ابولکلام آزاد کی نظر میں مسٹرجناح بحیثیت ایک فرقہ پرست

علی وقار

محفلین
یہ بات واقعی درست ہے کہ ہم کسی کی نیت کو پرکھ نہیں سکتے۔

البتہ یہ بات بھی درست ہے کہ کسی کے ٹریک ریکارڈ میں کسی خاص عنصر کے تسلسل کو مستقل نظر انداز کرتے رہنا بھی کوئی دانشمندی نہیں ہے۔
اوپن فورم ہے، کہنے دیجیے سب کو، جو وہ کہتے ہیں۔ جب کوئی لائن کراس ہو گی تو ہمارے مدیران و منتظمین زندہ باد۔ :) ہاں، مگر شائستگی کا دامن چھوٹنے نہ پائے تو مکالمہ جاری رہے تو کیا حرج ہے احمد بھائی!
اور میرے خیال میں اذہان کھولنے کے بہت سے موضوعات ہیں لیکن کچھ لوگوں کی ذہن کی سوئی ایسے موضوعات پر اٹکی ہوئی ہے جو بہت ہی کم لوگوں کی ذہنی اور بہت سوں کی تخریبانہ تسکین سے زیادہ کچھ نہیں۔
حالانکہ ضرورت ایسے موضوعات پر بحث کی ہے جو ذہنی تسکین کے ساتھ راہِ عمل بھی کھولے۔
اردو محفل پر پہلے ہی سنجیدہ موضوعات پر کم کم بات ہوتی ہے۔ مجھے یہ موضوع کافی مناسب معلوم ہوا تھا مگر اب تو لگتا ہے کہ میں ہی غلطی پر ہوں۔ ویسے آپس کی بات ہے، لڑی کا عنوان ذرا بہتر ہونا چاہیے تھا۔ :)
 

علی وقار

محفلین
3- کیا کریں کی ایک راہ وہ ہو سکتی ہے جو مولانا آزاد نے اپنی کتاب میں تحریر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: بہر کیف جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب پاکستان کی نئی ریاست ایک حقیقت ہے۔ اب دونوں ریاستوں کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھائیں اور اشتراک عمل سے کام لیں۔ اس کے خلاف کوئی پالیسی اپنائی گئی تو وہ نئے اور بڑے مصائب و آلام کا باعث بن سکتی ہے۔
اس میں تو خیر کوئی حرج کی بات نہیں۔ :) مولانا نے درست فرمایا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ سوال اسقدر اہم ہے کہ بار بار اس گفتگو میں پوچھا جانا چاہیے۔ جب سے احمد بھائی نے یہ سوال کیا ہے میں دن رات اس سوال کے بارے میں متفکر ہوں۔ اس کا حتمی جواب دینا میرے لیے فی الحال ممکن نہیں۔ البتہ کچھ دھندلی سی راہیں ہیں جو ذین میں آئیں ہیں۔ ان میں سے بعض محض نظری باتیں ہیں جو ہو سکتا ہے کچھ احباب کو گراں گزریں۔
:confused3:
- کیا کریں کی ایک راہ یہ ہو سکتی ہے کہ تقسیم پاکستان کو undo کیا جائے۔ پاک کانگریس کی بنیاد رکھی جائے۔

2- کیا کریں کی ایک اور راہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کو یورپی یونین کی طرز کے ملک بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ اس سے عسکری بجٹ کم ہو گا۔ اس کے لیے بھی پاک کانگریس کی بنیاد رکھنی ہو گی۔
اچھا یاد دلایا۔ "دو قومی نظریہ" بھی ایک ایسی چیز ہے جو تسلسل سے بہت سے احباب کے نشانے پر ہے۔ :)


3- کیا کریں کی ایک راہ وہ ہو سکتی ہے جو مولانا آزاد نے اپنی کتاب میں تحریر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: بہر کیف جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب پاکستان کی نئی ریاست ایک حقیقت ہے۔ اب دونوں ریاستوں کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھائیں اور اشتراک عمل سے کام لیں۔ اس کے خلاف کوئی پالیسی اپنائی گئی تو وہ نئے اور بڑے مصائب و آلام کا باعث بن سکتی ہے۔

یار رہے کہ ہندستان تو پاکستان سے کرکٹ میچ تک کھیلنے کے لئے راضی نہیں ہے۔

پاکستان متعدد بار ہندوستان سے دوستی کی کوشش کر چکا ہے۔ لیکن پاکستان سے دوستی کرنا اُنہیں سوٹ نہیں کرتی ۔

اگر ہم اور آپ پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوتے تو شاید یہ باتیں کچھ بامقصد ہو پاتیں۔ لیکن پاکستان کی قومی اسمبلی میں سنجیدہ موضوعات ڈسکس نہیں ہوتی۔ جمہوریت کے نام پر پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ ہوا کرتی ہے۔ ہر فیصلہ پارٹی لیڈر بلاشرکتے غیرے کیا کرتے ہیں۔ اور پارلیمان میں بیٹھے جہموری نمائندے اپنی مرضی سے کوئی بات تک نہیں کر سکتے۔

یہ امر بھی مدِ نظر رہے کہ ہم محفلین کا دائرہء کار انتہائی محدود ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
مجھے ذاتی طور پرلگتا ہے کہ مولانا اگر سیاست میں نہ ہوتے تو اچھا ہوتا کیونکہ وہ زمانہ سیاسی شورش کا زمانہ تھا اور مولانا کی شخصیت کی دیگر جہات جو کہ انتہائی اعلیٰ پائے کی ہیں وہ اس سیاسی شورش کی نذر ہو گئیں۔
وارث میاں ہم آپ سے اتفاق کرتے ہیں ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بے فکر رہیے احمد بھائی۔ ہم آپ سے کوئی بڑا کام نہیں لیں گے۔ :)

میں تو با امرِ مجبوری ہی اس لڑی کا حصہ بنا ہوا اور شروع میں میں نے اسے نظر انداز کرنے کی کافی کوشش کی۔

بات تو اُن کی ہو رہی ہے جنہوں نے ماضی کی غلطیوں کو "سدھارنے" کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔ وہ بھی اگر کوئی بڑا کام کر سکے تو محض اتنا ہوگا کہ محفلین کی رائے عامہ "ہموار" یا "خراب" ہو جائے گی۔
 

علی وقار

محفلین
ہم تو یہ بھول ہی گئے کہ جب یہ ملک بنا تو ہم تب بھی شناخت کے بحران کا شکار تھے۔

تحریک پاکستان کے وقت دو قومی نظریہ کارفرما تھا، مگر بعد میں پاکستان بننے کے بعد محمد علی جناح جیسے زیرک فرد کو یہ بھی خبر تھی کہ اگر مملکت کا نظام چلانا ہے تو دو قومی نظریے کو وہیں پر بریک لگانا پڑے گی اور ملک چلانے کے لیے سب کو ایک قوم (مذہبی لحاظ سے نہیں) بننا پڑے گا۔ جب حالات و واقعات بدل جائیں تو معاملات کو نئے سرے سے دیکھنا سمجھنا پڑتا ہے۔
 

سید رافع

محفلین
دوسری طرف جناح صاحب کی قسمت دیکھیے، مولانا اور کانگریس ان کو فرقہ پرست کہتی رہی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایڈوانی صاحب ان کے مزار پر آ کر ان کو سیکولر کا خطاب دے گئے!

اسی انتہا پسندی کے نمائندہ مسٹر جناح تھے کہ آر ایس ایس اور دیگر متعصب ہندووں کے بیان کو پوری ہندو کمیونٹی کے سر تھوپ دیتے۔ یوں مفاہمت کی راہیں بند کرتے اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے۔ جبکہ آج بھی اور تقسیم سے قبل بھی ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔
 
آخری تدوین:

سید رافع

محفلین
مصنف نے سیروائی کی اس بات کو دہرایا ہے کہ تقسیم کانگریس چاہتی تھی۔ جناح تو تقسیم کے خلاف تھے لیکن انہوں نے ترجیح دوم کے طور پر اس کو قبول کیا۔

یہ بات معقول حد تک بالکل واضح ہے کہ کانگریس تقسیم چاہتی تھی اور جناح تقسیم کے مخالف تھے لیکن بالآخر انہوں نے ترجیح دوم Second Bestکے طورپر قبول کیا۔
کانگریس تقسیم کیوں چاہے گی؟

اچھا یاد دلایا۔ "دو قومی نظریہ" بھی ایک ایسی چیز ہے جو تسلسل سے بہت سے احباب کے نشانے پر ہے۔ :)

بہت سے لوگوں کو چبھتا ہے
دو قومی نظریہ غیر فطری ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ہم تو یہ بھول ہی گئے کہ جب یہ ملک بنا تو ہم تب بھی شناخت کے بحران کا شکار تھے۔
کیا واقعی؟

یعنی پاکستان انگریزوں نے بنا کر مسلمانوں کو تھما دیا اور مسلمانوں کو کچھ پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور اُن کے اسلام کے نام پر پاکستان بنا ہے۔

تحریک پاکستان کے وقت دو قومی نظریہ کارفرما تھا، مگر بعد میں پاکستان بننے کے بعد محمد علی جناح جیسے زیرک فرد کو یہ بھی خبر تھی کہ اگر مملکت کا نظام چلانا ہے تو دو قومی نظریے کو وہیں پر بریک لگانا پڑے گی اور ملک چلانے کے لیے سب کو ایک قوم (مذہبی لحاظ سے نہیں) بننا پڑے گا۔ جب حالات و واقعات بدل جائیں تو معاملات کو نئے سرے سے دیکھنا سمجھنا پڑتا ہے۔

کیا وقت بدلنے پر محمد علی جناح نے پاکستان کو رول بیک کیا۔ یا یہ کہا کہ نہیں اب تو پاکستان میں اسلامی نظام نہیں ہونا چاہیے کہ حالات بدل گئے ہیں۔

مملکت بننے کے بعد تو ملک کی تمام اقوام کو ساتھ ملا کر ہی چلنا ہوتا ہے۔ اس میں دو قومی نظریہ سے اختلاف کیسے ہوگیا۔
 

علی وقار

محفلین
مملکت بننے کے بعد تو ملک کی تمام اقوام کو ساتھ ملا کر ہی چلنا ہوتا ہے۔ اس میں دو قومی نظریہ سے اختلاف کیسے ہوگیا۔
محمد علی جناح کو اس بات کا احساس تھا کہ ملک بن گیا ہے تو دو قومی نظریہ کا مسلسل پرچار مناسب نہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ملک حاصل کر لیا گیا ہے اور ہم سب ایک قوم ہیں۔ دو قومی نظریہ ایک وقتی ضرورت تھی، اور اس کے پس پردہ محرکات کا بار ہا تذکرہ ہو چکا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ جناح پاکستان کو اسلام کے سنہری اصولوں کی روشنی میں چلانا چاہتے تھے مگر وہ اسے کلی طور پر تھیوکریٹک اسٹیٹ نہ بنانا چاہتے تھے۔ میرے خیال میں، پاکستان کے اندر دو قومی نظریے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔

بظاہر، یہ ایک ابہام ہے کہ تقسیم ہند سے قبل دو قومی نظریے کی بازگشت سنائی دیتی تھی اوراس کی ٹھوس وجوہات بھی موجود تھیں اور جناح کو یہ حکمت عملی بہتر لگی کیونکہ یہ الگ ملک بنائے جانے کا کسی حد تک جواز موجود تھا مگر پاکستان بننے کے بعد جناح پاکستان کو ایک قوم بنانا چاہتے تھے وگرنہ دوسری صورت میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ جناح چاہتے تھے کہ نئی ریاست میں ہر فرد چاہے اس کا تعلق کسی مذہب سے ہو، وہ برابر کا شہری ہو۔ ان کی کوئی ایسی تقریر نہ ملے گی جس میں انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ہو کہ آپ الگ قوم ہیں، اور دیگر مذاہب سے متعلقہ افراد الگ قوم ہیں۔ اب اس حکمت عملی کو آپ کچھ بھی سمجھ لیجیے۔ ملکی معاملات چلانا آسان نہیں اور محمد علی جناح کو اس کا ادراک تھا۔
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
میرے خیال میں، پاکستان کے اندر دو قومی نظریے کی ضرورت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔
بالکل درست بات ہے۔
نہ ہونی چاہیے اور نہ ہوتی ہے۔

دو قومی نظریے کا ذکر تب آتا ہے جب کوئی شخص کھڑا ہو کر یہ کہہ دیتا ہے کہ پاکستان کو undo کر دیا جائے۔ ایسے میں قیام پاکستان کے ساتھ نظریہ پاکستان کا ذکر ہونا لازم و ملزوم ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
پاکستان بننے کے بعد جناح پاکستان کو ایک قوم بنانا چاہتے تھے وگرنہ دوسری صورت میں بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ جناح چاہتے تھے کہ نئی ریاست میں ہر فرد چاہے اس کا تعلق کسی مذہب سے ہو، وہ برابر کا شہری ہو۔ ان کی کوئی ایسی تقریر نہ ملے گی جس میں انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ہو کہ آپ الگ قوم ہیں، اور دیگر مذاہب سے متعلقہ افراد الگ قوم ہیں۔

جب قائدِ اعظم نے پاکستان حاصل کر لیا اور یہ طے ہوگیا کہ پاکستانی دستور کی اساس اسلامی ہوگی اور پاکستان کی 95 فیصد سے زائد آبادی بھی مسلمانوں کی تھی تو قائدِ اعظم کا اس قسم کا بیان دینا تو کافی بچکانہ بات ہوتی۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
اسلامی حکومت میں ذمیوں (اب "ذمی" لفظ بہت سوں کے لیے تکلیف دہ ہو گا) کے لیے الگ سے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ جو ہمیشہ مذہب کی تفریق بھی قائم رکھتے ہیں۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اسلامی حکومت میں ذمیوں (اب "ذمی" لفظ بہت سوں کے لیے تکلیف دہ ہو گا) کے لیے الگ سے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ جو ہمیشہ مذہب کی تفریق بھی قائم رکھتے ہیں۔
ذمی نہ کہیں اقلیت کہہ لیں۔

موجودہ دور میں تو سب ہی ٹیکس دیتے ہیں تو سب ہی ذمی ہے۔ البتہ ذمی کا جو دوسرا معنی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ تو ہماری ریاست ذمہ داری نبھانے کے معاملے میں اکثریت اور اقلیت دونوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرتی ہے۔ :) اس لئے کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
 
Top