اردو محفل سے لطفاً مذہبی کشیدگی کا خاتمہ کیجئے

حسان خان نے 'تجاویز، آراء و مسائل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 25, 2013

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    سبحان اللہ سبحان اللہ کیا ہی ایمان افروز موضوعات کا ذکر کیا آپ نے۔۔۔ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی جان
    ویسے خنزیر شریف کے مقدس ذائقوں پر بھی کہیں بات ہوئی ہے کیا؟ ہماری نظر سے پوشیدہ کیوں رہا ایسا مبارک دھاگا۔۔۔ لنک عنایت فرما کر ثواب دارین تو حاصل کیجیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نہیں بھائی یہ مقصد بالکل بھی نہیں کہ اسکا دروازہ کھٹکھٹا کر اسکی امی جان کو شکایت لگانی ہے۔ بلکہ مقصد یہ تھا کہ مذہب کے دھاگوں میں جو بھی گفتگو کرتا ہے اسکی وہ گفتگو اس کی اصل شناخت کے ساتھ ریکارڈ ہورہی ہو۔ کیونکہ پس منظر یہ ہے کہ جیسے میرا نام رانا ہے یہاں پر۔ اب میں یہاں غصے میں آکر اپنا غبار جس طرح بھی نکال دوں کہ مجھے کون جانتا ہے جس کی نظروں کی شرمندگی کا مجھے خیال ہو۔ میں اگر آپ کو خانہ بدوش بھکاری عورتوں کی طرح ہاتھ نچا نچا کر سنانا شروع کردوں کہ تم ڈیش تمہارا باپ ڈیش تمہارا فلاں ڈیش تو بھلا بتائیں کہ کیا میں اپنے اصل نام اور شناخت سے آپ کو اس طرح بازاری زبان میں مخاطب کرنے کی ہمت کرسکوں گا؟ اگر یہاں میری اصل شناخت ظاہر ہورہی ہو تو میں تو اس تصور سے ہی مرجاؤں گا کہ اب یہ ہمیشہ کے لئے دنیا میں ریکارڈ ہوگیا اور جو جو کبھی بھی اسے دیکھے گا جو مجھے جانتا ہوگا وہ میرے بارے میں کیا سوچے گا!! میں نے تو اپنے آپ کو سامنے رکھ کر یہ تجویز دی تھی کہ شائد میری طرح دوسرے بھی اس معاملے میں حساس ہوں گے تو محفل کا ماحول خوشگوار بنا رہے گا۔
    مثال سے برا مت منائیے گا صرف آپ کو سمجھانے کے لئے دی تھی ورنہ آپ سے مجھے بہت دوستانہ تعلق ہے محفل پر۔;)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    تو پھر 3 عدد پاسپورٹ سائز فوٹو بھی ساتھ لگا لین شرطوں میں :grin:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  4. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بالکل ٹھیک۔ یہ تو آپ نے کافی پتے کی بات بتائی ہے اور کافی مفید ہے۔ لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے خواتین بچ جائیں گی اس شرط سے۔ اب یا تو خواتین کا داخلہ صرف زنان خانے تک محدود کردیا جائے اور مذہب خانے تک انہیں رسائی ہی نہ دی جائے۔ لیکن یہ ویسے ہی نامناسب ہوگا۔ اس لئے یہ شرط نہیں لگائی جاسکتی یہاں۔ البتہ ایک تبدیلی کے ساتھ کہ خواتین اپنے ابا کی تصویر اور شناختی کارڈ جمع کرائیں۔ لیکن اس میں پھر ایک مسئلہ ہے کہ اگر ابا نے کوئی ایسا ویسا مراسلہ دیکھ لیا تو امی کو کوسنے دیں گے کہ تمہاری لاڈلی خوب نام روشن کررہی ہے میرا۔:)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    5,054
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    شیخ بسمل صاحب نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ جب کسی مذہب یا کسی فرقے کے خلاف بات ہو گی تو اس کو رد کرنے والے بھی اٹھیں گے۔ اور مباحثہ طول پکڑ جائے گا۔
    اس میں رانا صاحب نے بالکل معقول تجویز دی ہے کہ مذہب کے زمرے میں صرف کسی بھی مذہب، فقہ، مسلک کی صرف اچھائیاں بیان کی جانے کی اجازت ہو اور کسی کے خلاف کچھ بولنے والوں کے وارننگ سسٹم کے بعد رکنیت سے محروم کر دیا جائے۔
    اور میرا خیال ہے کہ ایسا ممکن ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
  6. ابن سعید

    ابن سعید خادم

    مراسلے:
    60,174
    آپ تو اور بھی بہت ساری باتوں کی ہمت نہیں کر سکتے، اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کوئی بھی ایسی ہمت نہیں کر سکتا۔ اپنے گلی، محلے، نکڑ، آس پاس کی دوکانوں، بازاروں، چوراہوں، چوپالوں، بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بہت سارے آن لائن پلیٹ فارموں پر آپ بہت سارے لوگوں کو اپنی اصلی شناخت کے ساتھ اس سے بھی زیادہ غلیظ باتیں کرتے ہوئے پا جائیں گے۔ :) :) :)

    ہم اردو ویب پر اپنے اراکین کی پرائیویسی کا مکمل احترام کرتے ہیں اور کسی کی بھی شناخت جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ یہ اور بات ہے کہ احباب جو محفل کا ماحول خراب کرتے ہیں، اصولوں کی پامالی کرتے ہیں، انتطامیہ کی زندگی دشوار کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا جا سکتا ہے۔ اگر کچھ لوگ رواداری اور برداشت کے ساتھ معقول طریقے سے اپنی بات کرنے کا سلیقہ نہیں رکھتے اور تکلیف دہ باتوں کو رپورٹ کرنے کے بجائے خود دو دو ہاتھ کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، سیاسی یا مسلکی منافرت کے اظہار میں ذاتیات پر اتر آتے ہیں، مذہب بیزاری کے اظہار میں انتہاؤں کو چھو جاتے ہیں ان سب کے خلاف کاروائی ہو سکتی ہے۔ اگر انتظامیہ ڈھیل دے تو اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ :) :) :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. محمد اسلم

    محمد اسلم محفلین

    مراسلے:
    701
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Sleepy
    یار جو بھی بات ہو دلیل پر ہو
     
  8. صرف علی

    صرف علی محفلین

    مراسلے:
    1,101
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ھھم بھائی رانا صاحب کی تجویز اچھی ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,128
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ایک بات اُن دوستوں سے جو مذہبی حوالے سے جانے پہجانے جاتے ہیں :

    ہم کسی شخص کو حسنِ اخلاق سے تو قائل کر سکتے ہیں لیکن لعن طعن سے ہم کبھی بھی کسی کو قائل نہیں کرسکتے۔
    جس شخص کے دل میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہ ہو وہ ہماری بات کیوں ماننے لگا سو کسی کو قائل کرنے کےلئے پہلے دل جیتنا ضروری ہے۔ دل جیتے کے لئے سب سے پہلے اپنا دل کشادہ کرنا پڑتا ہے۔
    بھلا دل آزاری کرنے والا بھی کسی کا دل جیت سکتا ہے۔
    (پھر آپ کا کام صرف بات پہنچا دینے تک کا ہے، ہدایت دینا آپ کا کام نہیں ہے۔)

    اور وہ دوست جو خدا کو بھی اہمیت نہیں دیتے اُن سے درخواست ہے کہ وہ خدا کو بھلے سے اہمیت نہ دیں کہ یہ اُن کا اور خدا کا معاملہ ہے لیکن ہنسی مذاق میں بھی کسی کی دل آزاری سے گریز کرنا چاہیے خاص طور پر ایسے معاملات میں جو کسی کے لئے حساس نوعیت کے ہوں۔ یہ بات بھی اس لئے کہی کہ یہاں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو انسانیت کے طور اطوار کو نہ مانتا ہو۔

    ہم لوگ اردو محفل کا چہرہ ہیں، ہم اچھے، نرم خو، سلجھے ہوئے اور کشادہ دل ہوں گے تو محفل بھی ایسی ہی نظر آئے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • متفق متفق × 3
    • زبردست زبردست × 2
  10. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    رانا صاحب کی تجویز بادی الرائے میں یقیناّ معقول معلوم محسوس ہوتی ہے لیکن معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ مذہبی بحث و تمحیص میں عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے۔ اسکی وجہ محض یہ نہیں کہ فریقین میں عدم برداشت پایا جاتا ہو بلکہ اسکی ایک صاف اور سیدھی وجہ یہ بھی ہے کہ چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں۔ دنیا میں حسن کو اسی وقت حسن کہا جاسکتا ہے جب اسکی ضد یعنی قبح بھی تقابل کیلئے موجود ہو۔ اچھائی کی پہچان بھی برائی کے وجود کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ خیر و شر،تحت و فوق، حسن و قبح، لطف و قہر، اور ہر قسم کے اضافی امور اپنی اپنی پہچان کیلئے دوسرے کے وجود کے دست نگر ہیں۔ جب بھی کسی معاملے میں سچ اور جھوٹ ، اچھے برے یا درست اور غلط کی بحث ہوتی ہے یعنی تقابل کیا جاتا ہے تو ان دونوں پہلوؤں کا زیربحث آنا لازمی امر ہے۔ کیونکہ قاعدہ ہے کہ لایعرف الاشیاء الّا باضدادہا۔
    مذہب اور فلاسفی میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ فلسفی کی فلسفیانہ تحقیقات اور نتائج کو آپ اس فلسفی کے ذاتی کردار کا مطالعہ کئے بغیر بھی پرکھ سکتے ہیں، لیکن کسی بھی مذہب کی تعلیمات پر ایمان لانے میں ایک بڑا اور فیصلہ کن فیکٹر اس اس مذہب کے مؤسس یا پیشوا کا ذاتی کردار ہی ہوا کرتا ہے ۔ اور اس بات کا مشاہدہ آپ ہر قوم میں کرسکتے ہیں۔ فلسفے کی کتب پڑھ لیں ، ہر فلسفی دوسرے فلسفی سے کسی نی کسین پوائنٹ پر اختلاف رکھتا ہے اور وہ اپنی رائے کے درست ہونے اور مدمابل کی رائے کے غلط ہونے میں فریقین کے ذاتی کردار کو قطعاّ زیرِ بحث نہیں لاتا۔ لیکن مذہبی بحث اور فلسفیانہ بحث میں یہی فرق ہے کہ فلسفی آپ سے اپنی بات پر ایمان لانے کا مطالبہ نہیں کرتا جبکہ مذہب ایمان بالغیب کا مطالبہ کرتا ہے اور ایمان بالغیب کو لاجک اور استدلال کے طریقے سے نہیں بلکہ کسی سچے کے سچ کو بغیر پرکھے،محض اسکے سچا ہونے کے یقین کی بناء پر سچ مان لینے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ نبی کریم رؤوف و رحیم نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر لوگوں سے ایمان بالغیب کیلئے اپنے کردار کو بطور دلیل پیش کیا تھا کہ کیا تم مجھے اتناسچا سمجھتے ہو کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے کوئی فوج تم پر حملہ آور ہونے والی ہے ، تو مان لوگے؟؟ سب ے اقرار کیا لیکن جب سچ ان پر پیش کیا گیا تو سب کا انکار تھا، لیکن اس انکار کو بھی اقرار میں بدلنے کیلئے کردار کا مظاہرہ پیش کیا گیا تب کہیں جاکر اقرار کی منزل آئی۔۔۔فلسفیانہ بحثوں میں ایسا نہیں ہوا کرتا، یہاں کردار کی بجائے محض لاجک (جو اندھے کی لاٹھی کی طرح ٹٹول ٹٹول کر کسی راستے پر چلنے کیلئے درکار ہوتی ہے آنکھوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے) سے کام لیا جاتا ہے اور معلوم سے نامعلوم کی طرف دو جمع دو چار کرکے جایا جاتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,062
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    امجد صاحب ایک مذہب یا مسلک میں ایک چیز اچھی ہے تو وہی چیز دوسرے مذہب یا مسلک میں بُری ہے۔ اس اچھی یا برائی کا فیصلہ ہم نہیں کر سکتے۔ اچھائی اور برائی کا فیصلہ ہو چکا اور وہ قرآن میں درج ہے۔ اس میں نہ آپ رد و بدل کر سکتے ہیں اور نہ میں۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  12. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,813
    موڈ:
    Cheerful
    سارا بکھیڑا ہی اس وقت پیش آیا جب مذہبی منافرت پھیلانے کے جرم میں معطل شدہ افراد کو چند ہی ماہ بعد غیر معطل کر کے دوسری اننگز کھیلنے کی اجازت دی گئی۔ اور نتیجہ خدشات کے عین مطابق ہی نکلا یعنی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہی۔
    انتظامیہ اب بھی کوئی نیا جھنجھٹ پالنے کی بجائے اپنے اصل قانون کی طرف رجوع کرے تو سارا مسئلہ لمحوں میں حل ہوجائے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful

    آپ کی بات درست ہے کہ اچھائی کی قدر اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب بالمقابل برائی بھی سامنے ہو۔ میری تجویز سے ان معاملات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تقابل کرنے میں دونوں پہلوؤں کا زیربحث آنا بعض جگہ لازمی امر ہے لیکن یہ تو لازمی امر نہیں کہ تقابل کرتے ہوئے تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جائے اور دوسرے کو برا اور ملعون کہہ کر ہی تقابل کیا جائے بلکہ دوسرے کو اپنا غلطی خوردہ بھائی سمجھ کر بھی تقابل کیا جاسکتا ہے۔ اسکے نزدیک قابل احترام سمجھے جانے والے بزرگوں کو برا کہے بغیر ان کا احترام سے ذکر کرتے ہوئے تقابل زیادہ پسندیدہ امر ہوگا۔ اور اگر کوئی اس طرح کے تقابل پر غصہ کرتا ہے تو اسکا صریح مطلب یہ ہوگا کہ اس کے پاس حسن کا فقدان ہے۔ مثلا آپ شوق سے اپنے کسی بھی عقیدے کا حسن پیش کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی ایمانداری سے سمجھتے ہیں کہ اگر رانا صاحب کے عقیدے سے تقابل نہ کیا گیا تو بات تشنہ رہ جائے گی تو مجھے بھلا کیوں اعتراض ہوگا اگر آپ میرے بزرگوں کا تذکرہ تہذیب کے رنگ میں کرکے تقابل کریں گے۔ مثلا آپ کوئی برا دل کو دکھانے ولا لفظ استعمال کرکےیہ بھی کہہ سکتے ہیں مرزا نے یہ لکھا ہے اور مہذب رنگ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرزا صاحب کا اس بارے میں یہ نظریہ ہے۔ تو خود سمجھ سکتے ہیں پہلا جملہ کیا تاثر چھوڑے گا اور دوسرا کیا۔ دوسرا جملہ نہ صرف ایک اچھا تاثر چھوڑے گا بلکہ میرے دل میں خواہ مخواہ ہی آپ کی بات سننے کی طرف نرمی پیدا ہوجائے گی اور میں یہ سمجھوں گا کہ غزنوی بھائی واقعی میرے ساتھ سچی ہمدردی رکھتے ہیں جو مجھے اس طرف توجہ دلا رہے ہیں۔
    خیال رہے کہ صرف سمجھانے کے لئے آپ کا نام لے آپ کو مخاطب کرکے مثال دی ہے کہیں دل پر مت لے لیجئے گا۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  14. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,461
    موڈ:
    Asleep

    تجویز تو اچھی ہے لیکن اس طرح سے پتہ فون نمبر وغیرہ نہیں دیا جا سکتا۔ یہ چیزیں دہشتگردوں کے ہاتھوں لگ گئیں تو وہ تو پہلے ہی شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کرتے ہیں پھر گھروں پر بلوے بھی شروع ہو جائیں گے۔
    اور دوسری بات یہ کہ کبھی کبھی انسان غصے میں بھی کچھ کہہ جاتا ہے جس کا بعد میں اس کو افسوس ہوتا ہے، تو یہاں پر ہر بات انمٹ بن جاتی ہے۔
    اس کا طریقہ یہی ہے کہ ہمیں خود کو انٹرنیٹ کا عادی بنانا پڑے گا-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  15. عسکری

    عسکری معطل

    مراسلے:
    18,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    ایک اور آئیڈیا مارشل لاء لگا دو :whistle:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  16. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,733
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    ایدی کمی رہ گئی سی ۔۔ :rolleyes:
     
  17. مہدی نقوی حجاز

    مہدی نقوی حجاز محفلین

    مراسلے:
    4,893
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    عجیب مخمصہ ہے۔ جسے دیکھو ملحد و مومن کو لیے بیٹھا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا، بھائی میرے انسان کو مذہب اور شادی کے معاملے میں آزادی ہے۔ ضروری ہرگز نہیں کہ اس اردو محفل پر محض آپ کا پالا خودگفتہ مسلمان حضرات سے ہی پڑے کہ اسکے نام میں کہیں یہ مشخص نہیں کہ "اردو محفلِ مسلمانان"۔

    ان موضوعات پر بحث کرنے سے بہ ہیچ وجہ یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اس فورم کا تعلق ملحدوں سے ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سور کے ذائقوں کو چھوڑ کر تمام باتیں ہماری اردو زبان کی روایتی باتیں ہیں۔ جن کی فہرست میں تصوف اور عورت بھی شامل ہیں، اور ان پر بھی آزاد بحثوں میں بات ہوتی ہے۔
    تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا!​
    دوسری بات یہ کہ ان موضوعات کے مطالعے سے میں سمجھتا ہوں ایک عام مسلمان کے اسلام میں کوئی خلا و خلل واقع نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ اتنے تیز اور تیکھے ہوتے ہیں کہ انا کو نقصان پہنچائیں!​

    اس فورم پر یوں تو کسی بھی موضوع پر شریفانہ گفت و شنید کرنے پر کوئی پابندی نہیں لیکن جہاں بات جرح تک آجائے تو اسکے اور اہلیان کے نازک مزاج پر بن آتی ہے۔ ویسے بھی مذہب اتنا خشک موضوع ہے کہ میں نہیں سمجھتا اہلِ ذوق حضرات اسے بہ آسانیِ تمام ہضم کر سکیں۔ اگر وہ ان دھاگوں میں آ کر کچھ شیرہ چاشنی ڈالدیں تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے۔ پھر بقول یوسفی حس مزاح ہی انسان کی چھٹی حس ہے۔ بہت سی باتیں نظر انداز کردینے لائق ہوتی ہیں۔ محض انسان ان سے لطف اٹھاتا ہے اور پھر فراموشی کے خانے میں ڈال دیتا ہے۔ اردو زبان کی اپنی روایت اپنا کلچر ہے جس میں یہ تمام چیزیں شامل ہیں جنکو اب تکفیری ملا الحاد کا نام دیتے ہیں۔​
    صاحبِ حیثیت اور مقام حضرات بھی اگر سخت گیری شروع کردیں تو محفل کی معصوم فضا کو دھجکا لگ سکتا ہے۔ اور پیار اور صفا کی محفل پھر یوں نہ جم سکے شاید۔ اس لیے میں ذاتی طور پہ یہ تجویز نہیں کروں گا کہ حضرات مدیر آستینیں چڑھا لیں۔ ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  18. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    اس بات میں تو کوئی دو رائیں نہیں ہوسکتیں۔ یہی ہمارے دین نے بھی ہمیں سکھایا ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میری تجویز تو یہ ہو گی کہ یہ زمرہ ہی ختم کر دیا جائے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ اردو ویب پر ہی بلاگ بھی تو پوسٹ کئے جا سکتے ہیں، جن کو شاذ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ مذہبی پوسٹ کرنے والے وہاں اپنی بات پیش کر سکتے ہیں بجائے پبلک فورم کے۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میں تو ذاتی طور پر یہاں عقائد پر بحث اور لڑائی جھگڑا ہی بے مصرف سمجھتا ہوں۔ جو اعتقادی مسائل پچھلے چودہ سو سالوں میں حل نہ ہو سکے، وہ کیا اردو محفل پر لعن طعن اور پوچ قلمی جہاد سے حل ہو جائیں گے؟ ان چیزوں پر ہر فریق کی ہزاروں کتب انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں، جسے اپنے عقیدے اور صراطِ مستقیم کی فکر ہو گی وہ خود ہی تحقیق کرنے کے لیے اُن سب کتب کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ صراطِ مستقیم تک رسائی کے لیے اردو محفل پر تبلیغی جانفشانی دکھانا لازمی نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر