اردو کمپیوٹنگ کی سمت سفر

الف عین

لائبریرین
ویسے بات اردو کمپیوٹنگ کی ہے لیکن کچھ مختلف۔۔۔
رات کو محسن حجازی کے تانے بانے کی پوسٹس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ ایک تانا بانا یہ شروع کیا جائے کہ ہمارے یہاں کے ارکان کس طرح اردو کمپیوٹنگ کی دنیا میں داخل ہوئے، کیا محرکات تھے اور تاریخی اعتبار سے وہ کس طرح اس مقام پر پہنچے جہاں آج کھڑے ہیں۔
اپنی بات کروں تو مجھے دو سال قبل تک یونی کوڈ کا علم نہیں تھا۔ اگر چہ 1997 میں ہی صفحہ ساز کا شیر ویر ورژن اشہر فرحان بلکہ ان کے دوست راجیو (ارورا؟) سے حاصل کیا تھا لیکن کچھ تشفی نہیں ہوئی۔ اور میں نے 1999میں نسیم امجد کے نگار اور فارسی پارس نگار ڈاؤن لوڈ کئے تھے2000 یا 2001 میں پہلی بار ان پیج دیکھا بلکہ علی گڑھ میں ایک صاحب نے سی ڈی میں کاپی کروا کر دیا ( ان دنوں محض سی ڈی اور سی ڈی میں کاپی کرنے میں 75 روپئے کا خرچ ہوا)۔ اس ان پیج سے پہلے اپنی کتاب ’اللہ میاں کے مہمان‘ ٹائپ کرنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں کیا۔ ادھر 1999 سے ہی ہندی قرآن کی تفسیر‘ قرآن درپن‘ کا کام شروع کر رکھا تھا، اور اسے مختلف فونیٹک کی بورڈ اور آسکی فانٹس کی مدد سے ٹائپ کرنا شروع کیا۔ اور اس کی سافٹ کاپی کی تقسیم کا جب خیال آیا تب فانٹ کی لائسنسنگ کا اشو کا احساس ہوا، اور میں نے فونیٹک دیو ناگری فانٹس بنانے شروع کئے، اور جب نگار حاصل ہوا تو اردو کے فانٹس پر بھی ہاتھ صاف کرنے چاہے۔ پھر 2002 میں گھر میں جب کیبل انر نیٹ آیا تو پھر اردو کے لئے مواخذ تلاش کرنے شروع کئے تو خاصی مایوسی ہوئی۔ شہزادہ عاشق کے ویب صفحات کے علاوہ کچھ مواد نہیں ملا۔ آخر میں نے یاہو گروپ شروع کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس کے بعد کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔ (اردو کمپیوٹنگ کے بابا آدم کے خطاب کے حقدار قدیر کی بجائے نسیم امجد اور شہزادہ عاشق علی ہو سکتے ہیں، یا دوسرے ارکان بھی مشورہ دیں کہ یہ خطاب کس کو دیا جائے؟)
تو چلئے آپ لوگ بھی اپنی اردو کمپیوٹنگ کی تاریخ سب کے ساتھ شیئر کیجئے۔
 

محسن حجازی

محفلین
جناب بے حد دلچسپ موضوع چھیڑ دیا ہے آپ نے۔۔۔ چلیے میں اپنی داستان بیان کرتا ہوں۔۔۔
سن دو ہزار میں میں نے میٹرک کیا، اس وقت تک کمپوٹر سے کوئی تعلق نہ تھا۔۔۔۔ رحجان پروگرامنگ، الکٹرونکس اور میکینکس پر تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں میرٹ کا چکر بڑا برا لگتا ہے مجھے کہ جی اتنے نمبر لے کر آؤ یہ کرو وہ کرو۔۔۔ مجھ سے یہ کام تو ہوتا نہیں، کوئی 65 فیصد نمبر تھے نا چیز کے میٹرک میں۔ انہی دنوں پاکستان میں انٹر میڈیٹ ان کمپیوٹر سائنس کا آغاز ہوا میرٹ تو کم تھا ہی، یہ میدان تھا بھی میرا ہی، سو میں نے داخلہ لے لیا۔تقریبا پہلے ہی سال میں‌جاوا سکرپٹ سی، سی++، ایچ ٹی ایم ایل اپنے طور پر پڑھ چکا تھا جبکہ ان میں‌سے کچھ بھی نصاب میں شامل نہ تھا۔ سی البتہ دوسرے سال میں ضرور تھی لیکن اتنی چاٹ رکھی تھی کہ ماسٹرز کے طلبا بھی مجھ سے مشورہ کرنے آیا کرتے تھے اور ان کے امتحانی سوالات عموما میں‌ہی حل کیا کرتا تھا۔۔۔ خیر، یہ تو تھا کچھ پس منظر،
اردو کی طرف شروع ہی سے لگاؤ تھا، میں نے پہلے پہل اردو میں‌ویب پیج بنانے کا تجربہ جو کیا وہ امیجز پر تھا، اور یہ بھی پہلے سال یعنی 2000 کی بات ہے۔ میں اس انتہا پر تھا کہ ایک بار بایوس پر کچھ بات ہو رہی تھی، کہ میں‌نے اپنے استاد کی بات کاٹتےہوئے کہا کہ سر میں‌ بایوس بھی اردو میں‌کر دوں گا۔
سی سیکھنے کے بعد میں نے انگریزی سے اردو ترجمہ کے لیے سافٹویر پر سوچنا شروع کیا پر کچھ کوشش کے بعد خاصا جوکھم کا کام ثابت ہوا، یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ میں نے مشین ٹرانسلیشن کا نام بھی نہیں‌سنا تھا۔ بہرحال، اصل مسئلہ تب بنا جب بی بی سی نے اردو ویب سائٹ جاری کی، سچ کہوں تو بے چینی ساری ساری رات سونے نہیں دیتی تھی کہ یہاں ایسا کیوں نہ ہوسکا۔۔۔ خیر، اس وقت اس کی کھوج لگانا شروع کی تو یونی کوڈ کا سراغ ملا، اب کوئی ایڈیٹر نہ تھا کہ جس میں‌لکھا جاتا۔ میں اپنا تمام جیب خرچ اس کام پر خرچ کر دیتا تھا کوئی 17 سال عمر ہوگی اس وقت میری۔۔۔ ایڈیٹر بنانا میرے بس سے باہرتھا کم از کم اس وقت۔۔۔ پھر میں نے ایک اور جانب سوچنا شروع کیا وہ تھا ان پیج، پتا چلا اس کی اپنی ہی بولی ہے۔۔۔ خیر ، میں نے کھوج لگانا شروع کیا تو پتا چلا کہ کچھ conversion ممکن ہے۔ اب مجھے صرف سی آتی تھی، وہ بھی 16 بٹ کے ماحول میں، یعنی کے ڈوس میں، اب رولا یہ تھا کہ یونی کوڈ متن کیسے قابو کیا جائے، خیر میں نے کچھ سوچ بچار کے بعد اس کی انٹیجر ڈیٹا ٹائپ سے کام لیتے ہوئے ایک کمانڈ لائن پروگرام لکھا جو ان پیج سے یونی کوڈ میں تبدیل کرتا تھا۔ اس اوزار کی مدد سے میں نے اپنے والد صاحب کے لیے ایک مکمل اردو ویب سائٹ بنائی۔ دراصل یہ استعمال کرنے میں کچھ مشکل تھا کیوں کے اس کا کمانڈ لائن سائنٹیکس کچھ پیچیدہ تھا اس لیے عوام کے لیے ریلیز کرنے کی ہمت نہ ہوئی سوچا گرافیکل انٹرفیس دے کر پھر ریلیز کروں گا پر اتنے میں کچھ اور لوگ بھی کنورٹر بنا چکے تھے۔ خیر، اب یہ میری درازوں میں‌ دھرے کا دھرا ہے، میرے علاوہ اور کوئی نہیں استعمال کرتا اسے، ایک صاحب نے مانگا تھا بس انہیں بھیجا تھا اردو کمپیوٹنگ گروپ سے تعلق رکھتے تھے، نام مجھے یاد نہیں، غالبا عمر۔۔۔
اس کے بعد نفیس نستعلیق کی ریلیز دوسرا مسئلہ بن گئی میرے لیے کہ یہ کام میں‌کیوں نہیں کر سکا، اور اس میں اتنے نقص کیوں ہیں، ڈاکٹر سرمد وغیرہ کا بہت سر کھایا ای میل کر کر کے، پر جواب ندارد۔۔۔ اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا تھا کہ جی یہ تو بڑے لوگ ہیں، ہمیں حقیر فقیر سمجھ کر جواب دینے سے ہی گریزاں ہیں، خیر۔۔۔ سوچا کہ اس سلسلے میں تکینیکی سوجھ بوجھ تو حاصل کی جائے پھر دیکھیں گے کبھی تو موقع ملے گا ناں۔۔۔ جب کبھی کام کا ارادہ کیا، وقت اور وسائل کی کمی آڑے ائی۔۔۔ آگے کی داستان آپ کے سامنے ہے مرکز فضیلت والی۔۔۔ یہاں بھی میرا آنا ایک اتفاق کا نتیجہ ہے، نہ میں ان لوگوں سے واقف تھا نہ یہ مجھ سے۔۔ یہ دلچسپ داستان پھر کبھی کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ ویسے یہ ہے یہ نسیم امجد سے میری اس وقت سے رسم و راہ ہے اور وہ ہی میرا خیال ہے کہ بابائے اردو کمپیوٹنگ ہیں، ان سے پہلے صرف تجارتی کوششیں ہی نظر آتی ہیں، شہزاد عاشق کو بھی ایک دفعہ میل کی تھا اس زمانے میں پر جواب ندارد۔۔۔ لیکن شہزاد عاشق کی خدمات اس قدر نہیں ہیں جتنی کہ نسیم امجد کی ہیں، میں نے ان کے فونٹ الکاتب کو ان کی اجازت لےکر یونی کوڈ میں تبدیل کیا تھا اور اس میں‌ اوپن ٹائپ سپورٹ شامل کی تھی، یہ آج بھی میرے ذاتی استعمال میں‌ہے۔ بہر کیف، نسیم امجد نیٹ سول لاہور میں ہوتے ہیں، ان سے بھی کافی عرصے سے کوئی رابطہ نہیں ہے، کسی صاحب کے پاس ان کا ای میل ایڈریس ہے کیا؟
جناب اعجاز اختر کا بھی قریب قریب اس دور سے واقف ہوں، یہ اور بات کہ کبھی براہ راست مخاطب کرنےکی ہمت نہیں ہوئی، کچھ پلے ہو تو باتیں کرنا بھی اچھا لگتا ہے۔۔۔ بس اسی لیے کبھی نہیں مخاطب کیا کہ کہاں ان کا اتنا بڑا نام، کہاں یہ حقیر فقیر۔۔۔
بہرحال، یہ دھاگہ چل ہی پڑا ہے تو اگر کوئی اور دلچسپ بات یاد آئی تو ضرور ذکر کروں گا۔۔۔۔

والسلام،
محسن حجازی
 

زیک

مسافر
آپ دونوں کی پوسٹ پڑھ کر اچھا لگا۔

میں اپنے بارے میں تو پہلے لکھ چکا ہوں کہ اردو کمپیوٹنگ میں کیسے آیا۔
 
اردو کی محبت

اعجاز صاحب، بہت دلچسپ موضوع چھیڑا ہے۔

اردو سے دلچسپی تو اسکول کالج کے دنوں سے تھی۔ پھر یونیورسٹی میں ایک اردو سے متعلق ایکٹو ایکس کنٹرول بنایا تھا تاکہ ویب پیجوں پر بآسانی اردو لکھی جاسکے۔ جن کے علم میں نہ ہو ایکٹو ایکس ایک کمپونینٹ ہوتا ہے جو ویب پیج میں گھسایا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہم بھی سافٹ ویئر کا مطلب مائیکروسافٹ سمجھا کرتے تھے۔ ان پیج کسی قدر استعمال کیا یہ 2001، 2002 وغیرہ کا ذکر ہوگا۔

پچھلے سال جب کچھ فارغ وقت ملنا شروع ہوا تو اردو کی محبت نے جوش مارا اور سوچا کہ اردو ویب سائٹ بنائی جائے جو تحریری ہو۔ بی بی سی اردو سے اس سلسلے میں بہت مدد لی۔ اعجاز صاحب کا یاہو! گروہ بہت کام آیا۔ اردو یونی کوڈ میں لکھنا سیکھا۔ فونیٹک کی بورڈ کی ان پیج کے دنوں سے پریکٹس تھی۔

پھر کچھ تک بندیوں سے ویب سائٹ بھی کھڑی کر لی۔ اس تمام سفر میں اردو کی محبت ایک driving force تھی، باقی سب تفاصیل۔
 

اظہرالحق

محفلین
اعجاز صاحب ۔ ۔ ۔ نے بہت اچھا موضوع چھیڑا ہے ۔ ۔ ۔ چلیں ہم بھی اپنا تعارف کروا ہی دیتے ہیں ویسے بھی شاید اسکی ضرورت ہے یہاں پر :)

کمپیوٹر لفظ سے تعارف پہلا ہوا ابن صفی کے توسط سے ۔ ۔ ۔ غالباَ 1985-86 کی بات ہو گی ۔ ۔ پھر سائنس ڈائجسٹ نے بھی بہت کچھ بتایا ۔ ۔ ۔ اور سکس ملین ڈالر مین ، نائیٹ رائیڈر ، چپس ۔ ۔ ۔ جیسی سیریز میں بھی کافی کچھ مگر ۔ ۔ شاید کچھ دوستوں کو ۔ ۔ ۔ پاکستان ٹی وی کی سیریز “ٹک ٹک کمپنی “ یاد ہو ۔۔ ۔ وہ بھی کمپیوٹر کا ہی ایک تعارف تھا ۔ ۔ اور پھر “روبوٹ“ نام کی پی ٹی وی کی سیریل نے بھی بہت کچھ بتا دیا تھا ۔ ۔۔ ( میں یہ باتیں اسلئے بھی لکھ رہا ہوں کہ شاید ہم میں سے بہت سارے لوگ نئے ہیں ، اور ماضی کو اتنا نہیں جانتے )
1987-88 میں میڑک کرنے بعد ۔ ۔ ۔ کچھ چھٹیاں ملی تو کچھ کورسز کا پہلے ٹائیپنگ سیکھی پھر ریڈیو ٹیکنیشن کا کورس کیا ۔ ۔ اور جناب یہاں سے ہی پتہ چلا کہ کمپیوٹر کیا ہوتا ہے ۔ ۔ وہ ایسے کہ ورڈ پروسیسر (ہارڈ وئیر ورڈ پروسیسر غالبا آئی بی ایم کا تھا ) اس سے ملے اور پھر الیکٹرونک ٹائیپ رائیٹر سے ۔ ۔ ۔ اسی درمیان ایک دوست نے کہا کہ تم کیا ٹائپنگ میں وقت ضائع کر رہے کمپوٹر سیکھو ۔ ۔ ۔ والد صاحب سعودیہ میں تھے مشورہ لیا تو اجازت مل گئی (کیونکہ کورسز کافی مہنگے تھے اپنی جیب کے لحاظ سے ) سوچا کہ کالج اور کمپوٹر ساتھ ساتھ چلاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور 1988-89 میں باقاعدہ ڈپلومہ میں داخلہ لیا ۔ ۔
1989 میں پہلی جاب ملی وہ بھی لیب اسسٹنٹ کی ۔ ۔ ۔ سو دن کے 24 گھنٹوں میں سے 10 گھنٹے کمپیوٹر کو دینے لگے ۔ ۔ اور یوں ۔ ۔ وہ دن آج کا دن ۔ ۔ اسی کے پلو سے بندھے ہیں ۔ ۔ ۔ کمپیوٹر میں بہت اچھے استاد ملے رضوان شمسی (پیٹرومین کے پہلے گروپ میں تھے 1980 کے ) عمران صاحب ، شہاب صاحب ۔ ۔

مجھے یاد ہے ۔ ۔ کہ 6 مہنے تھیوری پڑھنے کے بعد جب کمپیوٹر پر بیٹھے تو کیا حال تھا ۔ ۔ ۔ خیر ۔ ۔ ڈوس کا ورژن 2 بیسک اور سب سے فاسٹ کمپیوٹر (جس کا ٹربو 2 میگ کا تھا )

پھر 1990 میں ہی پہلا پروفیشنل سافٹ وئیر بنا ڈالا فوکس پرو میں ۔ ۔ جس کے پیسے ملنے پر خوشی کی کیا بات تھی ۔ ۔ اور پھر تو سلسہ شروع ہو گیا ۔ ۔ ۔
اردو سے تو بچپن سے ہی لگاؤ تھا ۔ ۔ بچوں کے میگزین کے لئے لکھا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ نونہال ۔ ۔ اور اشیتاق احمد ۔ ۔ ۔

شاید کسی کو یاد ہو ایک سافٹ وئیر فونٹسی ۔ ۔ بیسک میں گرافک سیکھنے کے بعد پہلا کام ہی اردو میں فونٹسی بنانے کا کیا ۔ ۔ ۔ ۔

مگر مزہ نہیں آیا ۔ ۔ ۔ ایک دفعہ جب ٹیچر نے C پر پروجیکٹ کی بات کی تو ۔ ۔ کہا کہ اردو میں آپریٹنگ سسٹم بنانا ہے (OS ایک سبجیکٹ کے طور پر پڑھ چکے تھے ) انہوں نے ایک سپیشل کتاب دی جسکے الفاظ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے آتے ہیں Illegle sale for Pakistan, Iran ۔ ۔ ۔

پھر انہیں دنوں ۔ ۔ ۔ کوڈ بریکنگ پر کام کیا ۔ ۔ ۔ شاہکار ۔ ۔۔ پہلا شکار بنا ۔ ۔ ۔ (اسمبلی میں کام کا مزہ ہی الگ ہے ٕ قومی اسمبلی کی بات نہیں کر رہا )

اسی دوران 1991-92 میں اردو نیشنل سپورٹ کے سافٹ وئیر سے ملے اور پھر یہ سلسہ چلتا گیا ۔ ۔ بلدیہ کراچی کے لئے اردو لائبرئیری سسٹم ڈئزائین کیا (یہ سب کچھ ڈوس بیس تھا ) جس میں فوکس پرو کا فرنٹ اینڈ اور بیک میں بیسک سی اور اسمبلی کا مربہ تیار کیا ۔ ۔ ۔

اور پھر اسی زمانہ میں پاک نیٹ کی مہربانی سے ای میل یوز کیا اور ویب پیج ۔ ۔ سے ملے ۔ ۔ براؤزر سے بھی ملے ۔ ۔ ۔ ہمارے ایک اسٹوڈنٹ (میں نے 10 سال کمپیوٹر پڑھایا بھی ہے ) نے جو ہم سے پڑھنے کے بعد ولایت گیا تھا ۔ ۔ ہمیں تحفتاَ ایک ویب پیج ڈئزائنگ کی کتاب دی ۔ ۔ ۔ اور پھر ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا (یہ غالبا 1994 کی بات ہے ) اس درمیان میں اردو میں پروگرامنگ دیٹا بیس بنانے پر ایوارڈ ملا ۔ ۔ اور یہ بھی سننے کو ملا کہ اردو میں کیوں کام کر رہے ہو ۔ ۔ ۔ کمپیوٹر اور اردو کا ساتھ صرف ورڈ پروسسنگ تک کا ہے ۔ ۔ مگر ہار نہ مانی اور اردو ڈکشنری بورڈ تک گئے ۔ ۔ بہت لوگوں سے ملے مگر ۔ ۔ ۔ خیر وہ لمبی کہانی ہے پھرکبھی ۔ ۔ ۔

سو وہ وقت اور آج کا وقت ۔ ۔۔ اسی دنیائے حساب گراں میں ہیں ( یہ ایک کمپنی تھی جس کے بانی لوگوں میں سے تھے یعنی The Computerians World ۔ ۔ ۔ اور آج اسی ورلڈ کا حصہ ہیں ۔ ۔
 

الف عین

لائبریرین
اور لوگ کیوں خاموش بیٹھے ہیں؟ میں نے سوچا تھا کہ بہت سے احباب اپنی تاریخ دوسروں سے شئیر کریں گے۔ شارق اور اظہر آپ کا شکریہ۔
 
جواب

جناب میں خود کوئی پروگرامر تو نہیں لیکن اردو کا مداح ضرور ہوں اور اسی نے مجھے اردو کمپوزنگ کی طرف متوجہ کیا۔ ایم اردو کے دوران مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اردو زبان کو بطور نصاب پڑھنے والے یا ادب سے وابستہ لوگ اردو کمپیوٹر سے بالکل ناواقف ہیں۔اس حوالے سے کوشش کی اور اردو ادب سے وابستہ لوگوں کو اس طرف لانے کی کوشش کی۔ جس میں تھوڑی بہت کامیابی ضرور حاصل ہوئی۔ یونی کوڈ کے لفظ سے تو ہم بہت پہلے سے آگاہ تھے لیکن ونڈوز ایکس پی کے آنے کے بعد امید ہو چلی کہ شاید یہی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو اردو ویب میں ایک انقلابی کردار ادا کرسکتا ہے۔ اور آج جب میں اردو کمپیوٹک پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اردو کا مستقبل شاندار نظر آتا ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
وہاب، ابھی بھی پاکستان اور انڈیا کے کمپیوٹر صارفین کی اکثریت windows 98 کا استعمال کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی سوفٹویر لکھتے ہوئے ونڈوز 98 کے یوزرز کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ہم نے بھی ونڈوز 98 کو نظر انداز نہیں کیا ہوا۔ اردو ایڈیٹر لائٹ خاص طور پر ونڈوز 98 کے یوزرز کو ذہن میں رکھ کر لکھا گیا ہے۔

اعجاز اختر صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے میں بھی اپنے اردو کی ترویج کے سفر کے بارے میں کچھ بیان کر رہا ہوں۔ میں ہمیشہ نہایت حسرت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی رفتار اور اس میں اردو کو معدوم دیکھتا آیا ہوں۔ بد قسمتی سے اردو اپنے مخصوص رسم الخط کی بنا پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ اوپر سے اردو بولنے والوں کو چاہیے بھی نستعلیق، یعنی کہ کھیلنے کو مانگے ہیں چاند۔۔۔ دنیا کا ہر سوفٹویر بنگالی اور تامل میں مل جائے گا لیکن اردو کو کوئی نہیں جانتا۔

اردو کے ساتھ یہ مسئلہ بھی رہا ہے کہ اسے وہ اوپن سورس جذبہ میسر نہیں آیا جو کہ باقی دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کاسبب بنا ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں جو کوئی چھوٹی سی utility بھی لکھتا ہے اسے تجارتی بنیادوں پر مارکیٹ کرنے کا سوچتا ہے۔ ابھی تک اردو کی ویب سائٹس کی بڑی تعداد امیجز پر مبنی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آپریٹنگ سسٹمز میں اردو کی سپورٹ کا نہ ہونا یا ناکافی سپورٹ ہونا ہے۔ جن آپریٹنگ سسٹمز، جیسے کہ windows xp وغیرہ میں یونیکوڈ سپورٹ موجود ہے وہاں بھی عام یوزرز کے لیےاردو لینگویج اور فونٹ انسٹال کرنے کی رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔

میں نے اگرچہ الیکٹریکل انجنیرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے لیکن میں اپنے شوق سے سوفٹویر ڈیویلپمنٹ کی جانب آگیا۔ میری بطور سوفٹویر ڈیویلوپر پہلی جاب لاہور کے ایک سوفٹویر ہاؤس سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ میں تھی جہاں مجھے ان کے اردو ویب میل پراجیکٹ‌ پر کام کرنے کا موقعہ ملا۔ میں اپنی اس پوسٹ میں اس کے بارے میں لکھ چکا ہوں۔ اسکے بعد میں مزید تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں جرمنی آنا ہوا۔

میرے خیال میں دو واقعات ایسے ہیں جنہوں نے اردو کمپیوٹنگ کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان میں ایک بی بی سی کی اردو ویب سائٹ کا اجرا ہے اور دوسرا نفیس نستعلیق فونٹ کی ڈیویلپمنٹ۔ اس کے بعد میرا خیال تھا کہ اردو کمپیوٹنگ کی دنیا میں انقلاب برپا ہوجائے گا اور یونیکوڈ اردو پر مبنی ویب سائٹس کی بھرمار ہو جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ میرے لیے خاصی حیرانی کی بات تھی۔ جس زمانے میں کمپیوٹر پر اردو کی سپورٹ کا نام و نشان تک نہیں تھا اس وقت بھی میں نے دیکھا تھا کہ کمپیوٹر سائنس کے انتہائی ٹیلنٹڈ طلبا نے اپنے ہی بٹ میپ فونٹس بنا کر اردو ایڈیٹر لکھے تھے۔۔ اور اب جبکہ آپریٹنگ سسٹم میں یونیکوڈ اردو کی سپورٹ موجود ہے تو نہ جانے کیوں اردو بے توجہی کا شکار ہے۔

میرا اردو کی ترویج کا سفر اصل میں اردو بلاگنگ کے توسط سے شروع ہوا۔ میں نے آصف اقبال کے بلاگ پر زکریا کی تجویز کے متعلق پڑھا جس میں اردو بلاگنگ کو آسان بنانے کے لیے ہدایات اکٹھا کرنے کے متعلق کہا گیا تھا۔ میں نے آصف کو اس سلسلے میں ایک وکی پیڈیا سیٹ اپ کرنے کی تجویز پیش کی جسے وہ اگلے دن ہی روبہ عمل لے آئے۔ یوں ہمارا اردو کی ترویج کا سفر شروع ہوا، میں نے اس سلسلے میں چند اوپن سورس پروگرام لکھے۔ ایک اردو کمیونٹی ویب سائٹ سیٹ اپ کرنا بھی میری پرانی خواہش تھی۔ قدیر احمد رانا نے phpbb کا ترجمہ کرکے اس سمت بھی راہ ہموارکی۔ جب زکریا نے اردو کی ترویج سے متعلق تمام کاوشوں کو اکٹھا کرنے کے لیے الگ ڈومین اردو ویب رجسٹر کروائی تو میں نے سب سے پہلے اس پر اردو محفل فورم سیٹ اپ کی۔

شروع میں فورم کی رفتار کچھ ذرا سست تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوست شامل سفر ہوتے گئے اور محفل کی رونق بڑھتی گئی۔ ابھی بھی اردو کی ترویج کے سلسلے میں بہت طویل سفر باقی ہے اور کئی منازل طے کرنا ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہم ایسا پلیٹ فارم مہیا کر دیں جہاں اردو سے محبت کرنے والے اردو کو اس کا مقام دلانے کے لیے ایک مشترکہ کاوش کریں۔

والسلام
 

جیسبادی

محفلین
ب‌ب‌س

اکثر لوگوں نے ب‌ب‌س کی ویب سائٹ کا ذکر کیا ہے۔ میری نظر میں تو اس کی کوئی خاص وقعت نہیں۔ ٹیبلائڈ کی طرح دو چار خبریں لے کر اچھالتے رہتے ہیں۔ جرمنی کی اردو سروس کا بھی یہی حال ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گوگل جیسے شیطانی چیلے اس کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ مواد کے لحاظ سے جنگ کی سائٹ کہیں زیادہ اہم ہے۔ ابھی تک جنگ نے ڈیزائن پر توجہ نہیں دی۔ فی الحال ان کا مقصد آرکائیو بنانا ہے۔ جتنا بڑا زخیرہ ہو گا، اتنی وقعت ہو گی۔ جنگ کا مقصد یہی ہے کہ لوگ ان کی اشتہاری سائٹ ہی استعمال کریں۔ jang.com.pk
 

الف نظامی

لائبریرین
ب‌ب‌س

جیسبادی نے کہا:
اکثر لوگوں نے ب‌ب‌س کی ویب سائٹ کا ذکر کیا ہے۔ میری نظر میں تو اس کی کوئی خاص وقعت نہیں۔ ٹیبلائڈ کی طرح دو چار خبریں لے کر اچھالتے رہتے ہیں۔ جرمنی کی اردو سروس کا بھی یہی حال ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گوگل جیسے شیطانی چیلے اس کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ مواد کے لحاظ سے جنگ کی سائٹ کہیں زیادہ اہم ہے۔ ابھی تک جنگ نے ڈیزائن پر توجہ نہیں دی۔ فی الحال ان کا مقصد آرکائیو بنانا ہے۔ جتنا بڑا زخیرہ ہو گا، اتنی وقعت ہو گی۔ جنگ کا مقصد یہی ہے کہ لوگ ان کی اشتہاری سائٹ ہی استعمال کریں۔ jang.com.pk
گوگل میں اردو میں‌سرچ کرو تو فارسی بھی ساتھ چلی آتی ہے۔
ہے کوئی اس مسلہ کا حل۔
 

سیفی

محفلین
اب جب کہ اردو کمپیوٹنگ کے کارپرداز اپنے سفر کا احوال قلم بند کرچکے ہیں تو چلو ہم بھی کچھ سنا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔

کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہونے کے کوئی ایک سال بعد انپیج سے آشنائی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔اپنے خطاطی کے استاد کو جب ایک ہم مکتب نے بتایا کہ کمپیوٹر بھی اب اردو لکھ سکتا ہے تو جتنا انھی شاک لگا اس سے زیادہ ہمیں حیرت ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر انپیج کو ہی ہم اردو کا کل سرمایہ سمجھتے ہوئے حیاتِ مستعار ختم کردیتے کہ ایک دوست نے ایک دن انکشاف کیا کہ ونڈوز ایکس پی میں اردو کا لکھنا ممکن ہے۔۔۔۔کیسے؟؟ یہ اس کو بھی پتا نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر اس نے madni.net کا لنک دیا۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اس کے بعد کا سفر آسان تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعجاز صاحب کے گروہ سے تعارف کے بعد اردو یونیکوڈ کی طرف سفر زیادہ آسان تر تھا۔۔۔۔۔۔۔بلا شبہ اس گروہ سے مجھے بہت زیادہ مدد ملی۔۔۔۔۔

ایک دن اعجاز صاحب کے گروہ پر نبیل صاحب کا پیغام ملا کہ انھوں نے ایک اردو ایڈیٹر بنا لیا ہے۔۔۔۔۔فورا اس ایڈیٹر کو اتارا۔۔۔۔پھر اس کے بعد فورم سے آشنائی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔اور اب آپ کے سامنے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

ابھی ارادے تو یہ ہیں‌کہ اردو میں موجود تمام اسلامی مواد کو اسطرح لکھا جائے کہ لفظی اور موضوعاتی تلاش ممکن ہو۔۔۔۔تمام مواد کو ڈھالنا تو بہت دیر طلب ہے لیکن ہم اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے انشاء اللہ۔۔۔۔۔
 

جیسبادی

محفلین
ب‌ب‌س

راجہ فار حریت نے کہا:
گوگل میں اردو میں‌سرچ کرو تو فارسی بھی ساتھ چلی آتی ہے۔
ہے کوئی اس مسلہ کا حل۔

گوگل کے "اعلٰی ترجیحات" میں صرف عربی کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ یعنی گوگل عربی، فارسی، اردو، سندھی وغیرہ کو عربی ہی تصور کرتا ہے۔ اس لیے فرق کرنا ممکن نہیں۔ اردو ویب صفحات بنانے والے بھی اکثر متن کی زبان بھی اردو نہیں بتاتے
<meta http-equiv="Content-Language" content="ur">
 

الف عین

لائبریرین
شکریہ صابر اس پرانے تانے بانے کو سامنے لانے کا۔۔ ادھع تو اور بھی گنگا/ٹیمس/چناب میں پانی بہہ چکا ہے۔
 

طمیم

محفلین
اردو کمپوزنگ کے لئے استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کی فہرست
اگر کوئی ان کے بارہ میں مزید تفصیل یا ان کی تاریخ بیان کرے تو معلومات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور تاریخ میں ریکارڈ بھی محفوظ ہوسکتا ہے۔ کہ کس نے کونسا سافٹ ویئر کب تیار کیا اور اس وقت کے لحاظ سے اس کا کیا معیار تھا۔
کاتب
صدف
نگار
سرخاب
گلوبل
راقم
شاہکار
ہمالہ
ناشر
صفحہ ساز
انپیج
اس وقت انپیج ہی اردو کمپوزنگ و پرنٹنگ کے لئے ہی استعمال ہورہا ۔
البتہ بعض افراد مائیکروسافٹ ورڈ اور ایڈوب انڈیزائن بھی اردو کمپوزنگ و پرنٹنگ کے لئے استعمال کررہے ہیں۔
 
Top