1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

اسلام، مذاہب، زبانیں اور جغرافیہ

زیک نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 10, 2015

  1. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,077
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    فاروق نے کسی اور تناظر میں یہ بات کہی:

    وہاں موضوع الگ تھا لہذا اس بات سے جو سوال ذہن میں آئے ان پر نئی لڑی شروع کر رہا ہوں۔

    دنیا میں انسان ہر بر اعظم میں ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ افریقہ میں انسان لاکھوں سال سے ہیں۔ یورپ اور ایشیا میں کم از کم 60 ہزار سال سے۔ آسٹریلیا میں 40 ہزار سال سے۔ امریکہ میں انسان 14 ہزار سال سے آباد ہیں۔ یہ لوگ انتہائی مختلف زبانیں بولتے آئے ہیں اور ان کے کلچر بھی کافی مختلف ہیں۔

    پھر کیا وجہ ہے کہ یونیورسل مذاہب کے دعویدار مشرق وسطی سے باہر کوئی نبی اور کوئی الہامی کتاب کا تصور نہیں رکھتے؟ تمام انبیاء کی زبان عربی، عبرانی یا آرامائیک کیوں تھی؟ Quechua بولنے والے انبیاء کدھر ہیں؟ دنیا کے باقی علاقوں میں اور دوسری زبانوں میں نبی کیوں نہیں بھیجے گئے؟ اور اگر بھیجے گئے تو ان کا ذکر کہاں ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,858
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    زیک ، اس بارے میں دو تصورات ہیں۔ ایک تو یہ کہانی کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء آئے۔ اور دوسرا یہ ایمان (مسلمانوں کا ) کہ کتنے انبیاء کا ذکر قرآن میں ہے ۔ اور موجودہ معلومات کے مطابق ،قرآن میں ذکر کئے گئے، انبیاء کی زبان کیا رہی؟ تو موجودہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم حضرت محمد صلعم کے علاوہ باقی انبیاء سب مصر اور اسرائیل یا اس کی فطری جغرافیائی حدود میں سے آئے ، جہاں قدیم مصری، آرامی، عربی زدہ آرامی اور عبرانی بولی جاتی تھیں۔ میرا ریفرنس صرف ان انبیاء کے بارے میں تھا جن کا ذکر ٖقرآن میں ہے۔

    اب آتے ہیں باقی انبیاء کی طرف یعنی کہانی والے انبیاء تو میں اس کے بارے میں اپنے ایک سفر کی داستان آپ کو سناتا ہوں۔ امید یہ ہے کہ آپ کو اپنے سوالات کا جواب اس میں مل جائے گا ۔

    میں جنوبی امریکہ کے ایک جزیرے نما چھوٹے سے شہر میں گیا جہاں ایک عبادت گاہ تھی جو گائیڈ کے بیان کے مطابق، کوئی 3 سو سال پہلے اسپینی حملے میں ختم ہوئی لیکن عمارتیں اب بھی باقی ہیں۔ گائیڈ نے یہ کہانی سنائی:

    اس جزیرے میں دن کے وقت دور و نزدیک سے لڑکے اور لڑکیاں اپنے خاندانوں کے ساتھ شادی کے لئے آتے تھے، اس جزیرے میں پہنچ کر لڑکے اپنے ساتھ لائے ہوئے کیلے اور آم ، کھانے پینے کی اشیاء اور ہرن کی کھالیں چیف مذہبی رہنما کے حوالے کرتے تھے جس کا ان کے خدا کو نذرانہ چڑھایا جاتا تھا،پھر یہ لڑکے مل کر 21 دن ہرن کا شکار کرنے چلے جاتے تھے۔ لڑکیوں کو پہلے ہفتے ایک ایسے مکان میں رکھا جاتا تھا جس کے باہر آگ جلا کر ان کو پسینہ بہا کر پاک کیا جاتا تھا ، پھر اگلے دو ہفتے ان کو چیف مذہبی رہنما کے گھر میں، جو کہ عبادت گاہ بھی تھی، خدمت کرنے کے کام پر لگایا جاتا تھا۔ 21 ویں دن ، سب لوگ ، لڑکے، لڑکیاں ۔ ان کے خاندان والے ، عبادت گاہ کے فوجی جوان اور چیف رہنما ، ایک جگہ جمع ہوتے تھے۔ جہاں خدا کو پسند آجانے والے لڑکیوں اور لڑکوں کو پتھر میں گاڑ کر سب لوگ جیڈ کے بنے بلیڈوں سے چھوٹے چھوٹے کٹ لگا کر ان کا خون بہاتے تھے تاکہ خدا خوش ہو۔ یہ دراصل وہ لوگ ہوتے تھے جنہوں نے ان رسم و رواج کے خلاف احتجاج کیا ہوتا تھا، جو بھی احتجاج کرتا تھا اس کا پہلوٹی کا بیٹا یا بیٹی ، ان کے خدا کو قربانی کے لئے پسند آجاتا تھا اور ہر مہینے ایسے لوگوں کی قربانی دے دی جاتی تھی۔ ان لوگوں کے احتجاج کی وجہ یہ تھی کہ چیف رہنما اور اس کے فوجی شادی کے لئے آئی ہوئی لڑکیوں کو ان اکیس دن اپنی ذاتی خدمت کے لئے استعمال کرتے تھے جس کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا یہ تھی کہ پہلوٹی کا لڑکا یا لڑکی خدا کو پسند آجاتا تھا اور اس کی قربانی دے دی جاتی تھی۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ اس جزیرے اور اس کے تابعدار علاقوں میں ایک ہی شکل کے لوگ پائے جاتے ہیں ، جن کا باپ دراصل چیف رہنما اور اس کے فوجی بیٹے ہوتے تھے۔ گائیڈ کے ایک جملے میں سب سوالوں کے جوابات موجود ہیں۔ اس نے بتایا کہ جانے کتنے جیزز اور موزز (عیسی اور موسی) اس جگہ جیڈ کے بلیڈ سے کٹ گئے۔

    میرا خیال:
    دنیا کا سب سے بنیادی اور بڑا مذہب، شیطانیت ہے۔ جن لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی، اس شیطانی نظام نے ان لوگوں پر قابو پا کر ان کو قتل کردیا اور اگر وہ بچ گئے تو اوتار بن گئے، لیکن یہ شیطانی نظام پھر بھی باز نہیں آیا، اس نظام نے ان رام ، شیوا ، گنیش کو معبود کا درجہ دے کر عوام سے ان ہی رام ، شیوا، گنیش کی پوجا شروع کروا دی۔ آج بھی لوگوں کو شادی کرنے کے لئے کسی نا کسی مذہبی رہنما کی ضرورت ہے، اس شیطانی نظام کے کرتا دھرتا آج بھی عورت، خوراک اور دولت کے لئے طرح طرح کے نت نئے ہتھ کنڈے ڈھونڈتے ہیں اور آج بھی ان کے خلاف لوگ کھڑے ہوتے رہتے ہیں۔ احترام سے عرض کروں گا کہ آج جو ان کے خلاف کھڑا ہو تا ہے وہ نبی نہیں بنتا بلکہ زمانے کے لحاظ سے "ملالہ" بن جاتا ہے اور نوبل انعام کا حقدار قرار پاتا ہے ۔۔۔

    زیک آپ سوالات کے جوابات سوالوں سے ۔۔ اس جرم کی معافی چاہتا ہوں۔ :)
    دوسری زبانوں کے بولنے والے انبیاء کس کے خلاف کھڑے ہوئے؟
    دنیا کی دوسری زبانوں میں کتنے نبی جیڈ کے بلیڈ سے کاٹے گئے؟
    جیڈ سے کٹ جانے والے عیسی اور موسی کا ذکر کہاں ہے؟
     
  3. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,957
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    قرآن تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ یہ توحید کی کتاب ہے۔ توحید کی طرف بلانے کے لیے قرآن ہر وہ ذریعہ اور دلیل استعمال کرتا ہے جس سے اس کا پیغام لوگوں کو سمجھ آ سکے، چاہے وہ مچھر کی مثال دینا ہی کیوں نہ ہو۔ انبیاء علیہم السلام ایسے نفوسِ قدسیہ ہیں جو لوگوں کو ایک خدا کی طرف بلاتے ہیں۔ قرآن کے مطابق ہر قوم میں انبیاء بھیجے گئے۔ قدیم ریڈ انڈینز کی تاریخ میں بھی ایک خدا کا تصور ملتا ہے۔ اسی طرح افریقی قبائل اور آسٹریلیا کے ایب اوریجنز میں توحید کا تصور موجود ہے۔ توحید کی تعلیم دینے والے یقیناً ہر قوم میں آئے ہیں۔ ان کا ذکر تفصیلاً نہ ملے تو وہ الگ بات ہے۔ قرآن جب خدا کی طرف بلاتا ہے تو وہ نہ انبیاء کی تعداد گنواتا ہے، نہ آدم کی تخلیق کا سال بتاتا ہے، نہ زمین و آسمان کی تخلیق کے عرصے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسلام میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے حوالے سے جو کہانیاں ملتی ہیں وہ قولِ رسول ﷺ، قولِ اصحابِ رسول ﷺ اور اسرائیلی روایات سے اخذ کردہ ہیں۔ اسلام پر اعتراض کرنے والے اکثر قرآن میں جب کوئی قابلِ اعتراض بات نظر نہ آئے تو کتب احادیث سے سوالات اٹھاتے ہیں۔ لیکن کتب احادیث کے حوالے سے ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ یہ ایک سے دو صدی بعد میں لکھی گئیں جبکہ قرآن ہی وہ اکلوتا ماخذ ہے جو متواتر ہے اور جس کے بارے میں خود خدا نے حفاظت کی قسم کھائی ہے۔ مختصراً یہ کہ احادیث میں کچھ ایسی باتیں در آئیں جو کہ آج کا سائنسی ذہن قبول نہیں کر پاتا۔ تاہم ان میں سے اکثر کو ضعیف، یا موضوع احادیث کے ذیل میں نشان زد کیا جا چکا ہے۔
     
    • متفق متفق × 8
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  4. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,077
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    میری معلومات کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ کوئی اینتھروپالوجی سے ریفرنس؟
     
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,077
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    مسلمانوں میں عام خیال یہی ہے مگر اس وقت میرے ذہن میں ایسی کوئی آیت نہیں آ رہی جو واضح طور پر تمام اقوام میں نبی بھیجنے کا ذکر کرتی ہو۔
     
  6. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,957
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    ایب اوریجنز والی بات تو ذاکر نائیک سے سنی تھی۔ ریڈ انڈین کے لیے مزید تحقیق کرنی پڑے گی۔ مختلف آن آف مطالعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا۔ افریقہ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے۔
    بنیادی طور پر ہر تہذیب میں ایک مافوق الفطرت ہستی کا تصور موجود رہا ہے جو داتا، پالنہار وغیرہ ہو۔ لیکن دیوی دیوتاؤں کی صورت میں نیابت کے تصور نے توحید کو مسخ کر دیا۔ مشرکین مکہ تو کھلے عام توحید اور پھر ایک خدا کے نائبین کو مانتے تھے۔ دیگر جاہل معاشروں میں ایسا ہی کوئی پیٹرن قرین قیاس لگتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    12,957
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    یہ میں نے اپنی اسلامیات کی تعلیم اور جو مذہبی ڈسکورس ہمیں پڑھایا جاتا ہے اس کی بنیاد پر کہا تھا۔ ٹھیک ٹھیک آیت تو میرے ذہن میں بھی نہیں ہے۔ فاروق سرور خان صاحب شاید اس سلسلے میں مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔
     
  8. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,620
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۗ إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ ۖوَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ﴿٧

    اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزه) کیوں نہیں اتاری گئی۔ بات یہ ہے کہ آپ تو صرف آگاه کرنے والے ہیں۔ اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے

    [13:7] محمد جوناگڑھی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 4
    • متفق متفق × 1
  9. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ( سورہ فاطر۔24 )
    ترجمہ: یقیناً ہم نے تجھے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی امت نہیں مگر ضرور اس میں کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 5
  10. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آسٹریلیا کے اباروجینز کے ہاں توحید کے تصور کے حوالے سے یہاں کچھ ڈسکس کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نوے کے عشرے میں لکھی گئی تھی۔ مزید اس ٹاپک میں کوئی پیشرفت ہوئی ہو تو اسکا علم نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. عبدالحسیب

    عبدالحسیب محفلین

    مراسلے:
    1,109
    موڈ:
    Shh
    [​IMG]

    سورۃ فاطر-آیت 24
    ترجمہ، تفسیر-تفہیم القرآن، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 12, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. مہوش علی

    مہوش علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,003
    یہ روایت ضعیف ہے کہ 1 لاکھ 24 ہزار انبیاء آئے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کتنے نبی آئے۔
    مسئلہ وہیں کا وہیں ہے کہ تینوں اہل کتاب عالمگیر مذاہب کسی ایک بھی دوسرے علاقے کے نبی کا نام نہیں بتلا پا رہے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 13, 2015
    • زبردست زبردست × 1
  13. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,077
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    مافوق الفطرت کا تصور ہر انسانی معاشرے میں کچھ حد تک ہے مگر اس کا توحید سے تعلق نہیں۔ اس سلسلے میں شاید محفل پر ہی پاسکل بویر اور سکاٹ اٹران کے کام کا ذکر کر چکا ہوں۔

    افسوس کہ ذاکر نائیک کسی بھی معاملے میں اچھا ریفرنس نہیں ہے۔
     
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,077
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    معذرت اس لنک میں کوئی سکالرشپ نظر نہیں آئی۔
     
  15. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    سکالر شپ۔۔۔ میں سمجھا نہیں؟
    تدوین: شائد آپ کی مراد ہے کہ اس فیلڈ کے کسی ماہر کی رائے۔ تو واقعی ایسا نہیں ہے ۔ لیکن اس فیلڈ کے ماہرین کی رائے پر صاحب کتاب نےدلائل سے تبصرہ کیا ہے اور نتائج اخذ کئے ہیں مزید خود اباروجینز سے ملاقات کرکے ان باتوں کا تجزیہ کیا ہے جو ان کے بارے میں ماہرین شائع کرتے ہیں۔بہرحال صاحب کتاب ایک مذہبی شخصیت ہیں کوئی انتھروپولوجسٹ نہیں۔ اس لئے اگر آپ کو کسی انتھروپولوجسٹ کی ہی رائے درکار ہے تو معذرت چاہوں گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر انتھروپولوجسٹس کے متعلق ہم سمجھیں گے کہ وہ رائے قائم کرنے میں غلطی کررہے ہیں تو ہم ان کے پیش کردہ شواہد پر اور جن بنیادوں پر انہوں نے رائے قائم کی ہے ان پر جرح کرسکتے ہیں لیکن دلائل کے ساتھ جیسا کہ یہاں کیا گیا ہے۔ لیکن اس فیلڈ سے تعلق نہ رکھنے والوں کے دلائل اور ان کی رائے اگر آپ کے نزدیک اس معاملہ میں اہمیت نہیں رکھتی تو کوئی بات نہیں۔ لیکن ایسی صورت میں تو آپ کی اپنی رائے کی بھی کسی بھی معاملے میں اہمیت ختم ہوجائے گی کیونکہ آپ کو ایسے مباحث میں وہی کچھ پیش کرنا پڑے گا جو اب تک کسی بھی متعلقہ فیلڈ میں دریافت کیا گیا ہو گا یعنی وہی کام جو بعض حضرات کاپی پیسٹ کے نام پر کرتے ہیں آپ کو کچھ ریفائن کرکے کرنا پڑے گا کہ کاپی پیسٹ نہ کیا جائے بلکہ فیلڈ کے ماہرین کی رائے کو اپنے الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کردیا جائے لیکن اس سے ہٹ کر اپنی رائے پیش نہیں کرسکیں گے۔آپ کا دل و دماغ اگر اس سے اختلاف کرنا چاہیں گے تو اجازت نہیں ہوگی کہ آپ متعلقہ فیلڈ کے ماہرین میں شامل نہیں ہوں گے۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 14, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. عظیم اللہ قریشی

    عظیم اللہ قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,576
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Tolerant
    سوچ اور طرز عمل یا فکر کے لحاظ سے ہر شخص کے اندر خدا پایا جاتا ہے اور ساتھ ہی شیطان بھی۔
    جن اقوام میں مثبت طرز عمل والا طرز فکر والا عمل اور فعل میں زیادہ قوی و فعال ہوتا تھا اس کو نبوت بخشی جاتی تھی۔
    ہوئی جس کی خودی پہلےنمودار
    وہی مہدی ، وہی آخر زمانی
    میرے خیال سے یہ ناممکن ہے کہ تمام انبیاء کے نام معلوم کیئے جو کہ مختلف خطوں اور اقوام میں نبی مبعوث کیئے گئے
     
  17. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,077
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    میں نے سکالرشپ کہا تھا مرزا طاہر کے سکالر ہونے یا نہ ہونے کی بات نہیں کی تھی۔ ورنہ تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بادشاہوں کی طرح یہ صاحب بھی اپنے خونی رشتے کی وجہ سے خلیفہ بنے
     
  18. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    معذرت زیک بھائی میری انگریزی بہت خراب ہے میں اب بھی نہیں سمجھا کہ سکالر شپ سے یہاں کیا مراد ہے؟ میں اس لفظ کے صرف ایک عمومی مفہوم سے ہی واقف ہوں۔ ایک اندازہ لگایا تھا کہ شائد یہاں اسکالر شپ سے یہ مراد ہوگی۔ آپ پلیز وضاحت کردیں کہ آپ کی اس سے کیا مراد ہے؟
    دوسری خونی رشتے سے خلیفہ بننے والی بات کا میرے دئیے گئے جواب سے تعلق سمجھ نہیں آیا۔ بہرحال یہ درست ہے کہ صاحب کتاب حضرت مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے پوتے تھے۔
     
  19. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,077
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    سکالرشپ سے مراد ایسی تحقیق، کام اور دلائل جو غیرجانبدار، مخالفین اور ناقدین کو قائل کرنے قابل ہو۔ مرزا غلام احمد سے رشتے اور مرزا طاہر کی خلافت کا ذکر اس لئے آیا کہ آپ نے جو لنک دیا وہ معتقدین کے لئے ہے جن کے لئے مرزا طاہر کا بانی کا پوتا ہونا اور پھر خلیفہ ہونا مکمل نہیں تو کافی دلیل ہے۔
     
  20. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ٹھیک ہے آپ احباب اپنی گفتگو جاری رکھیں خاکسار اس ٹاپک سے رخصت ہوتا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 15, 2015

اس صفحے کی تشہیر