف نہ پڑی تھی ۔ سیدنا صدیق اکبر کی تنبیہ پر حضور پاک نے فرمایا
“ یا ابابکر لکل قوم عیدا، وھذا یوم عیدنا“ اے ابوبکر ! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ، آج ہمارا بھی عید کا دن ہے“

اس موضوع پر مزید بحث میں پڑنا مناسب نہ ہو گا۔ آپ کا دل جس بات کو اور جس نظریہ کو درست مانے اسی کو اپنا لیں۔ آخرت میں حساب تو سب نے اپنا اپنا دینا ہے۔ اللہ تعالی کرم فرمائے گا۔
والسلام
 
سلام مسنون
بھائی ظہور احمد سولنگی لکھتے ہیں ہیں کہ قران پر غور فکر کرنا، اللہ کا حکم نہیں ہے، جو بھی اللہ کی کتاب پر غور و فکر کرتا ہے ، تو یہ پرویزیت ہے۔ اوپر کی آیات آپ سے شئیر کی ہیں دیکھ لیجئے۔ یہ آیات اندھی تقلید کے لئے کہہ رہی ہیں یا غور فکر کے لئے۔ قرآن تمام وقتوں کے لئے ہے، جوں جوں ہمارا علم بڑھتا جائے گا، ہم قران پر غور کرتے رہیں گے اور ہم قرآن کو بہتر سمجھنے کے قابل ہوتے جاتے ہیں۔
ماشاء اللہ چھا گئے فاروق صاحب میری پوسٹ کا یہ مطلب لے لیا جو کوئی عقل سے کورا بندہ بھی نہیں لے گا، میں نے کب کہا کہ قرآن میں فکر نہ کریں جبکہ قرآن خود کہ رہا
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ‌[47-24]
بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں
اور یہ کہ قرآن میں فکر کرنا خود قادر مطلق کا حکم ہے نہ کہ پرویز صاحب کا۔
آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ ہم بھی قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اپنی خواہشات کے مطابق نہیں اور نہ ہی ہماری اتنی بصیرت ہے کہ قراں کی تمام آیات کو سمجھ سکیں اور ہم قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے نہیں کرتے۔
میں نے پرویز صاحب کی کافی کتابیں پڑہی ہیں آدم و ابلیس تو پوری پڑھی تھی اور طلوع اسلام تو باقاعدہ ملتا تھا، میں نے پرویز صاحب کے طبلہ نواز ہونے کے بارے میں پوچھا تو آپ اتنا الٹا جواب دے دیا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پرویزی فکر نے کافی لوگوں کو گمراہ کیا ہے جس میں میرا ایک مرحوم دوست بھی تھا جو پہلے تو کمیونسٹ تھا مگر بعد میں پرویزی ہوگیا تھا اس کی حالت پر آج بھی رحم آتا تھا
خیر ایک پتہ چل گیا آپ بھی اسی فکر سے ہیں چاہے انکار کریں مگر ہر صاحب شعور بندہ اس کو سمجھتا ہے۔
میں نے آُپ سے ایک سوال پوچھا تھا حضرت مہدی علیہ السلام والے دھاگے میں اس کا تو جواب نہیں دیا براہ اس تھریڈ میں ایک میرا سوال آپ کا منتظر ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے۔
 
آپ باتوں کو کتنا گول مول کرتے ہیں، سلام ہو آپ پر۔ اگر پرویز فکر کے نہ ہوتے تو اوپر میرے اوپر الزام نہ لگاتے ادھر میں نے پرویز صاحب کے طبلہ نواز ہونے کی بات کی ادھر سے الزام ۔
 
سلام مسنون۔

فاروق بھائی ، آپ نے ایک دفعہ پھر میری توقعات کو دھچکا لگایا ہے ، غصے میں آ کر آپ معقولیات سے نکل کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر اتر آئے تھے ، لیکن خیانت کرتے ہوئے میرے لکھے ہوئے الفاظ کو بھی بدل دیں گے ، یہ اس سے بھی بڑی خرابی ہے ، بھائی اگر آپ کو میرے لکھے ہوئے ترجمے میں کوئی خامی یا خرابی نظر آئی تھی تو اس کا اظہار کرتے ، خود سے تبدیل کیوں کیا ؟؟؟ اب آپ جیسے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا بھروسہ رہا کہ آپ اپنے مقابل کے الفاظ تبدیل کر کے اپنے ھدف کے حصول میں مدد دینے والے الفاظ اس کے کھاتے میں نہ ڈال دیں گے ؟؟؟[/b][/size]
میں نے لکھا ترجمہ لکھا تھا """ اور (اے ہمارے رسول ) ہم نے آپ کی طرف ذکر (قران) نازل کیا ہے تا کہ آپ لوگوں پر واضح فرما دیں کہ اُن کی طرف کیا نازل کیا گیا ہے تا کہ وہ ( آپ کے بیان کے مطابق اس میں غور و) فِکر کریں """ ،،، اور آپ نے میرے نام کے اقتباس میں لکھ دیا """ اور (اے نبیِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف ذکرِ عظیم (قرآن) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے وہ (پیغام اور احکام) خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں """
گو کہ آپ کے لکھے ہوئے ترجمے سے بھی آپ کا مقصد پورا نہیں ہوتا اس میں بھی یہ ہی بات ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم وضاحت فرمائیں ، اور جناب ، اسی وضاحت کو سنت قولی اور فعلی اور تقریی کہا جاتا ہے اور وہ سنت روایات حدیث میں ہی ملتی ہے قران میں نہیں ، کیونکہ وہ قرن کا حصہ نہیں بلکہ قران کی وضاحت ہے ، و للہ الحمد ، آپ کا پیش کردہ ترجمہ بھی آپ کے کام نہیں آیا ، لیکن خیانت داری آپ کے ذمے لگ گئی


صاحب، آپ اپنی نصف آیت اور نصف ترجمے کو جو رنگ دے رہے ہیں وہ بددیانتی کا آئینہ دار ہے۔ آپ اپنی مرضی کا ترجمہ لگا لیجئیے، بلکہ موجود ہی ہے۔۔ میرے نزدیک آپ کا بے چین ہو کر معترض ہونا بچکانہ ہے۔ کہ نہ تو آیت آپ کی اپنی تھی اور نہ ہی ترجمہ آپ کا اپنا۔ جو آپ کو کہا گیا وہ آپ نے نظر انداز کردیا۔ آپ کو المائیدہ کا اضافی ی نظر آتا ریا۔ اور :"سوت المائدہ " کا "رۃ کی جگہ ت کا استعمال " حسب ضروت لگتا رہا لیکن اس آیت میں جو پیغام تھا وہ ایک اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے کو نظر نہیں آتا۔ آپ کو ایک ترجمہ قبول ہے، مجھے تمام عام ترجمے قبول۔ آپ ٹائپنگ کی غلطیوں‌ کو دیکھنے کے بجائے بھائی اپنے ایمان پر دھیان دیں۔

اس آیت کے مطابق بنیادی بات یہ ہے کہ قرآن رسول اکرم کی طرف اتارا گیا۔ تاکہ وہ لوگوں ‌پر وہ واضح کردیں‌ وہ جو ان پر ----- اتارا گیا ---- یعنی قرآن ۔ یہی آپ مانتے نہیں اور اللہ کی آیات کا انکار کبھی ترجمہ کی آڑ میں کرتے ہیں اور کبھی مجھ پر الزام خیانت کی آڑ میں۔جبکہ آیت بھی وہی ہے اور ترجمہ بھی اس کے مناسب حال اگر آپ کو یہ قبول ہوتا کہ جو کچھ رسول پر اتارا گیا وہ صرف اور صرف قرآن ہے ، وہ بخاری و مسلم و دیگر حضرات کی کتب روایات نہیں‌ہیں تو پھر جھگڑا کس بات کا؟

قران کی وضاحت قرآن کی مخالف روایات سے کس طور کی جاتی ہے۔ خلاف قرآن روایات سنت رسول کس طور بن جاتی ہے۔ اس پر نظر کیجئے۔ آپ کے زیادہ تر اعتراضات فضول اور کسی بھی سوال سے عاری ہیں۔ مجھے تو طاہر القادری کے "نماز کا نظام" اور "زکواۃ کے انتظام: کے استعمال میں کچھ عجیب نہیں‌لگا۔ یہ ترجمہ نہیں قبول تو اپنی پسند کا ترجمہ استعمال کرلیجئے۔ ان ترجموں کی آڑ میں چھپنے والوں کے لئے ہی ایک سے زیادہ ترجمے لگائے ہیں‌میں نے۔ اور اگر آپ کو کوئی ترجمہ بہتی ہی پسند ہے۔ تو اوپن برہان ڈاؤن لوڈ‌ کرکے اس میں‌ اس ترجمے کا اضافہ کیجئے اور پیش کیجئے سب کو۔ تاکہ آپ کو شکایت نہ ہو ترجمے کی کہ یہ والے ترجمے تو اٹک جاتے ہیں صاحب جان کو :)

جناب من ۔آ پ نے نصف آیات اور نصف تراجم لکھے تھے ، ان کی تصحیح کی تھی اور آپ کو بتا بھی دیا تھا۔ قرآن کا متن اور ترجمہ آپ کا فرمان نہیں ہے ۔

جس روایت کا ترجمہ آپ سے کروایا ، اس میں‌ غیر القرآن کو لکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ یعنی غیر قرانی مواد جو قران کے موافق نہ ہو ضائع کردو۔
پھر آپ وہ روایات کیوں پیش کرتے ہیں جو نہ صرف خلاف قرآن ہیں ۔بلکہ ضعیف ہیں اور ان کی اسناد بھی ٹوٹی ہوئی ہیں، خود امام البخاری کے اپنے الفاظ میں۔

والسلام
 
آپ باتوں کو کتنا گول مول کرتے ہیں، سلام ہو آپ پر۔ اگر پرویز فکر کے نہ ہوتے تو اوپر میرے اوپر الزام نہ لگاتے ادھر میں نے پرویز صاحب کے طبلہ نواز ہونے کی بات کی ادھر سے الزام ۔
آپ نے بھائی اپنے خیال کا اظہار کیا، یہ الزام نہیں ہے۔ بھائی ممکن ہے کہ وہ طبلہ بجاتے ہوں یا کچھ اور، آپ کو ایک لیبل چاہئے۔ تو بھائی میرے لئے وہ لیبل ہے صرف مسلمان کا۔ ایک قرآن کا۔ [ayah]2:177 [/ayah] کے مطابق ایمان کا۔ رسول عربی کی پیروکاری کا۔ نہ میں‌سنی ہوں اور نہ ہی شیعہ اور نہ ہی کسی دوسرے فرقہ کا۔ میرا فرقہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرقہ ہے اور وہ ہے مسلمان۔ انہوں نےصرف اور صرف قرآن ہی پیش کیا۔ اسی کی تعلیم دی اور اسی سے تعلیم دی۔ نہ اللہ نے اور نہ ہی اس کے رسول نے کہیں یہ حکم دیا کہ بعد میں آنے والی کسی مزید مکمل کتاب پر ایمان رکھنا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ان کتب میں --- یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ------ کے الفاظ بھی ملتے۔

سنت رسول سنیوں اور شیعہ دونوں‌ حضرات کی کتب میں موجود ہیں ۔ اگر ایک روایت میں موجود سنت قرآن کے موافق نہیں تو بھائی یہ کسی انسان نے رسول اکرم سے منسوب کی ہے۔ اور اگر موافق ہے تو قابل قبول۔ یہ ضعیف کرکے رد کرنے کے گول مول میں‌نہیں‌ پڑتا۔

آپ اپنے آپ کو دیکھئے بھائی۔ آپ کا کیا فرقہ ہے۔ جو بھی ہے وہ رسول اکرم کے نام پر نہیں نا اللہ کے حکم ہر ہے ۔ کیا آپ کو بھی قرآن کی کسی آیت سے انکار ہےِ‌۔ جیسا کہ یہاں‌ کچھ حضرات کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے قرآن کی آیات سے انکار ہے؟ کیا آپ کو بھی قرآن کے آیات کے حوالے ناگوار گزرتے ہیں؟ معذرت چاہتا ہوں لیکن اگر وضاحت ہوجائے تو بہتر ہے۔ :):)
 

باذوق

محفلین
بحث اپنے اصل موضوع سے ہٹتی نظر آ رہی ہے۔

اگر تواراکین نے اپنے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں تو اس بحث کو ختم کر دیا جائے یا پھر صرف اصل موضوع پر رہا جائے تو پڑھنے والوں کا بہت بھلا ہو گا۔
السلام علیکم !
میرے خیال کے مطابق موضوع سے ہٹا نہیں گیا ہے بلکہ تین اراکین نے معزز لائیبریری رکن محترم و مکرم فاروق سرور خان سے احتجاج کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی غلط بات ان کے نام سے Quote کر کے لکھ دیتے ہیں جو انہوں نے کہی نہیں ہوتی ہے۔ اور ایسا احتجاج خود راقم الحروف کئی تھریڈز میں محبی فاروق سرور خان صاحب سے کر چکا ہے۔
محترم شمشاد صاحب ! آپ سے صرف ایک مرتبہ عاجزانہ گذارش ہے کہ کوئی ایسا حل بتا دیں کہ اگر ہم کو شکایت کرنا ہو تو کہاں درج فرمائیں؟
مگر براہ مہربانی ، ذ۔پ کا سہارا لینے کا مشورہ مت دیں ، کیونکہ ایک غلط بات ہم سے اگر کھلے عام منسوب کی جاتی ہے (جو ہم نے کہی ہی نہیں ہوتی ہے) تو اس کا ازالہ بھی کھلے عام ہونا چاہئے۔
میرا خیال ہے کہ اردو محفل کے ذمہ داران کو اس معاملے میں انصاف پسندی سے کام لینا چاہئے ناکہ جانبداری سے کسی کی پشت پناہی !!

البتہ ۔۔۔۔۔۔
چار اراکین کی جائز شکایت کو یونہی نظرانداز کرنا ۔۔۔ اگر انتظامیہ کی کوئی مجبوری ہے ۔۔۔۔ تو شمشاد صاحب ! میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں اور گذارش ہے کہ میرے اس مراسلے کو بھی نظر انداز کر دیں ، بہت شکریہ۔
 

باذوق

محفلین
عبداللہ بھائی نعوذ باللہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان میں کمی مقصود نہیں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ مختلف معاملات میں صحابہ کرام کے درمیان بھی علمی اختلاف رائے موجود رہا ہے۔
صرف ایک مثال عرض کروں گا کہ سورہ نجم کی تفسیر میں اصحاب عبداللہ ابن مسعود اور عبداللہ ابن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان انتہائی اختلاف ہے۔ سو یہ کہیں پر بھی تاثر نہیں دیا جانا چاہئے کہ اصحاب کا مؤقف ہر بات میں ایک سا تھا۔ سرچشمہ رشد و ہدایت رسولی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہر صحابی نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق فیض اٹھایا ہے اور ہر کسی کا مقام اس کی استعداد کے مطابق فرق ہے لیکن اصحاب کے خلوص نیت کے بارے میں شک کرنا کم از کم قریب از کفر ہے۔ اور اگر کسی صحابی نے یہ نہیں فرمایا کہ نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا تھا تو ان کے ذاتی اجتہاد کو سنت پر محمول کرنا ان صحابی پر بہتان تراشی ہے۔ ہاں اپنی ذاتی رائے ایک صحابی کی رائے سے مرتب کرنا مجھ احقر کے نزدیک انتہائی احسن ہے لیکن ضروری ہے کہ اسے متابعت صحابہ کی حیثیت سے ہی سمجھا جائے ناکہ حدیث یا سنت قرار دے دیا جائے۔
واللہ اعلم
برادر محترم۔ آپ کی ساری باتیں سر آنکھوں پر۔ لیکن اگر آپ اصولِ تفسیر سے متعلق کتب کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو صاف نظر آئے گا کہ صحابہ کرام کی مختلف تفسیر کا مطلب "اختلاف" یا "تضاد" نہیں بلکہ "تنوع" ہے۔ یہ بات میں شائد اس سے پہلے بھی آپ سے کہہ چکا ہوں۔
میں اپنی بات کے حوالے میں امام ابن تیمیہ کا قول پیش کر رہا ہوں ، ملاحظہ فرمائیں :
[ARABIC]الخلاف بين السلف فى التفسير قليل وخلافهم فى الأحكام أكثر من خلافهم فى التفسير وغالب ما يصح عنهم من الخلاف يرجع الى اختلاف تنوع لا اختلاف تضاد[/ARABIC]
سلف کے مابین تفسیر میں اختلاف کم ہوا ہے۔ احکام میں تفسیر سے زیادہ اختلاف صحیح طور پر ان (صحابہ) سے جو مروی ہے وہ تنوع کا ہے نہ کہ تضاد کا۔
[ARABIC]مقدمة في أصول التفسير ، شيخ الاسلام بن ت۔يم۔ي۔ة ، ص:2[/ARABIC]

"تضاد" اور "تنوع" میں فرق کرنے کی ایک آسان سی مثال دینا چاہوں گا۔
اگر آپ لاہور کا سفر کر آئیں اور آپ کا ایک دوست (الف) مجھ سے کہے کہ خرم صاحب لاہور کے سفر سے حال میں‌ لوٹے ہیں۔ اور آپ کا کوئی دوسرا دوست (ب) بتائے کہ خرم صاحب پنجاب کے طویل سفر سے آج واپس لوٹ آئے ہیں۔
بتائیے کہ آپ کے دونوں دوستوں الف اور ب کی باتوں میں "تضاد" بیان کیا جا سکتا ہے؟؟
لاہور تو خود پنجاب میں‌ شامل ہے۔ "ب" نے اگر عمومی طور پر صوبے کا حوالہ دیا تھا تو "الف" نے خصوصی طور پر شہر کا نام لیا۔
ہاں اگر "ب" کہہ دے کہ خرم صاحب پنجاب ضرور گئے تھے لیکن لاہور نہیں گئے تو ۔۔۔ تب کہا جا سکتا ہے کہ "الف" اور "ب" کی باتوں میں تضاد ہے !!

یہی مثال " لھو الحدیث " کے معنی کی ہے۔ بیشتر صحابہ (بشمول عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم) نے اس کے معنی "غنا" کے لئے ہیں تو شائد ایک دو صحابہ نے "بےکار باتیں" بھی مراد لی ہیں۔ لیکن کسی ایک بھی صحابی یا تابعی یا تبع تابعی یا ائمہ اربعہ سے یہ منقول نہیں ہے کہ : "غنا" بےکار باتوں میں‌ شامل نہیں ہے !
اگر " لھو الحدیث " کی تفسیر میں صحابہ کرام کے تضاد کو ثابت کرنا ہو تو لازم ہے کہ کسی صحابی کا کوئی ایسا قول پیش کیا جائے جس میں وہ واضح‌ طور پر کہتے ہوں کہ : غنا ، " لھو الحدیث " میں شامل نہیں ہے !
بصورت دیگر اس کو تنوع ہی مانا جائے گا اور یہی یقین رکھا جائے گا کہ : غنا کے "لھو الحدیث" ہونے پر صحابہ کا اجماع رہا ہے۔

نبی کے علاوہ کوئی فرد بےشک "معصوم" نہیں ہو سکتا لیکن "اجماع" ضرور خطا سے پاک ہے کیونکہ وہ مشہور حدیث تو غالباَ سب کے علم میں ہوگی کہ : میری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہو سکتی !
کسی صحابی سے خطا کا سرزد ہونا ممکن ہے لیکن سارے صحابہ سے مشترکہ طور پر "غلطی" کا صدور مشکل ہی نہیں ناممکن ہے !!
اگر ہم یہ اصول ذہن نشین کر لیں تو ان شاءاللہ صحابہ کرام کی ذات پر "ذاتی استدلال" جیسے فقرے چست کرنے سے بچ جائیں گے۔
 

باذوق

محفلین
روایت:
ابو مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا ( لَیَکُونَنَّ مِن اُمَّتِی اَقوامٌ یَستَحَلُّونَ الحِرَ و الحَرِیرَ و الخَمرَو المَعازِفَ ) ( ضرور میری اُمت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زِنا، ریشم اور شراب اور باجوں کوحلال کرنے کی کوشش کریں گے ) صحیح البُخاری / حدیث٥٥٩٠/ کتاب الأشربہ /باب ٦ ،

آپ سے استدعا کی تھی کہ اس روایت کی اسناد اور ان میں کمی کو واضح‌فرمائیے۔ بناء حوالہ پیش کررہا ہوں، اصل روایت: تحقیق آپ فرمائیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم
اس روایت کی اسناد پر آپ کے جتنے بھی اعتراضات ہیں ، ان کے سارے جواب آپ کو ذیل کے ربط پر مل جائیں گے ان شاءاللہ :
تحريم آلات الطرب ، صفحہ (1/38) سے آگے ۔۔۔

علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھیں کہ ۔۔۔ امام بخاری کے علاوہ اس روایت کو ذیل ائمہ و محدثین نے بھی "صحیح" قرار دیا ہے :
امام ابن حبان ، حافظ اسماعیلی ، حافظ ابن الصلاح ، علامہ نووی ، امام ابن تیمیہ ، حافظ ابن قیم ، حافظ ابن کثیر ، حافظ ابن حجر العسقلانی ، علامہ سخاوی ، علامہ ابن الوزیر صنعانی ، امیر الصنعانی وغیرہم ۔
 
السلام علیکم !
میرے خیال کے مطابق موضوع سے ہٹا نہیں گیا ہے بلکہ تین اراکین نے معزز لائیبریری رکن محترم و مکرم فاروق سرور خان سے احتجاج کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی غلط بات ان کے نام سے Quote کر کے لکھ دیتے ہیں جو انہوں نے کہی نہیں ہوتی ہے۔ اور ایسا احتجاج خود راقم الحروف کئی تھریڈز میں محبی فاروق سرور خان صاحب سے کر چکا ہے۔
۔
اور یہی شکایت مجھے بھی فاروق سرور سے بات کو سمجھتے نہیں اور ایسی بات کی جو میں نے کی نہیں حتٰی کہ سوچا بھی نہیں۔
فاروق صاحب مجھے پتہ کرنا تھا طبلہ نواز ہونے کا نہ کہ لیبل لگانا تھا مگر اس کا جواب نہیں ملا مطلب کہ کسی کو شاید پتہ نہ ہو۔
فاروق صاحب میں نے آپ سے کسی دھاگے میں پوچھا تھا کہ قرآن کی ترتیب نزولی کیوں نہیں؟
 

شمشاد

لائبریرین
السلام علیکم !
میرے خیال کے مطابق موضوع سے ہٹا نہیں گیا ہے بلکہ تین اراکین نے معزز لائیبریری رکن محترم و مکرم فاروق سرور خان سے احتجاج کیا ہے کہ وہ کوئی ایسی غلط بات ان کے نام سے Quote کر کے لکھ دیتے ہیں جو انہوں نے کہی نہیں ہوتی ہے۔ اور ایسا احتجاج خود راقم الحروف کئی تھریڈز میں محبی فاروق سرور خان صاحب سے کر چکا ہے۔
محترم شمشاد صاحب ! آپ سے صرف ایک مرتبہ عاجزانہ گذارش ہے کہ کوئی ایسا حل بتا دیں کہ اگر ہم کو شکایت کرنا ہو تو کہاں درج فرمائیں؟
مگر براہ مہربانی ، ذ۔پ کا سہارا لینے کا مشورہ مت دیں ، کیونکہ ایک غلط بات ہم سے اگر کھلے عام منسوب کی جاتی ہے (جو ہم نے کہی ہی نہیں ہوتی ہے) تو اس کا ازالہ بھی کھلے عام ہونا چاہئے۔
میرا خیال ہے کہ اردو محفل کے ذمہ داران کو اس معاملے میں انصاف پسندی سے کام لینا چاہئے ناکہ جانبداری سے کسی کی پشت پناہی !!

البتہ ۔۔۔۔۔۔
چار اراکین کی جائز شکایت کو یونہی نظرانداز کرنا ۔۔۔ اگر انتظامیہ کی کوئی مجبوری ہے ۔۔۔۔ تو شمشاد صاحب ! میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں اور گذارش ہے کہ میرے اس مراسلے کو بھی نظر انداز کر دیں ، بہت شکریہ۔

و علیکم السلام

یہ الزام پہلے بھی اردو محفل کی انتظامیہ پر لگایا جا چکا ہے کہ یہاں کسی کی جانبداری کر کے کسی کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔ تو محترم یہ سب کسی نہ کسی ذاتی اختراع ہے۔ اردو محفل کی انتظامیہ کسی کی جانبدار نہیں اور نہ ہی کسی کی پشت پناہی میں مصروف ہے۔

غیرمہذب الفاظ کا استعمال اور ذاتیات پر حملے پڑھے لکھے لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی یہاں اجازت دی جائے گی۔

جو بات کسی سے کھلے عام منسوب کی گئی ہے تو اس کا جواب بھی کھلے عام مانگنا اس کا حق ہے۔ لیکن انتظامیہ کسی کو مجبور نہیں کر سکتی کہ جواب ضرور دیں۔
 

باذوق

محفلین
باذوق صاحب پوچھتے ہیں کہ :
اور یہ ضرور بتائیے کہ اہل الذکر میں رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات گرامی کے بعد کون آتے ہیں؟؟
پوچھنے کا مقصد ہے کہ یہ اہل الذکر کون لوگ ہیں۔
یہ اہل ذکر کون ہیں، قرآن کیا کہتا ہے ؟ جو صاحب عقل و دانش ہیں۔ ، مزید دیکھئے، یقیناً وہ لوگ جو اصحابہ کرام تھے اور اس وقت کے صاحب عقل و دانش تھے، ان سے پوچھا جاتا تھا اور وہ اپنی عقل بھر جواب دیتے تھے۔ رسول اکرم کے بعد کسی شخص کا جواب حتمی نہیں بلکہ عقل و دنش کا محتاج ہے۔ کیا اللہ تعالی نے صاحب عقل ودانش پیدا کرنا بند کردیے ہیں؟
[ayah]2:269[/ayah] [arabic] يُؤتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ[/arabic]
جسے چاہتا ہے دانائی عطا فرما دیتا ہے، اور جسے (حکمت و) دانائی عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی نصیب ہوگئی، اور صرف وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو صاحبِ عقل و دانش ہیں
محترم فاروق صاحب ، سوال تو میں نے دوست سے پوچھا تھا ، پھر بھی آپ کا شکریہ کہ آپ نے جواب دینا گوارہ فرمایا۔
آپ کی ذیل کی وضاحت کافی الجھی ہوئی ہے ۔۔۔
یہ اہل ذکر کون ہیں، قرآن کیا کہتا ہے ؟ جو صاحب عقل و دانش ہیں۔ ، مزید دیکھئے، یقیناً وہ لوگ جو اصحابہ کرام تھے اور اس وقت کے صاحب عقل و دانش تھے، ان سے پوچھا جاتا تھا اور وہ اپنی عقل بھر جواب دیتے تھے۔ رسول اکرم کے بعد کسی شخص کا جواب حتمی نہیں بلکہ عقل و دنش کا محتاج ہے۔ کیا اللہ تعالی نے صاحب عقل ودانش پیدا کرنا بند کردیے ہیں؟
میرا ایک چھوٹا سا سوال یہ ہے کہ :
کیا درج بالا وضاحت کے ذریعے آپ کسی آیت کی تشریح فرما رہے ہیں؟؟
اگر ہاں تو ذرا یہ بھی بتاتے جائیں کہ ایسی تشریح کس سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ماخوذ ہے؟ اور کس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہر عام مسلمان کو اپنے ذہن سے قرآنی آیات کی تشریح کرنے کا حق دے رکھا ہے؟؟

ہاں اگر آپ فرمائیں کہ درج بالا وضاحت کسی آیت کی تشریح نہیں بلکہ آپ کے اپنے خیالات ہیں ۔۔۔ تو پھر کوئی بات نہیں۔ آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ آپ کے "خیالات" سے کیا کیا سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؟

آپ نے لکھا :
رسول اکرم کے بعد کسی شخص کا جواب حتمی نہیں
بےشک ! یہ ہمارا بھی ایقان ہے !!

لیکن آپ نے اپنے پہلے جملے کے ساتھ ایک شرط بھی لگا دی ہے ۔۔ یعنی کہ پورا جملہ یوں ہے:
رسول اکرم کے بعد کسی شخص کا جواب حتمی نہیں بلکہ عقل و دنش کا محتاج ہے۔
یہ تو ہم سب کی طرح آپ بھی مانتے ہوں گے کہ تمام مسلمانوں کی عقل "یکساں" نہیں ہوتی۔ ضروری نہیں کہ جس آیت کا جو مطلب آپ سمجھ رہے ہوں ، کسی گاؤں کا دیہاتی مسلمان (جس کی مسلمانی صرف اتنی ہے کہ اپنے معاشی مسائل سے ہٹ کر پنج وقتہ نماز پڑھ لیتا ہے) بھی بعینہ اسی طرح سمجھے۔
ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں۔ ورنہ آپ اگلے پیراگراف میں مجھے دینی ٹیچرز یا صاحب علم افراد سے رجوع ہونے کو نہ کہتے۔
لہذا آپ بتائیے کہ "عقل و دانش" کا معیار کیا ہے؟
یہ کیسے معلوم ہو کہ کسی کی عقل و دانش ضلالت پر نہیں بلکہ ہدایت پر ہے؟؟

آپ نے یہ جو لکھا ہے کہ: رسول اکرم کے بعد کسی شخص کا جواب حتمی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
دراصل بات یہاں "حتمی" کی نہیں بلکہ "ترجیح" کی ہے۔
کسی آیت کی تفسیر یا کسی حدیث کی تشریح کو سمجھنے کے لئے اگر آپ کے پاس ذیل کے مستند اقوال/اصحاب موجود ہوں تو آپ کس کو ترجیح دیں گے اور کیوں؟
  1. آپ کی عقل
  2. آپ کے پسندیدہ امام / عالم
  3. آپ کے علاقائی دائرے میں موجود کوئی بھی مسلمان صاحب علم
  4. صحابی / تابعی
تو بھائی باذوق ، اگر آپ کو پتہ نہیں تھا تو آپ کو اب پتہ چل گیا کہ یہ اہل الذکر اور صاحب ذکر کون ہیں، یہ آپ کے دینی ٹیچرز ہیں ، صاحب علم افراد ہیں ۔ آپ کوئی اچھے صاحب ذکر، عالم یا ٹیچر ڈھونڈیے اور ان سے پوچھا کیجئے۔
کیسے معلوم ہو کہ دینی ٹیچرز یا صاحب علم افراد کی عقل و دانش کا معیار وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلوب رہا ہے؟
جب تک کوئی "معیار" قائم نہ کیا جائے ، معاف کیجئے کہ آپ کا ایسا مشورہ بالکل بھی قابلِ عمل نہیں ہے۔
ان روایتوں نے آپ کو کہیں کا نہیں رکھا ہے صاحب۔
اب اس قسم کے ذاتی حملے پر میں کیا کہوں۔ آپ کے لئے تو سب جائز اور ہمارے لئے صرف "خاموشی" ؟؟
 

باذوق

محفلین
و علیکم السلام

یہ الزام پہلے بھی اردو محفل کی انتظامیہ پر لگایا جا چکا ہے کہ یہاں کسی کی جانبداری کر کے کسی کی پشت پناہی کی جاتی ہے۔ تو محترم یہ سب کسی نہ کسی ذاتی اختراع ہے۔ اردو محفل کی انتظامیہ کسی کی جانبدار نہیں اور نہ ہی کسی کی پشت پناہی میں مصروف ہے۔

غیرمہذب الفاظ کا استعمال اور ذاتیات پر حملے پڑھے لکھے لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی یہاں اجازت دی جائے گی۔

جو بات کسی سے کھلے عام منسوب کی گئی ہے تو اس کا جواب بھی کھلے عام مانگنا اس کا حق ہے۔ لیکن انتظامیہ کسی کو مجبور نہیں کر سکتی کہ جواب ضرور دیں۔
وضاحت کا بہت شکریہ۔
دراصل کنفیوژن یوں ہوتا ہے کہ جب غلط Quotation ہو تو کچھ نہیں ہوتا لیکن اس پر جائز اور مہذب احتجاج کیا جائے تو فوراَ سرکاری احکام نازل ہوتے ہیں ۔۔۔۔
بہرحال چھوڑیں جناب ، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو تکلیف اٹھانی پڑی۔
 

دوست

محفلین
سائیں اگر سوچنے کا کام 1400 سال پہلے لوگ کرگئے ہیں تو پھر قرآن میں‌ تفکر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ قرآن بند کرکے ان تشریحات و تفاسیر و اقوال کو ہی پڑھا کیجیے۔ بلکہ یہی کچھ ہی ہورہا ہے آج کل۔ فلاں امام، فلاں مولانا، فلاں یہ فلاں نے یہ کہا وہ کہا۔ جو کہا سوفیصد صحیح کہا اس کے بعد سوچنے پر پابندی لگا دی۔ ظاہر ہے ہماری اوقات ہی کیا ہے۔ اللہ نے عقل ساری بانٹ دی اب ہماری عقل صرف اتنی ہے کہ ہم ان کے اقوال کو نقل کیا کریں یا اپنی روزی روٹی کا سوچا کریں۔ تیسری تو کوئی بات ہی نہیں۔ ایویں قرآن میں‌ تفکر کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
باذوق، میں فاروق بھائی کا بہت احترام کرتا ہوں اور میں نے کبھی اس بات کو چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، لیکن یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ ہماری کوئی مجبوری ہے۔ فورم کا ڈسپلن سب کے لیے ایک جیسا ہے۔ اگر آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ منتظمین دوسروں کے پیغامات میں آپ سے منسوب باتوں کی تحقیق کرتے پھریں گے تو میں اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
 

باذوق

محفلین
سائیں اگر سوچنے کا کام 1400 سال پہلے لوگ کرگئے ہیں تو پھر قرآن میں‌ تفکر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ قرآن بند کرکے ان تشریحات و تفاسیر و اقوال کو ہی پڑھا کیجیے۔ بلکہ یہی کچھ ہی ہورہا ہے آج کل۔ فلاں امام، فلاں مولانا، فلاں یہ فلاں نے یہ کہا وہ کہا۔ جو کہا سوفیصد صحیح کہا اس کے بعد سوچنے پر پابندی لگا دی۔ ظاہر ہے ہماری اوقات ہی کیا ہے۔ اللہ نے عقل ساری بانٹ دی اب ہماری عقل صرف اتنی ہے کہ ہم ان کے اقوال کو نقل کیا کریں یا اپنی روزی روٹی کا سوچا کریں۔ تیسری تو کوئی بات ہی نہیں۔ ایویں قرآن میں‌ تفکر کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔
دوست !
اتنا پریشان ہونے کی قطعاَ ضرورت نہیں ہے۔
آپ پہلے یہ پوسٹ ذرا آرام سے اور تفصیل سے پڑھ لیں تاکہ علم رہے کہ عقل کا استعمال کن "معاملات" تک محدود ہے؟

دوسرے یہ کہ آپ خود کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال حجت نہیں تو پھر فلاں امام، فلاں مولانا، فلاں یہ فلاں یا غامدی صاحب یا پھلواری صاحب کی تحقیق کیوں کر حجت ہو سکتی ہے؟
اگر آپ کے علم میں ہو کہ دین کے احکام یا حلال / حرام طے کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مفکرین و مدبرین کی صوابدید پر چھوڑی ہے تو براہ مہربانی قرآن و سنت سے دلیل دیں۔

اور اگر بقول پرویز صاحب ہدایت اورعلمیت مشروط ہے عقل سے تو پھر قرآن میں فلسفی ، مفکر ، مدبر اور علم منطق کے ماہرافراد کے راستےکوصراط مستقیم ہوناچاہیے تھاجبکہ آپ بھی جانتے ہیں‌ اور ہم بھی کہ ایسانہیں ہے !
اب آپ سوچئے کہ ایسا کیوں نہیں‌ ہے؟؟
 

باذوق

محفلین
باذوق، میں فاروق بھائی کا بہت احترام کرتا ہوں اور میں نے کبھی اس بات کو چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، لیکن یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ ہماری کوئی مجبوری ہے۔ فورم کا ڈسپلن سب کے لیے ایک جیسا ہے۔ اگر آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ منتظمین دوسروں کے پیغامات میں آپ سے منسوب باتوں کی تحقیق کرتے پھریں گے تو میں اس کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
میں نے پہلے ہی معذرت کر لی ہے شمشاد صاحب سے۔
اور میں‌ یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ تحقیق کی جائے یا علم ہونے پر تنبیہ وغیرہ کی جائے۔
گذارش صرف اتنی ہے کہ ۔۔۔۔۔ جب اراکین دورانِ بحث مہذب و معتدل لہجہ میں اس قسم کی شکایت (غلط منسوب شدہ باتیں) کریں تو یہ الزام نہ دیا جائے کہ بحث کے اصل موضوع کو چھوڑ کر ذاتیات پر اُترا جا رہا ہے !!
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top