اردو محفل کا طرحی مشاعرہ (قارئین و احباب کے تبصرہ جات کے لیے مختص )

محمد وارث

لائبریرین
بہت خوشی ہوئی ابھی تک کی تینوں غزلیں دیکھ کر، اور تینوں ہی دوستوں نے خدائے سخن کے مصرعے پر بہت خوبصورت مصرع لگایا ہے، کیا کہنے، لاجواب۔

تینوں دوستوں کیلیے بہت سی داد۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
ایم اے راجا بھائی کیا حال ہے آپ کا۔ کیسے ہیں
غزل تو آپ کی پہلے ہی پڑھ چکا تھا لیکن تبصرہ کرنے کا وقت نہیں مل رہا تھا آج وقت ملا تو اپنی غزل بھی پوسٹ کی اور باقی سب کی غزلیں بھی پڑھیں کیا خوب مزہ آ گیا

جو ترے در پہ جھک گیا اک بار​
سر وہ پھر کب وہاں سے اٹھتا ہے​

کیا کہنے بہت خوب

چھوڑ جاتا ہے حسرتیں ، ناکام​
آدمی جب جہاں سے اٹھتا ہے​

بے شک سچ بات کہیں آپ نے

جناب محمد اظہر نزیر صاحب آپ اور ہم ایک ہی استاد کے شاگرد ہونے کی وجہ سے بھائی ہی ہوئے آپ بھی اعظیم انسان جناب اعجاز عبید صاحب کے زیر سایہ ہیں اور ہم بھی۔


دیکھ مت یوں دھواں دھواں چہرہ​
یہ تو پوچھو، کہاں سے اٹھتا ہے​
آتش عشق سرد ہے کب سے​
یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے​
یو تو ساری غزل کمال کی ہے لیکن یہ دو شعر مجھے زیادہ اچھے لگے کیونکہ پسند اپنی اپنی ہے اس لیے یہ دو شعر مجھے باقی سے زیادہ اچھے لگے بہت شکریہ​



نوید ظفر کیانی صاحب السلام علیکم
ماشاءاللہ آپ کی غزل تو کمال کی ہے سارے شعر بہت پیارے ہیں کسی ایک کو منتخب کرنا میرے لیے مشکل ہے اور میری اتنی اوقات بھی نہیں ہے کہ میں آپ کے کلام پر کوئی رائے دے سکوں بہت پیاری غزل ہے ماشاءاللہ

محمد حفیظ الرحمٰن صاحب السلام علیکم ماشاءاللہ بہت اچھا کلام ہے مجھے لگتا ہے آپ اور نوید ظفر صاحب خاص طور پر اس مشاعرے کے لیے ہی آئیں ہیں یا آپ کو دعوت دی گئی ہے آپ کی آمد کا بہت شکریہ
 

مغزل

محفلین
محمود بھیا جانی آپ کے حکم کے مطابق غزل شروع کی ہے ، ایک شعر آپ کی محبتوں کی نذر کرتے ہیں، اسی بہانے اصلاح بھی ہو جائے گی :)
سہل سمجھو نہ ہجر سہنے کو
شعلہ آتش فشاں سے اٹھتا ہے
جیتی رہو بہنا ۔ سلامت رہو۔ مکمل غزل کا انتظار ہے ۔۔
 
ایم اے راجا بھائی کیا حال ہے آپ کا۔ کیسے ہیں
غزل تو آپ کی پہلے ہی پڑھ چکا تھا لیکن تبصرہ کرنے کا وقت نہیں مل رہا تھا آج وقت ملا تو اپنی غزل بھی پوسٹ کی اور باقی سب کی غزلیں بھی پڑھیں کیا خوب مزہ آ گیا

جو ترے در پہ جھک گیا اک بار​
سر وہ پھر کب وہاں سے اٹھتا ہے​

کیا کہنے بہت خوب

چھوڑ جاتا ہے حسرتیں ، ناکام​
آدمی جب جہاں سے اٹھتا ہے​

بے شک سچ بات کہیں آپ نے

جناب محمد اظہر نزیر صاحب آپ اور ہم ایک ہی استاد کے شاگرد ہونے کی وجہ سے بھائی ہی ہوئے آپ بھی اعظیم انسان جناب اعجاز عبید صاحب کے زیر سایہ ہیں اور ہم بھی۔


دیکھ مت یوں دھواں دھواں چہرہ​
یہ تو پوچھو، کہاں سے اٹھتا ہے​
آتش عشق سرد ہے کب سے​
یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے​
یو تو ساری غزل کمال کی ہے لیکن یہ دو شعر مجھے زیادہ اچھے لگے کیونکہ پسند اپنی اپنی ہے اس لیے یہ دو شعر مجھے باقی سے زیادہ اچھے لگے بہت شکریہ​



نوید ظفر کیانی صاحب السلام علیکم
ماشاءاللہ آپ کی غزل تو کمال کی ہے سارے شعر بہت پیارے ہیں کسی ایک کو منتخب کرنا میرے لیے مشکل ہے اور میری اتنی اوقات بھی نہیں ہے کہ میں آپ کے کلام پر کوئی رائے دے سکوں بہت پیاری غزل ہے ماشاءاللہ

محمد حفیظ الرحمٰن صاحب السلام علیکم ماشاءاللہ بہت اچھا کلام ہے مجھے لگتا ہے آپ اور نوید ظفر صاحب خاص طور پر اس مشاعرے کے لیے ہی آئیں ہیں یا آپ کو دعوت دی گئی ہے آپ کی آمد کا بہت شکریہ

آداب عرض ہے جناب
نوازش، کرم، شکریہ ، مہربانی
 
پیارےمحمود بھیا جانی سلام و آداب۔ راہنمائی فرمائیں کہ طرحی مشاعرے کےجس دھاگے میں غزلیں پوسٹ ہو رہی ہیں وہاں کومنٹس پر پابندی ہے تو وہاں کا اقتباس یہاں کیسے لیا جائے گا یا کوئی ایسا طریقہ ہو کہ وہاں اقتباس لے کر کومنٹس دیں تو وہ کومنٹس یہاں ری ڈائریکٹ ہو جائیں اور ہمارے بابا جانی سر فاروق درویش تو اس فورم پر معطل ہیں وہ تو غزل پوسٹ کرنے سے رہے، اب ان کا نام دعوت نامےمیں لکھ کر خدارا ہمارا کلیجہ تو نہ جلائیے
 

مغزل

محفلین
وعلیکم السلام ، جیتی رہو بہنا۔
جیسے عام طور پر اقتباس لیتے ہیں ویسے ہی اقتباس لیجے اور وہاں سے وہ اسکرپٹ یہاں پیسٹ کر کے تبصرہ کیجے ، بالکل آسان ہے ۔
 


دل میں برپا ہے شور ماتم کا
درد کیا یوں بیاں سے اٹھتا ہے
آتش عشق سرد ہے کب سے
یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے
بھر گئی ہے زمیں گناہوں سے
شور جو آسماں سے اٹھتا ہے
محمد اظہر نذیر
یہ اشعار خوب ہوئے بقیہ غزل پر مذید محنت درکار ہے
 
اِک ستارہ جو تیرے نام کا تھا
حجرۂ کہکشاں سے اُٹھتا ہے
کوئی کُوئے نگار سے یُوں اُٹھا
جیسے خوابِ گراں سے اُٹھتا ہے
کس کی یادوں کی آہٹیں جاگیں
زلزلہ جسم و جاں سے اُٹھتا ہے
بجلیاں ہوں نہ ہوں سحابوں میں
اعتبار آسماں سے اُٹھتا ہے


یوں تو ساری غزل ہی خوب ہے لیکن یہ اشعار ہمیں بیحد پسند آئے، حجرہء کہکشاں واہ کیا خوب ترکیب استعمال کی ، بہت سی داد قبول کیجئے۔ سلامت رہیں
 
السلام علیکم۔

اس پہ نظرِ کرم نہیں ہوتی
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے

مال سے اور جاں سے جاتا ہے
جو بھی اپنے نشاں سے اٹھتا ہے

تیری محفل کی داستاں ہو پھر
کون درمیاں سے اٹھتا ہے

تیری دہلیز پر قدم رکھ کر
لفظ مشکل زباں سے اٹھتاہے

لوگ سب کہہ رہے ہیں تھا انصاف
اب مگر اس جہاں سے اٹھتا ہے

ہر کسی کو یہی تجسس ہے
" یہ دھواں سا کہاں سےاٹھتا ہے"

عقل والے بھی اب نہیں ملتے
عشق بھی داستاں سے اٹھتا ہے

کون جانے کہ کیا ہوا خرم
کون آتش فشاں سے اٹھتا ہے
خرم بھیا چند اشعار خوب ہیں باقی غزل میں بحر اور ربط کے مسائل ہیں، نظر ثانی کیجئے
 
غزل
محمد حفیظ الرحمٰن

منزلیں اس غبار میں گم ہیں
جو ترے کارواں سے اٹھتا ہے
ہے منافق وہی کہ جس کا خمیر
فکرِ سود و زیاں سے اٹھتا ہے
پھر کہاں اس کے دل کو چین و قرار
جوترے درمیاں سے اٹھتاہے
گردِ مہتاب ہے فلک کا غبار
یا کسی کہکشاں سے اٹھتا ہے
لوحِ محفوظ میں ہے سب مرقوم
کون، کس دن، کہاں سے اٹھتا ہے
منتظر ہوں حفیظ کب پردہ
رازِ کون و مکاں سے اٹھتا ہے
بہت شاندار غزل ، ہر شعر خوب اور خوبصورت مقطع، ڈھیروں داد قبول کیجئے
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔​
جنابِ صدر ، جناب مہمانِ خصوصی اور شرکاء مشاعرہ کو السلام علیکم ۔
مجھے بہت خوشی ہوئی کہ م م مغل صاحب نے اس طرحی محفلِ مشاعرہ کو ترتیب دیا اور حضرت میر تقی میر کی خوبصورت غزل، دیکھ دل سے کہ جاں سے اٹھتا ہے ۔ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔ سے اس محفل کا آغاز کیا، اور مجھ سے جاہل کو بھی دعوتِ کلام دی۔گو کہ بہت بڑے شاعر کا بہت بڑا مصرعہ طرح ہے جس پر مجھ سے طفلِ مکتب کا اشعار باندھنا گو کہ بہت مشکل عمل تھا مگر اپنی سی کوشش کی ہے جو کہ آپ کی نذر کرتا ہوں، فیصلہ آپ پر ہے کہ کس قدر کامیاب رہا ہوں، آپ کی تنقید یقیناً میرے لیئے مشعلِ راہ ہو گی۔

غزل عرض ہے۔۔۔ ۔​


ایک بجلی سی کوند جاتی ہے​
ایک شعلہ سا جاں سے اٹھتا ہے​
دل تڑپتا ہے ، خون جلتا ہے​
شعر تب اک زباں سے اٹھتا ہے​
لاشے بکھرے ہیں شہر میں ہر سُو​
نالہ ہر اک مکاں سے اٹھتا ہے​
(ایم اے راجا)​
ایک بجلی سی کوند جاتی ہے، بہت خوب راجا بھیا، سلامت رہیں
 
پیارے محمود بھیا جانی ، حفیظ الرحمن صاحب کی غزل کے بارے یہ کومنٹ غلطی سے یہاں پوسٹ ہو گیا ، میں معذرت خواہ ہوں، پلیز اسے کومنٹس کے دھاگے میں منتقل کر دیجئے۔ شکریہ
 

مغزل

محفلین
پیارے محمود بھیا جانی ، حفیظ الرحمن صاحب کی غزل کے بارے یہ کومنٹ غلطی سے یہاں پوسٹ ہو گیا ، میں معذرت خواہ ہوں، پلیز اسے کومنٹس کے دھاگے میں منتقل کر دیجئے۔ شکریہ
( سیدہ سارا غزل ) ۔۔۔ جی بھیّا کی دلاری بہنا۔ مراسلات یہاں منتقل کر دیے ہیں جیتی رہو ۔سلامت رہو شاد باد کامران رہو۔
 
Top