اردو کی سب سے پہلی غزل

کیا آپ متفق ہیں کہ یہ اردو میں لکھی گئی سب سے پہلی غزل ہے؟

  • جی ہاں

    Votes: 2 50.0%
  • جی نہیں

    Votes: 1 25.0%
  • پتا نہیں

    Votes: 1 25.0%

  • Total voters
    4
  • رائے شماری کا اختتام ہو چکا ہے۔ .

ذوالقرنین

لائبریرین
زحالِِ مسکین، مکن تغافل، دُ رائے نیناں، بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں، ندارم اے جاں، نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں

شبانِ ہجراں، دراز چوں زلف، و روزِ وصلش، چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل، دو چشم جادو، بصد فریبم، ببرد تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو، ہماری بتیاں

چو شمع سوزاں، چو ذرہ حیراں، زمہر آں ماہ گشتم آخر
نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں

بحقِ روز وصالِ دل بر کہ داد مارا فریب خسرو
سپیت من کے درائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں​
امیر خسرو (1253م ، 1324م)​
 

ذوالقرنین

لائبریرین
(ہو سکتا ہے (بلکہ یقیناً) اس غزل میں غلطیاں ہوں۔ کیونکہ میں نے اس کو ہو بہو نقل ماری ہے) :)
کیا کوئی رکن محفل اس غزل کو لفظ بہ لفظ ترجمہ کرکے پیش کر سکتا ہے؟ سب کے علم میں اضافہ ہوگا۔
 

ساجد

محفلین
(ہو سکتا ہے (بلکہ یقیناً) اس غزل میں غلطیاں ہوں۔ کیونکہ میں نے اس کو ہو بہو نقل ماری ہے) :)
کیا کوئی رکن محفل اس غزل کو لفظ بہ لفظ ترجمہ کرکے پیش کر سکتا ہے؟ سب کے علم میں اضافہ ہوگا۔
وارث بھائی ، نبیل بھائی اور سیدہ شگفتہ بہن میں سے کوئی ایک یہ کام کر دے تو ہم ایک عدد غزل سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
 

ذوالقرنین

لائبریرین
جناب یہ ہمارا محلہ نہیں ہے کہ یہاں سے گھسے، وہاں سے نکلے۔
ایک براعظم ہے جسے پار کرتے کرتے پتا نہیں کتنی صدیاں لگ جائے۔ جس کے لیے عمر خضر چاہیے یا پھر "صدیوں کا بیٹا":):):)
 

ذوالقرنین

لائبریرین
یہ اردو کی غزل ہے کہ فارسی کی؟
دراصل امیر خسرو فارسی کا شاعر اور خود بھی فارس کا تھا۔ ہماری ناقص معلومات کے مطابق اردو یا ریختہ میں جو سب سے پہلی غزل لکھی گئی وہ امیر خسرو کا ہی ہے۔ جو کہ درج بالا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
جناب یہ ہمارا محلہ نہیں ہے کہ یہاں سے گھسے، وہاں سے نکلے۔
ایک براعظم ہے جسے پار کرتے کرتے پتا نہیں کتنی صدیاں لگ جائے۔ جس کے لیے عمر خضر چاہیے یا پھر "صدیوں کا بیٹا":):):)

اجی صاحب اس محفل کو محلہ نہیں بلکہ اپنا گھر ہی سمجھیے۔ گلی محلے میں آنکھیں جھکا کر چلنا شرافت کی نشانی ہے اور گھر میں آنکھیں کھلی رکھنا مستحسن ہے۔ اس گھر کے ادھر ادھر کے گوشوں پر ذرا نظر دوڑائیے آپ کو زندہ و جاوید جہان نظر آئیں گے :)
 

ذوالقرنین

لائبریرین
اجی صاحب اس محفل کو محلہ نہیں بلکہ اپنا گھر ہی سمجھیے۔ گلی محلے میں آنکھیں جھکا کر چلنا شرافت کی نشانی ہے اور گھر میں آنکھیں کھلی رکھنا مستحسن ہے۔ اس گھر کے ادھر ادھر کے گوشوں پر ذرا نظر دوڑائیے آپ کو زندہ و جاوید جہان نظر آئیں گے :)

جناب! تھوڑی سی ظرافت کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ دراصل میرا مطلب اس
Capture2.png
سے تھا۔
 

فرقان احمد

محفلین
تا حال منتظر کسی نے نہیں بتایا کہ یہ اردو کی پہلی غزل ہے کہ نہیں۔ یہ فارسی کلام ہے یا اسے اردو یا ہندی گنا جائے۔ الف عین محمد وارث سیدہ شگفتہ فرحت کیانی محمد تابش صدیقی
بہت خوبصورت کلام اور شراکت پر آپ مشکور ہیں۔ ذوالقرنین بھائی۔
اس حوالے سے تو بحث ہو سکتی ہے کہ یہ اردو کی پہلی غزل ہے یا نہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے اردو (اگر ہندی کہیں گے تب بھی یہ اب اردو ہی کہلائی جائے گی) کی ہی غزل کہا جائے گا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس غزل کے کئی مصرعے ایسے ہیں جو کہ بہرصورت فارسی زبان میں نہیں کہے گئے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ کہ اگر یہ غزل فارسی میں کہی گئی ہوتی تو پھر ان مصرعوں کا غزل میں موجود ہونے کا بظاہر کوئی جواز موجود نہ ہے۔
 
اس غزل کو ریختہ/ اردو کی پہلی غزل مانا جاتا ہہے۔

یہ فارسی اوربرج بھاشا کا امتزاج ہے باقی اردو داں لوگ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔

بہت سے لوگ سراج اورنگ آبادی یا ولی کی غزلوں کو اردو سے قریب تر ہونے کے باعث پہلے ارشعرانتےدکنیشعراگنتےہیں۔

یہاں کوی ایم اے اردو شخصیت ہو تتو بہتر وضاحت کر سکتی ہے
 

ابو مصعب

محفلین
زحالِِ مسکین، مکن تغافل، دُ رائے نیناں، بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں، ندارم اے جاں، نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں
آدھی بات سمجھ آئی اسے آسان الفاظ میں لکھ رہا ہوں:
زحالِِ مسکین، مکن تغافل:
مسکین کے حال سے تغافل نہ کر
دُ رائے نیناں، بنائے بتیاں: سمجھ نہیں آئی ۔۔
کہ تابِ ہجراں، ندارم اے جاں: اے جاناں مجھ میں ہجراں کی تاب نہیں ہے۔
نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں: سمجھ نہیں آئی

شبانِ ہجراں، دراز چوں زلف، و روزِ وصلش، چو عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں​

ہجر کی رات تو زلف کی طرح لمبی ہوتی ہے اور وصل کا دن عمر کی طرح کم
پیارے محبوب کو دیکھے بغیر رات کیسے کاٹوں
 
Top