اساتذہ شعراء

یہ فہرست ہے جو اب تک تجویز کی گئی یا ان بزرگوں کو استاد شعراء کہا گیا۔
میرا نکتہ یہ ہے کہ: بڑا شاعر ہونا، اور بات ہے استاد ہونا اور بات ہے اور فنی حوالے سے سند کی حیثیت رکھنا اور بات ہے (فکری اور نظریاتی اسناد کا معاملہ یہاں نہیں)۔
اگر ان تفریقات کے ساتھ بات کی جائے تو اپنی جسارتیں پیش کئے دیتا ہوں۔ دیکھئے لتاڑیے گا نہیں، جہاں میں نے کچھ نہیں لکھا، اُس کو نفی نہ سمجھئے گا بلکہ میری کم علمی پر مبنی خاموشی گردانئے گا۔

مرزا غالب: بڑا شاعر، استاد، سند​
میر تقی میر: بڑا شاعر، استاد، سند​
مومن: بڑا شاعر، استاد​
میر درد: بڑا شاعر، استاد، سند​
ذوق: بڑا شاعر، استاد، سند​
آتش: بڑا شاعر، استاد، سند​
احسان دانش: بڑا شاعر​
جمیل الدین عالی: مشہور شاعر​
احمد ندیم قاسمی: بڑا شاعر​

رئیس امرہوی: بڑا شاعر، استاد

امیر خسرو: بڑا شاعر

ولی دکنی: بڑا شاعر، استاد

مرزا محمد رفیع سودا: بڑا شاعر، استاد، سند

نظیر اکبر آبادی: بڑا شاعر

داغ دہلوی: بڑا شاعر، استاد، سند

فیض احمد فیض: بڑا شاعر

مجید امجد: بڑا شاعر

ن م راشد: بڑا شاعر
قتیل شفائی: بڑا شاعر​
صوفی تبسم: بڑا شاعر​
سلیم کوثر: بڑا شاعر​

فن میں سند کا معاملہ ذرا توجہ طلب ہے۔ اگر کہیں دو یا زیادہ اسناد میں ٹکراؤ کی کیفیت ہو، تو میرا مشرب ہے کہ ان سب کو درست مانا جائے۔


آپ انشاء اور ساغر صدیقی کو کیسے دیکھتے ہیں؟؟
 
آپ انشاء اور ساغر صدیقی کو کیسے دیکھتے ہیں؟؟

ساغر صدیقی کو میں نے کہہ لیجئے پڑھا ہی نہیں۔
انشاء سے مراد اگر ابنِ انشاء (انشا جی) ہیں تو آں جناب صاحبِ طرزِ نو ہیں۔ استاد یا سند کے معاملے میں کچھ نہ کہہ سکوں گا۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
اقبال استاد اس لئے نہیں ہے کہ وہ اس چکر میں نہیں پڑا، اور کچھ اس لئے بھی کہ اس کی نقل نہیں ہو سکی۔ میں نے عرض کیا تھا کہ میں اقبال کو ان سب سے الگ دیکھتا اور الگ رکھتا ہوں۔
آسی صاحب ایک ادنیٰ مگر مفید مشورہ آپ کے لیے۔ڈاکٹر اقبال کو آپ اگرچہ الگ نظر سے دیکھیں اور الگ مقام پہ رکھیں آپ کا مکمل اختیار اور صوابدید ہے۔ لیکن اس فہرست میں شامل ضرور کر لیں اور کسی نشانی سے اسے ممتاز کر دیں اس سے آپ بہت سی وضاحتوں سےمحفوظ رہ کر اپنا وقت بچا سکیں گےسکیں گے۔:)
میری رائے میں تو استاد ۔بڑا ،مشہور اور سند سبھی کچھ ہونا چاہئیے۔اگرچہ درو قدح کی گنجائش کتنی ہی نکل پائے۔یہ اور بات ہے کہ کوئی شاگرد اس استادی کا متحمل ہی نہ ہو پایا ۔
گر نبیند بہ روز ۔شپرہ چشم
چشمہ ء آفتاب را چہ گناہ۔۔۔
یا یوں کہیےکہ ۔۔۔
عشقِ نبرد پیشہ طلبگار مرد تھا ۔
بہرحال یہ ایک مختلف الرائے مسئلہ ہے اور ارباب فکر و فن کا اتفاق ہر گز حتمی نہیں ہو سکتا۔ تا ہم مختلف آرا ء مختلف افکارو اذہان کی عکاس ہیں اور دلچسپ ،عجیب ،سنجیدہ ،جذباتی ، سطحی ، صیر فی، سبھی رنگوں کا نظر آنا عین فطری ہے۔فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔
 
جناب سید عاطف علی صاحب۔
اگرچہ یہ تاگا خاصا پرانا ہو چکا اور بہت سے احباب اپنی رائے سے نواز چکے۔
اصل مسئلہ یہاں آ رہا تھا اپنے سے بڑوں کی درجہ بندی، اور وہ مجھ سے نہیں ہو پائی۔
توجہ کے لئے آپ کا ممنون ہوں۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
آسی صاحب ایک ادنیٰ مگر مفید مشورہ آپ کے لیے۔ڈاکٹر اقبال کو آپ اگرچہ الگ نظر سے دیکھیں اور الگ مقام پہ رکھیں آپ کا مکمل اختیار اور صوابدید ہے۔ لیکن اس فہرست میں شامل ضرور کر لیں اور کسی نشانی سے اسے ممتاز کر دیں اس سے آپ بہت سی وضاحتوں سےمحفوظ رہ کر اپنا وقت بچا سکیں گےسکیں گے۔:)
میری رائے میں تو استاد ۔بڑا ،مشہور اور سند سبھی کچھ ہونا چاہئیے۔اگرچہ درو قدح کی گنجائش کتنی ہی نکل پائے۔یہ اور بات ہے کہ کوئی شاگرد اس استادی کا متحمل ہی نہ ہو پایا ۔
گر نبیند بہ روز ۔شپرہ چشم
چشمہ ء آفتاب را چہ گناہ۔۔۔
یا یوں کہیےکہ ۔۔۔
عشقِ نبرد پیشہ طلبگار مرد تھا ۔
بہرحال یہ ایک مختلف الرائے مسئلہ ہے اور ارباب فکر و فن کا اتفاق ہر گز حتمی نہیں ہو سکتا۔ تا ہم مختلف آرا ء مختلف افکارو اذہان کی عکاس ہیں اور دلچسپ ،عجیب ،سنجیدہ ،جذباتی ، سطحی ، صیر فی، سبھی رنگوں کا نظر آنا عین فطری ہے۔فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔
استاد، بڑا، مشہور اور سند ۔۔۔ یقینا سبھی کچھ ہونا چاہئے، لیکن میری نظر میں اقبال کو ان میں سے کسی ایوارڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ جسے ان سے کچھ سیکھنا ہے تو وہ ان کو استاد مانے گا، بڑے اور مشہور تو وہ ہیں، رہی بات سند کی تو اقبال کا نام ہی سند ہے۔ ادبی بحث میں شرائط رکھی جاتی ہیں اور پورے کلام کو ان شرائط کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ غالب نے تو بہت کم شاعری کی ، کم از کم اقبال مقدار کے حوالے سے تو غالب سے کہیں بڑے شاعر ہیں۔ پھر کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھئے، کتنا ہی کلام ایسا ہے کہ جس کے معیار پر انگلی اٹھانا تو درکنار، اس کے اوصاف اور داد و تحسین کے الفاظ لکھتے لکھتے آپ کی عمر بیت جائے گی۔ خیر، غالب سے یہاں موازنہ کرنا موضوع سے ہٹنا ہے، سو میں واپس آتا ہوں اور مختصر الفاظ میں یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ جب کسی شاعر کا کلام اتنا زیادہ ہو تو اس کے سند اور استاد ہونے پر اعتراض کرنا آسان ہوتا ہے۔ پھر ایک شخص اپنی زبان و بیان اور شعر گوئی سے زیادہ اپنی نظر اپنے مقصد پر رکھتا ہے تو ہمیں بھی اس کے مقصد کا احترام کرنا چاہئے، یہ سند اور استاد ہونے کی بحث چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔ ۔۔۔
 

RAZIQ SHAD

محفلین
بلا شعبہ اقبا ل بیسویں صدی کے عظیم شاعر ہیں۔ان پر اعتراض قبول نہیں کیا جائے گا اُن کا ادبی مقا م کا جو تعین ہو چکا ہے وہ کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا ۔اگر اقبال شاعر نہیں ہیں تو میری نظر میں پھر کوئی بھی شاعر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔​
 
بلا شعبہ اقبا ل بیسویں صدی کے عظیم شاعر ہیں۔ان پر اعتراض قبول نہیں کیا جائے گا اُن کا ادبی مقا م کا جو تعین ہو چکا ہے وہ کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا ۔اگر اقبال شاعر نہیں ہیں تو میری نظر میں پھر کوئی بھی شاعر نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔​
موضوع یہاں یہ تھا کہ کون شاعر استاد ہے اور کون نہیں۔ اقبال کی شاعری میں سوائے اپنے افکار کی تبلیغ کے اور کچھ بھی نہیں ہے جو کہ صرف ان سے اتفاق رکھنے والے مذہبی گروہ کو اچھی لگتی ہے۔ اس کی تقلید کیونکر کی جائے؟؟
اقبال کے مقام سے اس بحث کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
 
آخری تدوین:

فاتح

لائبریرین
بلا شعبہ اقبا ل بیسویں صدی کے عظیم شاعر ہیں۔ان پر اعتراض قبول نہیں کیا جائے گا
میں تو یہ جملہ پڑھ کے پریشان ہی ہو گیا تھا لیکن پھر یہ تو بھلا ہوا کہ آپ سے شرف قبولیت حاصل کیے بغیر بھی ادبی مقامات کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ;)
 

فرخ منظور

لائبریرین
موضوع یہاں یہ تھا کہ کون شاعر استاد ہے اور کون نہیں۔ اقبال کی شاعری میں سوائے اپنے افکار کی تبلیغ کے اور کچھ بھی نہیں ہے جو کہ صرف ان سے اتفاق رکھنے والے مذہبی گروہ کو اچھی لگتی ہے۔ اس کی تقلید کیونکر کی جائے؟؟
اقبال کے مقام سے اس بحث کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس تعریف کے لحاظ سے تو تمام مذہبی شعرا جیسے نعت گو اور مرشیہ گو شعرا وغیرہ تو شاعر ہی نہیں ہیں۔ :)
 
جو کہ صرف ان سے اتفاق رکھنے والے مذہبی گروہ کو اچھی لگتی ہے۔
اس بات سے اختلاف کروں گا کہ بہت سے سیکولر لکھاریوں کو اقبال کی اور ان کی شاعری کی تعریف کرتے دیکھا، سنا یا پڑھا ہے.

باقی ہر شاعر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اچھا شاعر وہی ہے جو اپنے افکار کو ببانگِ دہل اشعار کی شکل دے سکے. جو اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق شاعری کرے، چاہے اس کا نظریہ مجھے پسند ہو یا ناپسند. :)
 
اس بات سے اختلاف کروں گا کہ بہت سے سیکولر لکھاریوں کو اقبال کی اور ان کی شاعری کی تعریف کرتے دیکھا، سنا یا پڑھا ہے.

باقی ہر شاعر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اچھا شاعر وہی ہے جو اپنے افکار کو ببانگِ دہل اشعار کی شکل دے سکے. جو اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق شاعری کرے، چاہے اس کا نظریہ مجھے پسند ہو یا ناپسند. :)

افکار بیان کرنے کے لیے سب سے موزوں تو میرے نزدیک نثر ہی ہے۔ جہاں بحث کی جا سکتی ہے اور دلائل بھی دیے جا سکتے ہیں اپنے حق میں۔
سیکولر لکھاریوں نے اقبال کے چند خطبات سے اپنے مطلب کی باتیں نکالی ہیں مگر میرے لیے انھیں ماننا مشکل ہے کیونکہ وہ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی کہہ گئے ہیں۔ بہرحال انھوں نے وطن کو تازہ خدا بھی قرار دیا اور مصور پاکستان بھی کہلائے۔ تو ہو سکتا ہے یہاں بھی ویسا ہی کوئی معاملہ ہو کیونکہ اقبال کے نظریات میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئیں۔ اختلاف والی بات آپ کی سو فیصد درست ہے کہ اقبال نے خواجہ حافظ سے بھی اختلاف کیا۔ حالانکہ میرے نزدیک تو اقبال سے پہلے گزرے کسی شاعر نے بھی اپنے افکار شاعری میں بیان نہیں کیے۔ بلکہ صرف شاعری کی غرض سے ہی شاعری کی ہے۔ اور شاعری کو میں اسی نظر سے دیکھنا پسند کرتا ہوں۔
 
اس تعریف کے لحاظ سے تو تمام مذہبی شعرا جیسے نعت گو اور مرشیہ گو شعرا وغیرہ تو شاعر ہی نہیں ہیں۔ :)
مرثیہ اور نعت تو محبت اور عقیدت کا اظہار ہوتے ہیں۔ وہاں سیاسی ، مذہبی ، معاشرتی بحثیں نہیں ہوتیں۔ جن سے پڑھنے والا اختلاف رکھتا ہو۔
 

RAZIQ SHAD

محفلین
بات پسند نا پسند کی ہے اس لئے ہمیں بھی حق ہے کہ اپنی پسند کا اظہار کریں
شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہمارے آئیڈیل ہیں ان کے مقام کو باتوں سے گرایا نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
مرثیہ اور نعت تو محبت اور عقیدت کا اظہار ہوتے ہیں۔ وہاں سیاسی ، مذہبی ، معاشرتی بحثیں نہیں ہوتیں۔ جن سے پڑھنے والا اختلاف رکھتا ہو۔

علامہ کے بہت سے افکار سے مجھے بھی شدید اختلاف ہے۔ مگر اختلاف کرنے سے کسی کے شاعر ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔ بات شعر کہنے کی ہو رہی ہے نہ کہ اس کے مشمولات کی۔ یوں تو غالب سے بھی لاکھوں کو اختلاف ہیں۔ جیسے ہمارےاس محفل کے بزرگ یعقوب آسی صاحب غالب کی شاعری سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ لیکن اس اختلاف سے غالب کے شاعر ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔
 
افکار بیان کرنے کے لیے سب سے موزوں تو میرے نزدیک نثر ہی ہے۔ جہاں بحث کی جا سکتی ہے اور دلائل بھی دیے جا سکتے ہیں اپنے حق میں۔
آپ ہومر کو پڑھیے۔ گوئٹے، خیام، رومی، ملٹن وغیرہ کی شاعری کا مطالعہ کیجیے۔
اقبال کی شاعری میں سوائے اپنے افکار کی تبلیغ کے اور کچھ بھی نہیں ہے جو کہ صرف ان سے اتفاق رکھنے والے مذہبی گروہ کو اچھی لگتی ہے۔
آپ یقیناً اپنے اس خیال سے رجوع کر لیں گے کیونکہ
این گناہےست کہ در شہرِ شما نیز کنند​
آپ پر ادب برائے ادب کے نظریے کا اثر معلوم ہوتا ہے جو، گستاخی معاف، میری رائے میں تاریخِ فن کا شاید مہمل ترین نظریہ ہے۔ اگر انسان حیوانِ ناطق ہے اور کلامِ موزوں کہتا ہے تو کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ اس کے فن میں اس کے افکار کی جھلک نہ ہو۔ اور اگر اس کے افکار اس کے فن میں بہرطور جھلکیں گے تو ایسے فن کو مقصدیت سے معرا کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ میں نے اب تک کی اپنی زندگی میں خالص ادب برائے ادب کی ایک بھی مثال نہیں دیکھی۔
اقبالؒ کو استاد بہرحال میں بھی نہیں خیال کرتا۔ استاد ہونے کے لیے جو نزاکتیں اور رنگینیاں درکار ہیں، علامہ نے ان پر توجہ نہیں فرمائی۔ تاہم اس بات سے انکار مشکل ہے کہ اردو شاعری کے طاقت ور ترین اسالیب رکھنے والوں میں میرؔ، غالبؔ، داغؔ اور جونؔ سے اوپر اقبالؒ کا نام آتا ہے۔ ان نابغوں کے کلام کو اردو کے ایسے معمولی قاری بھی فوراً پہچان لیتے ہیں جنھوں نے ان کی فقط ایک ایک غزل ہی پڑھ رکھی ہو۔
 
علامہ کے بہت سے افکار سے مجھے بھی شدید اختلاف ہے۔ مگر اختلاف کرنے سے کسی کے شاعر ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔ بات شعر کہنے کی ہو رہی ہے نہ کہ اس کے مشمولات کی۔ یوں تو غالب سے بھی لاکھوں کو اختلاف ہیں۔ جیسے ہمارےاس محفل کے بزرگ یعقوب آسی صاحب غالب کی شاعری سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ لیکن اس اختلاف سے غالب کے شاعر ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔
اصل موضوع استاد ہونے کے متعلق تها. اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اقبال اپنے دور کے سب سے بڑے شاعر گزرے ہیں. مگر ان کی شاعری محض شاعری نہیں ہے وہ اپنے افکار دوسروں تک اس کے ذریعے پہنچاتے ہیں. اور ان کی تقلید شاید ممکن ہی نہیں ہے.
 

فرقان احمد

محفلین
فنی محاسن اور شعری نزاکتوں سے آگہی رکھنے والے کو عام طور پر استاد قرار دے دیا جاتا ہے ۔ بہرصورت ، یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر بڑا استاد بڑا شاعر بھی ہو۔ اسی طرح یہ بھی لازم نہیں کہ بڑا شاعر، استاد کے منصب پر بھی فائز ہو۔
 
Top