احمدی اقلیت اور ہمارے علما کا رویہ

dxbgraphics

محفلین
جب دین واضح کر چکا ہے کہ کسی داعی نبوت سے دلیل یا ثبوت مانگنے والابھی کافر ہو جاتا ہے تو پھر ریاست اس دینی معاملہ میں کسی کو استثنیٰ کیسے دے سکتی ہے؟
کیا ریاست نعوذ باللہ دین سے بھی اوپر کی کوئی چیز ہے؟

ریاست جب قانون سازی کرے گی تو اس کے تقاضے پورے کرے گی۔ اور وہی تقاضے پورے کئے گئے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔
 

dxbgraphics

محفلین
مطلب تو پھر آپکی باتوں سے صاف لیا جائے کہ اگر کوئی ہم سے اختلاف کرے تو ٹھوک تو بس ۔
کوئی بات ہے سننی کوئی بات سمجھانی نہیں
آپ کی تقلید کرتے ہوئے ہی کسی بنک کے گارڈ نے ٹھوک دیا تھا بنک مینجر کو۔

اللہ آپکے حال پر رحم کرے بس آمین ثم آمین۔

مجھ سے اختلاف کرنے کی گنجائش ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا کہ آپ ﷺ خاتم النبین ہیں تو اس سے اختلاف کو کسی بھی صورت میں ہرگز تسلیم نہیں کرتے
 

dxbgraphics

محفلین
آپ بار بار مجھے دانستہ قادیانی مذہب کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ بات متعدد بار واضح طور پر کہی جا چکی ہے۔ یوں تو میں نے پہلے ہی آپ کی اس "سپیشل تکنیک" کی جانب اشارہ کر دیا تھا۔ یہاں پر سوال میرا مدیران سے ہے۔ جن کی ایک جانب "قابل اعتراض الفاظ" کی فہرست تو اتنی وسیع ہے کہ کوئی ریپسٹ کو ریپسٹ تو کہہ کر دکھا دے۔ دوسری جانب کسی پر مذہب کے حوالے سے سنگین الزامات کبھی براہ راست تو کبھی اشاروں میں کہی جاتی رہے، ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حیرت ہے۔
کیا مجھے ایک بار پھر Exhibit A تا Exhibit Z کی فہرست بنانی پڑے گی؟

الحمد للہ ۔ اللہ گواہ ہے کہ میں نے آپ کو ہرگز ہرگز دانستہ یا غیر دانستہ قادیانی مذہب سے نہیں جوڑا۔ اور آپ کو رد عمل الحمد للہ قادیانی مذہب کے جھوٹے ہونے ہی کی وجہ سے ہے۔ کہ آپ اپنے آپ پر اس کا نام برداشت نہیں کر سکتے۔

رہی بات سمجھنے نہ سمجھنے کی تو آپ ایک ہی سوال پچاس طریقوں سے دہرائیں گے تو میں سب کا وہی جواب دوں گا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے بعد ، قرون اولیٰ کے علماء کے فتاویٰ کے بعد 7 ستمبر 1974 کے آئین پاکستان کے تحت 295 بی کے قیام کے بعد ’’دلیل دلیل ‘‘ کا کھیل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور 295 بی قادیانیت کے مذہب میں آخری کیل بن گئی۔

اب اس کے بعد بھی آپ کسی بھی طریقے سے دلیل دلیل کی رٹ پچاس ہزار طریقوں سے بھی دہرائیں تو میں آپ کو وہی جواب دوں گا۔ اور ہاں میں آپ سے اگر سورہ احزاب کی آیت 40 کا اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 295 بی کے مطالعے کی گذارش کروں تو اس کو ہرگز ہرگز کوئی الزام نہ سمجھئے گا۔ یہ صرف اور صرف دلیل دلیل کے جال سے نکلنے کے لئے اور ختم نبوت کے فیصلے کو جاننے کے لئے کہہ رہا ہوں۔
 
آخری تدوین:

dxbgraphics

محفلین
کیا فتاویٰ الھندیہ میں شامل فتاویٰ بھی "مرزا قادیانی ملعون کے پیروکاروں" نے لکھے ہوئے ہیں؟

سوال : جھوٹے مدعی نبوت (یعنی نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والے)سے معجزہ طلب کیا جاسکتا ہے ؟
جواب : اگر مدعیِ نبوت سے اِس خیال سے کہ اس کا عجز ظاہر ہو معجزہ طلب کرے تو حرج نہیں او راگر تحقیق کے لئے معجزہ طلب کیا کہ یہ معجزہ بھی دکھا سکتا ہے یا نہیں تو فوراً کافر ہوگیا ۔
(الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین ،ج۲،ص۲۶۳)

الفاظ کے کھیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جب دلیل دلیل کی دال نہیں گلی تو اب معجزہ معجزہ کی کہانی شروع کر رہے ہیں ۔
اچھی ناکام کوشش ہے
 

dxbgraphics

محفلین
آپ کا اعتراض درست ہے۔ یہی نکتہ اردو محفل کی اصل پالیسی ہے کہ آپ کسی بھی موضوع پر اظہارِ خیال کرسکتے ہیں لیکن دیگر محفلین کی ذات کو ہرگز نشانہ نہیں بنا سکتے۔ اگر کوئی ممبر علانیہ اپنا تعلق کسی مذہب ، فرقے یا فکری گروہ سے ظاہر کرتا ہے تب تو درست ہے لیکن زبردستی کسی پر کوئی ایسا الزام تھوپنا کسی صورت درست درست نہیں۔ تبصرہ نگار اگر اس روش سے باز نہ آئے تو انہیں بین کیا جاسکتا ہے۔

محمدخلیل الرحمٰن بھائی میں نے قصدا یا بھولے سے دانستہ یا نادانستہ ہرگز ہرگز سعد بھائی کو قادیانی سے تشبیہہ نہیں دی اور نہ دونگا۔ مدیران کو یقین دلاتا ہوں کے مذہبی اور آئین پاکستان کے تحت ہی قادیانیوں کو کافر کہہ رہا ہوں۔ اور اردو محفل کی پالیسی کا پابند رہونگا۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

محمد سعد

محفلین
میں نے آپ کو ہرگز ہرگز دانستہ یا غیر دانستہ قادیانی مذہب سے نہیں جوڑا۔
معذرت کہ جو ثبوت گزشتہ مراسلوں میں اکٹھے کر کے دکھا چکا ہوں، ان کی روشنی میں آپ کی اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے۔ خاص طور پر جب یہ رویہ اس فورم پر نہایت کھلے الفاظ میں بار بار دیکھ بھی چکا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے بعد ، قرون اولیٰ کے علماء کے فتاویٰ کے بعد 7 ستمبر 1974 کے آئین پاکستان کے تحت 295 بی کے قیام کے بعد ’’دلیل دلیل ‘‘ کا کھیل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا اور 295 بی قادیانیت کے مذہب میں آخری کیل بن گئی۔
مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کسی اور کو تو یہ اجازت دینے کو تیار نہیں کہ وہ جھوٹے نبی کو جھوٹا ثابت کرنے کی نیت سے بھی اس سے دلیل کے ساتھ مقابلہ کر لے، لیکن کسی وجہ سے ریاست پاکستان کو اس میں کوئی خصوصی استثنیٰ بھی دینا چاہتے ہیں۔ قرآن کے نزول اور 1974ء کے درمیان کتنے برس کا وقفہ رہا ہے، گن کر بتا سکتے ہیں؟

فتاویٰ الھندیہ کا اقتباس بھی پیش کر چکا ہوں۔ اس کی کوئی وجہ بتا سکتے ہیں کہ آپ ان علماء کے ساتھ کس بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ ان علماء کے ساتھ آپ اختلاف کر سکتے ہیں جنہیں واضح طور پر اس بات کی سمجھ ہے کہ جھوٹے سے دلیل طلب کرنے کا مقصد اس کے سچ ہونے کا امکان دل میں رکھنے کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے،جبکہ دوسری جانب میں ایسے علماء کے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتا جن کو اتنی بنیادی بات تک سمجھ نہیں آئی؟
کیا فتاویٰ الھندیہ میں شامل فتاویٰ بھی "مرزا قادیانی ملعون کے پیروکاروں" نے لکھے ہوئے ہیں؟

سوال : جھوٹے مدعی نبوت (یعنی نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والے)سے معجزہ طلب کیا جاسکتا ہے ؟
جواب : اگر مدعیِ نبوت سے اِس خیال سے کہ اس کا عجز ظاہر ہو معجزہ طلب کرے تو حرج نہیں او راگر تحقیق کے لئے معجزہ طلب کیا کہ یہ معجزہ بھی دکھا سکتا ہے یا نہیں تو فوراً کافر ہوگیا ۔
(الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین ،ج۲،ص۲۶۳)

مزید یہ کہ
اب اس کے بعد بھی آپ کسی بھی طریقے سے دلیل دلیل کی رٹ پچاس ہزار طریقوں سے بھی دہرائیں تو میں آپ کو وہی جواب دوں گا۔
بار بار دہرانے سے ایک غلط جواب درست نہیں ہو جاتا۔

اور ہاں میں آپ سے اگر سورہ احزاب کی آیت 40 کا اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 295 بی کے مطالعے کی گذارش کروں تو اس کو ہرگز ہرگز کوئی الزام نہ سمجھئے گا۔
ایک کام کریں۔ سورہ احزاب کی آیت 40 کا متن اور ترجمہ یہاں لکھ دیں۔ آئین کا آرٹیکل 295 بی بھی یہاں لکھ دیں۔ اس کے بعد، چونکہ آپ انہی دو کی تکرار کر رہے ہیں، تو ہم سب کو بغیر کسی اور متن سے استفادہ کرتے ہوئے بتائیں، کہ ان میں اس سوال کا جواب کہاں ملتا ہے جو متعدد بار نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے؟ آپ کی سہولت کے لیے ایک بار پھر دہرا دیتا ہوں۔
سوال: دلیل مانگنے کا مقصد اس بات کی حقیقت واضح کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اگلے کے پاس دلیل نہیں ہے۔ ایسے میں کیوں دلیل مانگنے والا کافر ہو گا جبکہ اس نے ختم نبوت پر کسی قسم کا شک بھی دل میں نہیں رکھا؟ یہ تو بنیادی طور پر وہی کام ہے جو ان علماء نے کیا جن کی کارروائی کا حوالہ آپ بار بار دے رہے ہیں۔

چونکہ آپ بار بار صرف دو حوالوں، سوہ احزاب کی آیت 40 اور آئین کے آرٹیکل 295 بی، کی تکرار کیے جا رہے ہیں، تو برائے مہربانی ان دونوں مقامات سے ہی اس سوال کا جواب اخذ کر کے دیں۔ چلیں بسم اللہ کریں۔
 
آخری تدوین:

محمد سعد

محفلین
الفاظ کے کھیل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جب دلیل دلیل کی دال نہیں گلی تو اب معجزہ معجزہ کی کہانی شروع کر رہے ہیں ۔
اچھی ناکام کوشش ہے
۱۔ واضح طور پر فرق کیا گیا ہے کہ معجزہ طلب کرتے ہوئے نیت دعوے دار کو عاجز کرنے کی بھی ہو سکتی ہے تاکہ اس کا جھوٹ سب پر عیاں ہو جائے اور یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید یہ درست ہو۔
۲۔ نیت کا یہ فرق تب بھی برقرار رہے گا اگر آپ "معجزے" کو "دلیل" سے بدل دیں۔ دلیل طلب کرتے ہوئے بھی دونوں طرح کی نیت کا امکان موجود ہے۔
۳۔ فتویٰ نیت کے فرق کی بنیاد پر دیا گیا ہے جو دونوں صورتوں میں ممکن ہے اور یکساں لاگو ہوتا ہے۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ "دلیل" طلب کرتے ہوئے نیت یہ ہو ہی نہیں سکتی کہ اس کے جھوٹ کو نمایاں کیا جائے تو ثابت کریں کہ ایسا امکان وجود نہیں رکھتا۔
ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ الفاظ کا کھیل دراصل آپ کھیل رہے ہیں کہ لوگوں کو "دلیل" اور "معجزے" کے الفاظ میں الجھا دیں تاکہ اصل وجہ کی جانب ان کی توجہ نہ پڑے۔ ایسے میں یہ بات آپ کی البتہ درست ثابت ہو جائے گی کہ آپ الفاظ کے کھیل کو واقعی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
تو چلیں بسم اللہ کریں۔ ایسی نیت کا عدم امکان ثابت کریں جس کی بنیاد پر فتوے میں جواز فراہم کیا گیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ریاست جب قانون سازی کرے گی تو اس کے تقاضے پورے کرے گی۔ اور وہی تقاضے پورے کئے گئے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔
یعنی قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے دین سے باہر جایا جا سکتا ہے؟ دین تو اس معاملہ میں واضح ہے کہ کسی داعی نبوت سے دلیل یا ثبوت مانگنے والابھی کافر ہے ۔ اس رو سے وہ جید علما کرام بھی کافر قرار دئے جائیں گے جنہوں نے قادیانی خلیفہ کا ٹرائل کیا۔
قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے اگر دین نے اس حوالہ سے کوئی استثناء دے رکھا ہے تو اس کا حوالہ پیش کریں۔ شکریہ
 

dxbgraphics

محفلین
معذرت کہ جو ثبوت گزشتہ مراسلوں میں اکٹھے کر کے دکھا چکا ہوں، ان کی روشنی میں آپ کی اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے۔ خاص طور پر جب یہ رویہ اس فورم پر نہایت کھلے الفاظ میں بار بار دیکھ بھی چکا ہوں۔


مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کسی اور کو تو یہ اجازت دینے کو تیار نہیں کہ وہ جھوٹے نبی کو جھوٹا ثابت کرنے کی نیت سے بھی اس سے دلیل کے ساتھ مقابلہ کر لے، لیکن کسی وجہ سے ریاست پاکستان کو اس میں کوئی خصوصی استثنیٰ بھی دینا چاہتے ہیں۔ قرآن کے نزول اور 1974ء کے درمیان کتنے برس کا وقفہ رہا ہے، گن کر بتا سکتے ہیں؟

فتاویٰ الھندیہ کا اقتباس بھی پیش کر چکا ہوں۔ اس کی کوئی وجہ بتا سکتے ہیں کہ آپ ان علماء کے ساتھ کس بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ ان علماء کے ساتھ آپ اختلاف کر سکتے ہیں جنہیں واضح طور پر اس بات کی سمجھ ہے کہ جھوٹے سے دلیل طلب کرنے کا مقصد اس کے سچ ہونے کا امکان دل میں رکھنے کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے،جبکہ دوسری جانب میں ایسے علماء کے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتا جن کو اتنی بنیادی بات تک سمجھ نہیں آئی؟


مزید یہ کہ

بار بار دہرانے سے ایک غلط جواب درست نہیں ہو جاتا۔


ایک کام کریں۔ سورہ احزاب کی آیت 40 کا متن اور ترجمہ یہاں لکھ دیں۔ آئین کا آرٹیکل 295 بی بھی یہاں لکھ دیں۔ اس کے بعد، چونکہ آپ انہی دو کی تکرار کر رہے ہیں، تو ہم سب کو بغیر کسی اور متن سے استفادہ کرتے ہوئے بتائیں، کہ ان میں اس سوال کا جواب کہاں ملتا ہے جو متعدد بار نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے؟ آپ کی سہولت کے لیے ایک بار پھر دہرا دیتا ہوں۔
سوال: دلیل مانگنے کا مقصد اس بات کی حقیقت واضح کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اگلے کے پاس دلیل نہیں ہے۔ ایسے میں کیوں دلیل مانگنے والا کافر ہو گا جبکہ اس نے ختم نبوت پر کسی قسم کا شک بھی دل میں نہیں رکھا؟ یہ تو بنیادی طور پر وہی کام ہے جو ان علماء نے کیا جن کی کارروائی کا حوالہ آپ بار بار دے رہے ہیں۔

چونکہ آپ بار بار صرف دو حوالوں، سوہ احزاب کی آیت 40 اور آئین کے آرٹیکل 295 بی، کی تکرار کیے جا رہے ہیں، تو برائے مہربانی ان دونوں مقامات سے ہی اس سوال کا جواب اخذ کر کے دیں۔ چلیں بسم اللہ کریں۔

چلیں آپ میری بات کا یقین نہیں کرتے لیکن آپ خود اقرار کرچکے کہ ختم نبوت پر آپ کا اختلاف نہیں تو آپ کو آپ ہی کی بات کا یقین تو ہے نا۔
چلیں ایک کام کرتے ہیں اگر آپ صاحب علم اور فارغ التحصیل عالم ہیں تو آپ اپنی سند یہاں پیش کیجئے تاکہ میں اس نتیجے پر پہنچ سکوں کہ آپ کیساتھ دلیل دلیل کے مانگنے نہ مانگنے پر بحث ہوسکتی ہے۔


نیز دلیل اور معجزہ کب سے ایک ہوگئے؟؟؟؟
 
آخری تدوین:

dxbgraphics

محفلین
یعنی قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے دین سے باہر جایا جا سکتا ہے؟ دین تو اس معاملہ میں واضح ہے کہ کسی داعی نبوت سے دلیل یا ثبوت مانگنے والابھی کافر ہے ۔ اس رو سے وہ جید علما کرام بھی کافر قرار دئے جائیں گے جنہوں نے قادیانی خلیفہ کا ٹرائل کیا۔
قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے اگر دین نے اس حوالہ سے کوئی استثناء دے رکھا ہے تو اس کا حوالہ پیش کریں۔ شکریہ

عارف آپ نے تو دل پر بات لے لی
 

محمد سعد

محفلین
چلیں ایک کام کرتے ہیں اگر آپ صاحب علم اور فارغ التحصیل عالم ہیں تو آپ یہاں پیش کیجئے تاکہ میں اس نتیجے پر پہنچ سکوں کہ آپ کیساتھ دلیل دلیل کے مانگنے نہ مانگنے پر بحث ہوسکتی ہے۔
تکرار آپ کرتے رہے ہیں۔ کیا اپنا ہوم ورک مجھ سے کروانا چاہتے ہیں؟ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔
 

محمد سعد

محفلین
عارف آپ نے تو دل پر بات لے لی
اگر آپ مخاطبین کے سوالات کے کوئی معقول جواب دینے کے بجائے طعنے ہی مارتے رہیں گے کہ فلانے نے تو بات دل پہ لے لی، فلانا تو قادیانیوں والا ترجمہ پڑھتا رہا ہے، اور مسلسل اتنے اہم سوالات سے جان چھڑواتے رہیں گے تو یہی سمجھا جائے گا کہ آپ کے پاس اپنے دعوے، کہ دلیل مانگنے والا ہر حال میں کافر ہی ہوتا ہے، کے حق میں کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے۔
چنانچہ میرا خیال ہےکہ اس سے آگے میں اس نیت کے ساتھ آپ سے دلائل مانگ سکتا ہوں کہ آپ دلیل نہ ہونے کے سبب جھوٹے ثابت ہو جائیں گے اور مجھے دل میں کوئی شک رکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ شاید واقعی آپ کے پاس کوئی دلیل ہو۔ ;)
 

dxbgraphics

محفلین
اگر آپ مخاطبین کے سوالات کے کوئی معقول جواب دینے کے بجائے طعنے ہی مارتے رہیں گے کہ فلانے نے تو بات دل پہ لے لی، فلانا تو قادیانیوں والا ترجمہ پڑھتا رہا ہے، اور مسلسل اتنے اہم سوالات سے جان چھڑواتے رہیں گے تو یہی سمجھا جائے گا کہ آپ کے پاس اپنے دعوے، کہ دلیل مانگنے والا ہر حال میں کافر ہی ہوتا ہے، کے حق میں کوئی مضبوط دلیل نہیں ہے۔
چنانچہ میرا خیال ہےکہ اس سے آگے میں اس نیت کے ساتھ آپ سے دلائل مانگ سکتا ہوں کہ آپ دلیل نہ ہونے کے سبب جھوٹے ثابت ہو جائیں گے اور مجھے دل میں کوئی شک رکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ شاید واقعی آپ کے پاس کوئی دلیل ہو۔ ;)

دلیل مانگنے والے اگر اتنے ہی قابل ہوتے تو قرون اولی ہی میں اس پر علماء کو قائل کر کے ان کو رجوع پر مجبور کرلیتے۔
میں قرآن میں اللہ کے واضح فیصلے کے بعد اور قرون اولی میں علماء کے دلیل مانگنے کے فتوی کو دلیل مانتے ہوئے ہی دلیل مانگنے نہ مانگنے کی بحث ہی کا رد کرتا ہوں۔ اور اسی لیئے آپ سے بار بار سورة احزاب کی آیت 40 کا ترجمہ و تفسیر کے مطالعہ کی گذارش کررہا ہوں۔
آپ باتیں جتنی بھی گھماکر پوچھیں میں قرآن میں اللہ کے فیصلے کو اور قرون اولی کے علماء کے فتوی کے دلیل ہی مانتے ہوئے آپ ہر ہر بار یاد دہانی ضرور کرواتا رہوں گا کہ ختم نبوت پر اللہ کا فیصلہ سب سے بڑی دلیل اور حجت ہے جس کے بعد دلیل مانگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
 

زیک

تقریباً غائب
مدیران کو یقین دلاتا ہوں کے مذہبی اور آئین پاکستان کے تحت ہی قادیانی ملعونوں کو کافر کہہ رہا ہوں۔ اور اردو محفل کی پالیسی کا پابند رہونگا۔
کیا محفل کی یہ پالیسی ہے کہ کسی مذہبی گروہ کو کھلم کھلا “ملعون” کہا جائے؟ اگر ایسا ہی ہے تو چند مذاہب کے پیروکاروں کو میں بھی ملعون قرار دینا چاہتا ہوں

محمد خلیل الرحمٰن
 

وجی

لائبریرین
مجھ سے اختلاف کرنے کی گنجائش ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا کہ آپ ﷺ خاتم النبین ہیں تو اس سے اختلاف کو کسی بھی صورت میں ہرگز تسلیم نہیں کرتے
میرے بھائی میں تو یہ مانتا ہوں کہ کلمہ ہی آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین کی دلیل کے لیئے کافی ہے بس یہ سمجھنے کی بات ہے اگر سمجھیں تو۔۔

باقی آپ سے صرف اتنا ہی اختلاف ہے کہ دوسروں کو کافر قرار دینے کی بجائے مسلمان کریں اور کوشش و دعا کریں
یہ میرے مطابق میرے نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کی بہت بڑی سنت ہے اور آپ کی نبوت کا بہت بڑا کام تھاجس کو آپ ہی نہیں بہت سارے سمجھ نہیں رہے۔
 

محمد سعد

محفلین
ختم نبوت پر اللہ کا فیصلہ سب سے بڑی دلیل اور حجت ہے جس کے بعد دلیل مانگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
شرک پر بھی اللہ نے ہر دور میں بہت واضح طور پر فیصلہ سنایا ہے لیکن نہ صرف مسلمان علماء نے ہر دور میں اس موضوع پر با دلیل بحثیں کی ہیں بلکہ انبیاء نے بھی خدائی کے دعویداروں کو یہ کہہ کر عاجز کیا ہے کہ اگر تو خدا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال دے (البقرۃ، 258 )۔ میرا نہیں خیال کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو یہ چیلنج کیا تو نعوذ باللہ ان کے ذہن میں ایسا کوئی شک تھا کہ کیا پتہ یہی خدا ہو۔ بلکہ البقرۃ 258 سے تو یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جھوٹ کو دلیل سے جھوٹ ثابت کرنا انبیاء کی سنت ہے۔

میں قرآن میں اللہ کے واضح فیصلے کے بعد اور قرون اولی میں علماء کے دلیل مانگنے کے فتوی کو دلیل مانتے ہوئے ہی دلیل مانگنے نہ مانگنے کی بحث ہی کا رد کرتا ہوں۔
قرآن میں اگر اللہ کا ایسا کوئی واضح فیصلہ ہے کہ دلیل مانگنے سے بندہ کافر ہو جاتا ہے تو آپ سے یہ متعدد بار درخواست کی جا چکی ہے کہ یہاں نقل کر دیں۔ معلوم نہیں ایسا ثواب کا کام کرنے سے آپ کیوں کترا رہے ہیں۔
رہی بات قرون اولیٰ کے علماء کی تو نہ تو یہ بات قرآن میں لکھی ہے کہ وہ کسی بھی بات میں غلطی نہیں کر سکتے، نہ ہی مشاہدہ اس بات کی توثیق کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، تفسیر جلالین میں الغاشیہ آیت 20 کی تفسیر دیکھ لیں جہاں لکھا ہے کہ زمین چپٹی ہے، گول نہیں کیونکہ قرآن میں یہ لکھا ہے۔ کیا آج آپ کہیں گے کہ قرآن میں ایسا کچھ لکھا ہے کہ زمین چپٹی ہے؟ یہ بھی تو قرون اولیٰ کے دو نہایت جید علماء کی رائے ہی ہے۔
تو براہ مہربانی، علماء کو انسان ہی سمجھیں، کسی قسم کی غلطی سے پاک فرشتے نہیں۔ اگر ان کے استدلال میں وزن ہے تو اس کی وضاحت کرنا، کہ ایسا نتیجہ انہوں نے کیوں نکالا، آپ کے لیے نہایت آسان کام ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے صرف ان سے وہ وجہ نقل ہی کرنی ہے۔
تو آپ کا کام بہت آسان ہے۔ قرآن میں سے ایسا کچھ نقل کر دیں کہ دلیل مانگنے والا کافر ہو جاتا ہے، یا جس عالم سے آپ نے یہ سیکھا ہے، ان کا استدلال نقل کر دیں کہ وہ ایسا کیوں سمجھتے تھے۔ بسم اللہ کریں۔
 

dxbgraphics

محفلین
شرک پر بھی اللہ نے ہر دور میں بہت واضح طور پر فیصلہ سنایا ہے لیکن نہ صرف مسلمان علماء نے ہر دور میں اس موضوع پر با دلیل بحثیں کی ہیں بلکہ انبیاء نے بھی خدائی کے دعویداروں کو یہ کہہ کر عاجز کیا ہے کہ اگر تو خدا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال دے (البقرۃ، 258 )۔ میرا نہیں خیال کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو یہ چیلنج کیا تو نعوذ باللہ ان کے ذہن میں ایسا کوئی شک تھا کہ کیا پتہ یہی خدا ہو۔ بلکہ البقرۃ 258 سے تو یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جھوٹ کو دلیل سے جھوٹ ثابت کرنا انبیاء کی سنت ہے۔


قرآن میں اگر اللہ کا ایسا کوئی واضح فیصلہ ہے کہ دلیل مانگنے سے بندہ کافر ہو جاتا ہے تو آپ سے یہ متعدد بار درخواست کی جا چکی ہے کہ یہاں نقل کر دیں۔ معلوم نہیں ایسا ثواب کا کام کرنے سے آپ کیوں کترا رہے ہیں۔
رہی بات قرون اولیٰ کے علماء کی تو نہ تو یہ بات قرآن میں لکھی ہے کہ وہ کسی بھی بات میں غلطی نہیں کر سکتے، نہ ہی مشاہدہ اس بات کی توثیق کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، تفسیر جلالین میں الغاشیہ آیت 20 کی تفسیر دیکھ لیں جہاں لکھا ہے کہ زمین چپٹی ہے، گول نہیں کیونکہ قرآن میں یہ لکھا ہے۔ کیا آج آپ کہیں گے کہ قرآن میں ایسا کچھ لکھا ہے کہ زمین چپٹی ہے؟ یہ بھی تو قرون اولیٰ کے دو نہایت جید علماء کی رائے ہی ہے۔
تو براہ مہربانی، علماء کو انسان ہی سمجھیں، کسی قسم کی غلطی سے پاک فرشتے نہیں۔ اگر ان کے استدلال میں وزن ہے تو اس کی وضاحت کرنا، کہ ایسا نتیجہ انہوں نے کیوں نکالا، آپ کے لیے نہایت آسان کام ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے صرف ان سے وہ وجہ نقل ہی کرنی ہے۔
تو آپ کا کام بہت آسان ہے۔ قرآن میں سے ایسا کچھ نقل کر دیں کہ دلیل مانگنے والا کافر ہو جاتا ہے، یا جس عالم سے آپ نے یہ سیکھا ہے، ان کا استدلال نقل کر دیں کہ وہ ایسا کیوں سمجھتے تھے۔ بسم اللہ کریں۔

سعد بھائی میں آپ سے فارسی یا سنسکرت میں تو بات نہیں کر رہا ہوں۔ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ خاتم النبین ہیں تو جب میں اس آیت پر ایمان لاتا ہوں تو اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ دلیل کیوں مانگوں جب میں ایمان رکھتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں اور مرزا قادیانی کا دعوہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوہ کیا تو اس سے دلیل نہیں مانگی گئی تھی۔ بلکہ اس کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا جس میں 1200 صحابہ کرام شہید ہوئے۔
لہذا میں دلیل مانگنے کو مانتا ہی نہیں بلکہ میرا ایمان ہے کہ قادیانی کافر ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت بھی کافر ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ تقریبا تمام مسلم ممالک قادیانیوں کو کافر قرار دے چکے ہیں
 

dxbgraphics

محفلین
اگر قرآن میں کہیں بھی دلیل مانگنے کی گنجائش ہوتی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسیلمہ کذاب سے دلیل مانگ لیتے۔ لیکن انہوں نے دلیل مانگنے کی بجائے مسیلمہ کذاب کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اب اس زمانے کے لوگ کیا حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی بڑھ کر ہیں اور سمجھدار ہیں ؟
 

محمد سعد

محفلین
دلیل ہمیشہ اپنے لیے نہیں مانگی جاتی۔ کبھی کبھار دوسروں کو دکھانے کے لیے بھی مانگی جاتی ہے کہ وہ دیکھ لیں کہ اس کے پاس دلیل نہیں ہے۔ جیسے اس وقت میں آپ سے دلیل مانگ رہا ہوں باوجود اس کے کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کے پاس دلیل نہیں ہے۔ ;)
 
Top