اساتذہ شعراء

محمد بلال اعظم

لائبریرین
جناب محترم محمد یعقوب آسی صاحب

یہ فہرست ہے جو اب تک تجویز کی گئی یا ان بزرگوں کو استاد شعراء کہا گیا۔
میرا نکتہ یہ ہے کہ: بڑا شاعر ہونا، اور بات ہے استاد ہونا اور بات ہے اور فنی حوالے سے سند کی حیثیت رکھنا اور بات ہے (فکری اور نظریاتی اسناد کا معاملہ یہاں نہیں)۔
بیحد معلوماتی

اگر ان تفریقات کے ساتھ بات کی جائے تو اپنی جسارتیں پیش کئے دیتا ہوں۔ دیکھئے لتاڑیے گا نہیں، جہاں میں نے کچھ نہیں لکھا، اُس کو نفی نہ سمجھئے گا بلکہ میری کم علمی پر مبنی خاموشی گردانئے گا۔

مرزا غالب: بڑا شاعر، استاد، سند​
میر تقی میر: بڑا شاعر، استاد، سند​
مومن: بڑا شاعر، استاد​
میر درد: بڑا شاعر، استاد، سند​
ذوق: بڑا شاعر، استاد، سند​
آتش: بڑا شاعر، استاد، سند​
احسان دانش: بڑا شاعر​
جمیل الدین عالی: مشہور شاعر​
احمد ندیم قاسمی: بڑا شاعر​

رئیس امرہوی: بڑا شاعر، استاد

امیر خسرو: بڑا شاعر

ولی دکنی: بڑا شاعر، استاد

مرزا محمد رفیع سودا: بڑا شاعر، استاد، سند

نظیر اکبر آبادی: بڑا شاعر

داغ دہلوی: بڑا شاعر، استاد، سند

فیض احمد فیض: بڑا شاعر

مجید امجد: بڑا شاعر

ن م راشد: بڑا شاعر
قتیل شفائی: بڑا شاعر​
صوفی تبسم: بڑا شاعر​
سلیم کوثر: بڑا شاعر​
واہ​
کیا خوب تقابل کیا ہے۔ بے شک یہ میرے لیے ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔​
اس طرح ہم جدید شعراء میں پروین شاکر، محسن نقوی، احمد فراز وغیرہ کو پھر مشہور شاعر کہیں گے یا بڑا شاعر۔ کیونکہ عوامی مقبولیت میں تو یہ جدید دور میں بہت آگے ہیں۔​
اور اگر مزید تھوڑا سا آگے آیا جائے تو مشہور ہونے کے لحاظ سے وصی شاہ، سعد اللہ شاہ، فرحت عباس شاہ، نوشی گیلانی کو کس صف میں رکھیں گے؟​

فن میں سند کا معاملہ ذرا توجہ طلب ہے۔ اگر کہیں دو یا زیادہ اسناد میں ٹکراؤ کی کیفیت ہو، تو میرا مشرب ہے کہ ان سب کو درست مانا جائے۔
اگر اس logic کو کچھ تفصیل کے ساتھ سمجھا دیں اور مزید روشنی ڈال دیں تو نوازش ہو گی۔
 
جناب محمد بلال اعظم صاحب۔

اقبال کا مختصر سا تقابل اُس کے اپنے اور اُس سے پہلے کے عہد سے کیا جائے تو چند ایک چیزیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔

ایک تو تب تک کا بڑا موضوعِ شعر (غزل میں) غمِ جاناں تھا اور اس کو تغزل کا جزوِ لازم گردانا جاتا تھا۔ دیگر موضوعات بھی تھے مگر غمِ جاناں بہت نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ قنوطیت اور رجائیت دونوں رویے موجود تھے، تاہم بہت سارے ناقدین نے قنوطیت کو شعر میں افضل کہا کہ اس سے درد و الم کی وہ کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو غزل کو ملائم تر بناتی ہیں۔ مثنوی اور مسدس میں بھی غزلیہ کیفیات ملتی ہیں۔میر انیس اور مرزا دبیر کے مرثیے اپنا ایک الگ انداز رکھتے ہیں۔ نظیر اکبر آبادی اور اکبر الٰہ آبادی کا لہجہ بھی کسی قدر ہٹا ہوا ہے۔

ضمناً ایک جملہ آپ کے ساتھ سانجھا کرتا چلوں: ’’اکبر نے ہنسا ہنسا کر، حالی نے رلا رلا کر اور اقبال نے ڈرا ڈرا کر قوم کو بیدار کیا‘‘۔ یہ جملہ نویں دسویں کے نصاب میں پڑھا تھا۔ اس سے قطع نظر کہ اس جملے میں کتنی صداقت یا جامعیت ہے، یہ ضرور ہے کہ ملی اور قومی حوالوں سے ان تینوں بزرگوں کا کام نمایاں ہے۔
 
اقبال کے عہد تک کی غزل نصابی تعریفات میں مقید نظر آتی ہے۔ نظیر کے مضامین اور زبان اپنے اندر بہت حد تک ’’عوامیت‘‘ لئے ہوئے ہے، اکبر نے طنز اور مزاح سے کام لیا۔ اقبال نے غزل کی تمام تر سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے نہ صرف نئے موضوعات دیے بلکہ آہنگ بھی نیا دیا۔ بہت سارے نقادوں نے یہ جو اقبال کی غزل کو غزل تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، اس کے پیچھے غالباً فن برائے فن اور فن برائے مقصد کی بحث رہی ہو گی۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
پھر تو یقناً وصی شاہ بھی اساتذہ شعراء میں شمار ہو گا لیکن عقل کے لیے اس بات کو تسلیم کرنا مشکل ہے۔
بھئی اساتذہ سے مراد میں تو یہی لیتا ہوں کہ جو شاعری سکھاتے ہوں۔۔۔ یہ فہرست تو بہت لمبی ہوجائے گی۔۔۔

کچھ ایسے شعراء ہیں جن کو میں نے پڑھا ۔۔۔۔ ان کے نام فرصت سے ذکر کروں گا تاکہ معلوم ہو وہ اساتذہ ہیں، بڑے شعراء ہیں اور سند یانہیں؟
 
اقبال کے ہاں فن اور مقصد اس طور یک جا ہوئے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی منہا نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کی لفظیات کو مشکل گردان کر عدم ابلاغ کا دعویٰ کرنے کا میرے نزدیک کوئی جواز نہیں۔ وہ جس سطح پر جا کر بات کر رہا ہے اور جو مسائل اس کی شاعری میں زیرِ بحث آئے ہیں، ان لفظیات کے بغیر شاید ممکن نہ ہوتا۔ اصل مسئلہ (میرے جیسے سہل پسند قاری کا) یہ ہے کہ وہ اقبال کو محض شاعر کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور وہاں اسے مایوسی ہوتی ہے۔
 
اقبال سے ایک بات مروی ہے، (جناب فاتح صاحب کے مطالعہ سے مستفیض ہونا چاہوں گا) کہ ’’اردو میرے لئے تنگ نائے ہے اور فارسی میرا خوب ساتھ دیتی ہے‘‘ یا اس سے ملتی جلتی بات ہے۔ میں اس سے یہ سمجھا ہوں کہ شعر کا وہ جو تقاضا ہے، مختصر اور جامع ہونے کا، اور غزل میں دو سطروں میں مضمون مکمل کرنے کا! اقبال وہاں محسوس کرتا ہے کہ فارسی میں اختصار اور جامعیت زیادہ ہے۔ وہ ایک ایک شعر میں چار چار تلمیحات بھی لاتا ہے:
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود​
فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب​
اقبال کے قاری کو بھی تو اقبال کے پیچھے چلنے کی کوشش کرنی چاہئے نا! ’’عالمانہ سلاست‘‘ والی بات میں پہلے بھی عرض کر چکا۔ صرف ایک بات یہاں پیش کروں گا کہ اقبال کے ہاں ایسی بھاری بھرکم تراکیب اور شوکتِ لفظی کے باوجود روانی حیران کر دینے والی ہے۔ غزل سے باہر نکل کر دیکھئے، اس کی نظمیں، یوں لگتا ہے جیسے کہیں اوپر سے نازل ہو رہی ہوں۔
 
یہ تاگا چونکہ صرف اقبال کے لئے نہیں، اس کا اصل موضوع اساتذہ کا ’’تقرر‘‘ ہے۔ سو، اِس ایک بات پر بس کرتا ہوں کہ:
اقبال اور اکبر، شعر میں اِن دونوں کا اتباع نہیں ہو سکا۔ کسی نے ایسی کوشش کی یا اُس سے ایسا کوئی شعر ہو گیا تو شائقین نے اس کو اقبال کے حساب میں ڈال دیا۔ ایسے اشعار کی نشان دہی پر مشتمل ایک تاگا محفل پر پہلے سے موجود ہے۔
 
بڑی دل چسپ بحث یہاں آئی ہے استاد کی ’’کوالی فی کیشن‘‘ کی۔ میرا خیال جان لیجئے، باقی جو آپ کا حسنِ ظن کہے۔
شعر کے اعلیٰ معیار کی بات جو انٹرویو کے تاگے میں چلی، استاد کے لئے یہ تو لازم کیجئے کہ اس کی شاعری کے معیار پر انگلیاں نہ اٹھائی جا سکیں یا کم از کم ایسا کرنا مشکل ہو۔ کہنے کو تو کہنے والے بہت کچھ کہہ جاتے ہیں، اس ’’کہنے‘‘ کے عوامل بھی کہیں کہیں سوالیہ نشان کی زد میں ہوتے ہیں۔
ادب میں یا شاعری میں ’’استاد‘‘ کی اصطلاح مروجہ ’’ٹیچر‘‘ سے مختلف ہونی چاہئے۔
میں یہاں استاد قمر جلالوی کی بھی سفارش کروں گا۔
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو​
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں​
۔۔۔
 
دیوان کا تو زمانہ نہیں رہا شاید؟
شاعر کے حالات بھی تو بدلے ہیں! ایک مدت تک شعراء کو وظائف ملتے رہے، سرکار دربار سے غمِ روزگار کا بوجھ کسی نہ کسی سطح پر بٹایا جاتا رہا (اگرچہ ہر شاعر کو یہ میسر نہیں تھا)۔ غالب کے دور ہی میں حالات بہت تیزی سے تبدیل ہونے لگے، سرکار دربار والی بات مٹتے مٹتے مٹتی گئی اور آج کا شاعر سارا سارا دن دفتر، کلاس روم، کارخانے، مل میں مزدوری کرتا ہے، ریڑھی کھینچتا ہے، کھیتی باڑی کرتا ہے ۔۔۔ اور رات کو بیٹھ کر اپنے اور معاشرے کے زخموں کا حساب لگاتا ہے اور اسے سپردِ قرطاس کرتا ہے۔ ہفتے عشرے میں ادبی محفلوں میں بھی چلا جاتا ہے۔
با ضابطہ استادی شاگردی بس کہیں کہیں برائے نام ہو تو ہو۔ فیشن البتہ ابھی بھی چل رہا ہے، ایسے فیشنی ’’اساتذہ‘‘ کی فہرست بھی چاہئے تو بصد شوق مرتب کیجئے۔

مدیحہ گیلانی
 
جناب محمد بلال اعظم کا ارشاد، سند میں ٹکراؤ کے حوالے سے۔

کوئی ایک اسم ہے غالب نے کہا وہ مذکر ہے، میر نے کہا وہ مؤنث ہے۔ تو مجھے اس اسم کو مذکر یا مؤنث کسی بھی طور لانے کا جواز مل گیا۔ غالب نے جوتا اور جوتی میں تذکیر و تانیث کے علاوہ بھی فرق کی بات کی ہے، کسی اور کے ہاں میرے علم میں نہیں۔ سو، جو تفریق غالب نے کی اس کو بھی مان لیجئے اور شعر میں کہیں ایسا نہ بھی ہو تو کوئی قباحت نہیں۔ غالب نے بلبل کو مؤنث باندھا ہے، اقبال نے مذکر بھی باندھا ہے۔ میں اگر اقبال کو سند نہیں مانتا تو غالب کو مان لوں۔
 
محاورے اور روزمرہ کی بات ہو، تو ایک محاورہ دلی کا ہے ایک دکن کا ہے۔ میں بجائے اس جرح میں پڑنے کے کہ دلی والے غلط ہیں یا دکن والے غلط ہیں؛ دونوں کو اعتبار دوں اور دونوں میں سے جیسا مجھے بھا جائے (یا چلئے میری سہل پسندی پر محمول کرتے ہوئے: جو میرے شعر میں چل جائے) باندھ لوں۔ و علیٰ ہٰذا القیاس۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
کچھ بڑے شعراء آپ کی لسٹ جو نظر سے گزری تھی، اس میں نظر نہیں آسکے، ان کا بھی تعین ہوجائے کہ وہ محض شاعر ہیں ، یا بڑے شاعر ، سند اور اساتذہ کا بھی درجہ رکھتے ہیں۔۔۔
حفیظ جالندھری، ساغر صدیقی، مولانا انجم فوقی بدایونی، فانی بدایونی، حفیظ ہوشیارپوری، یہ وہ نام ہیں جنہوں نے مجھے متاثر کیا۔۔۔ اب کچھ نام جو بڑے ہیں اور اس لسٹ میں ان کے نہ ہونے کا مجھے حقیقت میں افسوس ہوا، بلکہ کہنا چاہئے کہ حیرت ہوئی کہ ان کو آپ نے چھوڑا کیسے؟
فیض احمد فیض، حبیب جالب، ظہور نظر اور احمد فراز۔۔۔
میرے خیال میں ان کا کوئی نہ کوئی تو مقام ہوگا۔۔۔ آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مسئلے کے؟؟
ایک بڑا حیرت زدہ کردینے والا سوال پوچھ رہا ہوں، کیا خواتین شاعرات میں سے کوئی بھی اس شمار قطار میں نہیں؟؟ کیسے؟؟
میرا مطالعہ انتہائی کم ہے، میں بہت کم پڑھتا ہوں، اس سے زیادہ میری توجہ لکھنے پر رہی ہے۔۔۔ پھر بھی دو نام پیش کررہا ہوں
ادا جعفری اور پروین شاکر ۔۔۔ حالانکہ نام بے شمار ہیں، دوسروں کو میں نے پڑھا نہیں، اس لیے کہہ بھی نہیں رہا۔۔۔
 
جناب شاہد شاہنواز صاحب۔
بات وہی ہے صاحب، ایک وہ جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا:۔
دوسروں کو میں نے پڑھا نہیں، اس لیے کہہ بھی نہیں رہا۔۔۔​
اپنا حال اس تو سے بھی پتلا ہے۔
حفیظ جالندھری، ساغر صدیقی، مولانا انجم فوقی بدایونی، فانی بدایونی، حفیظ ہوشیارپوری،​
حفیظ جالندھری کو بہت کم پڑھا، ساغر صدیقی کو جتنا پڑھا بہت اچھا لگا، فوقی بدایونی کو پڑھا ہی نہیں، فانی بدایونی کا دیوان البتہ میرے پاس ہے روایت سے وابستہ بہت مضبوط شعر ہیں ان کے، حفیظ ہوشیار پوری کو بھی بہت کم پڑھا۔ اپنی بکل میں بہت محدود مطالعہ ہے۔ فانی کے سوا کسی پر بھی میری رائے یوں نہیں بن سکتی کہ میں نے ان کو اتنا سا پڑھا کہ کہہ لیجئے ’’نہیں پڑھا‘‘۔ فانی کے تو میں نے حوالے بھی دیے تھے، کچھ مقامات پر۔
 
فیض احمد فیض، حبیب جالب، ظہور نظر اور احمد فراز۔۔۔​
فیض احمد فیض یقیناً بڑا شاعر ہے، نظریاتی معاملات سے قطع نظر فن میں وہ مثال ہے۔
حبیب جالب کا لہجہ اس کو نمایاں کرتا ہے اور اسے بہت سے ناقدین نے مزدور شاعر کا خطاب دیا ہے۔
ظہور نظر کو نہیں پڑھا۔
احمد فراز اور ناصر کاظمی؛ میں نئے لکھنے والوں کو ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ وہ اِن دونوں کو پڑھا کریں۔ ان کو پڑھ کر کہنے کی تحریک بھی ہوتی ہے اور ان دونوں کی ایک خوبی نرم لہجے اور فن کاری کا امتزاج ہے۔
 
ایک بڑا حیرت زدہ کردینے والا سوال پوچھ رہا ہوں، کیا خواتین شاعرات میں سے کوئی بھی اس شمار قطار میں نہیں؟؟ کیسے؟؟
میرا مطالعہ انتہائی کم ہے، میں بہت کم پڑھتا ہوں، اس سے زیادہ میری توجہ لکھنے پر رہی ہے۔۔۔ پھر بھی دو نام پیش کررہا ہوں
ادا جعفری اور پروین شاکر ۔۔۔ حالانکہ نام بے شمار ہیں، دوسروں کو میں نے پڑھا نہیں، اس لیے کہہ بھی نہیں رہا۔۔۔

یقین جانئے گا، مجھے قطعاً کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ ادا جعفری کی شاعری ریڈیو پر سنی اور اس کو اپنی نوٹ بک میں ادا بھی۔ یہ غزل بھی ادا جعفری کی ہے نا؟
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے​
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے​
کیا راہ بدلنے گا گلہ ہم سفروں سے​
جس رہ سے چلے اُن کے در و بام ہی آئے​
آپ خود بتائیے کہ ایسی شاعرہ نظر انداز کیسے ہو سکتی ہے۔ ’’شاعرات‘‘ کہنا کافی ہے، ’’خواتین شاعرات‘‘ کیوں؟ مجھے یاد آ رہا ہے، جناب فاتح نے یہاں یا فیس بک پر شاعرات اور ان کی شاعری کے تعارف ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ مزے کی بات ہے انہوں نے بھی ’’خواتین شاعرات‘‘ ہی لکھا، اس کی کوئی نہ کوئی توجیہ رہی ہو گی۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
یقین جانئے گا، مجھے قطعاً کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ ادا جعفری کی شاعری ریڈیو پر سنی اور اس کو اپنی نوٹ بک میں ادا بھی۔ یہ غزل بھی ادا جعفری کی ہے نا؟
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے​
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے​
کیا راہ بدلنے گا گلہ ہم سفروں سے​
جس رہ سے چلے اُن کے در و بام ہی آئے​
آپ خود بتائیے کہ ایسی شاعرہ نظر انداز کیسے ہو سکتی ہے۔ ’’شاعرات‘‘ کہنا کافی ہے، ’’خواتین شاعرات‘‘ کیوں؟ مجھے یاد آ رہا ہے، جناب فاتح نے یہاں یا فیس بک پر شاعرات اور ان کی شاعری کے تعارف ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ مزے کی بات ہے انہوں نے بھی ’’خواتین شاعرات‘‘ ہی لکھا، اس کی کوئی نہ کوئی توجیہ رہی ہو گی۔

ہاں یہ وہی غلطی ہے جیسے ہمیں معلوم ہے کہ یہ غلط ہے لیکن روانی میں کبھی کبھار لکھ جاتے ہیں ’’ماہ رمضان کا مہینہ سال میں ایک بار آتا ہے‘‘ ۔۔۔
 
پروین شاکر غالباً وہ پہلی شاعرہ ہے جس کے ہاں ’’نسائیت‘‘ کھل کر سامنے آتی ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ نعرہ بازی جیسی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ ہم پروین شاکر کو بلا خوفِ تردید بڑی شاعرہ کہہ سکتے ہیں۔
 
Top