احمدی اقلیت اور ہمارے علما کا رویہ

جاسم محمد نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 16, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,262
    بنگالی تو پاکستان میں اکثریت تھے۔ جب ان کا استحصال ہوتا رہا تو یہ بیچاری اقلیتیں کہاں جا کر اپنا دکھڑا سنائیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  2. راجہ شاہزیب شاکر

    راجہ شاہزیب شاکر محفلین

    مراسلے:
    10
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lurking
    :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. راجہ شاہزیب شاکر

    راجہ شاہزیب شاکر محفلین

    مراسلے:
    10
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lurking
    جزاکم اللہ خیرا کثیرا و احسن الجزاء
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,720
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    کیا یہ بات نہایت افسوس ناک نہیں، کہ آپ، میں، اوریجنل پوسٹ میں شامل کالم کا مصنف یا کوئی بھی اور شخص اگر کبھی اقلیتوں کے ساتھ رکھے گئے برے رویوں کی نشاندہی کرتا ہے، تو سب سے پہلے اسے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنا پڑتا ہے کہ خدا کا واسطہ ہے میں قادیانی نہیں ہوں۔ کئی مقامات پر تو دیکھا ہے کہ جب تک کوئی مرزا غلام احمد کو نہایت غلیظ گالیاں نہ دے دے تب تک اس کا ختم نبوت پر ایمان بھی ناکافی ٹھہرتا ہے۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟
    اگر یہی کچھ کرنا ہے تو یہ بلند و بانگ دعوے کر کے ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ پاکستان میں تو جی اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں؟ اقلیتوں کو تو چھوڑیے، اکثریت تک کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کوئی بھی "اصلی پکا اکثریت والا سنی مسلمان" اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر اعتراض کر کے خود کو مسلمان کہلوا سکے۔ آپ کا یہ بات شروع کرنے سے پہلے اپنے ایمان کی وضاحت دینے کی ضرورت محسوس کرنا اسی کا ایک ثبوت ہے۔ کراچی کے محمد جبران ناصر کا مرزا کو گالیاں نہ دینے پر سیاسی کیرئیر ڈوب جانا اسی کا ایک ثبوت ہے۔ میرے اس بحث میں شرکت کرنے کے بعد ذاتی مکالمے میں میرے "نظریات" اور "قادیانیوں کی اتنی حمایت" کے بارے میں استفسار کیا جانا اسی کا ایک ثبوت ہے۔ لیکن فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔
    اچھا اسلامی معاشرہ بنایا ہوا ہے ہم نے کہ جس میں اقلیت کے ساتھ انسانی سلوک کرنے کی بات سے پہلے اور بعد میں اپنا ایمان ثابت کرنا پڑتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 3
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,262
    جزاک اللہ احسن الجزاء۔ مسئلہ کو اس سے بہتر انداز میں بیان کیا ہی نہیں کیا جا سکتا۔ 100 میں سے 100 نمبر آپکے ہوئے۔ :)
     
    • متفق متفق × 1
  6. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,588
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    (بحوالہ فیضانِ اقبال از شورش کاشمیری)
    علامہ اقبال لکھتے ہیں:
    اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے( اس ضمن میں رواداری ایک مہمل اصطلاح ہے ) اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو ، خواہ جو تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو؟
    (قادیانیت اور اسلام ، بہ جواب نہرو)

    رواداری کی تلقین کرنے والے اس شخص پر عدم رواداری کا الزام لگانے میں غلطی کرتے ہیں جو اپنےمذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے
    (بہ جواب نہرو)

    محی الدین ابن عربی:
    اگر شیخ محی الدین ابن عربی کو اپنے کشف میں نظر آجاتا کہ صوفیانہ نفسیات کی آڑ میں کوئی ہندوستانی ختم نبوت سے انکار کردے گا تو یقینا وہ علمائے ہند سے پہلے مسلمانانِ عالم کو ایسے غدارِ اسلام سے متنبہ کرتے
    (بہ جواب نہرو)

    بروز کا مسئلہ:
    جہاں تک مجھے معلوم ہے ، بروز کا مسئلہ عجمی مسلمانوں کی ایجاد ہے اور اصل اس کی آرین ہے۔ میری رائے میں اس مسئلہ کی تاریخی تحقیق قادیانیت کا خاتمہ کرنے کے لیے کافی ہے
    (پروفیسر الیاس برنی کے نامی)

    ختم نبوت:
    ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعوی کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزا نبوت کے موجود ہیں۔ یعنی یہ کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بنا پر قتل کیا گیا تھا۔
    (علامہ اقبال کا خط بہ نام نذیر نیازی )

    مسلمانوں کے دوسرے فرقے کوئی الگ بنیاد قائم نہیں کرتے ۔ وہ بنیادی مسائل میں متفق ہیں۔ ایک دوسرے پر الحاد کا فتوی جڑنے کے باوجود وہ اساسات پر ایک رائے ہیں
    (بہ جواب نہرو)

    قادیانیت
    قادیانیوں کے لیے صرف دو ہی راہیں ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں اور الگ ہو جائیں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اصل اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ا ن کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہوتا رہے کہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔
    (قادیانیت اور اسلام)
     
    آخری تدوین: ‏مئی 2, 2020
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غمناک غمناک × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,262
    یعنی نبوت کے دعوے دار کو خالی دلیل سے جھوٹا ثابت کر دینا کافی نہیں۔ اس کو لازما قتل بھی کرنا ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر