ابولکلام آزاد کی نظر میں مسٹرجناح بحیثیت ایک فرقہ پرست

سید رافع

محفلین
جی میرے نزدیک اخلاقی اور غیر اخلاقی کا مطلب تو وہی کچھ ہے جو یہ الفاظ سننے یا پڑھنے پر سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے، باقی اس کی وضاحت تو کوئی "فلسفی" ہی کر سکتا ہے۔
فلسفی کی کیا ضرورت جب ہمارے پاس إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ موجود ہے۔

معذرت کے ساتھ مولانا انسانیت کے مصلح و ہادی تو تھے نہیں
معلوم نہیں آپ انسانیت کے مصلح و ہادی اکیسویں صدی میں کس قسم کے مرد کو سمجھتے ہیں؟ مولانا ہزارہا معاملات میں صلح اور ہدایت دیتے رہے۔ اس سے زائد اور کون ہو گا مصلح و ہادی!
 

محمداحمد

لائبریرین
مولانا ابوالکلام آزاد 1888ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین افغانی سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ ابو الکلام نے جدوجہد آزادی پر ایک کتاب انڈیا ونس فریڈم لکھی۔ اس کتاب میں مسٹر جناح اور مسلم لیگ کی سیاست پر مولانا نے ایک سیاسی مدبر کی حیثیت سے جابجا تبصرے کیے ہیں جو دلچسپی کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔

مولانا شملہ کانفرنس کی ناکامی مسٹر جناح کی فرقہ وارنہ مطالبے پر ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ ۔۔۔



مولانا مذید تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ



مولانا فرماتے ہیں کہ



عام انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا نشاندہی کرتے ہیں کہ



اشتراک اور تعاون پر مسٹر جناح کی ضرب کاری کا ذکر یوں کرتے ہیں



جاری ہے۔۔۔

یہ کس کتاب کے حوالے ہیں۔ کیا یہ آن لائن دستیاب ہے۔ پی ڈی ایف یا اسکیننگ موجود ہے؟
 

سید رافع

محفلین
اس گفتگو کا ایک پہلو انگریز بھی ہیں۔

مولانا نے ہندوستان کی آزادی پر انگریزوں کی نیت پر ایک تبصرہ کیا ہے جو اس حقیقت کو اور کھول دیتا ہے کہ آزادی ہند، تقسیم ہند محض فرقہ پرستی کی سیاست کی وجہ سے بنی۔

مسٹر ایٹلی کا خیال تھا کہ معاملات ایسی منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ اب تعطل بہت نقصان دہ ہوگا اور اس لیے ضروری ہے کہ کوئی صاف اور قطعی فیصلہ کرلیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ برطانوی حکومت کے اقتدار سے دست بردار ہونے کی ایک تاریخ مقرر کردی جائے۔ لارڈ ویول کو ایسی کسی تاریخ کا اعلان کرنے کی رائے سے اتفاق نہیں تھا۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ برطانوی حکومت اپنا فرض نہیں ادا کرے گی، اگر اس نے فرقہ وارانہ مسائل کے حل ہونے سے پہلے سیاسی اختیارات منتقل کر دیے۔

ان کو یقین راسخ تھا کہ اگر انگریز کانگریس اور مسلم لیگ میں مفاہمت کرائے بغیر ہندوستان سے رخصت ہوگئے تو یہ ہندوستان کے لیے خطرناک اور خود ان کی شان کے خلاف ہو گا۔

لارڈ ویول برابر یہ کہتے رہے کہ اگر فرقہ وارانہ مسائل کی وجہ سے تشدد ہوا تو آنے والی نسلیں برطانیہ کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ لارڈ ویول جب مسٹر ایٹلی کو قائل نہ کر سکے تو انہوں نے اپنا استعفی پیش کر دیا۔

اب دس سال بعد جب میں ان واقعات پر غور کرتا ہوں تو بھی یہ نہیں سمجھ میں آتا کس کا خیال درست تھا۔ معاملات اس قدر پیچیدہ تھے اور حالت اتنی نازک تھی کہ کوئی قطعی رائے دینا مشکل ہے۔ مسٹر ایٹلی کے فیصلے کا محرک یہ عزم تھا کہ ہندوستان کو آزاد ہونے میں مدد کرنی ہے۔ وہ شخص جس کی ذہنیت ذرا بھی امپیریلسٹ ہوتی تو وہ ہندوستان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کی نااتفاقی سے برطانوی حکومت نے ہمیشہ فائدہ اٹھایا اور یہی ہندوستان کے مطالبہ آزادی کے خلاف سب سے زبردست حربہ تھا۔

ہمیں اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اگر انکی نیت صاف نہ ہوتی اور وہ ہندووں اور مسلمانوں کی نااتفاقی سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو وہ ضرور اٹھا سکتے تھے اور ہماری مخالفت کے باوجود دس سال تک اور حکومت کر سکتے تھے۔
 

علی وقار

محفلین

تقسیم ہند کا ذمہ دار کون ہے یہ مسئلہ بڑا سنگین اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی وجہ بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ہمارے بعض غیر مسلم بھائی کہتے ہیں کہ مسلمان اس کے ذمہ دار ہیں- انہوں نے ملک کو تقسیم کیا اپنا حصہ حاصل کرلیا چنانچہ ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان چلے جانا چاہیے- اس کے جواب میں مسلمان کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے پاکستان بنایا وہ وہاں چلے گئے۔ ہمارے باپ داداوں نے ہندوستان میں رہنا پسند کیا چنانچہ ہم یہیں رہیں گے، یہی ہمارا وطن ہے، یہیں ہم پیدا ہوئے یہی کی مٹی میں دفن ہوجائیں گے۔

اس جواب کا ایک پہلو درست ہے دوسرے پہلو سے گویا مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم کی ذمہ داری مسلم لیگ کے سربراہ محمد علی جناح پر ہے۔

یہ جواب تاریخ کے غلط مطالعہ کی وجہ سے ہے۔ بلکہ صحیح معنوں میں نہ تو الزام لگانے والوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اور نہ مظلوموں نے تاریخ کو پڑھا ہے۔ بس صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کرلیا ہے ۔ اس کی وجہ سے مسلمان ایک احساس کمتری میں مبتلا ہیں۔

تقسیم ہند کے موضوع پر یوں تو بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن ہم یہاں صرف تین کتابوں کا ذکر کریں گے
1-Partition of India Legend and Reality
مصنف ایچ۔ ایم سیروائی
2-India Wins Freedom
مصنف مولانا آزاد مرحوم
3۔ تقسیم ہند 1947
کیا اصلاً مسلمان ہی اس کے ذمہ دار ہیں؟
منصف: منصور احمد ، آئی ایف ایس ریٹائرڈ

ایچ ایم سیر وائی 1957سے 1974تک مہاراشٹر کے ایڈووکیٹ جنرل رہ چکے ہیں۔ وہ نہ ہندو تھے نہ مسلم نہ اُن کا تعلق مسلم لیگ سے تھا اور نہ کانگریس سے وہ ایک پارسی تھے۔ اس لیے ان کی غیر جانب داری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ انہوں نے تقسیم سے متعلق اصل دستاویز (Original Documents)سے استفادہ کیا ہے یہ کتاب 255 صفحات پر مشتمل ہے اس کا پہلا ایڈیشن 1989میں شائع ہوا اس کے بعد بھی کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
سیر وائی نے اپنی کتاب کے صفحہ 234پر لکھا
I have said that Gandhi and Nehru by rejecting the cabinet Plan were responsible for the partition of India and the disasters which followed partition
میں کہہ چکا ہوں کہ گاندھی اور نہرو کیبنٹ پلان کو رد کرکے تقسیم اور تقسیم کی لائی ہوئی آفات کے ذمہ دار ہیں۔

دوسری کتاب India Wins Freedomہے یہ مولانا آزاد کی بہت مشہور کتاب ہے اس کے بھی کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1960میں شائع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن مع اضافہ 1988میں شائع ہوا۔ اس کتاب میں مولانا آزاد نے تقسیم کا ذمہ دار جواہر لال نہرو کو ٹھہرایا۔ انہوں نے لکھا کہ گاندھی جی تقسیم کے سخت مخالف تھے اور کہتے تھے کہ تقسیم میری لاش پر ہوگی لیکن آخر میں وہ بھی تقسیم کے لیے تیار ہوگئے اور یہ میری زندگی کا عظیم سانحہ تھا۔

تیسری کتاب تقسیم ہند 1947
کیا اصلاً مسلمان ہی اس کے ذمہ دار ہیں؟
یہ کتاب جناب منصور احمد صاحب نے لکھی یہ سہسرام بہار کے رہنے والے ہیں 1989میں انڈین فاریسٹ سرویس بہار کیڈر سے ریٹائرڈ ہوئے 1940کے بعد کے ہنگامہ خیز حالات کے اور اس کے نتیجہ میں جو آفات ملک کے باشندوں پر ٹوٹیں اس کے چشم دید گواہ ہیں۔ ان کی کتاب ، کتاب بھون 1784کلاں محل دریا گنج دلی نے 2003میں شائع کی۔ ڈاکٹر عبدالمغنی مرحوم وائس چانسلر متھلا یونیورسٹی نے لکھا کہ جو حقائق اس کتاب میں پیش کیے گئے ہیں ان کی تردید مشکل ہے۔ صورت واقعہ کو بیان کرنے میں ان کی دیدہ ریزی قابل داد ہے۔ اس کتاب کے بہت سے مضامین 1995میں ہفت روزہ ریڈینس اور اسلامک وائس بنگلور میں شائع ہوچکے ہیں۔ مصنف نے سیروائی کی اس بات کو دہرایا ہے کہ تقسیم کانگریس چاہتی تھی۔ جناح تو تقسیم کے خلاف تھے لیکن انہوں نے ترجیح دوم کے طور پر اس کو قبول کیا۔ مصنف نے انگریزوں کی پالیسی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو Divide and Rule کی پالیسی کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے کہ آخر کب تک مسلمان تقسیم کا الزام اپنے سر پر ڈھوتے رہیں گے۔ یہی مقصد ہے جس کو سامنے رکھ کر یہ کتاب لکھی گئی ہے۔اس ڈرامے کے پانچ اہم کردار ہیں محمد علی جناح، جواہر لال نہرو، گاندھی جی ، مولانا آزاد اور انگریز خود۔محمد علی جناح جن کو پاکستان کا خالق کہا جاتا ہے ان کے والد راجکوٹ گجرات کے رہنے والے تھے تجارت کی غرض سے کراچی منتقل ہوگئے وہاں جناح کی پیدائش ہوئی ۔ابتدائی تعلیم گجراتی زبان میں ہوئی۔16سال کی عمر میں ان کے والد نے انہیں انگلینڈ بھیج دیا ۔ وہاں انہوں نے بیرسٹر کی ڈگری لی اور واپس ممبئی آئے اور وہیں پر مقیم ہوگئے۔ ممبئی میں وکالت شروع کی بالآخر 1905میں وہ دادا بھائی نورو جی کے پرائیویٹ سکریٹری مقرر ہوئے۔ وہ گوکھلے اور سریندر ناتھ بنرجی جیسے سیاست دانوں سے متاثر تھے۔ اسی سال وہ کانگریس پارٹی کے ممبر بن گئے۔ 1906میں مسلم لیگ ڈھاکہ میں بنی جس کے وہ شدید مخالف تھے۔ 1913میں مولانا محمد علی جوہر کی دعوت پر مسلم لیگ کے ممبر بن گئے۔ اس زمانے میں ایک شخص پارٹیوں کا بیک وقت ممبر بن سکتا تھا ۔ جناح نے مسلم لیگ اور کانگریس میں اتحاد کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ سروجنی نائیڈو ان سے بہت متاثر تھیں اور کہتی تھیں
.Jinnah the ‘Ambassador of Hindu-Muslim Unity

1920میں Non-cooperation movementکا ریزولیشن پاس ہوا ۔ محمد علی جناح نے اس کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح نوجوانوں کا ذہن لا قانونیت کی طرف مائل ہوگا۔ بہرحال جناح کچھ دنوں کے بعد کانگریس سے علیحدہ ہوگئے اور انگلینڈ چلے گئے۔ 1924میں پھر واپس آئے اور مسلم لیگ کی رہنمائی کرتے رہے۔ 1940لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوگیا۔ یہ دور بڑا ہنگامہ خیز تھا۔اس زمانے میں اور بہت سے واقعات پیش آئے جن کو ہم صرف نظر کرتے ہیں۔

مولانا آزاد اور گاندھی جی مسلمانوں کے اس مطالبے کے سخت خلاف تھے کہ ملک تقسیم ہو۔ ہندوستان کی اس گتھی کو سلجھانے کے لیے انگلینڈ سے 24مارچ 1946کو Cabinet Missionہندوستان پہنچا اس کے سربراہ Lawrence Secretary of State India Missionنے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سے گفتگو کی ۔ مولانا آزاد کانگریس کے صدر تھے۔ انہوں نے 15اپریل 46کو کانگریس کے مشورے سے ایک بیانیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ تقسیم ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ البتہ مسئلے کے حل کے لیے پورے ملک کو تین زونس میں تقسیم کردیا جائے۔ البتہ تین امور مرکز کے پاس رہیں ۔ 1دفاعی امور۔ 2خارجہ امور۔ 3۔مواصلات
زون ۔ اے Zone-A
اس میں مدراس، بمبئی۔ سی پی ،یو پی ،بہار ،یہ ہندو اکثریت کے صوبے تھے
زون بیZone-B
اس میں مغربی سرحدی صوبہ پنجاب سندھ بلوچستان
اس زون میں مسلمانوں کی اکثریت تھی
زون سی Zone-C
اس میں بنگال اور آسام کے صوبے شامل تھے اس میں گرچہ آبادی کم تھی لیکن مسلمانوں کی اکثریت تھی
اس پلان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یہ تینوں زون اپنے اپنے آئین خود بنائیں گے۔
اور دس سال تک صوبوں کو اپنے اپنے زون میں رہنا ہوگا۔ کانگریس نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی میں اس پلان کو منظور کرلیا۔
مسلم لیگ نے اپنا مطالبہ پاکستان چھوڑ کر کیبنٹ پلان کو منظور کرلیا۔
مولانا آزاد کانگریس کے صدر کی حیثیت سے لمبے عرصے سے کام کررہے تھے اب انہوں نے صدارت کا چارج پنڈت جواہر لعل نہرو کو دے دیا۔
ایک انتہائی نا خوش گوار سانحہ
اب ایک ایسا نامبارک سانحہ ہوا جس نے تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ جواہر لعل نہرو نے ایک پریس کانفرنس بمبئی میں منعقد کی اور ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کانگریس خود کو اس بات کے لیے آزاد سمجھتی ہے کہ کیبنٹ پلان کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرے۔
محمد علی جناح نے پنڈت نہرو کے اس بیان کو شدت سے لیا اورایک بیان جاری کیا کہ کانگریس کے صدر کے بیان کا تقاضا ہے کہ پورے پلان پر نظر ثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان کی روشنی میں اقلیت کو اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑدیا جائے گا۔ بہرحال کیبنٹ مشن پلان ناکام ہوگیا اور اس کی ناکامی کے ذمہ دار مولانا آزاد کی نظر میں کانگریس اور پنڈت نہرو اور گاندھی جی ہیں۔
مسلم لیگ کا ڈائرکٹ ایکشن
16اگست 1946کو مسلم لیگ کے ڈائرکٹ ایکشن پلان کا اعلان ہوا۔ اس طرح تمام ملک میں مظاہرے ہوئے۔ کلکتہ میں اسی روز فساد ہوا۔ ہندووں نے مسلمانوں کو مارا۔ فوج کنٹرول نہ کرسکی نواکھالی میں فساد ہوا یہاں مسلمان حاوی رہے۔ پھر بہار کے مختلف علاقوں میں فسادات ہوئے اور زیاد تر نقصان مسلمانوں کا ہوا
بہرحال تقسیم کا ذمہ دار کون ہے
سیر وائی نے اپنی کتاب صفحہ 172پر لکھا
it is reasonably clear that it was the congress which wanted partition. It was Jinnah who was against partition but accepted it as the second best
یہ بات معقول حد تک بالکل واضح ہے کہ کانگریس تقسیم چاہتی تھی اور جناح تقسیم کے مخالف تھے لیکن بالآخر انہوں نے ترجیح دوم Second Bestکے طورپر قبول کیا۔
(Partition of India Legend and Reality(page 172
 

محمد وارث

لائبریرین

ابولکلام آزاد کی نظر میں مسٹرجناح بحیثیت ایک فرقہ پرست​


اس عنوان کا کیا مطلب ہوا؟

قائدِ اعظم نے کسی فرقہ کا نام نہیں لیا۔
احمد صاحب، عام طور پر "فرقے" سے ہمارے ذہن میں مسلمانوں کے فرقے ہی آتے ہیں لیکن اس زمانے میں کانگریسی اور نیشلنسٹ مسلمانوں کے نزدیک فرقوں سے مراد ہندوستان میں پائے جانے والے مختلف مذاہب تھے۔ جناح علیہ الرحمہ مسلمانوں کی بات کرتے تھے سو وہ ان کی نظر میں فرقہ (مسلمان)پرست تھے۔ کانگریسی خود کو سیکولرکہتے اور سمجھتے تھے اور مسلم لیگ کو اپنے ہم پلہ سمجھنے کی بجائے ہندو مہا سبھا اور سکھوں کی اکالی دَل کے لیول کی جماعت سمجھتے تھے ۔ یہ عنوان اسی تناظر میں ہے۔

دوسری طرف جناح صاحب کی قسمت دیکھیے، مولانا اور کانگریس ان کو فرقہ پرست کہتی رہی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایڈوانی صاحب ان کے مزار پر آ کر ان کو سیکولر کا خطاب دے گئے!
 

محمداحمد

لائبریرین
اس زمانے میں کانگریسی اور نیشلنسٹ مسلمانوں کے نزدیک فرقوں سے مراد ہندوستان میں پائے جانے والے مختلف مذاہب تھے۔ جناح علیہ الرحمہ مسلمانوں کی بات کرتے تھے سو وہ ان کی نظر میں فرقہ (مسلمان)پرست تھے۔
بہت شکریہ وارث بھائی اس معلومات کا۔
دوسری طرف جناح صاحب کی قسمت دیکھیے، مولانا اور کانگریس ان کو فرقہ پرست کہتی رہی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایڈوانی صاحب ان کے مزار پر آ کر ان کو سیکولر کا خطاب دے گئے!
بات یہ ہے کہ جس کو جو چیز سوٹ کرتی ہے وہ اُسی کا ذکر کرتا ہے اور باقی معاملات گول کر دیتا ہے۔

پہلے تو یہ تازہ محققین بڑے بڑے لوگوں کے ایسے ارشادات تلاش کرتے تھے جو اُن کے موقف کی حمایت میں ہوں۔

لیکن اب تو زمانہ کافی بدل گیا ہے ۔ اب تو لوگ اپنے خیالات شیکسپئر کے منہ سے بھی کہلوا دینے میں عار نہیں سمجھتے ۔
 

سیما علی

لائبریرین
اسکا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ مولانا آزاد دور حاضر کے زرداری لیول کے آدمی تھے جو اکثریتی ووٹ (جمہوریت) کیخلاف جوڑ توڑ کر کے اقلیت میں سے وزیر اعلی پنجاب بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
سید رافع بھائی اب اپنا چورن کہیں اور جا کر بیچیں۔ مولانا آزاد کے قول و فعل میں تضاد تھا۔ وہ باتیں اتحاد و جمہوریت والی کر کے حرکتیں زرداری والی کرتے تھے
خدا کے لئے مولانا ابو الکلام آزاد تو زرداری جیسے انسان سے نہ ملائیں ۔وہ ایک ماہر عالم دین اور ایک عظیم خطیب تھے ۔دوسری طرف ایک بے دین شخص ہے جسکا موازنہ ایک ایسے شخص کے ساتھ بالکل درست نہ ہوگا۔کیونکہ مولانا کا عقیدہ تھا کہ قرآن ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔اور جس شخص کا نام آپ لے رہے اُنکے لئے صرف پیسہ اہمیت رکھتا ہے اب وہ جس ذریعے سے بھی آئے
😢😢😢😢
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
خدا کے لئے مولانا ابو الکلام آزاد تو زرداری جیسے انسان سے نہ ملائیں ۔وہ ایک ماہر عالم دین اور ایک عظیم خطیب تھے ۔

مولانا ابوالکلام آزاد لوگوں کو صرف اس لئے یاد آتے ہیں کہ وہ مسلمان ہوتے ہوئے پاکستان کے قیام کے خلاف تھے۔

اگر کوئی کہے کہ گاندھی جی پاکستان کے خلاف تھے تو ہمیں کیا فرق پڑنا ہے۔ اس لئے مولانا کا نام لیا جاتا ہے کہ دیکھو بھئی تمہارے مولانا ہی پاکستان کے قیام کے خلاف تھے۔ اب یا تو یہ مان لو کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی یا پھر مولانا کو "ڈس اون" کردو۔

ایسے ہم جیسے سادہ لوح لوگ مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ اور یہ اینٹی پاکستان اور اینٹی اسلام لوگ فتنہ پھیلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
لیکن اب تو زمانہ کافی بدل گیا ہے ۔ اب تو لوگ اپنے خیالات شیکسپئر کے منہ سے بھی کہلوا دینے میں عار نہیں سمجھتے ۔
بالکل درست کہا آپ نے ۔یہ یہ تو شیکسپئیر کہا آپ نے یہاں تو بزرگانِ دین کی باتیں بھی اپنے آپ سے منسوب کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے ۔
 
آخری تدوین:

محمداحمد

لائبریرین
ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو اکثر و بیشتر پاکستان کے قیام پر سوال اٹھاتا رہتا ہے۔ یا پاکستان کے اسلامی تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

ہمیں لگتا ہے کہ یہ تاریخ کے طالبِ علم ہیں لیکن دراصل یہ کسی اور ہی چیز کے طالب ہوا کرتے ہیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
ہمیں لگتا ہے کہ یہ تاریخ کے طالبِ علم ہیں لیکن دراصل یہ کسی اور ہی چیز کے طالب ہوا کرتے ہیں۔
جس کے طالب ہیں وہ اُنکی دنیا تو شاید سُدھار دے پر عقبی تو بگڑ گئی ۔
اب جو کچھ کرنا ہے کرنا چاہیے
آج ہی سے !!!فکر فردا چاہیے
 

سیما علی

لائبریرین
ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا موجود ہے جو اکثر و بیشتر پاکستان کے قیام پر سوال اٹھاتا رہتا ہے۔ یا پاکستان کے اسلامی تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
مزے کی بات ہے پاکستان سے فائدہ اُٹھانے میں پیش پیش نظر آئیں گے اور اسلامی تشخص کو مسخ کرنے اور پاکستان کے قیام پر ڈھونڈ ڈھونڈ کر تاویلیں دیتے ہیں۔۔۔
 

محمد وارث

لائبریرین
خدا کے لئے مولانا ابو الکلام آزاد تو زرداری جیسے انسان سے نہ ملائیں ۔وہ ایک ماہر عالم دین اور ایک عظیم خطیب تھے ۔دوسری طرف ایک بے دین شخص ہے جسکا موازنہ ایک ایسے شخص کے ساتھ بالکل درست نہ ہوگا۔کیونکہ مولانا کا عقیدہ تھا کہ قرآن ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔اور جس شخص کا نام آپ لے رہے اُنکے لئے صرف پیسہ اہمیت رکھتا ہے اب وہ جس ذریعے سے بھی آئے
😢😢😢😢
مولانا آزاد ایک کثیر الجہتی شخصیت تھے، مذہبی رہنما،مفسر، مدبر، خطیب، ادیب، مدیر، محقق، شاعر، مصنف اور سیاستدان۔ سیاست کو چھوڑ مولانا کی کسی بھی حیثیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور وہ لوگ کور ذوق ہیں جو سیاست کی وجہ سے مولانا کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ باقی رہی سیاست تو وہ متنازعہ فیہ ہے۔ مولانا سیاسی مدبر تو تھے لیکن ان کی سیاست ویسی ہی ہے جیسے اس زمانے کے کسی سیاست دان کی ہو سکتی تھی۔ مسلم لیگ اور قیام پاکستان کے سخت مخالف تھے اور جناح صاحب کو فرقہ پرست کہتے تھے اور جناح ان کو کانگریس کا شو بوائے کہتے تھے کیونکہ مسلم لیگ جب بھی مسلمانوں کے حقوق کی بات کرتی تھی تو کانگریس مولانا کو سامنے کر دیتی تھی کہ مسلمان تو یہ ہیں اور ہمارے ساتھ ہیں، جناح کیسے سب مسلمانوں کی بات کرتا ہے؟

مجھے ذاتی طور پرلگتا ہے کہ مولانا اگر سیاست میں نہ ہوتے تو اچھا ہوتا کیونکہ وہ زمانہ سیاسی شورش کا زمانہ تھا اور مولانا کی شخصیت کی دیگر جہات جو کہ انتہائی اعلیٰ پائے کی ہیں وہ اس سیاسی شورش کی نذر ہو گئیں۔
 

علی وقار

محفلین
پیارے دوستوں سے معذرت کے ساتھ، اس حوالے سے میرا موقف یہ ہے کہ بات چیت، مکالمہ وغیرہ چلتا رہنا چاہیے کہ اس سے اذہان کھلتے ہیں، ہم کسی کی نیت کو پرکھ نہیں سکتے۔ اس لڑی سے مجھے بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔ اس بہانے کافی عرصہ بعد بعض ریسرچ کی، کچھ نئے مضامین میرے سامنے آئے۔ اگر ہم یہ ذہنی مشق نہیں کریں گے تو اس کا ہمیں زیادہ نقصان ہو گا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ہم کسی کی نیت کو پرکھ نہیں سکتے۔

یہ بات واقعی درست ہے کہ ہم کسی کی نیت کو پرکھ نہیں سکتے۔

البتہ یہ بات بھی درست ہے کہ کسی کے ٹریک ریکارڈ میں کسی خاص عنصر کے تسلسل کو مستقل نظر انداز کرتے رہنا بھی کوئی دانشمندی نہیں ہے۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
پیارے دوستوں سے معذرت کے ساتھ، اس حوالے سے میرا موقف یہ ہے کہ بات چیت، مکالمہ وغیرہ چلتا رہنا چاہیے کہ اس سے اذہان کھلتے ہیں، ہم کسی کی نیت کو پرکھ نہیں سکتے۔ اس لڑی سے مجھے بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔ اس بہانے کافی عرصہ بعد کچھ ریسرچ کی، کچھ نئے مضامین میرے سامنے آئے۔
اور میرے خیال میں اذہان کھولنے کے بہت سے موضوعات ہیں لیکن کچھ لوگوں کی ذہن کی سوئی ایسے موضوعات پر اٹکی ہوئی ہے جو بہت ہی کم لوگوں کی ذہنی اور بہت سوں کی تخریبانہ تسکین سے زیادہ کچھ نہیں۔
حالانکہ ضرورت ایسے موضوعات پر بحث کی ہے جو ذہنی تسکین کے ساتھ راہِ عمل بھی کھولے۔
 

سید رافع

محفلین

یہ سوال اسقدر اہم ہے کہ بار بار اس گفتگو میں پوچھا جانا چاہیے۔ جب سے احمد بھائی نے یہ سوال کیا ہے میں دن رات اس سوال کے بارے میں متفکر ہوں۔ اس کا حتمی جواب دینا میرے لیے فی الحال ممکن نہیں۔ البتہ کچھ دھندلی سی راہیں ہیں جو ذین میں آئیں ہیں۔ ان میں سے بعض محض نظری باتیں ہیں جو ہو سکتا ہے کچھ احباب کو گراں گزریں۔

1- کیا کریں کی ایک راہ یہ ہو سکتی ہے کہ تقسیم پاکستان کو undo کیا جائے۔ پاک کانگریس کی بنیاد رکھی جائے۔

2- کیا کریں کی ایک اور راہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کو یورپی یونین کی طرز کے ملک بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ اس سے عسکری بجٹ کم ہو گا۔ اس کے لیے بھی پاک کانگریس کی بنیاد رکھنی ہو گی۔

3- کیا کریں کی ایک راہ وہ ہو سکتی ہے جو مولانا آزاد نے اپنی کتاب میں تحریر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: بہر کیف جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب پاکستان کی نئی ریاست ایک حقیقت ہے۔ اب دونوں ریاستوں کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھائیں اور اشتراک عمل سے کام لیں۔ اس کے خلاف کوئی پالیسی اپنائی گئی تو وہ نئے اور بڑے مصائب و آلام کا باعث بن سکتی ہے۔
 
Top