راحت اندوری اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں - ڈاکٹر راحت اندوری

کاشفی

محفلین
غزل
(ڈاکٹر راحت اندوری )

اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروں
میں چاہتا تھا چراغوں کو ماہتاب کروں

بتوںسےمجھ کو اجازت اگر کبھی مل جائے
تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں

میں کروٹوں کے نئے زاویے لکھوں شب بھر
یہ عشق ہے تو کہاں زندگی عذاب کروں

ہے میرے چاروں طرف بھیڑ گونگے بہروں کی
کسے خطیب بناؤں کسے خطاب کروں

اس آدمی کو بس اک دھن سوار رہتی ہے
بہت حسیں ہے یہ دنیا اسے خراب کروں

یہ زندگی جو مجھے قرض دار کرتی ہے
کہیں اکیلے میں مل جائے تو حساب کروں
 
"" بتوںسےمجھ کو اجازت اگر کبھی مل جائے
تو شہر بھر کے خداؤں کو بے نقاب کروں""

حسب حال ہے، بہت خوبصورت ، داد قبول کیجئے
 

کاشفی

محفلین
الف عین صاحب اور سخنور صاحب آپ دونوں حضرات کا بھی بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔۔
 
Top