اردو محفل کا مشاعرہ برائے ۲۰۱۲ء ( تبصرہ جات کی لڑی)

محمداحمد

لائبریرین
محترم محمد وارث صاحب،​
آپ کا کلام شاذ و نادر ہی پڑھنا نصیب ہوتا ہے۔ شاید تمام ہی نایاب چیزوں کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔​
سب سے پہلے اپنی اس خوبصورت اردو محفل کیلیے ایک قطعہ​
محفِلِ اردو تجھے میرا سلام​
اے دِلِ اردو تجھے میرا سلام​
اس جہانِ برق، دل و جاں سوز میں​
تُو گِلِ اردو، تجھے میرا سلام​
بہت خوب، اردو محفل اور محمد وارث صاحب تو ہیں ہی لازم و ملزوم ، اور یہ قطعہ بھی آپ کی اردو محفل سے والہانہ محبت کی نشانی ہے اور خوب ہے۔​
اور اب دو رباعیاں​
محبوب کے انکار میں اقرار کو دیکھ
اپنوں پہ نظر رکھ، نہ تُو اغیار کو دیکھ
کیوں ہوتا ہے گرفتہ دل میرے اسد
چھوڑ اسکی برائیاں فقط "یار" کو دیکھ
ہے تیر سے اُلفت نہ نشانے سے ہمیں
کھونے سے غرَض کوئی، نہ پانے سے ہمیں
سو بار کہے ہمیں سگِ لیلیٰ، خلق
کچھ بھی نہیں چاہیے زمانے سے ہمیں
بہت ہی خوب۔۔۔۔!​
اور ایک غزل کے ساتھ آپ سے اجازت چاہوں گا​
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے​
دنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے​
میں آنکھ سے گرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے علم​
مُصحَف میں اک ہی نام بتایا گیا مجھے​
بخشی گئی بہشت مجھے کس حساب میں؟
دوزخ میں کس بنا پہ جلایا گیا مجھے؟
چیخا کبھی جو دہر کے ظلم و ستم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سُلایا گیا مجھے
بیدادِ دہر نے جو کیا سنگ دل ہمیں​
تو کربلا دکھا کے رُلایا گیا مجھے​
تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
یوں ہی نہیں یہ علم سکھایا گیا مجھے
والسلام​
واہ واہ غزل بھی بہت ہی خوب اور لاجواب ہے۔​
خاکسار کی جانب سے بہت سی داد پیشِ خدمت ہے۔​
گرقبول افتد زہے عز و شرف
 

محمداحمد

لائبریرین
تُو لائے یار کی خوشبو، سدا سلامتی ہو
سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو
میں دھڑکنوں کے تلاطم سے لطف لیتا ہوں
ہزار وحشتِ موج ِہوا سلامتی ہو
مری حیاتِ گذشتہ سے لوٹ آتی ہوئی
صباحتِ لب و رخ کی صدا سلامتی ہو
ملال ِ شام ِ مسلسل کی حکمرانی ہے
الم نصیب، دلِ باوفا سلامتی ہو
تمام کون و مکاں کے لئے دعائے خیر
فقط یہاں ہی نہیں جابجا سلامتی ہو
وہاں بچھانی ہے اک جانماز میں نے بھی
کنارِ چشمہ ء حمد و ثنا سلامتی ہو
میں چل رہا تھا کسی بدکلام بستی میں
کسی نے مجھ کو اچانک کہا سلامتی ہو
سیاہ دن سے گزرتی ہوئی سفید قبا
اٹھے ہوئے ہیں یہ دست دعا سلامتی ہو
پڑوس میں بھی ترے دم سے کچھ اجالا ہے
سلامتی مرے گھر کا دیا سلامتی ہو
میں خوشہ چین ہوں غالب ترے گلستاں کا
اے کائناتِ سخن کے خدا سلامتی ہو
شبِ فراق چمکتی ہے تیرے جلوئوں سے
اے مہتاب کی دھیمی ضیا سلامتی ہو
یہیں پہ خیر بھی رہتی ہے شر بھی ہے آباد
مری زمین پہ منصور کیا سلامتی ہو

واہ واہ واہ منصور آفاق صاحب، بہت ہی خوبصورت غزل پیش کی ہے آپ نے۔

ایک ایک شعر آپ کی قادر الکلامی کی دلیل ہے۔ بہت سی داد قبول کیجے محترم ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
محترم شاکرالقادری صاحب،

بہت ہی خوبصورت غزلیں پیش کی ہیں جناب آپ نے۔

ہاتھ میں لے لے وقت کی باگ
چھوڑ دے بیراگی بیراگ
اک دن تو کوئی آئے گا
آس منڈیر پہ بولے کاگ
گلشن کو جھلسا ڈالے گی
سبز رتوں کی ٹھنڈی آگ
گونگی ہیں نعروں کی زبانیں
بیٹھ گئے جذبوں کے جھاگ
جانے پھر کیا چال چلے گا
اندھے وقت کا بوڑھا گھاگ
آنسو ، درد ، کسک اور یاس
واہ پریمی۔ ۔ ۔ !تیرے بھاگ !
روپ نگر میں پگ پگ شاکر
ڈستے ہیں زلفوں کے ناگ
===================

بہت خوب۔۔۔۔!

ہر طرف ہے اداس تنہائی
آگئی مجھ کو راس تنہائی
وہ کہ محو نشاط محفل ہے
اور مرے آس پاس تنہائی
اب یہی چند اپنے ساتھی ہیں
آرزو ، درد ، یاس ، تنہائی
وحشت دل بڑھائی دیتی ہے
آرزو ناشناس تنہائی
================

یہ غزل تو لاجواب ہے۔

زخم دل پر اگر نگاہ کریں
میرے عیسیٰ بھی آہ آہ کریں
اب کسے اعتماد منصف پر
آؤ قاتل سے رسم و راہ کریں
اپنی نظروں میں گر کے ہم کیسے
آرزوئے حصولِ جاہ کریں
ہم نہ زردار ہیں نہ حاکم ہیں
کس لیئے ہم سے وہ نباہ کریں
رحمت کر دگار جوش میں ہے
آؤ ہم بھی کوئی گنا ہ کریں
حسن کی بے حجابیاں ’’شاکر‘‘
دل کو آمادۂ گناہ کریں
================

واہ۔۔ کیا کہنے محترم۔۔۔!

نذرانہ ء تحسین پیشِ خدمت ہے۔ قبول کیجے۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
عزیزان کرام
پہلے میں اردو محفل کا شکر گزار ہوں کہ اس مشاعرے میں مجھے صدارت کے منصب جلیلہ سے سرفراز کیا گیا جس کا میں قطعی اہل نہیں تھا۔ شاید محض بزرگی کے خیال سے کہ میں محفل کا سب سے بزرگ رکن ہوں!!!
بہر حال جب صدر بنا ہی دیا گیا تو اب آخر میں غزل بھی سنانی ہو گی بلکہ اس سے پہلے خطاب بھی کرنا ہو گا۔ خطاب کیا، بس یہی کہنا ہے کہ محفل کے ارکان نے ایک سے بڑھ کر ایک کلام پیش کیا ہے۔ شاکر بھائی منصور آفاق صاحب اور وارث وغیرہ جیسے قادر الکلام شعرا کے علاوہ مبتدی حضرات نے بھی اپنی کاوشیں حسن طریقے سے یہاں پیش کی ہیں۔ (یہ دوسری بات ہے کہ اکثر مبتدی حضرات کا میں اپنے منہ میاں ’استاد‘ ہوں)۔ بہر حال میں تمام شعرا کرام کو ہدیہء تہنیت پیش کرتا ہوں۔ عزیزم خرم اور محمد احمد نے اس مشاعرے کی کارروائی بھی بہت عمدہ طریقے سے چلائی۔
بہر حال اب بغیر کسی مزید تمہید کے، اور بغیر کسی کی اجازت کے) اپنا کلام پیش کرتا ہوں۔ ایک غزل پرانی، اور ایک غزل نسبتاً نئی۔ یعنی تقریباً صرف دو سال پرانی!!
ارشاد کیا ہے:


چاندی سونا دیکھوں میں
مئی میں کیا دیکھوں میں

صبح سویرے اٹھتے ہی
کس کا چہرا دیکھوں میں

فرشِ خاک پہ سوؤں جب
سچّا سپنا دیکھوں میں

وہ تو میرے گھر میں ہے
کس کا رستا دیکھوں میں

یاہو1 کی ایک ’وِنڈو‘2 میں
اس کا مکھڑا دیکھوں میں

جب بھی، جہاں بھی چاہوں اسے
سامنے بیٹھا دیکھوں میں

آنکھوں میں رِم جھِم ہو جائے
جب اسے ہنستا دیکھوں میں

صبح اٹھنے کی جلدی میں
خواب ادھورا دیکھوں میں

بول یہ سندر سندر درشّیہ
کب تک تنہا دیکھوں میں

میرؔ تمہاری غزلوں میں
اپنا دُکھڑا دیکھوں میں

مانیٹر3 کے پردے پر
ایک ہی چہرا دیکھوں میں

اس کی یاد آئے جب بھی
مونا لیزا دیکھوں میں

تو ہی بتا تیرا ایسا روپ
دیکھوں یا نا دیکھوں میں

1. Yahoo 2. Window 3. Monitor​
واہ واہ استادِ محترم، کیا خوب کلام پیش کیا ہے آپ نے، مئی، میر، یاہو، مونا لیزا والے اشعار تو بہت پسند آئے۔
اور اب ’نئی‘ غزل۔۔۔ ۔​
آنسو ندّی سوکھ گئی
دکھ کی کھیتی سوکھ گئی

اب کے وہ قحطِ آب پڑا
غم کی ٹہنی سوکھ گئی

نیندیں جل کر راکھ ہوئیں
خواب کی بستی سوکھ گئی

غزل کے پیڑ میں بور آئے
جب ہر پتّی سوکھ گئی

سرخ کلی تھی لفافے میں
باہر رکھی سوکھ گئی

ان کے آتے دیر بھئ
جان ہماری سوکھ گئی

اس کے پیار سے بھیگی جاں
دھوپ میں جلدی سوکھ گئی

اب کیا مہکے دل کا باغ
رات کی رانی سوکھ گئی

ہرا رہا جنگل سارا
دھرتی پیاسی سوکھ گئی
واہ کیا پیاری غزل ہے، ڈھیرساری بلکہ ساری کی ساری داد وصول کیجیے۔ بہت پسند آیا آپ کا کلام۔

اور اب خاکسار اجازت چاہتا ہے۔ امید ہے اگلی سالگرہ سے پہلے ہی کسی مشاعرے میں ملاقات ممکن ہو گی۔
انشاءاللہ!
اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھے۔
والسلام
 

محمداحمد

لائبریرین
محترم اعجاز عبید صاحب،

سب سے پہلے میں اپنی اور اردو محفل کے تمام اراکین کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کروں گا کہ آپ نے اردو محفل کو اپنا اتنا قیمتی وقت دیا اور اردو محفل پہ آنے والے تقریباً سب ہی لوگوں کے لئے مشعلِ راہ کا کام کیا۔ آپ کی جلائی ہوئی شمعوں سے بے شمار احباب فیضیاب ہوئے اور آج تک ہو رہے ہیں۔ یہ اردو، اردو ادب اور اردو محفل سے آپ کی بے لوث محبت کی دلیل ہے۔

مشاعرے کے لئے بھی یہی کہوں گا کہ آپ کی اور محترم وارث بھائی کی ہی کاوشوں کی وجہ سے اردو محفل کا ماحول اتنا ادبی اور شاعرانہ ہو گیا ہے کہ از خود مشاعرے کی فضا بن گئی ورنہ انٹرنیٹ پر اس قسم کی مثالیں شاذ ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔

عزیزان کرام
پہلے میں اردو محفل کا شکر گزار ہوں کہ اس مشاعرے میں مجھے صدارت کے منصب جلیلہ سے سرفراز کیا گیا جس کا میں قطعی اہل نہیں تھا۔ شاید محض بزرگی کے خیال سے کہ میں محفل کا سب سے بزرگ رکن ہوں!!!
بہر حال جب صدر بنا ہی دیا گیا تو اب آخر میں غزل بھی سنانی ہو گی بلکہ اس سے پہلے خطاب بھی کرنا ہو گا۔ خطاب کیا، بس یہی کہنا ہے کہ محفل کے ارکان نے ایک سے بڑھ کر ایک کلام پیش کیا ہے۔ شاکر بھائی منصور آفاق صاحب اور وارث وغیرہ جیسے قادر الکلام شعرا کے علاوہ مبتدی حضرات نے بھی اپنی کاوشیں حسن طریقے سے یہاں پیش کی ہیں۔ (یہ دوسری بات ہے کہ اکثر مبتدی حضرات کا میں اپنے منہ میاں ’استاد‘ ہوں)۔ بہر حال میں تمام شعرا کرام کو ہدیہء تہنیت پیش کرتا ہوں۔ عزیزم خرم اور محمد احمد نے اس مشاعرے کی کارروائی بھی بہت عمدہ طریقے سے چلائی۔
بہر حال اب بغیر کسی مزید تمہید کے، اور بغیر کسی کی اجازت کے) اپنا کلام پیش کرتا ہوں۔ ایک غزل پرانی، اور ایک غزل نسبتاً نئی۔ یعنی تقریباً صرف دو سال پرانی!!
ارشاد کیا ہے:


چاندی سونا دیکھوں میں
مٹی میں کیا دیکھوں میں

صبح سویرے اٹھتے ہی
کس کا چہرا دیکھوں میں

فرشِ خاک پہ سوؤں جب
سچّا سپنا دیکھوں میں

وہ تو میرے گھر میں ہے
کس کا رستا دیکھوں میں

یاہو1 کی ایک ’وِنڈو‘2 میں
اس کا مکھڑا دیکھوں میں

جب بھی، جہاں بھی چاہوں اسے
سامنے بیٹھا دیکھوں میں

آنکھوں میں رِم جھِم ہو جائے
جب اسے ہنستا دیکھوں میں

صبح اٹھنے کی جلدی میں
خواب ادھورا دیکھوں میں

بول یہ سندر سندر درشّیہ
کب تک تنہا دیکھوں میں

میرؔ تمہاری غزلوں میں
اپنا دُکھڑا دیکھوں میں

مانیٹر3 کے پردے پر
ایک ہی چہرا دیکھوں میں

اس کی یاد آئے جب بھی
مونا لیزا دیکھوں میں

تو ہی بتا تیرا ایسا روپ
دیکھوں یا نا دیکھوں میں

1. Yahoo 2. Window 3. Monitor​

واہ یہ غزل بہت خوب ہے بلکہ جدید غزل ہے کہ اس میں گل و بلبل کی جگہ یاہو اور ونڈوز کا ذکرِ خیر ہے۔ :)
اور اب ’نئی‘ غزل۔۔۔ ۔​
آنسو ندّی سوکھ گئی
دکھ کی کھیتی سوکھ گئی

اب کے وہ قحطِ آب پڑا
غم کی ٹہنی سوکھ گئی

نیندیں جل کر راکھ ہوئیں
خواب کی بستی سوکھ گئی

غزل کے پیڑ میں بور آئے
جب ہر پتّی سوکھ گئی

سرخ کلی تھی لفافے میں
باہر رکھی سوکھ گئی

ان کے آتے دیر بھئ
جان ہماری سوکھ گئی

اس کے پیار سے بھیگی جاں
دھوپ میں جلدی سوکھ گئی

اب کیا مہکے دل کا باغ
رات کی رانی سوکھ گئی

ہرا رہا جنگل سارا
دھرتی پیاسی سوکھ گئی

واہ واہ واہ ۔۔۔۔! یہ غزل تو لاجواب ہے ۔ ایک ایک شعر اپنی مثال آپ ہے ۔ چھوٹی بحر میں اس طرح کے عمدہ مضامین اور وہ بھی اس خوبصورتی اور غنایت کے ساتھ۔ کمال ہے۔

خاکسار کی جانب سے ڈھیروں ڈھیر داد و تحسین۔ کہ رسم ہے سو نبھا رہا ہوں ورنہ اساتذہ کے کلام کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے ہی مترادف ہے۔

بہت شکریہ۔۔۔!

بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔!
 
Top