اردو محفل کا مشاعرہ برائے ۲۰۱۲ء ( تبصرہ جات کی لڑی)

رات دن دشت میں صحرا میں پھرے ہیں لیکن
در یاراں پہ حجاز اپنی سواری نہ گئی

بہت عمدہ اور اعلی جناب حجاز صاحب. میری طرف سے بہت داد حاضر ہے .
 

محمداحمد

لائبریرین
غزل​
(مزمل شیخ بسمل)​
جو کل تھی آج ہم میں وہ سیرت نہیں رہی​
وہ دبدبہ وہ ہوش وہ شوکت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ جرات نہیں رہی​
وہ حوصلہ وہ جوش وہ ہمت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ حشمت نہیں رہی​
وہ مال وہ منال وہ عزت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ دولت نہیں رہی​
وہ عقل وہ حواس وہ نیت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ غیرت نہیں رہی​
وہ سوچ و فکراور وہ عادت نہیں رہی​
جو کل تھی آج میری وہ طاعت نہیں رہی​
وہ پیروی وہ نقل وہ حرکت نہیں رہی​
جو کل تھی آج مجھ میں وہ میں وہ جرات نہیں رہی​
وہ شوق و ولولے وہ طبیعت نہیں رہی​
جو کل تھی آج دل میں وہ الفت نہیں رہی​
وہ میل جول اور وہ ملت نہیں رہی​
جو کل تھی آج مجھ میں وہ زینت نہیں رہی​
وہ روپ وہ شباب وہ رنگت نہیں رہی​
جو کل تھی آج اپنی وہ صورت نہیں رہی​
وہ ملک و نظام اور وہ حکومت نہیں رہی​
جاناں کے رخ پہ جب سے صباحت نہیں رہی​
دل تو وہی ہے اپنی وہ چاہت نہیں رہی​
خالی پڑا ہے جرات و جدت نہیں رہی​
خوش ہوں کہ دل میں اب کوئی حسرت نہیں رہی​
سمجھا ہے تو کہ رنج و مصیبت نہیں رہی​
بسمل ترے نصیب کی راحت نہیں رہی​

محترم بسمل صاحب،

کل آپ کے کلام پر تبصرے کی کوشش کی تھی، لیکن وائے حسرت کہ بجلی ہمارے تبصرے پر ایسی گری کہ اب تک ذہن میں یہی مصرعہ گونج رہا ہے۔

گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا تبصرہ کیوں ہو
:)

تفنن برطرف، آپ کا کلا م بہت خوب لگا۔ غزل میں آپ نے جو کل اور آج کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے وہ بہت خوب ہے اور وہ بھی ہماری پسندیدہ صنف "غزل" میں ۔ کیا بات ہے جناب۔ اس غزل میں اقدار کی پامالی کا جو دکھ ہے وہ ہم سب کا مشترکہ ہے اور اس پر دل سے جو واہ نکلتی ہے تو اُس میں بھی ایک آہ مضمر ہوتی ہے۔ بہرکیف خوش رہیے۔

بتوں بسمل سے کہتے ہو مسلماں ہم نہیں ہونگے
سرِ محشر تم ہی ہوگے پشیماں ہم نہیں ہونگے
جلا دیگا جہاں کو حسنِ عریاں ہم نہیں ہونگے
دھواں بن جائینگی زلفِ پریشاں ہم نہیں ہونگے
بنیں گے کل یہاں انسان حیواں ہم نہیں ہونگے​
رقیبِ آدمیت ہونگے انساں ہم نہیں ہونگے​
رہیں گے حسن و الفت پا جولاں ہم نہیں ہونگے​
دلِ ناشاد ہونگے سنگِ طفلاں ہم نہیں ہونگے​
تکے گی ماجرا پھر چشمِ حیراں ہم نہیں ہونگے
یہی منظر رہیں گے اب نمایاں ہم نہیں ہونگے
جہاں ہوجائیگا سب کافرستاں ہم نہیں ہونگے​
بنینگے دل اسیرِ زلفِ پیچاں ہم نہیں ہونگے​
صنم خانے بنینگے سب دبستاں ہم نہیں ہونگے
مدرّس صرفِ محوِ دیدِ جاناں ہم نہیں ہونگے
اب عالم علم پر خود ہونگے نازاں ہم نہیں ہونگے
بیاں ہونگے خلافِ حکمِ یزداں ہم نہیں ہونگے
دلِ واعظ بنینگے بحرِ عصیاں ہم نہیں ہونگے​
خیالِ خود غرض اب ہوں گے طوفاں ہم نہیں ہونگے​
کہیں گے چور اب خود کو نگہباں ہم نہیں ہونگے
ہوا کھوئینگے اپنی جب سلیماں ہم نہیں ہونگے
رہوگے ہم سے تم کب تک گریزاں ہم نہیں ہونگے
حسینوں در بدر تم ہوگے ارزاں ہم نہیں ہونگے
رہے گر کفر سے مل کر مسلماں ہم نہیں ہونگے​
کسی تدبیر سے بھی پاک داماں ہم نہیں ہونگے​
اگر تائب غریقِ بحرِ عصیاں ہم نہیں ہونگے
حبیبِ کبریا کے زیرِ داماں ہم نہیں ہونگے
کہیں گے خود کو ہم مسلم مسلماں ہم نہیں ہونگے
بمع اب اعتمادِ اہلِ برہاں ہم نہیں ہونگے

بہت خوب، یہ غزل بھی لاجواب ہے بھائی۔ دل خوش ہوا آپ کا کلام پڑھ کر۔ خاکسار کی جانب سے نذرانہ ء تحسین پیشِ خدمت ہے۔

قبول کیجے۔ :)
 
مزمل صاحب آپ کا بہت شکریہ۔
اور آپ کی داد مجھ پر ادھار ہے کہ کچھ معاملات کی وجہ سے پہلے نہیں دے پایا سو اب دے دیتا ہوں۔۔۔
بہت خوب غزل ہے۔۔۔۔ واہ بھئی سواد آگیا پڑھ کر،،، اعلیٰ۔
مجھ عاجز کی جانب سے داد قبول فرمائیں۔۔
 
غزل​
(مزمل شیخ بسمل)​
جو کل تھی آج ہم میں وہ سیرت نہیں رہی​
وہ دبدبہ وہ ہوش وہ شوکت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ جرات نہیں رہی​
وہ حوصلہ وہ جوش وہ ہمت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ حشمت نہیں رہی​
وہ مال وہ منال وہ عزت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ دولت نہیں رہی​
وہ عقل وہ حواس وہ نیت نہیں رہی​
جو کل تھی آج ہم میں وہ غیرت نہیں رہی​
وہ سوچ و فکراور وہ عادت نہیں رہی​
جو کل تھی آج میری وہ طاعت نہیں رہی​
وہ پیروی وہ نقل وہ حرکت نہیں رہی​
جو کل تھی آج مجھ میں وہ میں وہ جرات نہیں رہی​
وہ شوق و ولولے وہ طبیعت نہیں رہی​
جو کل تھی آج دل میں وہ الفت نہیں رہی​
وہ میل جول اور وہ ملت نہیں رہی​
جو کل تھی آج مجھ میں وہ زینت نہیں رہی​
وہ روپ وہ شباب وہ رنگت نہیں رہی​
جو کل تھی آج اپنی وہ صورت نہیں رہی​
وہ ملک و نظام اور وہ حکومت نہیں رہی​
جاناں کے رخ پہ جب سے صباحت نہیں رہی​
دل تو وہی ہے اپنی وہ چاہت نہیں رہی​
خالی پڑا ہے جرات و جدت نہیں رہی​
خوش ہوں کہ دل میں اب کوئی حسرت نہیں رہی​
سمجھا ہے تو کہ رنج و مصیبت نہیں رہی​
بسمل ترے نصیب کی راحت نہیں رہی​

محترم بسمل صاحب،

کل آپ کے کلام پر تبصرے کی کوشش کی تھی، لیکن وائے حسرت کہ بجلی ہمارے تبصرے پر ایسی گری کہ اب تک ذہن میں یہی مصرعہ گونج رہا ہے۔

گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا تبصرہ کیوں ہو
:)

تفنن برطرف، آپ کا کلا م بہت خوب لگا۔ غزل میں آپ نے جو کل اور آج کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے وہ بہت خوب ہے اور وہ بھی ہماری پسندیدہ صنف "غزل" میں ۔ کیا بات ہے جناب۔ اس غزل میں اقدار کی پامالی کا جو دکھ ہے وہ ہم سب کا مشترکہ ہے اور اس پر دل سے جو واہ نکلتی ہے تو اُس میں بھی ایک آہ مضمر ہوتی ہے۔ بہرکیف خوش رہیے۔

بتوں بسمل سے کہتے ہو مسلماں ہم نہیں ہونگے
سرِ محشر تم ہی ہوگے پشیماں ہم نہیں ہونگے
جلا دیگا جہاں کو حسنِ عریاں ہم نہیں ہونگے
دھواں بن جائینگی زلفِ پریشاں ہم نہیں ہونگے
بنیں گے کل یہاں انسان حیواں ہم نہیں ہونگے​
رقیبِ آدمیت ہونگے انساں ہم نہیں ہونگے​
رہیں گے حسن و الفت پا جولاں ہم نہیں ہونگے​
دلِ ناشاد ہونگے سنگِ طفلاں ہم نہیں ہونگے​
تکے گی ماجرا پھر چشمِ حیراں ہم نہیں ہونگے
یہی منظر رہیں گے اب نمایاں ہم نہیں ہونگے
جہاں ہوجائیگا سب کافرستاں ہم نہیں ہونگے​
بنینگے دل اسیرِ زلفِ پیچاں ہم نہیں ہونگے​
صنم خانے بنینگے سب دبستاں ہم نہیں ہونگے
مدرّس صرفِ محوِ دیدِ جاناں ہم نہیں ہونگے
اب عالم علم پر خود ہونگے نازاں ہم نہیں ہونگے
بیاں ہونگے خلافِ حکمِ یزداں ہم نہیں ہونگے
دلِ واعظ بنینگے بحرِ عصیاں ہم نہیں ہونگے​
خیالِ خود غرض اب ہوں گے طوفاں ہم نہیں ہونگے​
کہیں گے چور اب خود کو نگہباں ہم نہیں ہونگے
ہوا کھوئینگے اپنی جب سلیماں ہم نہیں ہونگے
رہوگے ہم سے تم کب تک گریزاں ہم نہیں ہونگے
حسینوں در بدر تم ہوگے ارزاں ہم نہیں ہونگے
رہے گر کفر سے مل کر مسلماں ہم نہیں ہونگے​
کسی تدبیر سے بھی پاک داماں ہم نہیں ہونگے​
اگر تائب غریقِ بحرِ عصیاں ہم نہیں ہونگے
حبیبِ کبریا کے زیرِ داماں ہم نہیں ہونگے
کہیں گے خود کو ہم مسلم مسلماں ہم نہیں ہونگے
بمع اب اعتمادِ اہلِ برہاں ہم نہیں ہونگے

بہت خوب، یہ غزل بھی لاجواب ہے بھائی۔ دل خوش ہوا آپ کا کلام پڑھ کر۔ خاکسار کی جانب سے نذرانہ ء تحسین پیشِ خدمت ہے۔

قبول کیجے۔ :)


شکریہ جناب
حضرت بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی اک مضمون کسی محفل پہ حاوی ہو تو دوسرے کو اپنی جگہ بنانے میں اچھا خاصہ وقت درکار ہوتا ہے۔ مجھے دو حضرات نے ذاتی پیغام میں بھی یہی بات کہی جو آپ نے کہا لیکن مجھے چنداں افسوس نہیں کیونکہ اب نہیں تو پھر سہی :)
 
شکریہ جناب
حضرت بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی اک مضمون کسی محفل پہ حاوی ہو تو دوسرے کو اپنی جگہ بنانے میں اچھا خاصہ وقت درکار ہوتا ہے۔ مجھے دو حضرات نے ذاتی پیغام میں بھی یہی بات کہی جو آپ نے کہا لیکن مجھے چنداں افسوس نہیں کیونکہ اب نہیں تو پھر سہی :)
ہمیں کچھ سمجھ نہ آیا! :confused:
 
مزمل صاحب آپ کا بہت شکریہ۔
اور آپ کی داد مجھ پر ادھار ہے کہ کچھ معاملات کی وجہ سے پہلے نہیں دے پایا سو اب دے دیتا ہوں۔۔۔
بہت خوب غزل ہے۔۔۔ ۔ واہ بھئی سواد آگیا پڑھ کر،،، اعلیٰ۔
مجھ عاجز کی جانب سے داد قبول فرمائیں۔۔

بہت شکریہ۔ خوش رہیں بھائی :)
 

محمداحمد

لائبریرین
ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے
ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک
ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے
میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں
بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے
ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری!
گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے
بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں
وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے
ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
ابھی آئے نہیں سیلاب میرے
سمندر میں ہوا طوفان برپا
سفینے آئے زیرِ آب میرے
تُو اب کے بھی نہیں‌ ڈوبا شناور
بہت حیران ہیں‌ احباب میرے
ایک اور غزل پیش خدمت ہے
لوگ پابندِ سلاسل ہیں مگر خاموش ہیں
بے حسی چھائی ہے ایسی گھر کے گھر خاموش ہیں
دیکھتے ہیں ایک دوجے کو تماشے کی طرح
ان پہ کرتی ہی نہیں آہیں اثر‘ خاموش ہیں
اپنے ہی گھر میں نہیں ملتی اماں تو کیا کریں
پھر رہے ہیں مدتوں سے دربدر‘ خاموش ہیں
ہم حریفِ جاں کو اس سے بڑھ کے دے دیتے جواب
کوئی تو حکمت ہے اس میں ہم اگر خاموش ہیں
ٹوٹنے سے بچ بھی سکتے تھے یہاں سب آئنے
جانے کیوں اس شہر کے آئینہ گر خاموش ہیں
پیش خیمہ ہے شناور یہ کسی طوفان کا
سب پرندے اڑ گئے ہیں اور شجر خاموش ہیں
ایک نظم کے ساتھ اجازت چاہوں گا
خلا میں‌ غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں‌ خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے

بھائی عمران شناور۔۔۔۔۔! سب سے پہلے تو آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے دلنشین کلام سے اس مشاعرے کو رونق بخشی۔

رہا آپ کا پیش کردہ کلام تو بے ساختہ دل سے واہ واہ واہ نکلتی ہے ۔ بہت خوبصورت غزلیں پیش کی ہیں آپ نے دونوں ہی۔ دونوں غزلوں سے خاکسار نے انتخاب کرنے کی کوشش کی لیکن ایک ایک شعر ایسا لاجواب ہے کہ دونوں غزلیں ہی ہماری انتخاب کردہ نیلےرنگ میں رنگ گئیں۔ آپ کی نظم بھی بہت خوب ہے اور اس نظم کا انجام اس سے بھی زیادہ لاجواب ہے۔

خاکسار کی جانب سے بہت ساری داد حاضرِ خدمت ہے۔
:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:
:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:
:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:
:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:


خوش رہیے۔ :redrose:
 

ندیم حفی

محفلین
بہت خوب ندیم حفی صاحب،

خوب کلام پیش کیا ہے جناب نے۔ اور خاص طور پر آپ کا گیت بہت خوب ہے۔

خاکسار کی جانب سے بہت سی داد پیشِ خدمت ہے۔

خوش رہیے۔
جناب بہت ممنون ہوں کہ آپ نے اچھےالفاظ میں یاد رکھا ۔ آپ کی والہانہ داد کا بہت شکریہ
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
کمنٹ کرنے کے لئے احمد بھائی کے طریقے پہ ہاتھ صاف کیا ہے۔ سو معذرت احمد بھائی

ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے
ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک
ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے
میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں
بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے
ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری!
گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے
بہت خوب اشعار جناب۔
بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں
وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے
ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
ابھی آئے نہیں سیلاب میرے
سمندر میں ہوا طوفان برپا
سفینے آئے زیرِ آب میرے
بہت زبردست جناب۔
تُو اب کے بھی نہیں‌ ڈوبا شناور
بہت حیران ہیں‌ احباب میرے
کیا مقطع ہے جناب۔ سچ پوچھیے دل کو چھو گیا ہے یہ۔
ایک اور غزل پیش خدمت ہے
لوگ پابندِ سلاسل ہیں مگر خاموش ہیں
بے حسی چھائی ہے ایسی گھر کے گھر خاموش ہیں
دیکھتے ہیں ایک دوجے کو تماشے کی طرح
ان پہ کرتی ہی نہیں آہیں اثر‘ خاموش ہیں
اپنے ہی گھر میں نہیں ملتی اماں تو کیا کریں
پھر رہے ہیں مدتوں سے دربدر‘ خاموش ہیں
ہم حریفِ جاں کو اس سے بڑھ کے دے دیتے جواب
کوئی تو حکمت ہے اس میں ہم اگر خاموش ہیں
ٹوٹنے سے بچ بھی سکتے تھے یہاں سب آئنے
جانے کیوں اس شہر کے آئینہ گر خاموش ہیں
پیش خیمہ ہے شناور یہ کسی طوفان کا
سب پرندے اڑ گئے ہیں اور شجر خاموش ہیں
بہت ہی پیاری غزل ہے۔
ایک نظم کے ساتھ اجازت چاہوں گا
خلا میں‌ غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں‌ خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے
شناور ڈوب جاتا ہے
ماشاءاللہ! سبحان اللہ!
کیا بات ہے!
داد حاضر ہے!
قبول فرمائیں!
 

متلاشی

محفلین
اب تک جتنے شعراء کا کلام پڑھا سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے ۔۔۔۔ دادو تحسین کے لئے میرا ذخیرہ الفاظ کم ہو گیا ہے ۔۔۔۔ میرا خیال ہے لغت دیکھنی پڑے گی۔۔۔۔!
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہ
لاجواب
اک عرصے بعد من چاہا کلام پڑھنے کو ملا ۔
کیا خوب نظم کہہی ہے ۔ محترم عمران شناور صاحب نے
کمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلا میں‌ غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں‌ خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کیا کہتے ہیں کہ " مار ہی ڈالا صاحب "
بلا شبہ ڈوب جاتے ہیں ہم بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

محمد وارث

لائبریرین
سب سے پہلے دعوت دینے کا شکریہ۔ دوسری بات کہ مجھے بلانے کے لیے جو اشعار لکھے گئے ہیں وہ سرور ارمان صاحب کے ہیں جو میں نے پسندیدہ کلام میں ان کے نام کے ساتھ پوسٹ کیے تھے۔ خیر صاحبِ صدر کی اجازت سے
ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے
ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے
ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک
ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے
میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں
بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے
ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری!
گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے
بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں
وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے
ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے
ابھی آئے نہیں سیلاب میرے
سمندر میں ہوا طوفان برپا
سفینے آئے زیرِ آب میرے
تُو اب کے بھی نہیں‌ ڈوبا شناور
بہت حیران ہیں‌ احباب میرے
ایک اور غزل پیش خدمت ہے
لوگ پابندِ سلاسل ہیں مگر خاموش ہیں
بے حسی چھائی ہے ایسی گھر کے گھر خاموش ہیں
دیکھتے ہیں ایک دوجے کو تماشے کی طرح
ان پہ کرتی ہی نہیں آہیں اثر‘ خاموش ہیں
اپنے ہی گھر میں نہیں ملتی اماں تو کیا کریں
پھر رہے ہیں مدتوں سے دربدر‘ خاموش ہیں
ہم حریفِ جاں کو اس سے بڑھ کے دے دیتے جواب
کوئی تو حکمت ہے اس میں ہم اگر خاموش ہیں
ٹوٹنے سے بچ بھی سکتے تھے یہاں سب آئنے
جانے کیوں اس شہر کے آئینہ گر خاموش ہیں
پیش خیمہ ہے شناور یہ کسی طوفان کا
سب پرندے اڑ گئے ہیں اور شجر خاموش ہیں
ایک نظم کے ساتھ اجازت چاہوں گا
خلا میں‌ غور سے دیکھوں
تو اک تصویر بنتی ہے
اور اس تصویر کا چہرہ
ترے چہرے سے ملتا ہے
وہی آنکھیں‘ وہی رنگت
وہی ہیں‌ خال و خد سارے
مری آنکھوں سے دیکھو تو
تجھے اس عکس کے چہرے پہ
اک تل بھی دکھائی دے
جو بالکل تیرے چہرے پہ
سجے اُس تل کے جیسا ہے
جو گہرا ہے
بہت گہرا
سمندر سے بھی گہرا ہے
کہ اس گہرائی میں اکثر
شناور ڈوب جاتا ہے

کیا کہنے جناب عمران شناور صاحب، واہ واہ واہ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
جنابِ صدر اور معزز سامعین : السلام علیکم

سب سے پہلے میں آپ کو شکرگزار ہوں کہ آپنے مجھے مدعو کیا۔ اپنے کلام کا آغاز میں ایک نظم سے کرتا ہوں۔ عنوان ہے "اُف یہ یادیں"۔ عرض کیا ہے

میں کتبہ ہوں گزری ہوئی ساعتوں کا
جسے میں نے گاڑا ہے ہر راستے پر
میں نوحہ ہوں بھولی ہوئی صحبتوں کا
جو لیتا ہو سانس آج بھی میرے اندر

میں جو بات کرتا ہوں اُس میں وہ بولے
میں جو لفظ لکھتا ہوں اس میں وہ چیخے

مری زندگی میں بڑے موڑ آئے
عجب سرگرانی میں چلتا رہا ہوں
بہر گام رستہ بدلتا رہا ہوں
بدلتا رہا ہوں میں گو اپنا رستہ
مگر جب کبھی میں نے دیکھا پلٹ کر
تو آتا ہے مجھ کو نظر سیدھا رستہ

وہ ماضی تھا یہ حال ہے‘ مانتا ہوں
مگر خود کو کیسے یہ بتلا سکوں گا
میں یادوں سے بچ کر کہاں جا سکوں گا

اور اب میں ایک غزل کے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔ عرض کیا ہے

غم ہستی کے عنواں بانٹ دوں گا
یہ اوراقِ پریشاں بانٹ دوں گا

مرے نزدیک خوشیاں ہیں امانت
الٹ دوں گا میں داماں بانٹ دوں گا

تھما دوں گا دئے سب کو چمن میں
نئے موسم کے ارماں بانٹ دوں گا

مری مشکل بڑھاتی جائے دنیا
میں اس کو کر کے آساں بانٹ دوں گا

کسی منظر کو دھندلانے نہ دوں گا
میں اپنا سب چراغاں بانٹ دوں گا

صبا کی ایک تھپکی مل گئی تو
بہارِ نو کے عنواں بانٹ دوں گا

بکھر جاوں گا میں چہرہ بہ چہرہ
جو مجھ میں ہے وہ انساں بانٹ دوں گا

خزاں کو گھیر لوں گا ہر طرف سے
ظفر خوابِ بہاراں بانٹ دوں گا

کیا کہنے جناب نوید ظفر کیانی صاحب اور غزل تو بہت ہی خوب ہے، لا جواب۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
جنابِ صدر اور معزز سامعین : السلام علیکم

سب سے پہلے میں آپ کو شکرگزار ہوں کہ آپنے مجھے مدعو کیا۔ اپنے کلام کا آغاز میں ایک نظم سے کرتا ہوں۔ عنوان ہے "اُف یہ یادیں"۔ عرض کیا ہے

میں کتبہ ہوں گزری ہوئی ساعتوں کا
جسے میں نے گاڑا ہے ہر راستے پر
میں نوحہ ہوں بھولی ہوئی صحبتوں کا
جو لیتا ہو سانس آج بھی میرے اندر

میں جو بات کرتا ہوں اُس میں وہ بولے
میں جو لفظ لکھتا ہوں اس میں وہ چیخے

مری زندگی میں بڑے موڑ آئے
عجب سرگرانی میں چلتا رہا ہوں
بہر گام رستہ بدلتا رہا ہوں
بدلتا رہا ہوں میں گو اپنا رستہ
مگر جب کبھی میں نے دیکھا پلٹ کر
تو آتا ہے مجھ کو نظر سیدھا رستہ

وہ ماضی تھا یہ حال ہے‘ مانتا ہوں
مگر خود کو کیسے یہ بتلا سکوں گا
میں یادوں سے بچ کر کہاں جا سکوں گا


اور اب میں ایک غزل کے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔ عرض کیا ہے

غم ہستی کے عنواں بانٹ دوں گا
یہ اوراقِ پریشاں بانٹ دوں گا

مرے نزدیک خوشیاں ہیں امانت
الٹ دوں گا میں داماں بانٹ دوں گا

تھما دوں گا دئے سب کو چمن میں
نئے موسم کے ارماں بانٹ دوں گا

مری مشکل بڑھاتی جائے دنیا
میں اس کو کر کے آساں بانٹ دوں گا

کسی منظر کو دھندلانے نہ دوں گا
میں اپنا سب چراغاں بانٹ دوں گا

صبا کی ایک تھپکی مل گئی تو
بہارِ نو کے عنواں بانٹ دوں گا

بکھر جاوں گا میں چہرہ بہ چہرہ
جو مجھ میں ہے وہ انساں بانٹ دوں گا

خزاں کو گھیر لوں گا ہر طرف سے
ظفر خوابِ بہاراں بانٹ دوں گا


نظم اگر خوب ہے تو غزل کے کیا ہی کہنے۔
ایک ایک شعر سیدھا دل پہ لگا ہے۔
بہت خوب ظفر صاحب۔
ڈھیروں داد قبول کریں۔
 

الف عین

لائبریرین
معذرت کہ یہاں اب تک نہ آ سکا، آیا بھی تو موجودگی کا کوئی ثبوت پیش کئے بغیر چلا گیا۔
سبھی شعراء نے لاجواب تخلیقات پیش کی ہیں، فرصت نہیں کہ فرداً فرداً داد دوں، اس لئے اسی مراسلے کو تمام شعراء مشترکہ داد سمجھ کر قبول کر لیں۔
 
Top