اساتذہ شعراء

میرے خیال میں غالب کو جدید شعراء کی فہرست میں نہ رکھنا ایک نا انصافی ہوگی۔ یقیناً غالب ایک جدید شاعر تھے۔
باقی یہ ہے کہ اقبال کو اساتذہ شعراء میں نہیں رکھا جاسکتا۔ وجہ اس کی کوئی تعصب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ کہ اقبال اردو شاعری میں مضامین کی حد تک تو درست مگر زبان و بیان میں اکثر ایسی اغلاط چھوڑ گئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس مقابلے میں میری رائے یہ ہے کہ دور اقبالؔ میں بادشاہ شاعر تو حسرت موہانی ہی ہیں۔ اور یاس یگانہ کو بھی اساتذہ کی فہرست سے خارج کرنا زیادتی ہے۔
اس کے بعد اساتذہ میں قمر جلالوی وغیرہ بھی معتبر شعراء میں سے ایک ہیں۔
اسی طرح داغ دہلوی۔ یا اور دوسرے۔


ویسے یہ میرا خیال ہے اس صدی کا سب سے بڑا انکشاف ہے میرے لیے اردو شاعری کے حوالے سے ۔ :)
 
ویسے اگر مضامین سے قطعِ نظر بات کی جائے تو میر انیس بھی بجا طور پر اردو شاعری کے استاد ہیں۔

اب لوگوں جانے کیسی کیسی جدتیں لے کر آئیں گے مگر ان چار شعرا کو اردو کے چار ستون مانا جاتا ہے

غالب
میر تقی میر
میر انیس
اقبال


باقی تقسیم اور تعریف بہت طریقوں سے ہو سکتی ہے اور شاعروں میں تو تعصب اور مقابلہ بازی کی ایسی قبیح رسم ہے کہ وہ کبھی بھی درست درجہ بندی اور تعریف نہیں کرتے۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
فیض احمد فیض یقیناً بڑا شاعر ہے، نظریاتی معاملات سے قطع نظر فن میں وہ مثال ہے۔
حبیب جالب کا لہجہ اس کو نمایاں کرتا ہے اور اسے بہت سے ناقدین نے مزدور شاعر کا خطاب دیا ہے۔
ظہور نظر کو نہیں پڑھا۔
احمد فراز اور ناصر کاظمی؛ میں نئے لکھنے والوں کو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ وہ اِن دونوں کو پڑھا کریں۔ ان کو پڑھ کر کہنے کی تحریک بھی ہوتی ہے اور ان دونوں کی ایک خوبی نرم لہجے اور فن کاری کا امتزاج ہے۔

ظہور نظر کو نہیں پڑھا تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ شعر کے ایک بڑے منفرد ذائقے سے محروم رہ گئے۔۔۔
احمد فراز اور ناصر کاظمی کا لہجہ جہاں نرم ہے، ان کا لہجہ اس کا الٹ ہے۔۔
اپنے یاروں میں ہوں ظہور نظر
اس کی نظروں میں تنگ دیدہ ہوں

ظہور نظر ترقی پسند شاعر ہے جسے بڑا شاعر کہنا بے جا نہیں۔ کرب اور دکھ کی شدت اس کے بہت سے اشعار سے نمایاں ہے
وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر
میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں

یہ غزل توگائی بھی گئی، لیکن اس کی مثل کوئی دوسری شاید اس کے کلام میں کوئی اور نہیں۔۔۔ بالکل الگ رنگ میں لکھی ہوئی غزل ہے۔۔کہیں کہیں اردو میں ہندی الفاظ کے امتزاج کے ساتھ۔۔۔۔
دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترک محبت، ترک تمنا کرچکنے کے بعد
ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہے
وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں کیسے بتائیں تمہیں
جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا
ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں
پاس ہمارے آکر تم بے گانہ سے کیوں ہو
گر چاہو تو پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں (یہ مصرع کچھ بھول رہا ہے، لیکن بات دوری پر چھوڑ آنے کی ہی کہی ہے ظہور نظر نے)
دور گگن پر ہنسنے والے نرمل کومل چاند
بے کل من کہتا ہے آؤ ہاتھ لگائیں تمہیں
انہونی کی چنتا، ہونی کا انیائے نظر
دونوں بیری ہیں جیون کے، ہم سمجھائیں تمہیں

ایک عجیب سی نظم ہے ان کی، جو یاد کرنے میں مجھے کوئی دقت نہ ہوئی ۔۔۔
ریزہ ریزہ ہو کر گرتی
تھر تھر کرتی
اک دیوار کا سایہ
کڑی دھوپ میں
عجب روپ میں
میری جانب آیا
میں نے اس کو
اس نے مجھ کو
سینے سے لپٹایا
دھوپ ڈھلی تو شام وفا نے
عجب سوال اٹھایا
مجھ سے اور دیوار سے پوچھا
کس نے کسے بچایا؟
وہ تو تھی دیوار
سو چپ تھی،
میں بھی بول نہ پایا۔۔۔

اوپر جو مثالیں دی ہیں، یہ صرف وہ ہیں جو مجھے یاد ہیں۔

۔۔۔ ظہور نظر نے آزاد نظم کو پابند بحر کردیا۔ لیکن جس طرح کی نظم انہوں نے لکھی ہے، آج تک کسی اور کے ہاں نہیں دیکھی۔۔۔ کلیات ظہور نظر پڑھے ہوئےمدت ہوچکی ۔ ان کی آزاد نظمیں بڑی طویل ہیں، جنہیں یاد کرنا مشکل تھا۔ اس صنف شاعری کو آپ اردو ادب کا ایک نیا اثاثہ قرار دے سکتے ہیں۔ کچھ نظموں کے محض عنوانات یاد رہ گئے ہیں:
وفا کی زنجیر کب میرے پاؤں میں نہیں تھی ۔۔۔۔ عدوئے برتری رنگ و نسل و ذات اسلام ۔۔۔۔ یہ جنگل کون کاٹے گا؟ ۔۔۔

ہاتھ میرا اے مری پرچھائی تو ہی تھام لے
ایک مدت سے مجھے تو سوجھتا کچھ بھی نہیں

شہر شب میں کون سا گھر تھا، نہ دی جس پر صدا
نیند کے اندھے مسافر کو ملا کچھ بھی نہیں

عمر بھر عمر گریزاں سے نہ میری بن سکی
جو کرے کرتی رہے میں پوچھتا کچھ بھی نہیں

کہاں سے لا کے بچھائیں تمہاری راہ میں پھول
کہ ڈال ڈال تو کیا خال خال کوئی نہ تھا

دل کے زخموں کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے
روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں؟

درد ہماری محرومی کا تم تب جانو گے
جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں

اُڑتے پنچھی، ڈھلتے سائے، جاتے پل اور ہم
بیرن شام کا تھام کے دامن روز بلائیں تمہیں
 
اقبال کو میں الگ رکھتا ہوں اور الگ دیکھتا ہوں۔​

اس پر ذرا تفصیلی روشنی ڈالیں آسی صاحب کیونکہ اس پر ہی زیادہ بحث ہوتی ہے باقی شاعروں کی نہ لوگ پروا کرتے ہیں نہ زیادہ اہمیت دیتے ہیں مگر اقبال پر ہی اصل میں گفتگو لطف دیتی ہے۔

میری نظر میں تو اقبال ان کامیاب شاعروں میں سے ہے جسے اردو اور فارسی دونوں میں بے مثال شہرت ملی ہے اور اہل زبان نے دی ہے۔ ایسے شاعر کے استاد ہونے میں کلام کرنا میری تو سمجھ سے باہر ہے۔

اقبال کے بعد کے تمام بڑے شعرا کو دیکھ لیجیے ، سب اقبال کی عظمت کا دم بھرتے ہیں جس میں سرفہرست فیض احمد فیض جیسا بڑا شاعر موجود ہے۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین

شاہد شاہنواز

لائبریرین
یہ غزل بھی انٹرنیٹ سے تلاش کے بعد ظہور نظر کی ملی ہے:

جب اس کے در سے میں اٹھا ، ملال کوئی نہ تھا
کہ میری جھولی میں باقی سوال کوئی نہ تھا ‌‌‌

بہار آئی تو اپنا سوائے زنداں کے
تمام شہر میں پرسان حال کوئی نہ تھا

وہ دن ہی ٹھیک تھے جب دل میں رت بدلنے کا
گمان و خواب ، یقین و خیال کوئی نہ تھا

سفر سے لوٹا ہوں جس سال بھی ، مرے گھر میں
سوائے غربتِ آئندہ سال کوئی نہ تھا

یقین کر کہ تیری آنکھ اٹھنے سے پہلے
میری نگاہ کے شیشے میں بال کوئی نہ تھا

ہوا جو یوں تو یہ خوبی ترے ہنر کی تھی
مری وفاؤں میں میرا کمال کوئی نہ تھا

وہاں بھی ہم نے کمائی حلال کی روزی
جہاں پہ فرق حرام و حلال کوئی نہ تھا

ہمی سے ہاتھ نہ اٹھے کبھی دعا کے لئے
وگرنہ اس کی خدائی میں کال کوئی نہ تھا

بھرے وہ زخم بھی سفاک وقت نے میرے
نظر میں جن کا مری ، اندمال کوئی نہ تھا
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
اب لوگوں جانے کیسی کیسی جدتیں لے کر آئیں گے مگر ان چار شعرا کو اردو کے چار ستون مانا جاتا ہے
غالب
میر تقی میر
میر انیس
اقبال
باقی تقسیم اور تعریف بہت طریقوں سے ہو سکتی ہے اور شاعروں میں تو تعصب اور مقابلہ بازی کی ایسی قبیح رسم ہے کہ وہ کبھی بھی درست درجہ بندی اور تعریف نہیں کرتے۔
سب سے پہلے غالب کا نام لیاجاتا ہے، پھر میر تقی میر۔ میر انیس اور دبیر کو میں مرثیے کے ماہرین سمجھتا ہوں، غزلیات میں انہوں نے اگر لکھا ہے تو مجھ کم نظر کی نظر سے نہیں گزرا، سو ہم لوگ فرض کرلیتے ہیں کہ انہوں نے غزل کے میدان میں خاطر خواہ کوشش نہیں کی ہوگی، تبھی مشہور نہ ہوئے کیونکہ ان کے قادر الکلام ہونے میں کلام ہی نہیں۔۔۔ ایک جگہ میں نے پڑھا تھا کہ الطاف حسین حالی کو آپ پہلا ترقی پسند شاعر کہہ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ستون تو ان کو بھی ماننا چاہئے کہ مقدمہ شعر و شاعری لکھ کر انہوں نے اردو شاعری کا رخ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا تھا۔ سو ستونوں کی بحث شاید اختلافی ہوجائے اس مقام پر۔۔۔تاہم اس حوالے سے میرا جو خیال تھا عرض کردیا۔۔۔
کیونکہ اس وقت اردو کا دامن تنگ سمجھا جارہا تھا تویہ اتنا غلط بھی نہیں ہے کہ اردو کی تاریخ جہاں سے شروع ہوئی ہے وہاں جو بڑے نام ہمیں دکھائی دیتے ہیں، انہی کو ستون مان لیاجاتا ہے، جبکہ شروع سے اب تک اس راہ شوق پر چلے تو سب ہیں ۔۔۔ کس کس کا ذکر کیاجائے اور کسے فراموش کیاجائے ۔۔۔

شاد عظیم آبادی اور فراق گورکھپوری ۔۔۔
ستون پر تو بات کرنا ذرا مشکل ہے ، لیکن سوال وہی پہلا ہے یہ لوگ کیا ہیں، اساتذہ، سند ، بڑے شاعر یا محض شاعر؟؟
 
جناب محب علوی صاحب۔
تقاضا یہ بن رہا ہے کہ کلامِ اقبال پر مباحث کا ایک الگ سلسلہ ہو۔
اقبال کا اصل ’’مسئلہ‘‘ یہ ہے کہ اس نے شعر کو فلسلفہ اور مقصدیت سے ہم آہنگ کیا، اور اسلامی تشخص پر زور دیا۔ اقبال کی شاعری اپنے اندر ایک نظریہ لئے ہوئے ہے، اور بسا اوقات اقبال سے نظریاتی اختلاف رکھنے والا ذہن اس کی شاعری کو بھی قبول نہیں کرتا۔

پروفیسر انور مسعود کا ایک شعر دیکھئے:۔
وقت سمندر جد تک ڈگسن ورھے ورھے دیاں ندیاں​
سن ستتر تے اک پاسے ساریاں تیریاں صدیاں​
یہ شعر پروفیسر صاحب نے 1977 میں صدسالہ جشنِ اقبال کے موقعہ پر ایک سرکاری تقریب میں پڑھا تھا۔ سن اٹھارہ سو ستتر 1877 اقبال کا سالِ پیدائش ہے۔
 
جناب محب علوی اور جناب مزمل شیخ بسمل
اقبال کے ہاں اغلاط کی بات بہت سوں سے سنی ہے مگر میرا کم مطالعہ کہہ لیجئے کہ کوئی تفصیلی مباحث میرے علم میں نہیں۔
ادھر
غالب کے کلام پر علامہ نظم طباطبائی نے بہت سخت گرفت کی ہے۔

آسی صاحب،
میں تو حیران ہوتا ہوں اس جانبداری اور تعصب پر کہ اردو کے اس مایہ ناز شاعر پر جو صرف شاعر ہی نہیں ایک بڑا فلسفی اور کئی زبانوں کا ماہر تھا۔ تمام اردو شاعروں میں اقبال جتنی رسمی تعلیم کس شاعر کی ہے ۔
کتنے شاعروں نے یورپی یونیوسٹیوں سے بھی تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کے مقام تک بھی پہنچے۔

اس پر الزام وہ لگایا جا رہا ہے جو کئی انتہائی کم پڑھے لکھے استاد شعرا پر بھی نہیں لگ رہا اور انہیں آسانی سے اساتذہ میں شامل کر لیا گیا ہے بغیر زیادہ بحث اور تنقید کے۔

اساتذہ میں ہی سے داغ کی کچھ دیر شاگردی کا شرف بھی رہا ہے اقبال کو اور یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ کچھ عرصہ میں ہی داغ نے یہ بتا دیا کہ اصلاح کی زیادہ گنجائش نہیں ہے آپ کے کلام میں۔ جو شخص شروع میں اتنا پکا شاعر تھا وہ مزید تعلیم اور تجربہ کے بعد کونسی اغلاط کی بھرمار کرنے لگا جو آج کے نوآموز شاعروں کو نظر آنے لگی ہیں اور بیسویں صدی کے مایہ ناز ناقدین اور شاعروں کی اکثریت سے اوجھل رہی۔
 
اقبال کے بعد کے تمام بڑے شعرا کو دیکھ لیجیے ، سب اقبال کی عظمت کا دم بھرتے ہیں جس میں سرفہرست فیض احمد فیض جیسا بڑا شاعر موجود ہے۔

فیض کے نام پر یاد آیا، انہوں نے ایک بار کہا تھا: ’’اقبال پہاڑ ہے اور یہ چھوٹی چھوٹی گلہریاں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں‘‘۔
 
جناب محب علوی صاحب۔
تقاضا یہ بن رہا ہے کہ کلامِ اقبال پر مباحث کا ایک الگ سلسلہ ہو۔
اقبال کا اصل ’’مسئلہ‘‘ یہ ہے کہ اس نے شعر کو فلسلفہ اور مقصدیت سے ہم آہنگ کیا، اور اسلامی تشخص پر زور دیا۔ اقبال کی شاعری اپنے اندر ایک نظریہ لئے ہوئے ہے، اور بسا اوقات اقبال سے نظریاتی اختلاف رکھنے والا ذہن اس کی شاعری کو بھی قبول نہیں کرتا۔

پروفیسر انور مسعود کا ایک شعر دیکھئے:۔
وقت سمندر جد تک ڈگسن ورھے ورھے دیاں ندیاں​
سن ستتر تے اک پاسے ساریاں تیریاں صدیاں​
یہ شعر پروفیسر صاحب نے 1977 میں صدسالہ جشنِ اقبال کے موقعہ پر ایک سرکاری تقریب میں پڑھا تھا۔ سن اٹھارہ سو ستتر 1877 اقبال کا سالِ پیدائش ہے۔

آسی صاحب ،
اگر فلسفہ اور مقصدیت ہی اصل مسئلہ ہے تو پھر یہی سلوک "فیض" کے ساتھ کیوں نہیں روا رکھا جاتا ۔ اس کی بھی تو شاعری پر اشتراکیت کی گہری چھاپ ہے اور وہ تمام عمر اشتراکیت کا مبلغ بھی رہا۔
 
میری نظر میں تو اقبال ان کامیاب شاعروں میں سے ہے جسے اردو اور فارسی دونوں میں بے مثال شہرت ملی ہے اور اہل زبان نے دی ہے۔ ایسے شاعر کے استاد ہونے میں کلام کرنا میری تو سمجھ سے باہر ہے۔
اقبال استاد اس لئے نہیں ہے کہ وہ اس چکر میں نہیں پڑا، اور کچھ اس لئے بھی کہ اس کی نقل نہیں ہو سکی۔ میں نے عرض کیا تھا کہ میں اقبال کو ان سب سے الگ دیکھتا اور الگ رکھتا ہوں۔
 
جناب محب علوی صاحب۔ آپ نے غور فرمایا؟ میں نے لفظ مسئلہ کو واوین میں لکھا ہے۔ ’’مسئلہ‘‘!
آپ میرا نکتہ سمجھ گئے ہوں گے۔
اقبال کا اصل ’’مسئلہ‘‘ یہ ہے کہ اس نے شعر کو فلسلفہ اور مقصدیت سے ہم آہنگ کیا، اور اسلامی تشخص پر زور دیا۔ اقبال کی شاعری اپنے اندر ایک نظریہ لئے ہوئے ہے، اور بسا اوقات اقبال سے نظریاتی اختلاف رکھنے والا ذہن اس کی شاعری کو بھی قبول نہیں کرتا۔
 
Top