اردو انسائیکلوپیڈیا

شمشاد نے 'برقیانے کیلئے کتب کی فرمائش' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2011

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۱، فائینل ۳
    صفحہ ۳۸۶

    مختلف پہلوؤں پر تحقیقی مضامین لکھے جو "حسرت کی شاعری" کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ پر ایک مبسوط کتاب "تاریخ دستور حکومت ہند" کے نام سے ترتیب دی۔ "یادوں کی دنیا" کے عنوان سے آپ بیتی لکھی ہے۔ "فرانسیسی ادب کی تاریخ" بھی قلم بند کی اور آخری عمر میں غالب کے کلام کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ یوسف حسین خاں نے انگلش اردو ڈکشنری کے کام میں مولوی عبد الحق کی بھی بہت مدد کی تھی۔ دارالترجمہ عثمانیہ کے لیے انھوں نے "تاریخ ہند" مرتب کیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہد سے ۱۹۳۹ تک کے زمانے کی ہندوستان کی تاریخ ہے۔ "مبادی عمرانیات" نامی کتاب فرانسیسی زبان سے براہ راست ترجمہ ہے۔ "غالب اور آہنگ غالب" بھی ان کی ایک اہم تصنیف ہے۔ عہد وسطٰی کی تاریخ اور ادب سے متعلق انگریزی میں بھی کئی کتابیں ہیں۔

    یوسف خاں کمبل پوش : دیکھیے کمبل پوش، مرزا یوسف۔

    یوسف زلیخا : نور الدین عبد الرحمن جامی کی مثنوی ہے جس میں یوسف زلیخا کا قصہ نظم کیا گیا ہے۔ اسی نام سے لطف علی بیگ آذر نے بھی ایک مثنوی لکھی۔ ایک اور شاعر سلیمان حلیم نے بھی ایک مثنوی اسی نام سے لکھی۔اسی نام کی ایک مثنوی فردوسی سے بھی منسوب ہے جس کے بارے میں حافظ محمود شیرانی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ انتساب درست نہیں۔ ایک مثنوی ناظم ہروی نے بھی لکھی ہے۔ اسی نام کی ایک مثنوی دولت رضا بیگ جنگی کی بھی ہے۔ جامی نے اپنی یہ مثنوی نظامی کی مثنوی خسرو شیریں کے جواب میں مکمل کی اور اسے سلطان حسین بالیقرا کے نام معنون کیا ہے۔
     
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۱، فائینل ۳
    صفحہ ۳۸۷

    ییٹس، ولیم بٹلر ((۱۹۳۹ – ۱۸۶۵، Yeats, William Butler)) : آئر لینڈ کا سب سے بڑا رومانی شاعر اور بیسویں صدی کی ادبی دنیا کی ایک نہایت اہم شخصیت، آئر لینڈ کے ادب کے نشاۃ ثانیہ کا مسلمہ رہنما۔

    ییٹس ڈبلن میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ جان بٹلر ییٹس مصور تھا۔ شروع میں ولیم نے بھی مصوری کی طرف رخ کیا لیکن بعد میں جب اسے یہ محسوس ہوا کہ اس کا اصل میدان شاعری ہے تو اس نے مصوری ترک کر دی۔ ابتدائی تعلیم اس نے لندن کے ایک اسکول میں حاصل کی۔

    آئر لینڈ کے پرانے قصے کہانیوں اور جادو ٹونے میں اسے بڑا مزہ آتا تھا۔ اس کے پہلے ڈرامہ موسادا ((Mosada)) میں اس کی جھلک ملتی ہے لیکن اس کے بعد آئر لینڈ کی قوم پرستی کی تحریک نے اس پر گہرا اثر پیدا کیا جس کا اظہار اس کی اس زمانہ کی طویل نظموں میں شدت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس پر اب اشاریت کا بھی اثر پڑنے لگا تھا۔

    ۱۸۸۷ میں جب وہ لندن میں تھا تو اس پر تھیوسوفی تحریک کا بھی کافی اثر پڑا لیکن قوم پرستی کا جذبہ ہمیشہ حاوی رہا۔ چنانچہ ۱۸۹۹ میں اس نے اور لوگوں کے ساتھ مل کر آئرش ادبی تھیٹر کی بنیاد رکھی۔ یہاں پہلا ڈرامہ جو پیش کیا گیا وہ ییٹس ہی کا" کاونٹس کیتھلین" تھا۔ اس کی تیاری اور پیش کرنے میں بھی اس نے عملی حصہ لیا۔ اس کے علاوہ دوسرے ڈرامہ نگاروں کے کھیل پیش کرنے میں مدد دی۔ دوسرے لوگوں سے ڈرامے لکھوائے۔ اسی دوران ولیم بلیک کی تصنیفات کو مرتب کر کے شائع کروایا۔ خود کئی نظمیں اور ڈرامے لکھے۔

    ۱۹۲۰ میں وہ آئر لینڈ کی ایک اہم شخصیت بن گیا تھا۔ ۱۹۲۲ سے ۱۹۲۸ تک وہ آئر لینڈ کی سینٹ کا ممبر رہا اور ۱۹۲۳ میں اسے ادب کا نوبل انعام ملا۔
     
  3. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۱، فائینل ۳
    صفحہ ۳۸۸

    ییٹس کا شمار بیسویں صدی کے ممتاز ترین انگریزی شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں دور جدید کے انسان کے ذہنی، روحانی اور جذباتی انتشار کا اظہار علائم اور استعارات کا موثر استعمال اور فکری بالیدگی کا امتزاج پایا جاتا ہے۔
     
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۱

    گوتھک اور کلاسیکی اسٹائل ساتھ ساتھ استعمال کرنے کی روایت رن اور اس کے جانشینوں نے شروع کی تھی جو برابر چلتی رہی۔ ۱۸۵۰ کے بعد سے فرانسیسی نشاۃ ثانیہ کا بھی اثر مرتسم ہونے لگا۔

    انیسویں صدی تک برطانیہ صنعتی انقلاب اور صنعتی ترقی میں سب سے آگے نکل چکا تھا۔ انجینیئرنگ تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی تھی۔ ملک کی بڑھتی ہوئی دولت اورخوشحالی نئی نئی عالی شان عمارتوں اور کلیساؤں سے ظاہر ہو رہی تھی۔ سب سے پہلے لوہے کے پل انگلستان ((ٹل فورڈ، برونل)) ہی میں بے۔ لوہے اور شیشے سے بنے ہوئے حفاظت خانے بھی یہیں تعمیر کیے گئے۔ ۱۸۰۰ فت لمبا کرسٹل پیلس صرف لوہے اور شیشے سے بنا تھا لیکن اپنی سادگی اور بھونڈے پن کی وجہ سے فن تعمیر کا یہ نیا انداز بہت دنوں تک خواص میں قبولیت حاصل نہیں کر سکا۔ ۱۸۶۰ کے لگ بھگ فلپ وب نے ایک مالدار شخص نارمن شا کے تعاون سے درمیانی طبقے کے لیے مکانات بنانے شروع کیے جو خوبصورت بھی تھی اور آرام دہ بھی۔ اس زمانے میں مزدوروں کے لیے مکانات بنانے کے بھی پرہجکٹ شروع ہوئے۔

    لیکن تھوڑے ہی دن بعد جدید اور انقلابی فن تعمیر نے امریکا، فرانس، جرمنی وغیرہ میں تیزی سے ترقی کرنی شروع کی مگر انگلستان ان کا ساتھ اس تیزی سے نہیں دے سکا۔

    اننت چتردشی : ماہ بھادوں کی ۱۴ تاریخ اننت چتردشی کہلاتی ہے۔ اس میں اننت یعنی وشنو بھگوان کی پوجا کی مذہبی رسم ادا کی جاتی ہے۔ وشنو کے کٹر پیروؤں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی ثواب کا دن نہیں ہے۔ غسل اور روزہ کے علاسہ اس دن وشنو پران اور شری بھاگوت کا پاٹھ کیا جاتا ہے اور اننت بھگوان کے نشان کے طور پر پاک اور کچے سوت کو بڑی محنت سے ہلدی میں رنگ کر اس میں ۱۴ گرہیں ڈال کر اننت
     
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۲

    سوتر بنایا جاتا اور ہاتھ میں باندھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بدولت روزہ رکھنے والے کو اننت یعنی لامحدود ثواب حاصل ہوتا ہے اور وہ مالا مال ہو کر ہر طرح سے سکھی رہتا ہے۔ اس برت میں صرف پھل بطور غذا استعمال کیا جاتا ہے۔

    روایت ہے کہ پانڈو جب جوا کھیل کر کوروؤں سے ہار گئے تو انھیں جنگلوں میں بہت سخت بن باس کاٹنا پڑا تھا۔ اسی وقت بھگوان سری کرشن نے پانڈوؤں سے ملاقات کی اور انھیں اننت چتردشی کا برت اور اس کی عظمت کو اچھی طرح ذہن نشین کروایا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی اس نصیحت پر عمل کر کے پانڈوؤں نے مہابھارت جنگ میں شاندار فتح پائی اور اننت یعنی لامحدود حکومت کے شہنشاہ ہو گئے۔

    انورادھا : ہندوستان کے علم نجوم کے قدیم ماہروں نے نکشتریا کوکب کا حیرت انگیز نقشہ کھینچا ہے۔ جس میں ۲۷ نکشتر کیے گئے ہیں اور انورادھا سترواں نکشتر ہے۔ علم اختر شناسی میں اس کا شمار دیوتاؤں کے گروہ اور جنس مؤنث میں کیا جاتا ہے جس پر علم نجوم کے عالم کسی شادی ٹھیرانے کے سلسلے میں خاص طور پر توجہ دیتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کوئی شادی علم نجوم کے لحاظ سے ہو سکتی ہے یا نہیں۔

    علم صرف و نحو کے زبردست ماہر پاننی نے اپنی تصنیف "اشٹ ادھیانی" میں "انورادھا نکشتر میں جنم" کے اہم عنوان پر اپنا قابل قدر مضمون لکھا ہے۔

    انومان ((انتاج)) : یہ منطق اور فلسفہ کی ایک اصطلاح ہے۔ ہندی فلسفہ میں علم حاصل کرنے کے ذرائع کو "پرمان" کہتے ہیں۔ انومان بھی ایک ذریعہ علم ہے۔ نظام چارواک کے سوائے ہندی فلسفہ کے سب ہی نظام انومان کو علم حاسل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس مضمون پر نیائے، ویشیشک فلسفہ نے بہترین علم کا اضافہ کیا
     
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۳

    ہے۔ کسی چیز کی علامت کے ذریعہ اس علامت والی چیز کا گیان حاصل کرنے کے طریقہ کو "انومان" کہتے ہیں۔ مثلاً چولہے وغیرہ میں روزانہ دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دھواں ہے وہاں آگ ضرور ہوتی ہے۔ اس مثال میں دھواں علامت ہے، یا نیائے کی اصطلاح میں "لنگ" ہے۔ اور آگ علامت والی چیز یا "لنگی" ہے۔ ہم نے بہت سی صورتوں میں دیکھا ہے کہ دھواں آگ سے متلازم ہوتا ہے۔ اس سے یہ تصور قائم ہوتا ہے کہ جہاں دھواں ہے وہاں آگ ہے۔ جب ہمیں معلوم ہو کہ پہاڑی پر دھواں ہے تو ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ پہاڑی پر آگ ہے۔ لنگ اور لنگی کا لزوم اصطلاحاً "ویاپتی" کہلاتا ہے۔ اس ویاپتی کے مشاہدہ پر ہی انومان کا انحصار ہے۔ ویاپتی دو قسم کی ہوتی ہے : ((۱)) سم ویاپتی اور ((۲)) ویشم ویاپتی۔ مثال کے طور پر جہاں خاک ہے وہاں بو ہے اور جہاں بو ہے وہاں خاک ہے۔ یہ سم ویاپتی ہے اور ویشم پتی کی مثال یہ ہے کہ جہاں دھواں ہے وہاں آگ ہے لیکن جہاں آگ ہے وہاں یہ ضروری نہیں ہے کہ دھواں بھی لازمی طور پر ہو۔

    چونکہ انتاج کی صحت علامت اور علامت والی شے کے لزوم کی صحت پر مبنی ہے، اس لیے سوال ہوتا ہے کہ ہر حالت میں ہم کس طرح اپنے آپ کو یقین دلائیں کہ لزوم کے یقین کا عمل درست ہے اور لزوم کا مشاہدہ صحیح ہے۔ نیائے کا جواب یہ ہے کہ تمام صورتوں میں صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ جہاں دھواں ہے وہاں آگ ہے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں آگ نہٰں وہاں دھواں بھی نہیں ہے۔ یعنی نہ صرف دھوئیں کے وجود سے آگ کا وجود ہو گا بلکہ آگ کے عدم وجود سے ہر حالت میں دھوئیں کا عدم وجود بھی ہو گا۔ اول الذکر کو اصطلاحاً انوئے ویاپتی اور موخر الذکر کو ویتریک ویاپتی کہتے ہیں۔
     
  7. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۴

    قدیم نیائے کی کتابوں میں تین قسم کے انتاج بیان کیے گئے ہیں : ((۱)) پورووت، ((۲)) شیش وت اور ((۳)) سامانیہ تودرشٹ۔ پورووت سے مراد علل سے معلولات کا انتاج ہے۔ شیش وت سے مراد معلولات سے علل کا انتاج ہے۔ سامانیہ تودرشٹ میں ایسے انتاج کا حوالہ دیا جاتا ہے جو علت و معلول کی تمام صورتوں کے علاوہ ہوتی ہیں۔ پورووت ایسے استدلال کی قائم مقامی کرتا ہے جس کی بنیاد اس مشابہت پر ہو کہ اس کا مشاہدہ ماضی میں کیا گیا تھا۔ مثلاً پہاڑی پر دھواں دیکھ کر پچھلے تجربہ کی بنا پر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ وہاں آگ ہے۔ یہ استدلال کی ایک معمولی صورت ہے۔ شیش وت وہ استدلال ہے جس میں خارج کرنے کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بالواسطہ طریقہ ثبوت ہے۔ جیسا کہ بعض وقت یوقلیدس کے "عناصر" میں دکھائی دیتا ہے۔ تیسری قسم سامانیہ تودرشٹ ہے جس میں جو کچھ حسی اشیا کے حلقہ میں پایا جاتا ہے، اس کی امداد سے فوق الحس کے حلقہ میں متوازی صورتوں کا استدلال کیا جاتا ہے۔ یہ محض تمثیلی استدلال ہے اور خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے بھی نیائے ویشیشک میں اس قسم کی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں۔

    انتاج کے دو اور پہلو ہیں۔ ایک وہ جو خود اپنے شک کو رفع کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو دوسروں کے شک کو دور کرتا ہے۔ پہلے کو "سوارتھ" اور دوسرے کو "پرارتھ" کہتے ہیں۔ پرارتھ انومان الفاظ کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی لفظی شکل خود انتاج کے کسی حصہ کو ترتیب نہیں دیتی۔ وہ صرف سننے والے کے ذہن کو ضروری طریقہ سے رہبری کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کی وجہ سے اس کا ذہن بھی فکر کے اسی طریقہ عمل کی ابتدا کرتا ہے جو کہنے والے کے ذہن میں ہوتا ہے۔ منطق کا لفظی نقطہ خیال جو مغرب میں عام طور پر رائج ہے اس کو یہاں رد کر دیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ہرگز یہ فراموش نہیں کیا گیا کہ منطق کا اصل مضمون "فکر" ہے نہ کہ اس کی
     
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۵

    لسانی شکل جس میں اس کا اظہار ہو سکتا ہے۔ ہندوستانی منطق میں صداقت کے غیر محتاط تصور کا شبہ بھی نہیں ہو سکتا جو کہ محض قیاسی اور صوری ہوتی ہے۔ اور جو واقعاً غلط بھی ہو سکتی ہے۔ وہ موضوع، محمول اور رابطہ کا لفظی امتیاز باقی نہیں رکھتی۔ وہ مطلق اور مشروط یا ایجابی و سلبی قضایا کی جماعتوں کو قبول نہیں کرتی۔ یہ سب منطق کے لیے غیر متعلق ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ علم برائے علم پر غور و فکر کیا جائے۔

    مندرجہ ذیل ہندوستانی قیاس کے اجزا یا اراکین کا ایک نمونہ ہے :

    ((۱)) پرتگیا : اس جزو کی حیثیت ایک دعوے کی سی ہے جو کسی مسئلہ کو ثابت کرنے کے پیشتر کیا جاتا ہے جیسے سامنے کی پہاڑی پر آگ ہے۔

    ((۲)) ہیتو : یا دلیل جیسے وہاں دھواں نکل رہا ہے۔ اس کی حیثیت ایک استدلال کی ہے جو دعوے کو ثابت کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

    ((۳)) درشٹانت : یا مثال جیسے جہاں بھی دھواں ہوتا ہے وہاں آگ ضرور ہوتی ہے۔ جیسے باورچی خانہ میں۔ اس کی حیثیت ایک نظیر کی ہے جو اپنے دعوے کو مضبوط کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔

    ((۴)) اپ نئے : سامنے کی پہاڑی پر ایسا دھواں ہے جیسا کہ ہمیشہ آگ کے ساتھ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں یہ بتلایا جاتا ہے کہ مسئلہ زیر بحث کے ساتھ پیش کی ہوئی نظیر کا اطلاق ہوتا ہے۔

    ((۵)) نگمن : اس لیے سامنے کی پہاڑی پر آگ ہے۔ یہاں دعوے ثابت کیے جانے کے بعد نتیجہ کے طور پر اس کا اظہار کیا جاتا ہے۔
     
  9. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۶

    اوتار واد : دنیا کے مختلف ممالک اور مذاہب میں اوتار کا نظریہ مذہبی اصولوں کی طرح عزت اور اعتقاد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مشرقی اور مغربی مذاہب میں ان نظریہ کو بالعموم واجب التعظیم سمجھ کر قبول کیا گیا ہے۔ ہندو دھرم میں اوتارواد کی بے حد عظمت ہے اور بہت قدیم زمانہ سے جدید دور تک اس دھرم کے بنیادی اصولوں کے صف اول میں ہے۔ سرسری طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اوتار کے معنی اترنے کے ہیں یعنی زمین پر ایشور کا نیچے اتر کر آنا اور اس میں یہ تصور شامل ہے کہ جب انسان میں ایسا رحجان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے باطن کی الوہیئت کو بھول کر غیر روحانی حالت میں بد سے بدتر ہو جاتا ہے تو اس وقت ایک دیوتا مداخلت کرتا ہے۔ بھگوت گیتا میں کہا گیا ہے کہ "جب دھرم گھٹتا جاتا ہے اور ادھرم بڑھتا جاتا ہے تب میں اوتار لیتا ہوں، یعنی دیوتا ایک شکل اختیار کر کے دوبارہ دھرم قائم کرتا ہے اور ایسا کرنے میں وہ انسان کے لیے مادی شکل میں ایک ایسے نصب العین کا کام دیتا ہے جو ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے۔ خداپرستی کی فکر کے اس میلان کو بھاگوت طرز کی خداپرستی کہا جاتا ہے۔ یہاں صرف ایک ماورائی وجود ایشور کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ویدک خدا پرستی میں ایشور کو ماورائی وجود اور محیط کل بھی سمجھا جاتا ہے۔ بھاگوت دھرم کی ابتدا ملک کے اس حصہ میں ہوئی جو گنگا اور جمنا کے درمیان مدھیہ دیش کے مغرب میں ہے۔ اد دھرم کو بدھ کے بہت قبل سری کرشن نے دریافت کیا تھا۔ وہ وہاں بسنے والے آریہ قبیلہ میں ایک فوق البشری صفات رکھنے والے برگزیدہ انسان تھے۔ اس دھرم کی اساسی خصوصیات یہ ہیں کہ ایک ہی شخصی ایشور واسدیو میں عقیدت رکھی جائے اور ان کی ہی پکی اور ثابت قدم بھگتی کی جائے جو مکتی یا نجات بخشنے والی ہے اور جس نے اس دھرم کی تلقین کی تھی۔ بعد میں اسی کو دیوتا بنا دیا گیا اور اس کع بعینہ ایشور سمجھنے لگے۔ مہابھارت کے مطالعہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت
     
  10. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۷

    سری کرشن پرمیشور کے طور پر پوجے جانے لگے تھے۔ چونکہ پرانوں میں زیادہ تر ایشور کے مختلف اوتاروں کی کتھا آتی ہے اس لیے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ صرف پرانوں کی دین ہے بلکہ ویدوں میں ہمیں اوتار واد کا بنیادی اور قدیم ترین ثبوت ملتا ہے۔ ویدوں کے مطابق روحوں کی حفاظت اور تمام مخلوق کی نجات کے لیے پرجاپتی دیوتا نے مختلف شکلیں اختیار کیں۔ شت پٹھ براہمنی ادب میں مچھلی کے شکل میں اوتار لینے کا واضح ذکر دستیاب ہوتا ہے۔ کچھوے کی شکل میں اوتار لینے کا ذکر شت پتھ اور جیمنی دونوں براہمنوں میں ملتا ہے۔ اسی طرح سور کی شکل میں آنے کا ذکر تیتری سمہتا میں ملتا ہے اور نرسنگھ اوتار کی طرح آنے کا ذکر بھی تیتری آرن یک میں ملتا ہے اور رگ وید کے وشنو سوتروں میں اس کے اشارے ملتے ہیں۔ اس طرح پرانوں میں بھگوان کے اوتاروں کی کتھا جو جابجا ملتی ہے اس کا انحصار ویدک ادب پر ہے۔

    اودیا ((لاعلمی)) : یہ تمام التباس کی علت ہے۔ اس کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ لاآغاز ہے۔ تاہم ایجابی ہے۔ اور علم ہوتے ہی ہٹ جاتی ہے۔ اگرچہ وہ خود عام چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے جن کا آغاز وقت میں ہوتا ہے اور ادراک کی معروضات بننے سے پیشتر اگیان یا اودیا کا نقاب پڑ جاتا ہے لیکن خود اس کا آغاز نہیں ہے اس لیے کہ وہ خود خالص شعور سے متلازم ہے جو لاآغاز ہے۔ اور اگرچہ اس کو ہستی رکھنے والے وجود کے طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن وہ بہت اچھی طرح نیستی کی اصلیت کو بھی ترتیب دے سکتی ہے اس لیے کہ یہاں ہستی سے مراد نیستی کا تضاد نہیں ہے بلکہ نیستی سے اپنے اختلاف کو محض غور کرنا ہے۔ کسی واقعی ہستی کے مانند اودیا کوئی واقعی وجود نہیں ہے۔ اس کو ہست صرف اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ محض نیستی نہیں ہے۔ وہ ایک ایسا مقولہ ہے جو عام مفہوم میں نہ ہست ہے نہ نیست بلکہ ایک تیسری ہی چیز ہے جو ہستی اور نیستی
     
  11. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۸

    دونوں سے مختلف ہے۔ بعض وقت یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اودیا محض ایک پرفریب تخیل ہے جو کسی نقص سے پیدا ہوتا ہے۔ لہذا وہ لاآغاز نہیں ہو سکتی لیکن ویدانت یہ تسلیم کرتا ہے کہ اودیا خواہ تخیل ہو یا دھوکہ اس کے معنی ہرگز یہ نہیں کہ وہ ایک عارضی تصور ہے۔ جس کو نقائص نے پیدا کیا ہے اس لیے کہ شعور جو التباس کی اصل ہے ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے اودیا جو ہمیشہ اس کے ساتھ متلازم ہے وہ بھی لاآغاز ہے۔ اودیا غیر معین ہے جو ہر ایک چیز کو ڈھکے ہوئے ہے۔ اس لحاظ سے وہ معین ہونے یا ہست اور نیست ہونے سے مختلف ہے۔ اگرچہ وہ لاآغاز ہے تاہم علم کے ذریعہ اس کا مٹایا جانا ممکن ہے۔ اس لیے کہ آغاز کا ہونا یا نہ ہونا کسی طرح اس امر کو متعین نہیں کر سکتا کہ آیا کوئی چیز فنا ہونے والی ہے یا نہیں۔ چونکہ کسی چیز کا فنا ہونا اس چیز کی موجودگی پر منحصر ہوتا ہے جو اس کی علت ہوتی ہے اور یہ تو واقعہ ہے کہ علم نمودار ہوتے ہی التباس دور ہو جاتا ہے۔ اس سے کوئی مطلب نہیں کہ وہ علت جس نے التباس کو پیدا کیا تھا لاآغاز تھی یا نہیں۔ بہرحال بعض ویدانتی اودیا کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ وہ جوہر ہے جو التباس کو تشکیل دیتا ہے اور اگرچہ اس کی کوئی مثبت ہستی نہیں ہے تاہم اس کا تصور اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ وہ جوہر التباس ہے۔ جہاں کہیں التباس ہوتا ہے وہاں وجود کے دو طبقات میں الجھن ہوتی ہے۔ اس واقعہ سے ہم یہ اخذ کرتے ہیں کہ ہر ایک التباس قبل از قبل لاعلمی کو فرض کرتا ہے۔ ہم چونکہ سیپی سے غافل ہوتے ہیں اس لیے اس کی بجائے چاندی کو دیکھتے ہیں۔ یہ دو طریقوں سے عمل کرتی ہے۔ وہ سیپی ہونے کے واقعہ کو چھپاتی ہے اور اس کی جگہ چاندی کو دکھاتی ہے۔ ایک سیپی کی جگہ چاندی دکھائی دینے کے لیے سیپی کا چھپنا ضروری شرط ہے۔ اس کے ان دو پہلوؤں کو بالترتیب "آورن" اور "وکشیپ" کہا جاتا ہے۔ آورن چونکہ سیپی کو بالکل ہی نظر سے غائب نہیں کرتی اس لیے اس کو فہم کا
     
  12. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۰۹

    فقدان یا فکر میں محض خالی جگہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ غلط فہمی کہہ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ایجابی ہے نہ کہ سلبی۔ یہ ودیا یا علم کی مخالف ہے لیکن متناقض نہیں اور اودیا کا ہٹانا غلطی کے غائب ہونے کی شرط ہے۔ وہ ایک خاص فرد اور خاص شے کا تعلق ہے جس میں یہ اودیا الجھ جاتی ہے اور چونکہ وہ ایک خاص خارجی شے کو اپنی بنیاد کے طور پر رکھتی ہے اس لیے چاندی وہاں مکانی طور پر محدود ہو کر دکھائی دیتی ہے اور یہ محض کوئی تصور نہیں ہے۔ جب تک ایک شخص چاندی کو دیکھ رہا ہے جہاں صرف سیپی موجود ہے وہ اس وقت اس کو غلط نہیں سمجھتا۔ اس کے برعکس وہ یقیناً محسوس کرتا ہے کہ وہ دوسرے کسی علم کی طرح صحیح ہے۔ لیکن جب وہ اس شے کے نزدیک پہنچتا ہے، اس کو اٹھا لیتا ہے اور معلوم کر کرتا ہے کہ وہ شے بہت ہلکی ہے وہ چاندی نہیں ہو سکتی وہ یک دم سمجھ جاتا ہے کہ وہ غلطی پر تھا، اور لاعلمی دور ہو جاتی ہے۔

    اویکت : فلسفہ سانکھیہ میں آخری غیرظاہر علت کو اویکت مول پر کرتی یا "پردھان" کہا گیا ہے۔ علت و معلول کے مسئلہ کو اشیائے کائنات پر عائد کریں تو تمام چیزیں چار جماعتوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں اول وہ چیز جو فقط علت ہے۔ دوسری وہ کہ علت بھی ہے معلول بھی۔ تیسری وہ جو فقط معلول ہے اور چوتھی وہ کہ نہ علت ہو نہ معلول۔ پانچویں جماعت کا کوئی امکان نہیں۔

    ہم یہاں اس جزو پر غور کرتے ہیں جو فقط علت ہے۔ کائنات میں ہر ایک چیز کی علت ہوتی ہے۔ اس علت کی ایک اور علت ہوتی ہے اس طرح ایک سلسلہ لامتناہی پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس سلسلہ کی انتہا تسلیم کرنا لازم ہے۔ اس لیے کہ معلول کائنات موجود ہے اور اس کی آخری علت کوئی ہونی چاہیے۔ اسی آخری علت کو سانکھیہ میں مول پر کرتی، پردھان یا اویکت یعنی غیر ظاہر کہا گیا ہے۔ یہی اصل مادہ یا غیر ظاہر پر کرتی ہے جو اپنے باطنی غیر ظاہر
     
  13. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۰

    وجود سے کائنات کی تمام اشیا کو پیدا کرتی ہے اور بذات خود ہست ہے۔ اسی اویکت پرکرتی سے تمام پیدا شدہ چیزوں کا ارتقا ہوتا ہے۔ یعنی ہر ایک چیز اسی اویکت یا غیر ظاہر کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے "پرکرتی"۔

    اویوا : کسی شے کے اجزا کو "اویوا" کہا جاتا ہے اور اجزا والے وجود کو "اویوی" کہتے ہیں۔ بدھ اور نیائے کے پیروؤں میں اس کے متعلق کافی اختلاف ہے۔ بدھ مت میں جوہر کو صرف سالمات کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے اور نیائے کے پیرو یہ سمجھتے ہیں کہ اجزا کے ذریعہ معلوم ہونے والا وجود ایک مستقل جوہر ہوتا ہے۔ اس کو محض حصوں کا مجموعہ نہیں کہا جا سکتا۔ بدھ مت کے پیرو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک صراحی اگرچہ اجزا لاتجزی کا مجموعہ ہے لیکن اس کے ادراک کو غلط تصور نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ایک سالم کا ادراک نہیں ہوتا لیکن سالمات کے مجموعہ کا صاف ادراک ہوتا ہے۔ مثلاً دور سے ایک بال ممکن ہے کہ نظر نہ آئے۔ لیکن جب بالوں کا گچھا ہمارے سامنے ہوتا ہے تو اس کے ادراک سے نفی نہیں کی جا سکتی۔ نیائے کے پیرو اس کی زبردست تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اجزائے لاتجزی سالمات اور بال کو یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سالمات چونکہ ایسے اجزائے لاتجزی ہیں جن کا ادراک نہیں ہو سکتا، اس لیے ان کے مجموعہ کا ادراک بھی ناممکن ہے۔ بال تو ناقابل ادراک نہیں ہیں۔ اگر وہ نزدیک لائے جائیں تو صاف دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ناقابل ادراک اجزا لاتجزی کے مجموعہ سے قابل ادراک مجموعہ کسی منطق سے بھی حاصل نہین ہو سکتا اور اسی طرح اگر صراحی محض سالمات یعنی اجزا کا مجموعہ ہو تو وہ بھی کبھی دکھائی نہیں دے سکے گی۔ لیکن صراحی کا ادراک تو ہوتا ہے اس لیے وہ ان اجزا کا محض مجموعہ نہیں ہے بلکہ اجزا سے جداگانہ ایک مستقل ذات ثابت ہوتی ہے۔ ہندی فلسفہ میں منطقی قیاس
     
  14. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۱

    کے اراکین کو بھی "اویوا" کہا جاتا ہے۔ جیسے :مقدمہ کبری"، "مقدمہ صغری"، نتیجہ۔ ان کو بھی اجزائے قیاس کہا جاتا ہے۔

    اہلِ سنت والجماعت : مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں ((سنی اور شیعہ)) میں سے اول الذکر گروہ کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں۔ علمائے اہل سنت اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم پر عمل پیرا رہتے ہیں اور تمام صحابہ کرام ((مہاجرین و انصار)) کو عادل اور مومن تسلیم کرتے ہیں اور ان کے خلاف لب کشائی سے قطعی اجتناب کرتے ہیں۔ عشرہ مبشرہ کی شان میں گستاخی کو حرام سمجھتے ہیں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازدواج مطہرات اور اولاد امجاد کے ساتھ احترام و محبت کے قائل ہیں۔ یہ وہ جماعت ہے جس میں اہل الرائے اور اہل حدیث ہر دو گروہوں کے فقہا، محدثین اور متکلمین شامل ہیں اور اللہ کی وحدانیت اور اس کی صفات کی ہم نوائی کے ساتھ نبوت، امامت، آخرت اور دوسرے احوال دین پر متفق ہیں۔ بڑے بڑے آئمہ مثلاً امام مالک، اما شافعی، امام ابو حنیفہ، امام اوزاعی، امام احمد بن حنبل، امام ثوری وغیرہ اسی جماعت میں شامل ہیں۔ جو شخص حدوث عالم، خالق کائنات کی وحدانیت، تشبیہ و تجسیم سے پاک ہونے، اس کی صفات ((عدل و حکمت)) اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور ان کے پیغام کے تمام انسانوں کے لیے کافی اور برحق ہونے پر ایمان رکھتا ہو اور یہ بھی مانتا ہو کہ قرآن احکام شریعت کا سرچشمہ ہے اور کعبہ ہی کی طرف منھ کر کے نماز پڑھنا فرض ہے ایسا شخص سنی ہے یعنی ملت اسلامیہ کے سواد اعظم ((سب سے بڑی جماعت)) میں شامل ہے۔ جو لوگ سنت سے منکر تھے وہ خوارج اور معتزلہ
     
  15. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۲

    کہلائے۔ خوارج اور معتزلہ کا عروج دوسری صدی میں ہوا مگر کچھ ہی عرصہ بعد یہ فرقے ختم ہو گئے تاہم مسئلہ خلافت پر ایک اختلافی گروہ شیعان علی کا تھا جو آگے چل کر اہل تشیع یا شیعہ کہلائے۔

    اہل سنت والجماعت کی اصطلاح جامع شکل میں کب مروج ہوئی اس سلسلے میں کوئی قطعی رائے قائم کرنا دشوار ہے لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ تیسری صدی ہجری میں خلیفہ متوکل ((۸۴۶ تا ۸۶۱)) کے عہد میں رائج ہوئی۔ ابو الحسن اشعری کی تحریک اشاعرہ ((جو کلامیہ مسلک کی تائید میں تھی)) کے پیروکاروں نے خود کو اہل سنت والجماعت قرار دیا اور یہ تحریک عوام میں مقبول ہوئی۔

    اہل سنت والجماعت کے عقائد کو خلفا اور سلاطین کی حمایت و سرپرستی بھی حاصل رہی۔ عباسی خلفا کے دور میں خلیفہ متوکل کے زمانے میں اس مسلک کا فروغ ہوا اور اس کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی۔ مصر و شام میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے اہل سنت کے مسلک کو سرکاری مذہب کی حیثیت دی۔ اسی طرح مغربی افریقہ اور اندلس میں بھی اہل سنت کے مسلک کو سرکاری حمایت حاصل ہوئی۔ غزنوی اور دہلی کی سلطنت کے بادشاہ بھی اس کی پرزور حمایت کرتے تھے۔ یہی حال اورنگ زیب عالمگیر کے عہد حکومت اور ٹیپو سلطان کے قوانین میں ملتا ہے۔

    اہنسا : ہندو شاستروں کے نقطہ نظر سے اہنسا کے معنی یہ ہیں کہ ہر وقت اور ہر مقام پر اپنے فعل، اپنی بات بلکہ اپنے خیال سے بھی تمام جانداروں کے ساتھ کسی قسم کی عداوت یا بغض نہ رکھا جائے۔ کسی کو ایذا نہ پہنچائی جائے۔ یوگ شاستر میں اہنسا کو تمام مثبت اور منفی اخلاقی قواعد کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ صداقت کی عظمت اور قدر ہر لحاظ سے دنیا کے ہر حصہ میں تسلیم کی جاتی ہے۔ لیکن اگر کہیں اہنسا سے ستیہ یا صداقت کا تصادم ہو جاتا ہے
     
  16. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۳

    تو واقعی صداقت باقی نہیں رہتی بلکہ مغالطہ صداقت مانا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے صداقت کی کسوٹی بھی اہنسا ہے۔ جین دھرم میں کہا جاتا ہے "اہنسا پرمودھرما" یعنی سب سے بڑا دھرم اہنسا ہے۔

    اہنکار ((خودی)) : فلسفہ سانکھیہ میں اہنکار ایک اہم اصطلاح ہے۔ جس طرح گہری نیند کے بعد جب آنکھ کھلتی ہے تو سب سے پہلے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی حالت ویسی تو نہیں ہے جیسی کہ گہری نیند میں تھی بلکہ بیداری کا ایک غیر واضح اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسا کوئی مخصوص احساس نہیں ہوتا کہ "میں کیا ہوں" یا میرے گرد و پیش کیا چیزیں ہیں۔ اسی طرح پرکرتی یا مادہ کے پہلے ارتقا کو "مہت تتو" کہتے ہیں۔ اس حالت میں انفرادیت نہیں ہوتی۔ یہ ایک ہموار آنند اور منور حالت ہے۔ لیکن جب اس میں تبدیلی ہوتی ہے تو انفرادیت کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی کا اہنکار کہتے ہیں۔ اس حالت میں اس کو یہ گیان ہوتا ہے کہ میں کچھ ہوں۔ اسی "میں" کے گیان کا نام اہنکار ہے۔ اور یہ اس صورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ "میں" نے جانا۔ یہ چیز "میری" ہے۔ غرض کہ جب ظہورات موجود ہو جاتے ہیں تو ان کے ساتھ "میرا" "مجھ کو" وغیرہ کے تعلقات کا علم ہوا کرتا ہے۔

    اہنکار چونکہ پرکرتی کا معلول ہے۔ اس لیے پرکرتی کے تین گن یعنی ست، رج اور تم اس میں بھی موجود ہیں۔ اور ان سے تین طرح کی تخلیق ہوتی ہے۔ اہنکار کے ستوگن سے "من" پیدا ہوتا ہے۔ جس کا کام یہ ہے کہ ایک ارادہ کرے اور دوسرے ارادے کو فسخ کرے۔ جب معروضات کا علم اندر لاتے ہیں تو من اس کی جانچ کرتا ہے۔ گزشتہ علم سے اس کی نسبت جوڑتا ہے۔ گویا اپنے رنگ میں رنگین کرتا ہے اور اس کے بعد بدھی کے سامنے پیش کرتا ہے۔ بدھی، اہنکار اور من کو "انتہ کرن" یا جامہ باطن کہا جاتا ہے۔ اہنکار کے رجوگن سے پانچ گیان اندریاں یعنی حاسہ علمیہ اور پانچ کرم لندریاں یعنی حاسہ عملیہ پیدا ہوتے ہیں۔ اہنکار کے تموگن سے پانچ "تن ماترا" یا
     
  17. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۴

    خالص لطیف جوہر پیدا ہوتے ہیں جن کے نام ہیں شبد یعنی آواز۔ سپرش یعنی لمس۔ روپ یعنی رنگ و صورت۔ رس یعنی ذائقہ۔ گندھ یعنی بو۔ یہ لطیف معروضات ہیں۔ علمیہ حاسے اور عملیہ حاسے یہاں اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ چونکہ گیان اندریاں، کرم اندریاں اور تن ماترا یہ سب اہنکار کے معلولات ہیں اس لیے یہ ایک ہی مادہ سے بنے ہوئے ہیں اور درحقیقت ایک ہی چیز ہیں۔ صرف ان کے مفوضہ کام سے ان کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ پرش ان سے بے تعلق رہتا ہے۔ ہندی فلسفہ میں اہنکار کو زوال پذیر ہونے کی علت تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ اس کی وجہ سے آتما کا صحیح گیان نہیں ہونے پاتا۔ حقیقی عالم میں اہنکار سے آزاد ہونا چاہیے۔ لیکن عملی دنیا میں اہنکار کے بغیر زندگی محال ہے۔

    ایبنگ ہاوز، ہرمن ((۱۹۰۹ – ۱۸۵۰، Ebbinghaus, Hermann)) ایبنگ ہاوز ایک مشہور جرمن ماہر نفسیات ہے جس کو موجودہ تجربی نفسیات ((Experimental Psychology)) کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایبنگ ہاوز ۲۴ جنوری ۱۸۵۰ کو بارمین ((Barmen)) میں پیدا ہوا۔ سب سے پہلے اسی نے آموزش ((Learning)) اور حافظہ ((Memory)) کے عمل پر سائنسی طریقے سے تجربے کیے۔ ابتدا میں اس نے خود اپنے اوپر بہت سے تجربات کیے۔ اس وقت کے مروجہ نفسیاتی تصورات کے خلاف اس نے سائنسی طریقوں کو اعلٰی فکری اعمال ((Higher Thought Process)) پر لاگو کیا۔ حافظہ کے متعلق ایبنگ ہاوز کی یہ دریافت کہ یہ منظم ((Orderly)) ہوتا ہے، بہت بڑا کارنامہ ہے اور اسی کارنامہ کی بنا پر اس کو برلن یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر کیا گیا۔ ایبنگ ہاوز کے دریافت کردہ طریقے اور ایجاد کردہ سامان ((Material)) آج بھی حافظہ کے مطالعہ اور لفظی آموزش ((Verbal Learning)) کے
     
  18. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۵

    سلسلے میں استعمال ہوتے ہیں۔ بے معنی رکن تہجی ((Non-sense Syllable)) یعنی ایک تین حرفی یونٹ جس میں ایک حرف علت ((Vowel)) اور دو حروف صحیح ((Consonanta)) ہوتے ہیں اور جس سے کوئی بامعنی لفظ نہیں بنتا۔ اس طریقے کی ایک اہم مثال ہے۔ بھولنے کی رفتار کے لیے ایبنگ ہاوز نے ایک خط منحنی ((Curve)) دریافت کیا جسے ایبنگ ہاوز خطِ ماسکہ ((Ebbinghause Curver or Retention)) کہا جاتا ہے۔ جو کچھ بھی سیکھا جاتا ہے ابتدا میں جلدی جلدی حفظے سے نکل جاتا ہے اور بعد میں بتدریج آموزش کے مواد۔ اس کے سیکھنے کے عرصے کے سلسلے میں اس نے جو اصول دریافت کیا ہے اس کو قانون ایبنگ ہاوز ((Ebbinghaus Law)) کہا جاتا ہے۔ اس کی رو سے اگر آموزش کے مواد میں تھوڑا سا بھی اضافہ کیا جائے تو اس کے سیکھنے کے عرصے میں قابل لحاظ اضافہ ہو جاتا ہے۔

    ایبنگ ہاوز ایک قادر الکلام مصنف تھا۔ اس کی علمی نثر بہت زیادہ واضح اور روشن ہے۔ اس کی کتاب مبادیات نفسیات ((Grundzuge Der Psychologic)) اپنے وقت کی بہت ہی کامیاب کتاب تھی۔

    اس وقت کے ماہرین نفسیات جس چیز کی ضرورت شدت سے محسوس کر رہے ہیں یعنی نفسیات کا فلسفہ سے قطع تعلق ہونا، اس کی ایبنگ ہاوز نے بہترین ترجمانی کی ہے۔

    حافظہ پر اپنا کام مکمل کرنے کے بعد ایبنگ ہاوز دوسرے موضوعات خصوصی طور پر رنگوں کے بصری ادراک ((Colour Vision)) اور بچوں کی ذہنی استطاعت کو ناپنے اور جانچنے کی طرف متوجہ ہوا۔ ۱۸۹۴ میں وہ برلن سے برسلو ((Braslau)) گیا جہاں اسے ایک اچھی ملازمت ملی۔ وہاں سے وہ ۱۹۰۵ میں ہالے ((Halle)) گیا جہاں ۲۶ فروری کو اس کا انتقال ہو گیا۔
     
  19. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۶

    ایپیکورس ((۳۴۱ ق۔م۔ – ۲۷۰ ق۔م۔)) : ساموس کا باشندہ جس نے ۳۰۶ ق۔م۔ میں ایتھنز میں اپنے مکتب لذتیت کی بنیاد ڈالی جہاں اس نے اپنے پیروؤں کو ذی عقل طریق زندگی کا سبق دیا۔ اس کی تعلیم بھی کہ لذت و مسرت ہی زندگی کا فطری نصب العین ہے مگر بعد کی غلط فہمیوں کے برعکس اس نے ہمیشہ ذہنی مسرت کو جسمانی لذت پر ترجیح دی اور اعتدال و ذہانت کے مطابق مسرت کے حصول کی تعلیم دی۔ عالم طبیعی کی توضیح میں اس نے دیمقراطیس کے نظریہ جوہریت کو تسلیم کیا مگر اس نے یہ کہا کہ جوہر کی حرکت میں اتفاق کا عنصر شامل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے جوہر کی راہ بدلتی رہتی ہے۔

    ایڈلر، آلفرڈ ((۱۹۳۷ – ۱۸۷۰، Adler, Alfred)) : آسٹریا کا مشہور ماہر علاج امراض نفسی ((Psychologist))، اس نے انفرادی نفسیات ((Individual Psychology)) کے مکتب کی بنیاد رکھی۔ یہ فرائڈ ((Freud)) کے شروع کے دور کے شرکائے کار میں سے تھا لیکن بعد میں اس کا ساتھ چھوڑ دیا اس لیے کہ اسے فرائڈ کا جنس ((Sex)) پر ضرورت سے زیادہ زور دینے سے اتفاق نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ فرد کی مشکلات کی جڑ احساس کمتری ہے جو جسمانی کمزوریوں سے پیدا ہوتی ہے یا جب ماحول رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے اور خود اپنی طاقت اور اثر استعمال نہیں کر پاتا۔ چنانچہ ان کمزوریوں کو پورا کرنے کی ناموزوں کوشش سے کردار ((Behavious)) میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔

    اپنی عمر کے آخری ایام میں ایڈلر امریکا میں درس و تدریس کا کام کرتا رہا اور ساتھ ہی اس نے پریکٹس بھی شروع کر دی۔ وہ نفسیات اور امراض نفسی پر کئی کتابوں کا مصنف بھی ہے۔
     
  20. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,051
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    فائل کا نام : پارٹ ۲، فائینل ۱
    صفحہ ۲۱۷

    ایڈمنڈ ہسرل ((۱۹۳۸ – ۱۸۵۹، Edmund Husserl)) : ایڈمنڈ ہسرل چیکوسلوواکی موراویا ((Czechoslovakian Moravia)) میں پیدا ہوا تھا جو اس وقت آسٹریا کی مملکت کا ایک حصہ تھا۔ ابتدائی تعلیم سے فراغت کے بعد اس نے لپزگ، برلن اور ویانا کی تعلیم گاہوں میں ریاضیات، طبیعیات اور علم نجوم کا مطالعہ کیا۔ ۱۸۸۶ میں اس نے ریاضیات کے اندر پی۔ ایچ۔ دی۔ کی سند حاصل کر لی۔ ۱۸۸۲ میں برلن کے مقام پر وہ مشہور ماہر ریاضیات کارل تھیوڈور ویرسٹ راس کا معاون بن گیا۔ لیکن وہ شروع سے ہی فلسفہ میں دلچسپی رکھتا تھا۔ لہذا سائنس کا معلم بننے کا ارادہ ترک کر کے وہ ۱۸۸۳ میں مشہور فلسفی فرانزبرنٹانو ((Franz Brentano)) کے زیر ہدایت مطالعہ کی غزض سے ویانا واپس آ گیا۔ اس کے بعد اس کی تمام علمی زندگی فلسفہ کی خدمت میں صرف ہوئی۔ ۱۸۸۷ میں ہو ہیلے ((Halle)) یونیورسٹی کے اندر فلسفہ کا معلم مقرر ہوا جس سے وہ ۱۹۰۱ تک منسلک رہا اور اسی دوران اس کی کتاب "منطقی انکشافات" ((Logical Investigations)) کی اشاعت عمل میں آئی۔ ۱۹۰۱ میں وہ گوٹنجن ((Gottingen)) چلا گیا جہاں ۱۹۱۶ تک تدریسی و تخلیقی کاموں میں سرگرم عمل رہا۔ ۱۹۱۶ سے ۱۹۲۹ تک وہ فرے برگ ((Frei Burg)) میں یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر کے عہدہ پر فائز رہا۔ اس کی زندگی کے باقی ماہ و سال بھی یہیں گزرے۔ اپنی یہودیت نسلیت کی وجہ سے زندگی کے آخری چند سالوں میں وہ مختلف اقسام کے سماجی اور سیاسی دباؤ کا شکار رہا۔

    میکس شیلر ((Max Scheler)) کے ساتھ ساتھ ہسرل مظہریاتی مکت فکر ((Phenomenological School)) کا بے حد ذی اثر فلسفی ہے۔ ہسرل کی مظہریت ایک مابعد الطبیعیاتی
     

اس صفحے کی تشہیر