آنائی کے آدم خور وحشی (مقبول جہانگیر)

انیس الرحمن نے 'مضامین کی ادارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 13, 2013

  1. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    آنائی کے آدم خور وحشی
    مقبول جہانگیر
    مصباح الایمان کے نام​
    اِک دوست مل گیا ہے وفا آشنا مجھے​
    ترتیب
    ۱۔ آنائی کے آدم خور وحشی​
    ۲۔ ساؤ کے آدم خور​
    ۳۔ گینڈوں کی بستی میں​
    ۴۔ کانگو کے گوریلے​
    ۵۔ سوانی پَلی کا سیاہ چیتا​
    ۶۔ نربدا کا آدم خور​
    ۷۔ شانگو کے پانچ مگرمچھ​
    ۸۔ جہور کا آدم خور​
    ۹۔ جرنگاؤ کا آدم خور​
    ۱۰۔ کراگانو اور جنگلی بھینسا​
    ۱۱۔ شرقی اور آدم خور​
    ۱۲۔ عالم بخش اور خونخوار ریچھ​
    ۱۳۔ ایک پاگل ہاتھی​
    ۱۴۔ موسِی کا آدم خور مگرمچھ​
    یہ کتاب
    اردو زبان میں اب تک شکاریات کے موضوع پر گنی چُنی کتابیں ہی لکھی گئی ہیں۔ یہ کتاب بھی انہی میں سے ایک ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے پہلے اردو میں شکاریات کی کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہیں تو آپ محسوس کریں گے کہ یہ کتاب اپنی پیش رو کتابوں سے کچھ ہٹ کر مرتب کی گئی ہے۔ کرنل جم کاربٹ، کینتھ اینڈرسن، کرنل پیٹرسن ، جی۔ اے۔ ہنٹر، فرینک سی ہبن، آرمنڈ ڈینس، ٹام شپلنگ، مسٹر ہسکلے اور ہاورڈ ہل جیسے مایہ ناز شکاری شخصیتوں کے کارنامے پہلی بار اس کتاب میں یکجا کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں جنگلوں میں بسر کی ہیں اور دنیا کو بتایا ہے کہ ان جنگلوں میں درندے اور انسان ہزار ہا سال سے کس طرح مل جل کر رہتے چلے آئے ہیں اور درندے جب انسان کے دشمن بن جاتے ہیں تو انسان اپنے بچاؤ کی کون سی تدابیر اختیار کرتا ہے اور درندوں سے کیسے نجات حاصل کرتا ہے۔ اس کتاب میں آپ تاریک بر اعظم کے قدیم باشندوں کی معاشرت اور رسم و رواج کے نمونے بھی دیکھیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلوں میں رہنے والے درندوں اور دوسرے جانوروں کی عجیب و غریب حرکتوں اور ذہنی کیفیتوں کی بھی صحیح تصویریں پیش کی گئی ہیں۔ ہاتھی، شیر، چیتے، گینڈے، ریچھ، دریائی گھوڑے، گوریلے، جنگلی بھینسے اور مگرمچھ جب انسانوں سے انتقام لینے پر اترتے ہیں تو عیاری، مکاری، نڈرپن اور دھوکے بازی کے کیسے کیسے مظاہرے کرتے ہیں اور بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیتے ہیں۔ ایسے شہرۂ آفاق شکاریوں کے یہ سچے کارنامے اس سے پہلے اردو زبان میں منتقل نہیں کیے گئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اسے شکاریات کے موضوع پر اپنی نوعیت کی اوّلین کتاب قرار دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
    مقبول جہانگیر​
     
    • زبردست زبردست × 13
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ۱۔ آنائی کے آدم خور وحشی
    یہ ہیبت ناک اور لرزہ خیز داستان سماٹرا کے جنگلاات سے تعلق رکھتی ہے، واقعات اس قدر پر اسرار اور بعید اَز فہم ہیں کہ سائنس کے اس عظیم الشان دور میں بمشکل ہی ان پر یقین آئے گا، لیکن مجھے ایک روز مرنا ہے اور میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اس داستان کا ایک ایک حرف صحیح ہے۔ دنیا کے متمّدن اور بارونق شہروں میں رہنے والے لوگ "جنگل کی زندگی" کے تصوّر سے بھی نا آشنا ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ جنگل میں بسنے والوں کو قدم قدم پر کس طرح موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    ان کی تہذیب، ان کی رسمیں، ان کے رواج وہی ہیں جو ہزار ہا سال سے ان قوموں میں رائج ہیں اور جنہیں ہم وحشیانا حرکتیں کہہ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کئی سال تک جاوا کے جنگلوں میں گھومنے کے بعد جب میں اپنے وفادار ملازم ہاشم کی معیت میں سماٹرا کی طرف روانہ ہوا۔ نہ جانے کیوں مجھے اپنے دل میں ایک عجیب اضطراب محسوس ہونے لگا۔ جیسے کوئی قوّت بار بار میرے کان میں کہہ رہی ہو کہہ تو وہاں مت جا۔۔۔۔۔ تو وہاں مت جا۔۔۔۔۔ میں ایک شکاری ہوں۔ جس نے زندگی میں صدہا خطرات کا مقابلہ کیا ہے اور مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ اپنے حلقۂ تعارف میں مجھے بزدل نہیں سمجھا جاتا۔۔۔۔۔ مگر ہر انسان کی طبیعت میں قدرت نے وہم کا مادہ رکھ دیا ہے جس سے وہ علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح مجھے بھی اس وہم نے آ گھیرا ہے کہ سماٹرا میں موت تیرا انتظار کر رہی ہے اور اگر گورنمنٹ کی ملازمت نہ ہوتی تو شاید میں وہاں نہ جاتا۔
    میری اضطراب کی وجہ یہ نہ تھی کہ سماٹرا میرے لیے ایک نئی جگہ تھی۔ جی نہیں۔ میں وہاں اس سے پہلے کئی برس رہ چکا تھا اور وہاں کے لوگوں سے اچھی طرح واقف تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ جاوا کے جنگلات کی نسبت سماٹرا کے جنگلات کہیں زیادہ گھنے اور بھیانک ہیں۔۔۔۔۔ پھر کیا بات تھی کہ جب مجھے سماٹرا جانے کا حکم ملا تو بجائے خوش ہونے کے میں افسردہ ہوگیا۔۔۔۔۔ حالانکہ میرا ملازم ہاشم خوشی کے مارے ناچا ناچا پھر رہا تھا ۔ اس معمّے کا حل بہت کوشش کے بعد بھی مجھے نہیں مل سکا۔
    ہاشم کی شاندار خدمات کے صلے میں میں نے اسے دو نالی رائفل خرید کر دے دی تھی اور وہ اسے پا کر اتنا خوش تھا جیسے کسی بچے کے ہاتھ نیا کھلونا آگیا ہو۔۔۔۔۔ اس سے پہلے اس کے پاس ایک بھاری اور بہت پرانی رائفل تھی جسے چلانا بھی کارے دارد تھا ۔ سماٹرا پہنچ کر مجھے پیلمبنگ کے ضلع میں تعینات کیا گیا ۔ یہ علاقہ دلدلی میدانوں اور گھنے جنگلوں سے پٹا پڑا تھا اور فضا میں ہر وقت ایک بو دار رطوبت سی چھائی رہتی تھی۔ میری عملداری میں جو علاقہ آیا وہ دریائے میلانگ کے کنارے واقع تھا اور بیس مربع میل میں پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔۔ میں جس روز یہاں پہنچا ، مزدوروں کی ٹولیاں مجھے دیکھنے کے لیے آئیں اور میں نے بڑے تعجب سے دیکھا کہ ان سب کے چہرے سوجے ہوئے اور سیاہ تھے اور چال ڈھال سے بھی وہ مضمل نظر آتے تھے ۔ معلوم ہوا کہ اس علاقے میں کالا بخار اور ملیریا کثرت سے پھیلا ہوا ہے اور یہاں ان مزدوروں کا علاج کرنے والا بھی کوئی بھی ڈاکٹر نہیں ہے۔ مصیبت یہ تھیں کہ یہ لوگ اس قدر جاہل اور وحشی تھے کہ بیماریوں سے محفوظ رہنے کے جو قوائد انہیں بتائے جاتے ، ان پر بالکل عمل نہ کرتے تھے۔ حالانکہ وہ دیکھتے تھے کہ وبائی امراض کی بدولت روزانہ تین چار آدمی موت کا شکار ہو رہے ہیں ۔ سورج غروب ہوتے ہی دریا کی جانب سے ایک سیاہ بادل کی شکل میں بڑے بڑے مچھروں کی فوج اپنی خوراک کی تلاش میں نکلتی اور بدنصیب مزدوروں پر ٹوٹ پڑتی ۔ ان کے پاس مچھروں کو بھگانے کا ایک ہی طریقہ تھا اور وہ یہ کہ آگ کے الاؤ جلا دیے جاتے تاکے مچھر نزدیک نہ آئیں۔ مگر جونہی ان بےچاروں پر نیند کا غلبہ ہوتا اور آگ مدھم پڑ جاتی ، وہ ہزاروں کی تعداد میں ایک آدمی سے چمٹ جاتے اور جب صبح ان کی آنکھ کھلتی تو ان کے چہرے اور جسم سوجے ہوئے نظر آتے۔
    اگرچہ مزدوروں کے رہنے کے لیے چھوٹے چھوٹے کوارٹر اور جھونپڑیاں موجود تھیں مگر مچھروں کی یلغار روکنے کا کوئی ذریعہ موجود نہ تھا۔ البتہ میرے پاس ذاتی ملازموں اور مدد گاروں کے لیے مچھر دانیاں تھیں جن کی بدولت ہم ان موذی مچھروں سے محفوظ رہتے تھے۔
    اگرچہ میں نے حکم دے رکھا رتھا کہ پانی ابال کر پیا جائے لیکن مزدوروں کو اس کی پروا نہ تھی۔ وہ دریا اور گڑھوں میں سے پانی نکال کر بے تکلفی سے پی لیتے تھے حالانکہ اس پانی کی سطح پر مچھروں کے انڈے تیر رہے ہوتے تھے۔ قصّہ مختصر میری جان توڑ کوششوں کے باوجود ملیریا کا مرض مزدوروں میں پھیلتا چلا گیا۔ میں بھلا کیا کرتا؟ میں کوئی ڈاکٹر نہ تھا کہ ان کا علاج کرتا رہتا۔ پھر بھی مجھ سے جو ہو سکا کرتا رہا۔ یہاں تک کہ کونین کا ذخیرہ ختم ہو گیا اور پھر مجبوراً مجھے حکومت کو خط لکھنا پر کہ اگر چند روز تک کسی ڈاکٹر کا انتظام نہ کیا گیا تو ان مزدوروں میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکے گا۔
    مزدوروں کی تیماداری اور ان کی صحت برقرار رکھنے کے مسائل پر میرا اتنا وقت صرف ہونے لگا کہ سیر و شکار کی طرف طبیعت راغب ہی نہ ہوئی۔ حالانکہ اس علاقے میں شکار کی کثرت تھی۔ اس علاقے میں جا بجا وسیع جوہڑ تھے جہاں مرغابیاں کثرت سے ملتی تھیں۔ ہاشم کبھی کبھار موج میں آتا تو چند مرغابیوں کو میرے لیے شکار کر لاتا تھا۔ دریائے میلانگ کی گہرائیوں میں خونخوار مگرمچھ ہزاروں کی تعداد میں تیرتے رہتے تھے اور پھر تین میل دور فلک بوس پہاڑیوں کی وادی میں ہرن، جنگلی بھینسے، بارہ سنگھے، گینڈے، چیتے اور شیر سبھی موجود تھے۔ مگر قسمت دیکھیے کہ پیلمبنگ میں آنے کے دو ماہ بعد تک مجھے شکار کی کسی مہم پر جانے کا موقع نہیں ملا۔ ہاشم بار بار مجھے ترغیب دیتا کہ آقا کسی روز شکار کو چلیے۔۔۔۔۔ ہماری رائفلوں کو اب زنگ لگنے لگا ہے۔۔۔۔۔ مگر میں ہنس کر ٹال دیتا۔قلی اور مزدور اس سے بےحد خوش تھے کیونکہ وہ دو ایک مرتبہ بارہ سنگھا شکار کر کے لایا تھا اور اس کا گوشت اس نے مزدوروں میں تقسیم کر دیا تھا۔ سارا سارا دن وہ باہر جنگل میں یا دریا کے کنارے کنارے گھومتا رہتا، یہاں اسے اپنی نئی رائفل کے جوہر دکھانے کا بڑا ہی اچھا موقع ملا تھا۔ روزانہ ہی شام کو جب وہ واپس آتا تو گینڈوں، چیتوں اور مگرمچھوں کی داستانیں سناتا جو اس کی رائفل کا نشانہ بنتے بنتے بچ گئے تھے۔
    آخر وہ دن بھی آ گیا کہ مجھے مزدوروں اور قلیوں کے علاج معالجے سے فرصت ملی۔ یعنی وہ ڈاکٹر جس کا انتظار تھا، آ گیا تھا اور سچ پوچھیے تو اس سے مل کر مجھے حقیقی مسرّت ہوئی۔ بڑا ہی خوش مزاج اور زندہ دل انسان تھا۔ چند ہی روز میں اس نے مزدوروں پر ایسا جادو کیا کہ سب اس کا کلمہ پڑھنے لگے اور اس کی ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا ہو گئے۔ مچھروں کو مارنے کے لیے کچھ سائنٹیفک طریقے استعمال کیے اور دور دور تک ان کی جتنی آبادیاں اور انڈے بچے تھے، سب کو ختم کر دیا۔ ڈاکٹر مجھ سے جلد ہی بےتکلف ہو گیا اور رات کو خاصی دیر تک ہم اِدھر اُدھر کی گپ شپ کر کے دل بہلانے لگے اور جب اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی شکار سے دلچسپی رکھتا ہے تو مجھے اور بھی خوشی ہوئی اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ جانوروں اور درندوں کی نفسیات کے علاوہ یہ شخص علم الانسان کا بڑا ماہر تھا اور چونکہ جاوا اور سماٹرا میں عرصۂ دراز تک رہ چکا تھا اس لیے ان جزیروں کے نہ صرف چپے چپے سے واقف تھا بلکہ باشندوں کی عادات اور خصائل، ان کے رسم و رواج اور زبان سے بھی خوب آگاہ تھا۔
    ایک روز جب ہم دونوں اپنے خیمے میں بیٹھے کافی پی رہے تھے، ڈاکٹر نے حسب معمول اپنے تجربات کی داستان کا آغاز کر دیا اور ایک ایسی عجیب کہانی سنائی کہ میرے رونگٹھے کھڑے ہو گئے جو کچھ اس نے سنایا اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے بھی مختلف لوگوں سے میں سن چکا تھا، مگر محض من گھڑت قصے سمجھ کر میں نے ایسے واقعات پر زیادہ غور کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا، مگر جب ڈاکٹر نے تفصیلاً مجھے وہی کہانی سنائی تو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ واقعی اس داستان کی تہہ میں کچھ نہ کچھ حقیقت کا عنصر موجود ہے۔
    قصّہ یہ تھا کہ آنائی کے پہاڑی جنگلوں میں جو کوسوں میلوں میں پھیلے ہوئے ہیں ایسا قبیلہ پایا جاتا ہے جو انسانوں کا خون پیتا اور گوشت کھاتا ہے۔ اگرچہ اس آدم خور قبیلے کے افراد بہت کم ہیں، لیکن ان کی دہشت اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ کوئی شخص اس طرف جانے کی جرات نہیں کرتا اور جو بھولا بھٹکا وہاں جاتا ہے، کبھی واپس نہیں آتا۔۔۔۔۔ یہ آدم خور لوگ اکیلے دکیلے کی تاک میں رہتے ہیں اور بعض اوقات بستیوں میں آ کرعورتوں اور بچوں کو پکڑ کر لے جاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدم خور آدمی رات کی تاریکی میں کسی جھونپڑی کے دروازے پہ دستک دیتا اور جونہی کوئی آدمی یا عورت دروازہ کھولتا تو آدم خور جھپٹ کر اسے پکڑ لیتا ہے اور اس سے پہلے کہ اس کا تعاقب کیا جائے، وہ اپنے شکار کو لے کر جنگل کی تاریکی میں غائب ہو جاتا ہے۔ یہ آدم خور اس قدر شہ زور اور پھرتیلے ہیں کہ بیک وقت دو آدمیوں کو اٹھا لینا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ اس موقعے پر ڈاکٹر نے جو داستان مجھے سنائی وہ آپ اسی کے الفاظ میں سنیے۔
    "یہ آج سے چھ ماہ پہلے کا واقعہ ہے۔ مجھے ان دنوں آنائی کے جنگلوں میں درختوں کی کٹائی کا کام کرنے والے مزدوروں کی دیکھ بھال پر لگایا گیا۔ علاقہ چونکہ بےحد خطرناک تھا۔ اس لیے گورنمنٹ نے بارہ مقامی سپاہیوں پر مشتمل ایک دستہ میری حفاظت کے لیے روانہ کیا۔ اس دستہ کی کمان جس شخص کے سپرد کی گئی اس کا نام لاڈبل تھا اور وہ بلجئیم کا رہنے والا ایک نڈر اور خاص تنو مند آدمی تھا اور سچ تو یہ ہے کہ میری نسبت یہاں کے باشندوں اور ان کے رسم و رواج کے بارے میں لاڈبل کی معلومات بہت وسیع تھیں۔ ایک رات کا ذکر ہے، ہم دونوں آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھے اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے کہ لاڈبل نے مجھ سے آنائی کے آدم خور انسانوں کا پہلی بار ذکر کیا۔ میں یہ سمجھا کہ یہ بھی محض گپ ہے، اس لیے ہنس کر کہا، "چھوڑو یار! کوئی اور قصّہ سناؤ میں نے ایسے قصّے بہت سنے ہیں۔"
    لیکن لارڈبل کے چہرے پر پھیلی ہوئی سنجیدگی اور گہری ہوگئی۔ چند لمحوں تک وہ اپنی گھنی مونچھوں کے سِرے مروڑتا رہا پھر بولا، "ڈاکٹر! یہ معالہ مذاق میں ٹالنے والا نہیں ہے۔ تم جانتے ہو کہ بارہ سپاہیوں کا یہ دستہ آخر کس لیے بھیجا گیا ہے؟"
    "میری حفاظت کے لیے!"
    "ٹھیک ہے، مگر یہ تم نے نہیں سوچا کہ آخر یہاں تمہاری حفاظت کا کیوں خاص طور پر انتظام کیا گیا ہے۔ آخر اس سے پہلے بھی تم بہت سے مقامات پر جا چکے ہو۔ حکومت نے اس وقت تمہاری حفاظت اس طرح نہیں کی تھی۔"
    بےشک وہ صحیح کہہ رہا تھا۔ معاملے کے اس پہلو پر ابھی تک میں نے کوئی توجہ ہی نہ کی تھی۔ اتنے میں لاڈبل نے کہا، "اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم آنائی کے علاقے میں ہیں، جہاں درندوں کے علاوہ آدم خور انسان بھی موجود ہیں۔ جو رات کی تاریکی میں شیرون اور چیتوں کی کھالیں اوڑھ کر آتے ہیں اور اپنے شکار کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اور اسے کچا ہی کھا جاتے ہیں۔ اگر تم انسانی ہڈیاں اور کھوپڑیاں دیکھنا چاہو تو میرے ساتھ چلنا۔ کھائیوں اور گھنی جھاڑیوں میں یہ ہڈیاں پڑی مل جائیں گی۔"
    دہشت کی ایک لہر مجھے اپنے جسم میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔ جیسے کسی نے میری ریڑھ کی ہڈی پر برف رکھ دی ہو۔ "تو حکومت ان آدم خوروں کو نیست و نابود کیوں نہیں کر دیتی؟" میں نے سوال کیا۔
    لاڈ بل مسکرایا۔ "ڈاکٹر! تم بھی کیا معصومانہ بات کرتے ہو۔ پہلے اس علاقے کو دیکھو۔ یہ تو کانگو کے خوفناک جنگلوں کو بھی مات کرتا ہے۔ اس میں ایک دو آدمی تو درکنار، اگر ایک لاکھ بھی چھپ جائیں تو ان کو تلاش کرنا محال ہے۔ حکومت نے اسی کوشش میں اپنے بہت سے جانباز افسر اور مانے ہوئے شکاری گنوائے ہیں جن کی ہڈیاں بھی بعد میں دستیاب نہیں ہوئیں۔ ابتدا میں تو برسوں تک علم نہ ہوا کہ انسانوں کو پھاڑ کھانے کی وارداتیں خود انسان ہی کر رہے ہیں۔ سارا الزام شیر اور چیتوں پر ڈال دیا جاتا تھا کیوں کہ انہی کے پنجوں کے نشانات بستیوں اور جنگلوں میں دیکھ جاتے تھے، مگر یہ بعد میں انکشاف ہوا کہ درندے بےقصور ہیں۔ یہ تو آدم خور انسان ہیں۔"
    تھوڑی دیر توقف کے بعد لاڈبل نے اپنی داستان یوں شروع کی، "یہ دو سال پہلے کا ذکر ہے، جب میں آنائی کے علاقے میں پہلی بار آیا، میں نے سنا تھا کہ یہاں "شیروں کی وادی" مشہور ہے۔ جہاں شیر اور چیتے کثرت سے ہیں۔ مقصد صرف شکار کھیلنا تھا۔ ان دنوں آدم خور انسانوں کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہ تھا بلکہ جو شخص جنگل میں گم ہو کر واپس نہ آتا اس کے بارے میں یہی سمجھ لیا جاتا تھا کہ وہ کسی درندے کے منہ کا لقمہ تر بن چکا ہو گا۔ ایک روز رہنمائی کے لیے میں ایک مقامی باشندے کو ساتھ لے کر شیروں کی وادی میں گھومنے کے لیے نکلا۔ اس کا نام تھا شائیکا اور یہ پولیس میں کافی عرصے تک ملازمت کر چکا تھا اور بڑا وفادار اور بہادر شخص تھا۔ میرے اور شائیکا کے پاس رائفلیں تھیں۔ ایک وسیع و عریض دلدلی میدان کو ہزاروں صعوبتوں کے بعد عبور کرتے ہوئے ہم شیروں کی وادی میں پہنچے۔ یہ دلدلی میدان سے کوئی تین میل دور پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع تھی۔ یہ پہاڑی سلسلہ دلدلی میدان سے بھی زیادہ دشوار گزر ثابت ہوا اور ہمیں اونچے اونچے ٹیلے پھلانگ کر آگے بڑھنا پڑا۔ جنگل میں چاروں طرف ایک ہیبت ناک سناٹا طاری تھا اور قدم قدم پر خار دار جھاڑیاں ہمارا راستہ روکے کھڑی تھیں۔
    اسی طرح کوئی ایک میل تک ہم دونوں شکاری آگے نکل گئے۔ ہم جوں جوں آگے بڑھتے جاتے تھے، جنگل میں تاریکی پھیلتی جاتی تھی، کیونکہ بلند درختوں کی چوٹیاں آپس میں ایک دوسرے سے اس طرح گتھی ہوئی تھیں کہ سورج کی روشنی بمشکل زمین تک پہنچ سکتی تھی۔ دفعتاً شائیکا کے منہ سے حیرت کی ایک ہلکی سی چیخ نکلی اور اس نے لپک کر میرا بازو پکڑ لیا۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا تو سامنے ہی جھاڑیوں میں کوئی بیس پچیس گز کے فاصلے پر ایک شیر خونخوار نظروں سے ہمیں گھور رہا تھا۔ شیر یکایک دھاڑا اور اردگرد کی پہاڑیاں اس کی ہولناک گرج سے کانپ گئیں۔ جنگل میں شیر کی ہیبت کا صحیح اندازہ وہی شکاری کر سکتے ہیں جو شیر کے شکار کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ کتنا ہی نڈر اور جری آدمی ہو، شیر کو پہلی بار دیکھتے ہی، ممکن نہیں اس کے ہوش و حواس برقرار رہیں اور یہی کیفیت میری ہوئی۔ رائفل میرے ہاتھوں میں تھی لیکن جب چلانے کا ارادہ کیا تو ایسا معلوم ہوا جیسے میرے ہاتھ سن ہوچکے ہیں۔ شیر نشانے کی عین زد میں تھا، مگر ہم دونوں پتھر کی طرح بےجان مورتیوں کی مانند بےحس و حرکت کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔ یکایک اس نے جست لگائی اور بجلی کی طرح ہماری طرف لپکا۔ سنبھلنے کا موقع ہی کہاں تھا۔ اس سے پہلے کہ میری رائفل سے گولی نکلے شیر نے ایک ہی دو ہتڑ میں شائیکا کو گرا دیا۔ مگر دوسرے ہی لمحے خودبخود میری انگلی سے رائفل کی لبلبی دب گئی اور گولی شیر کی گردن میں لگی۔ ایک ہولناک گرج کے ساتھ شیر نے قلابازی کھائی اور غرّاتا دھاڑتا ہوا سامنے کی جھاڑیوں میں گھس کر نظروں سے غائب ہو گیا۔
    یہ حادثہ ایسا غیر متوقع اور فوری تھا کہ آج بھی سوچتا ہوں تو سخت حیرت ہوتی ہے۔ شائیکا کے دائیں کندھے سے گاڑھا گاڑھا خون مسلسل نکل رہا تھا۔ ظالم درندے نے ایسا جچا تلا ہاتھ مارا تھا کہ میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کیا جائے اور سچ تو یہ ہے کہ مجھے خود موت کے سرگوشیاں سنائی دے رہی تھیں۔ اس ہیبت ناک جنگل میں جو شیروں سے بھرا پڑا تھا، دو آدمیوں کا ہمیشہ کے لیے گم ہو جانا کسی کے لیے بھی حیرت کا باعث نہ تھا اور نہ یہاں ہمیں کوئی تلاش کرنے کے لیے آتا۔ سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ زخمی شیر کہیں قریب ہی موجود تھا۔ کیوں کہ اس کے غرّانے کی لرزہ خیز آوازیں مسلسل بلند ہو رہی تھیں۔ میں چاہتا تو شائیکا کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے واپس جا سکتا تھا، لیکن یہ فعل ایسا سنگدلانہ اور وحشیانہ ہوتا کہ میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہ کر سکتا تھا۔
    زندگی کی اہمیت اور قدر و قیمت کا صحیح احساس انسان کو خطرے کے وقت ہوتا ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس بھیانک منظر کی منظر کشی کر سکوں۔ غریب شائیکا تکلیف کی شدّت سے اس قدر نڈھال ہو چکا تھا کہ اس کا بچنا محال دکھائی دیتا تھا۔ اس کا چہرہ تپے ہوئے تانبے کی مانند سرخ اور آنکھیں باہر کو ابلی پڑتی تھیں اور اب اس کے منہ سے کراہنے اور چیخنے کی ملی جلی آوازیں نکلنی بند ہوگئی تھیں۔ وہ بےہوش ہو چکا تھا اور اِدھر میری کیفیت یہ کہ سارے جسم پر لرزہ طاری تھا۔ جھاڑیوں میں چھپا ہوا زخمی شیر بار بار گرجتا اور اس کی ہر گرج کے ساتھ ہی میرا کلیجہ اچھال کر حلق میں آ جاتا۔
    لاڈبل نے چند لمحے توقف کے بعد اپنی داستان کا سلسلہ آگے بڑھایا۔
    توہاً و کرہاً میں نے شائیکا کا بے حس و حرکت جسم اپنے کندھوں پر اٹھایا اور واپس آنے لگا۔ اب ہم دونوں کے بچنے کی صرف ایک ہی تدبیر تھی کہ ایک فرلانگ پیچھے ایک اونچے پہاڑی ٹیلے پر پناہ لی جائے، مگر آہ! جونہی میں پیچھے مڑا شیر غرّاتا ہوا جھاڑیوں میں سے نکلا۔ جنگل کے اس بےکراں سناٹے اور لمحہ لمحہ پھیلتی ہوئی تاریکی میں اس کی گھن گرج یوں محسوس ہوتی تھی جیسے بیک وقت کئی توپیں چل گئی ہوں۔ اس کی آنکھیں مشعل کی مانند روشن تھیں۔ میں نے شائیکا کو فورا زمین پر پٹخا اور رائفل سے شیر کا نشانہ لے کر پے در پے دو فائر کیے۔ اتنا یاد ہے کہ رائفل کی نالی سے شعلہ نکلتے ہی شیر فضا میں کئی فٹ اونچا اچھلا اور وہیں ڈھیر ہو گیا اور پھر میں بھی غش کھا کر وہیں گر پڑا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے میں وہاں کتنی دیر بےہوش پڑا رہا۔ جب آنکھ کھلی تو مجھے اپنے گھٹنے میں درد کی ٹیسیں محسوس ہوئیں۔ میرے کانوں میں جو پہلی آواز آئی وہ شائیکا کے کراہنے کی آواز تھی۔ میں نے جیب ٹٹول کر ٹارچ نکالی اور اس کی روشنی میں گرد و پیش کا جائزہ لیا ۔ مجھ سے دس قدم کے فاصلے پر شائیکا پڑا تھا۔ میں نے اسے آواز دی تو وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور میرے قریب آ گیا۔ پھر ہم دونوں ایک دوسرے کو سہارا دیے ہوئے اپنے کیمپ کی طرف واپس ہوئے۔ ہزار صعوبتوں اور بےپناہ دشواریوں کے ساتھ ہم ابھی بمشکل تین چار فرلانگ ہی گئے تھے کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ جنگل کا یہ حصہ دلدلی میدان کے سرے پر واقعہ تھا۔ اس لیے یہاں گنجان درخت اور جھاڑیاں نہیں تھیں اور ہم زیادہ فاصلے تک بخوبی دیکھ سکتے تھے۔ ہمارے دائیں جانب کوئی ایک فرلانگ دور ایک بلند اور عموداً اٹھتی ہوئی پہاڑی تھی۔ جس کی چوٹی سے دھوئیں کا سیاہ بادل بل کھاتا ہوا آسمان کی طرف جا رہا تھا۔ ہم حیرت سے اس دھوئیں کو یوں تک رہے تھے جیسے زندگی میں پہلی بار دھواں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو۔ شائیکا نے کہا، "ضرور اس پہاڑی پر کوئی رہتا ہے، لیکن اس ویرانے میں، جو صدیوں سے درندوں اور حشرات الارض کا مسکن ہے۔ کون ہے جو اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے یہاں آن بسا ہے؟ میرا خیال ہے اس پہاڑی کے اوپر یا اس کی پشت پر ضرور کوئی بستی ہے۔"
    گھسٹتے اور لڑکھڑاتے ہوئے ہم دونوں بہ ہزار دقّت و دشواری اس پہاڑی کے اوپر پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں ایک بوڑھی عورت ایک جھونپڑی کے قریب بیٹھی آگ سلگا رہی ہے۔ ہمارے قدموں کی آہٹ پا کر اس نے اپنا سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا۔ خدا رحم کرے! میری اتنی عمر ہونے کو آئی، مگر حلفیہ کہتا ہوں کہ اتنی بھیانک شکل و صورت کی عورت میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ اس کی عمر خدا ہی بہتر جانتا ہے کتنی ہوگی۔ سر کے بال اور بھنویں تک چاندی کے تاروں کی مانند سفید تھیں۔ چہرے پہ پڑی ہوئی بےشمار جھرّیوں نے اس کی شکل بےحد مکروہ بنا دی تھی اور ہڈیاں اوپر کو ابھری ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ فراخ دہانے اور اس میں سے باہر کو نکلے ہوئے لمبے زرد دانتوں کے علاوہ اس کے سیاہ چہرے کو جس شے نے مزید بھیانک بنا دیا تھا۔ وہ اس چڑیل کی آنکھیں تھیں جو بھیڑیے کی آنکھوں سے مشاہد تھیں۔ ان میں سرخی مائل چمک تھی۔ آنکھوں کی پتلیاں کبھی پھیلتی اور کبھی سکڑ جاتیں۔ ہم دونوں ایک لمحے کے لیے حیرت زدہ ہو کر اس کو تکنے لگے اور وہ بھی ہمیں گھورتی رہی۔ دفعتاً وہ اپنی جگہ سے ایک چیخ مار کے اٹھی اور ہماری جانب بڑھی اور پھر میں نے دیکھا کہ اس کے سیاہ ناخن بھی ریچھ کے ناخنوں کی طرح بڑھے ہوئے تھے۔
    "آقا یہ چڑیل ہے۔" شائیکا دہشت زدہ ہو کر چلایا اور وہیں غش کھا کر گر پڑا۔ بدحواسی میں مجھے کچھ نہ سوجھا تو رائفل کا کندا اس چڑیل کے سر پر دے مارا اور وہ لڑکھنیاں کھاتی ہوئی کسی گہری کھائی میں گر کر ختم ہو گئی۔ میری زندگی کا یہ ناقابلِ فراموش حادثہ اتنی جلدی رونما ہوا کہ میں کچھ سوچ ہی نہیں سکا کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔ میرا جسم پسینے سے تر ہو چکا تھا اور ذہن بالکل ماؤف، تاریکی اب اس قدر بڑھ چکی تھی کہ دس گز دور کی شے بھی دکھائی نہ دیتی تھی۔ اس ویران اور سنسان پہاڑی جنگل میں پھیلی ہوئی پر اسرار خاموشی حد درجہ اذیت ناک تھی، جسے کبھی کبھی الّو کی بھیانک چیخیں توڑنے کی کوششیں کر رہی تھیں۔
    میرے گھٹنے میں درد کی ٹیسیں پھر تیز ہو گئیں اور میں وہیں لیٹ گیا۔ مجھے اب اپنی موت کا یقین ہو چکا تھا۔ تھوڑی دیر میں جب میری طبیت سنبھلی اور ہوش و حواس اپنی جگہ پر واپس آنے لگے تو میں نے گردوپیش کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ فضا میں ایک عجیب قسم کی ناگوار بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ جیسے سڑے ہوئے گوشت کی ہوتی ہے۔ اس بوڑھی چڑیل کا چہرہ میری نظروں کے آگے بار بار رقص کر رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کیا میں نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے؟ مگر نہیں یہ خواب نہیں بلکہ حقیقت تھی۔ آگ کا الاؤ جو اس چڑیل نے روشن کیا تھا اب پوری طرح جل رہا تھا۔ میں نے بدنصیب شائیکا کو اٹھایا اور لے جا کر اسے جھونپڑی کے ایک طرف ڈال دیا اور الاؤ کی روشنی میں جھونپڑی کا جائزہ لینے لگا۔ یہ جھونپڑی بالکل اسی طرز پر بنی ہوئی تھی جس طرز پر امریکہ کے ریڈ انڈینز اپنی جھونپڑیاں بناتے ہیں۔ یعنی گول اور اوپر سے مخروطی۔ میں نے محسوس کیا کہ جھونپڑی کے کونے اور گوشوں میں سے سڑے ہوئے گوشت کی بساند اٹھ رہی ہے۔ ایک جانب پرانے کپڑوں کی دھجیاں اور مٹی کے برتن بھی دکھائی دیے۔ جلتے ہوے الاؤ کی روشنی جھونپڑی کے اندر پہنچ تو رہی تھی مگر اس قدر مدھم تھی کہ میں پوری طرح اندرونی حصّہ نہ دیکھ سکتا تھا۔ میں نے ٹارچ نکالی اور اسے روشن کیا۔ جونہی روشنی کا یہ مختصر، مگر تیز دائرہ ٹارچ سے خارج ہوا اور میری نگاہ جھونپڑی کے بائیں گوشے میں گئی تو فرطِ خوف سے میرا جسم لرز گیا اور ایک لمحے کے لیے مجھے یوں معلوم ہوا کہ جیسے خون میری رگوں میں سرد ہو کر جم رہا ہے۔
    انسانی ہڈیوں، کھوپڑیوں اور گوشت کے بڑے بڑے لوتھڑوں کا ایک اونچا ڈھیر تھا جو مجھے دکھائی دیا اور وہ ناقابل برداشت بدبو اسی ڈھیر میں سے اٹھ رہی تھی۔ میں نے چاہا کہ وہاں سے نکل بھاگوں۔ مگر میرے پیروں میں جیسے جان ہی نہ تھی، اپنی قوّتِ ارادی جمع کر کے میں جھونپڑی سے باہر نکلا۔ اب یہاں ٹھہرنا جان بوجھ کر موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ خدا معلوم یہ کیا بلا تھی جو انسانوں کو کھایا کرتی تھی اور یہ خیال مجھے بار بار آیا کہ شاید ایسی ہی آدم خور چڑیلیں قریب ہی کہیں موجود نہ ہوں۔ ابھی میں اسی کیفیت میں گم تھا کہ ناگہاں دور جنگل کی بیکراں اور پرہول تاریکی میں شیروں کے دھاڑنے کی آوازیں آئیں۔ ان کی آوازوں نے رہے سہے ہوش بھی اڑا دیے۔
    میری چھٹی حِس ایسے موقعوں پر اچھی طرح بیدار ہو جایا کرتی ہے۔ چناچہ اضطراب اور بےچینی کی ایک زبردست لہر یک لخت میرے اعصاب میں دوڑنے لگی۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اب کسی بھی لمحے کوئی نامعلوم خطرہ نازل ہونے والا ہے۔ دفعتاً میں نے پہاڑ کے دامن میں ایک ہلکی سی آہٹ سنی۔ جیسے کوئی درندہ اپنے پنجوں سے زمین خرچتا ہوا آگے بڑھ رہا ہو۔ یہ آواز لمحہ بہ لمحہ میرے قریب آ رہی تھی۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی مگر کچھ نظر نہیں آیا۔ دہشت سے میرے جسم کے رونگٹھے کھڑے ہو گئے۔ رائفل میرے دائیں ہاتھ میں تھی اور یہی میرا آخری سہارا تھا، جسے میں خطرے کے وقت استعمال کر سکتا تھا۔
    میں جھونپڑی سے باہر نکلا تو الاؤ سے تھوڑے فاصلے پر شائیکا کا بےہوش جسم پڑا دکھائی دیا۔ خدا معلوم وہ مر چکا تھا یا ابھی اس میں زندگی کی کوئی رمق باقی تھی۔ یہ میں کبھی نہ جان سکوں گا کیوں کہ چند ہی لمحوں بعد جو منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ مجھے خوف سے پاگل کر دینے کے لیے کافی تھا۔ وہ پراسرار اور رونگٹھے کھڑے کر دینے والی آواز دراصل کسی درندے کی قدموں کی نہ تھی بلکہ بہت سے جنگلی انسانوں کی تھی جو پہاڑی پر چل رہے تھے۔انہوں نے مجھے نہیں دیکھا مگر بلندی پر ہونے کے باعث میں انہیں دیکھ چکا تھا۔ میرے سامنے فرار کی ایک راہ تھی اور وہ یہ کہ میں جھونپڑی کی پشت پر ہو کر پہاڑی سے نیچے اتر جاؤں۔ ٹارچ میرے پاس تھی جس کی مدد سے راستہ تلاش کرنا کچھ مشکل نہ تھا، مگر آہ! جب میں اِدھر آیا تو معلوم ہوا کہ پہاڑی کا یہ حصّہ اس قدر دشوار اور عمودی ہے کہ قدم کی ایک لغرش مجھے تحت الثرٰی میں پہنچا دینے کے لیے کافی ہوگی۔ جھونپڑی اب مجھ سے بیس پچیس گز کے فاصلے پر تھی اور میں جس جگہ کھڑا تھا وہاں اس قدر گپ اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دیتا تھا۔ پس میں وہیں پیٹ کے بل لیٹ گیا اور رائفل کا رخ جھونپڑی کی طرف کر کے انگلی ٹریگر پر رکھ دی۔
    سوکھی شاخوں کا جلتا ہوا الاؤ اب بجھنے کے قریب تھا اور اس کی مدھم روشنی میں شائیکا کا بےہوش جسم صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اتنے میں وہ وحشی اوپر چڑھ آئے۔ وہ تعداد میں پانچ تھے۔ سب کے سب بالکل ننگ دھڑنگ۔ بالوں سے ان کا سارا جسم ڈھکا ہوا تھا۔ داڑھی، مونچھ اور سر کے بال اس طرح آپس میں مل گئے تھے کہ سوائے آنکھوں کے چہرے کا کوئی حصّہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ وہ بالکل ایک قدآور ریچھ کی مانند تھے اور حقیقت یہ ہے اگر میں نے انہیں دونوں پیروں کے سہارے چلتے نہ دیکھتا تو انہیں ضرور ریچھ ہی کی نسل کا کوئی درندہ سمجھ لینے پر مجبور ہو جاتا۔
    شاید وہ اس بوڑھی چڑیل کی تلاش میں یہاں آئے تھے، جو انہی کے قبیلے سے تعلق رکھتی تھی،مگر وہ انہیں کہیں نظر نہ آئی۔ شائیکا کو انہوں نے اب تک نہیں دیکھا تھا۔ پہلے میرے جی میں آیا کہ رائفل سے اندھا دھند فائر کر کے ان خون آشام موذیوں کا ہمیشہ کے لیے قصّہ پاک کر دوں لیکن اس خدشے سے رک گیا کہ اگر میرا نشانہ خطا ہوگیا اور ان جنگلیوں کو میری موجودگی کا پتہ چل گیا تو ان کے منہ کا لقمۂ تر بننے سے مجھے کوئی معجزہ ہی بچا سکے گا۔
    دفعتا ًانسانی شکلوں کے ان درندوں کے منہ سے بھیانک چیخیں نکلیں اور میرا کلیجہ لرز گیا۔ انہوں نے شائیکا کو وہاں پڑا ہوا دیکھ لیا تھا اور اب خوشی سے چلّا رہے تھے۔ وہ خونخوار بھیڑیوں کی طرح اس بدنصیب سپاہی کی طرف جھپٹے اور جونکوں کی مانند اس سے چمٹ گئے۔ شاید وہ اس کا خون پی رہے تھے۔ پھر میں نے دیکھا کہ کسی ہتھیار کے زریعے انہوں نے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور جلدی جلدی کچا گوشت چبانے لگے، یہ منظر اس قدر دہشت انگیز تھا کہ میرا بدن برف کی مانند سرد پڑ گیا۔ میری آنکھوں کے آگے پہلے شرارے ناچنے لگے اور پھر میں جیسے تاریکی کے اتھاہ سمندر میں ڈوب گیا۔"
    ڈاکٹر نے لاڈبل کی یہ پراسرار داستان کچھ اس انداز سے سنائی کہ ایک مرتبہ تو دہشت کی لہر میرے جسم میں بھی دوڑ گئی۔ میں نے اس سے پوچھا، لاڈبل اب کہاں ہے؟"
    اس نے بتایا، "لاڈبل کی جان تو بچ گئی لیکن اس حادثے نے اس کا ذہنی توازن درہم برہم کر دیا تھا۔ بعض اوقات وہ راتوں کو سوتے سوتے چونک کر چیخنے لگتا تھا۔ بعد ازاں اسے جبری رخصت پر اپنے وطن واپس بھیج دیا گیا اور اب مجھے کچھ علم نہیں کہ وہ جیتا ہے یا مر گیا۔"
    جب میں نے ڈاکٹر سے اپنے اس شبہے کا اظہار کیا کہ کیا ہمیں لاڈبل کی روایت پر یقین کر لینا چاہیے تو وہ کہنے لگا، "مجھے اس حادثے کی صداقت پر اس طرح یقین ہے جیسے کل سورج مشرق سے طلوع ہوگا۔ وہ جھوٹ اور گپ بازی کا عادی نہیں تھا اور اس نے مجھے بعد میں کئی مرتبہ وہاں لے جا کر نہ صرف وہ جھونپڑی دکھائی بلکہ انسانوں کی ہڈیاں اور کھوپڑیاں بھی دکھائی تھیں جو یقیناً اب بھی وہاں موجود ہوں گی۔"
    اس رات میں آرام سے نہ سو سکا اور سونے کا سوال کیا تھا؟ مجھے نیند ہی نہیں آئی بار بار یہی خیال ذہن میں گردش کرتا تھا کہ کیا واقع آدم خور انسانوں کی کوئی نسل ہے جو آنائی کے جنگلوں میں بستی ہے یا محض لاڈبل کے فریب و تخیل کی کرشمہ سازی ہے۔ انسانی فطرت میں تجسس کا جو مادہ فطرت نے رکھ دیا ہے، وہ اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ میں نے دل میں تہیہ کر لیا خواہ کچھ بھی ہو میں خود اس معاملے کی تحقیق کروں گا۔
    صبح جب میں نے ڈاکٹر کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو اس نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور صاف جواب دے دیا کہ وہ اس خطرناک ترین مہم میں میرا ساتھ دینے کی حماقت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ اس نے مجھے بھی سمجھانے اور اس ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی، مگر میرے سر پر تو قضا کھیل رہی تھی۔ میں نے ایک نہ سنی اور اب مجھے تسلیم کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ اگر میں ڈاکٹر کی نصیحت مان کر اپنا ارادہ ترک کر دیتا تو وہ اذیت ناک حادثہ پیش نہ آتا جس کی بدولت میری زندگی اب مُردوں سے بدتر ہو چکی ہے۔ کئی مرتبہ اس جان کنی سے تنگ آ کر خودکشی کا ارادہ کر چکا ہوں مگر موت نہیں آتی۔ میری زندگی کے تجربات میں سے یہ وہ تجربہ ہے جسے میں شاید مرنے کے بعد بھی یاد رکھوں گا۔
    آج بھی تنہائی کے وحشت انگیز لمحات میں جب میں چشمِ تصّور سے ان حالات کا جائزہ لیتا ہوں جن سے مجھے دو چار ہونا پر تو یقین کیجیے کہ اپنے ہوش و حواس پر شک گزرنے لگتا ہے کہ کیا واقع ایسا ممکن ہے۔ آدم خور وحشیوں کو دیکھنے اور ان سے دو دو ہاتھ کرنے کا جنون مجھ پر اس شدّت سے طاری ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔ کوئی نادیدہ اور پرسرار قوّت تھی جو کشاں کشاں مجھے شیروں کی وادی میں لے جا رہی تھی۔
    اس طویل تمہید کے بعد میں اب اصل واقعے کی طرف آتا ہوں۔ میں نے رخصت حاصل کرنے کے لیے اپنے محکمے کے افسر اعلٰی کو درخواست پڈانگ بھیجی۔ پڈانگ سماٹرا کا دارالحکومت ہے اور تمام بڑے بڑے سرکاری دفاتر یہیں ہیں۔ درخواست میں صرف یہ ظاہر کیا کہ میں یہ رخصتیں صرف سیر و سیاحت اور تھکن دور کرنے کے لیے لے رہا ہوں، امید کے مطابق یہ درخواست جلد ہی منظور ہو گئی اور میں زندگی کی آخری اور خطرناک ترین مہم پر روانہ ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔ سب سے پہلے میں نے آنائی کے علاقے کا مکمل نقشہ حاصل کیا اور پھر ایسے رہبر کی تلاش ہوئی جو اس علاقے میں گھومنے کا عملی تجربہ رکھتا ہو۔ پیلمبنگ میں شکاریوں اور سیاحوں کی سہولت کے لیے حکومت نے ایک علیحدہ محکمہ کھول رکھا ہے، جہاں سے انہیں ہر قسم کی معلومات اور نقشے بہم پہنچائے جاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر معمولی رقم کی عوض ایک ایسا شخص بھی مہیا کر دیا جاتا ہے جو سیاحوں اور شکاریوں کو جنگلوں اور پہاڑیوں میں لیے لیے پھرتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب میں پیلمبنگ کے محکمۂ سیر و سیاحت میں آنائی کے نقشے لینے گیا تو وہاں دو امریکی سیاحوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک کا نام تھا نکسن اور دوسرے کا ولیم۔ گفتگو کے درمیان میں پتہ چل گیا کہ نہ صرف وہ سیر و سیاحت سے دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ اچھے شکاری بھی ہیں۔ میں امریکی لوگوں سے مل کر اس لیے خوش ہوتا ہوں کہ وہ نہایت زندہ دل، ملنسار اور جلد گھل مل جانے والے لوگ ہیں اور فطری طور پر مہم پسند بھی ہوتے ہیں۔ وہ اس وقت بورینو سے سیدھے سماٹرا آئے تھے اور وہاں کے تاریک اور سرد جنگلات کا ذکر بار بار کرتے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ آنائی کے جنگلوں میں آدم خور انسان پائے جاتے ہیں تو وہ حیرت سے میرا منہ تکنے لگے جیسے مجھے دیوانہ سمجھ رہے ہوں اور جب میں نے یہ بتایا کہ چند روز تک میں انہی آدم خور انسانوں کی تلاش میں وہاں جانے والا ہوں تو انہیں میرے پاگل ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا۔ البتہ میں نے انہیں دعوت دی کہ اگر وہ میرے ساتھ چلنا پسند کریں تو خوب لطف رہے گا۔
    میں واپس اپنی قیام گاہ پر آ گیا اور ہاشم سے کہا کہ وہ قلیوں اور خچروں کا انتظام کرے تاکہ ہم اپنے سفر پر جلد روانہ ہو سکیں۔ ہاشم بہت خوش تھا کیوں کہ اتنے عرصے بعد اسے اپنی رائفل کے جوہر دکھانے کا موقع مل رہا تھا۔ ایک روز شام کے وقت میں اپنے خیمے میں بیٹھا قہوہ پی رہا تھا کہ ہاشم اپنے ساتھ ایک عمر رسیدہ لیکن بے حد قوی الجثہ شخص کو لے کر آیا۔ میرے اندازے کے مطابق اس کی عمر ساٹھ اور ستّر کے درمیان تھی لیکن کاٹھ اس قدر مضبوط تھی کہ ایک لمحے کے لیے مجھے اس پر رشک سا آیا۔ اس کے تیور بتا رہے تھے کہ زمانے کے سرد گرم دیکھ چکا ہے۔ وہ آتے ہی میرے سامنے مؤدبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ہاشم کی طرف دیکھا۔
    "مالک! اس کا نام بابی ہے اور یہ گائیڈ کا کام پیشے کے طور پر کرتا ہے۔"
    بابی مقامی زبان میں جنگلی بھینسے کو بھی کہتے ہیں، میں نے اسے اپنے نزدیک بیٹھا لیا۔ قہوے کا ایک پیالہ پیش کیا اور پوچھا کہ کیا وہ آنائی کے علاقے سے بھی واقف ہے۔ بابی کی آنکھوں میں ایک نئی چمک نمودار ہوئی۔ چند لمحوں تک وہ گردن جھکائے کچھ سوچتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا، "صاحب! آپ وہاں نہ جائیں تو اچھا ہے۔۔۔۔۔ وہاں۔۔۔۔۔"
    "کیوں؟ وہاں کیا ہے؟ تم چپ کیوں ہو گئے؟ اگر تم وہاں نہیں جانا چاہتے تو میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا۔"
    بابی کا چہرہ صاف غمّازی کر رہا تھا کہ اس کے دل میں کوئی بات ضرور ہے جسے زبان پر لانے سے وہ ہچکچا رہا ہے اور وہ بات سوائے آدم خور بلاؤں کے اور کیا ہو سکتی تھی۔ جب میں نے اصرار کیا تو بابی نے یوں زبان کھولی، "مالک! اگر آپ وہاں جانا چاہتے ہیں تو ضرور جائیں۔ کون ہے جو آپ کو روک سکتا ہے، لیکن یہ یاد رکھیے کہ شیروں کی وادی سے کوئی جان سلامت لے کر نہیں آیا۔ وہ بدروحوں اور شیطانی بلاؤں کے رہنے کی جگہ ہے جو درندوں کے بھیس میں آ کر انسانوں کو کھا جاتی ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ شاید میں شیروں کی وادی میں جانے سے ڈرتا ہوں۔ نہیں مالک! یہ بات نہیں ہے۔ مجھے تو ایک روز مرنا ہے اور موت کا وقت معین ہے۔ اگر میری موت شیروں کی وادی میں آئے گی، اگر آسمانی دیوتاؤں نے یہ حکم دے دیا ہے کہ میں شیطانی روحوں کا شکار بنوں تو کون ہے جو دیوتاؤں کا حکم ٹال سکتا ہے۔ میں آپ کے ساتھ جاؤں گا مالک۔"
     
    • زبردست زبردست × 11
  3. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    اس کے بعد اس نے سختی سے یوں اپنے ہونٹ بھینچ لیے جیسے آئندہ نہ بولنے کا تہیہ کر چکا ہے۔ ہاشم حیرت سے بابی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس کے چہرے پر دہشت کی علامات پھیلتی ہوئی دیکھ لیں، لیکن میں جانتا تھا کہ اس کی وفاداری شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ جہاں میرا پسینہ گرتا وہاں خون بہانے کے لیے ہر وقت مستعد رہتا تھا۔ دو تین دن کے اندر اندر ہم نے اس مہم کی تیاریاں مکمل کر لیں۔ بابی حیرت انگیز طور پر بہت جلد چار قلیوں اور خچروں کا انتظام کر دیا تھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ نہایت کم سخن اور اپنے کام سے کام رکھنے والا آدمی ہے۔ ہاشم کی طرح فضول گفتگو اور گپ بازی کا فن اسے نہیں آتا تھا۔ میں اس سے کبھی کبھی کچھ پوچھنے کی کوشش کرتاتو صرف گردن ہلاتا اور مسکرا کر کسی اور کام میں مصروف ہوجاتا۔ بہرحال مجھے اس پر پورا اعتماد تھا کہ وہ ہمیں دغا نہیں دے گا۔
    روانگی سے ایک روز پیشتر کا ذکر ہے۔ سہ پہر کا وقت ہوگا۔ میں آرام دہ کرسی پر بیٹھا عالم تصوّر میں آدم خور انسانوں کو دیکھ رہا تھا کہ دور سے گھوڑوں کے دوڑنے کی آواز کان میں آئی۔ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو شخص گھوڑوں پر بیٹھے میری ہی طرف آ رہے تھے۔ جب وہ نزدیک آئے تو میں نے فوراً انہیں پہچان لیا۔ وہ ولیم اور نکسن تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پڈانگ سے سیدھے پیلمبنگ آ رہے ہیں۔ ان کا سامان شام تک آ جائے گا۔ ان کے آ جانے سے سچ پوچھیں تو مجھے بڑی تقویت پہنچی۔ رات کو جب کافی کی محفل جمی تو اِدھر اُدھر کی باتوں کا سلسلہ دراز ہوا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ میرے ساتھ آنائی جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ولیم نے بتایا، "ہم نے پڈانگ میں ایک انگریز شکاری سے ملاقات کی تھی اور اس نے بھی وہی بات بتائی جو تم نے اس سے پہلے بتا چکے تھے، یعنی آدم خور وحشیوں کے متعلق اور اب ہمیں یقین ہے کہ ضرور اس بات میں صداقت کا عنصر موجود ہے۔ یہی ہمارے آنے کی وجہ ہے۔"
    ۱۱ جون ۱۹۴۴ءکی وہ خوش گوار صبح میرے حافظے کی لو پر آج بھی یوں روشن ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔ اس روز نو آدمیوں پر مشتمل یہ قافلہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوا جس کے بارے میں اس وقت کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ کب اور کہاں ختم ہوگا، لیکن بعد میں جو واقعات پیش آئے انہوں نے بتا دیا کہ یہ سفر وہاں ختم ہوا، جہاں زندگی کی حد ختم ہوتی ہے اور موت کی سرحد کا آغاز ہوتا ہے۔ جاوا سے سماٹرا آتے وقت مجھ پر اضطراب اور بےچینی کی شدّت کا جو بھوت سوار ہوا تھا، وہ اتنے عرصے بعد اب پھر مجھے پریشان کر رہا تھا اور میں ہی کیا، مہم میں شامل سبھی لوگ اس روز سراسیمہ اور خوف زدہ دکھائی دیتے تھے۔ ولیم اور نکسن کے لبوں پر پھیلی ہوئی مسکراہٹیں غائب تھیں اور ہاشم کے وہ فلک شگاف قہقہے بھی دم توڑ چکے تھے جن کی بدولت ایک ہنگامہ سا برپا رہتا تھا، ہم سب چپ چپ تھے۔ ہم نے خاموشی سے ناشتہ کیا اور جونہی دروازۂ خاور کھلا اور آفتابِ عالم کی پہلی کرن ہمارے سلام کو حاضر ہوئی، ہم نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔
    تین روز تک مسلسل دن رات ہم شیروں کی وادی کی طرف بڑھتے رہے۔ راہ میں اگرچہ ہماری زبانوں پر پڑے ہوئے قفل کھل گئے تھے۔ امریکی شکاریوں کی خوش طبعی واپس آ گئی تھی اور ہاشم کے قہقہوں میں بھی جان پڑ گئی تھی، لیکن اس کے باوجود دہشت کی ایک ہلکی سی لہر تھی جو اس قافلے میں پھیلی ہوئی ضرور محسوس ہوتی تھی۔ بوڑھا بابی بےحد پراسرار اور عجیب شخصیت کا مالک تھا۔ اس کے چہرے سے یہ اندازہ لگانا محال تھا کہ وہ فکرمند ہے یا نہیں۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا یا وہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ راستے کا نقشہ ساتھ ہونے کے باوجود ہم سب اس کے رحم و کرم پر تھے اور میں نے پہلے ہی سب کو سمجھا دیا تھا کہ بابی کو ہر ممکن طریقے سے راضی رکھا جائے۔
    آنائی سے کوئی ایک میل اِدھر ایک چھوٹا سا کمپونگ ہے۔ کمپونگ مقامی زبان میں گاؤں کو کہتے ہیں۔ دوپہر کا وقت تھاجب ہم اس کمپونگ کے قریب پہنچے۔ ایک ندی کے کنارے، جس میں پانی کم تھا اور کیچڑ زیادہ، ہم نے ڈیرے ڈال دیے۔ کیوں کہ بھوک سے ہمارے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ ہاشم کی مستعدی اس قسم کے معاملات میں دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ کہنے لگا، "آقا! میں ذرا اپنی رائفل کو سیر کرا لاؤں۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔"
    میں نے اسے اجازت دے دی اور وہ ندی کے کنارے ٹہلتا ہوا دور نکل گیا۔ اتنی دیر میں ہم نے کچھ کھاناکھایا اور پھر اطمینان سے سگار سلگا کر آئندہ کے پروگرام پر غور کرنے لگے۔ بمشکل پندرہ منٹ ہوئے ہوں گے کہ مقامی کسانوں کا ایک گروہ چیختا چلّاتا ہماری طرف آتا دکھائی دیا۔ ہم سمجھے کہ شاید یہ لوگ ہمیں لوٹنے کے ارادے سے آرہے ہیں۔ پس ہم نے اپنی اپنی رائفلیں فوراً ان کی طرف تان لیں، مگر جب وہ لوگ نزدیک آئے تو یہ دیکھ کر میرے پسینے چھوٹ گئے کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں ہاشم کی لاش اٹھا رکھی تھی۔ یہ حادثہ اس قدر فوری اور زبردست تھا کہ ایک لمحے کے لیے مجھے زمین گھومتی دکھائی دی اور قریب تھا کہ میں غش کھا کر گر پڑوں کہ امریکی دوستوں نے مجھے سنبھال لیا۔
    "آپ کے آدمی کو بوجا (مگرمچھ) نے ہلاک کیا ہے۔ وہ بہت سے آدمیوں اور جانوروں کو مار چکا ہے۔ اس میں ضرور کوئی بدروح ہے صاحب۔ وہ کسی سے نہیں مرتا۔ اس نے ہماری گائیں کھا لیں، اس نے ہمارے بچے چبا ڈالے، اس نے ہماری عورتیں ہڑپ کر ڈالیں۔ وہ بہت ظالم ہے ۔"
    مختلف آوازیں تھیں جو میرے کانوں میں آ رہی تھیں۔ میں نے ہاشم کی لاش کا معائنہ کیا۔ ظالم مگرمچھ نے خدا جانے کس طرح اس پھرتیلے اور ہوشیار آدمی کو اپنے قابو میں کیا ہوگا، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ ہاشم کی ایک ٹانگ گھٹنے کے نیچے سے بالکل غائب تھی اور دایاں بازو کوہنی کے اوپر سے اس طرح کٹا ہوا تھا، جیسے مگرمچھ نے چبا ڈالا ہو۔ بدنصیب کی آنکھیں شدّتِ تکلیف سے باہر کو نکل آئی تھیں اور اسی عالم میں شاید اس کی روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا۔
    کچھ کہہ نہیں سکتا کہ ہاشم کی لاش دیکھ کر مجھ پر جنون و غضب کی کیا حالت طاری ہوئی۔ آنائی کے علاقے نے اپنا پہلا شکار ہم سے وصول کر لیا تھا۔ میں نے طے کر لیا کہ جان خواہ رہے یا جائے، جب تک اس مگرمچھ کا قصّہ پاک نہ کر دوں گا، یہاں سے نہ جاؤں گا۔
    رائفلیں، نیزے اور کلہاڑے سنبھال کر پندرہ بیس آدمیوں کی یہ ٹولی اس موذی مگرمچھ کی تلاش میں نکلی۔ میرا یہ اندازہ کہ ندی میں پانی کم اور کیچڑ زیادہ ہوتی ہے، غلط نکلا۔ کیوں کہ ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر ندی کا پاٹ حیرت انگیز طور پر وسیع ہو گیا تھا اور اس میں پانی یوں جوش مار رہا تھا جیسے اُبل رہا ہو۔ کسانوں کا لیڈر ایک ادھیڑ عمر شخص تھا جسے ہاشم کی موت کا بےحد افسوس ہوا تھا۔وہ دراصل گائے کو پانی پلانے ندی پر لایا تھا۔ اسی اثنا میں ہاشم بھی ٹہلتا ہوا اُدھر آ نکلا اور دونوں باتوں میں مصروف ہو گئے۔ گائے ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی ندی میں منہ ڈالے پانی پی رہی تھی۔ مگرمچھ پانی میں اندر ہی اندر آیا اور جھپٹ کر گائے کی گردن اپنے فولادی جبڑے میں جکڑ لی اور اسے پانی میں گھسیٹنے لگا۔ گاہے اتنی آسانی سے قابو میں آنے والی نہیں تھی۔ وہ اچھل کر پوری قوّت سے پیچھے ہٹی تو مگرمچھ اس کے ساتھ ہی ندی سے باہر نکل کر کنارے پر آ گیا۔ ہاشم اور کسان چلّاتے ہوئے مگرمچھ کی طرف بڑھے۔مگرمچھ نے گائے کو فوراً چھوڑ دیا اور ہاشم پر حملہ کیا۔ہاشم کے ہوش و حواس جواب دے گئے۔ اس کا وقت پورا ہو چکا تھا، وہ منہ کے بل پانی میں گرا۔ مگرمچھ نے بجلی کی مانند لپک کر اس کی ٹانگ منہ میں دبائی اور ندی میں گھس گیا۔ اتفاق کی بات اُدھر سے کشتی میں سوار دس بارہ ماہی گیر گزر رہے تھے، کسانوں نے فوراً مدد کے لیے انہیں پکارا۔ ماہی گیروں نے مگرمچھ کا تعاقب کیا تو اس نے فوراً ہاشم کو چھوڑ دیا۔ ہاشم فرطِ خوف سے پہلے ہی بےہوش ہو چکا تھا۔ بعدِ ازاں اس کی لاش نکالی گئی۔ اس کی ایک پنڈلی غائب تھی۔ آخر ہم اس جگہ پر پہنچے جہاں یہ دلدوز حادثہ پیش آیا تھا۔ندی کے کنارے کیچڑ میں گائے کے خوروں اور مگرمچھ کے گھسٹنے کے نشانات موجود تھے۔ اس موذی مگرمچھ کا سراغ لگانا اتنا آسان کام نہ تھا۔ خدا معلوم وہ اس وقت کہاں سے کہاں گیا ہوگا۔ ماہی گیروں میں سے ایک کہنے لگا، "صاحب! میں اس کے رہنے کی جگہ جانتا ہوں، لیکن وہاں دلدل اتنی گہری ہے کہ ایک مرتبہ پھنس جانے کے بعد زندہ بچ نکلنا ناممکن ہے۔ وہ اپنا شکار وہیں ایک گڑھے میں چھپا رکھتا ہے اور سڑے ہوئے گوشت کی بدبو ہمیں بتائے گی کہ وہ گڑھا کہاں ہے۔"
    کشتی میں سوار ہو کر ہم ندی میں بہاؤ کے رخ آگے بڑھنے لگے۔ میرا خون اس وقت کھول رہا تھا اور یہی جی چاہتا تھا کہ مگرمچھ کو اپنے ہاتھ سے ہلاک کروں۔ یکایک بائیں جانب سے مچھلیوں اور کچھووں کے سڑے ہوئے گوشت کی بےحد ناگوار بدبو ناک میں آئی اور ماہی گیر فوراً کشتی کنارے پر لے آئے، کنارے کی کیچڑ کے ساتھ بلاشبہ مگر مچھ کے پنجوں کے گہرے نشانات نمایاں تھے اور اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ابھی تھوڑی دیر پیشتر ہی یہاں سے گیا ہوگا۔
    کافی دیر تک گھومنے کے بعد ہم گاؤں کی طرف چلے آئے اور طے یہ ہوا کہ مگرمچھ کی تلاش کل بھی کی جائے گی۔ رات کو جب ہم کھانے سے فارغ ہو کر ایک جگہ جمع ہوئے تو گاؤں سے کسانوں اور ماہی گیروں کی ٹولیاں بھی آ گئیں۔ فضا میں نمی اور دھند کی باعث سرِ شام ہی اندھیرا چھا گیا تھا اور مچھروں کا بادل ندی کے کناروں سے اٹھ اٹھ کر گاؤں کی طرف جا رہا تھا۔ گاؤں والے ان موذی مچھروں سے محفوظ رہنے کے لیے یہی طریقہ جانتے تھے کہ جگہ جگہ آگ روشن کر دیتے اور لکڑیوں پر پانی چھڑکتے رہتے تاکہ ان میں سے دھواں اٹھے اور مچھروں کو بھگا دے۔ یہ ترکیب خاصی کارگر تھی۔
    ہاشم کی اچانک اور درد ناک موت کی باعث ہمارے قافلے میں مایوسی اور خوف کا گہرا تاثر پھیل چکا تھا۔ ہر شخص سراسیمہ اور پریشان تھا۔ اردگرد کا ماحول بھی کچھ ایسا ہی پرہول اور وحشت انگیز تھا کہ خواہ مخواہ اعصاب میں تناؤ پیدا ہونے لگتا تھا۔ گاؤں والوں کے آنے سے دلوں پر رکھا ہوا افسردگی کا بوجھ کچھ دور ہوا۔ یہ لوگ تہذیب و تمدّن اور سائنس کی دنیا سے اس قدر دور ان جنگلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور یہیں مر جاتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں سادگی اور رنگینی کا ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے، محنت جفا کشی، ہمّت و جرات جیسے مثالی اوصاف کی ساتھ ساتھ یہ لوگ سچائی، بہادری، ایک دوسرے سے ہمدردی اور محبت کے جذبات سے بھی مالا مال ہیں۔
    رات ہوتے ہی تاریکی اور سردی ایک دم حملہ کرتی ہیں، لیکن ہم نے آگ کا ایک بڑا الاؤ سرِ شام ہی روشن کر لیا تھا۔ جس سے حرارت بھی حاصل ہو رہی تھی اور مچھروں کو بھگانے کا کام بھی لیا جا رہا تھا اور ہم سب اس الاؤ کے گرد بیٹھے یونہی وقت گزاری کے لیے سگار پی رہے تھے۔ تھوڑی دیر قبل ہاشم کی لاش ہم نے اسی نرم دلدلی زمین میں گڑھا کھود کر دبا دی تھی۔ بابی نے شاید ان لوگوں کے سردار کو بتا دیا تھا کہ ہم آدم خور انسانوں کی تلاش میں یہاں آئے ہیں اور میں دیکھ رہا تھا کہ دونوں کچھ فاصلے پر بیٹھے آپس میں کھسر پھسر کر رہے تھے کہ اتنے میں بابی اپنی جگہ سے اٹھ کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا، "مالک گاؤں والے کہتے ہیں کہ آپ رات اس جنگل میں قیام نہ کریں۔ یہ بدروحوں اور شیطانوں کی رہنے کی جگہ ہے۔ وہ آپ کو اذیت دیں گے۔ آپ ان کے ہمراہ گاؤں میں چلے جائیں۔"
    میں نے بابی سے پوچھا، "کیا واقعی یہ بات ان کا سردار کہتا ہے یا تم خود اپنے طور پر کہہ رہے ہو۔ اگر تمہیں یہاں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے تو تم خوشی سے گاؤں میں جا سکتے ہو، ہم بھوتوں اور بدروحوں پر یقین نہیں رکھتے۔"
    بابی کا چہرہ غصّے سے سرخ ہو گیا۔ وہ چند لمحے تک میری طرف دیکھتا رہا پھر بولا، "مالک! آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ وقت آنے پہ معلوم ہوگا کہ بوڑھا بابی اتنا بزدل نہ تھا۔"
    میں نے اشارے سے گاؤں کے سردار کو بلایا اور اس سے پوچھا، "تم نے کبھی انسانوں کو کھانے والے وحشی لوگ یہاں دیکھے ہیں؟"
    یہ سنتے ہی بڈھے پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ اس کا بدن کانپنے لگا، رنگ سفید پڑ گیا اور ہونٹ تھرتھرانے لگے۔ وہ تھرّائی ہوئی آواز میں بولا، "مالک! آپ کو ان کے بارے میں باتیں کس نے بتائیں؟ ہم نے اپنے بزرگوں سے ان کے بارے میں سنا ضرور ہے، لیکن دیکھنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ وہ ہزاروں سال سے ان جنگلوں اور دریاؤں پر حکومت کرتے آئے ہیں اور کسی دوسرے کو اپنے علاقے میں آنے نہیں دیتے۔ کبھی کبھی رات کی تاریکی میں جب موسلادھار بارش ہو رہی ہو، آسمان پر بادل گرج رہے ہوں اور بجلی زور سے کڑکتی ہو تب ان ناقابلِ عبور پہاڑوں کی جانب سے وحشی درندوں کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ یہ شیروں کی وادی ہے مالک! شیروں کی وادی! آپ یہاں سے چلے جائیے۔"
    اتنا کہہ کر وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔ جیسے کسی اندیکھی قوّت کو سجدہ کر رہا ہو۔ اس بوڑھے کے منہ سے یہ پراسرار لفظ سن کر اتنا خوف و ہراس میرے ساتھیوں پر طاری ہوا کہ ان کے منہ سے گھٹی گھٹی سی چیخیں نکل گئیں۔ بابی کے لائے ہوئے چاروں مزدوروں کی حالت تو ہاشم کی دردناک موت کے بعد ہی غیر ہو چکی تھی اور اب بوڑھے کی حرکتیں دیکھ کر رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔ وہ تو گاؤں والوں کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔ اِدھر ولیم اور نکسن کے چہروں پر بھی ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور وہ مجھے اس طرح تک رہے تھے جیسے میں انہیں مار ڈالنے کے ارادے سے یہاں لے آیا ہوں۔
    میں نے ڈانٹ ڈپٹ کر گاؤں والوں کو وہاں سے بھاگ جانے کا حکم دیا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ جب تک یہ ہمارے پاس بیٹھے رہیں گے، میرے ساتھیوں کو فضول کے قصّے کہانیاں سنا کر ڈراتے رہیں گے۔ گاؤں والے تو ہاتھ جوڑتے ہوئے فوراً وہاں سے چلے گئے اور مزدوروں کو میں نے گولی مار دینے کی دھمکی دے کر روک لیا۔ یہ بالکل مجبوری کے طور پر کیا گیا، ورنہ سامان اٹھانے اور رکھنے میں بری دقّت پیش آتی۔
    تنہائی میں میں نے اپنے امریکی دوستوں کو بہت ڈانٹا اور کہا کہ اگر وہ اتنے ہی بزدل تھے تو انہیں آنے سے پہلے سوچ بچار کر لینی چاہیے تھی۔ وہ ازحد شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے کہ آخری دم تک میرا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد ہم اپنے خیموں میں گئے اور مچھر دانیاں تان کر سونے کی تیاریاں کرنے لگے ۔ بوڑھا بابی اپنا لمبا نیزا سنبھالے میرے خیمے کے باہر پہرا دینے کے لیے بیٹھ گیا۔ وہ کہتا تھا کہ رات کو اسے نیند کم آتی ہے۔ وہ رات کسی حادثے اور خطرے کے بغیر خیریت سے گزر گئی۔
    آنائی کی فلک بوس پہاڑیوں کے پیچھے سے جب سورج طلوع ہوا تو اس وقت کا منظر اس قدر دلفریب اور معصوم تھا کہ ہم سب تھوڑی دیر کے لیے اسی میں گم ہو گئے۔ سرد ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے پہاڑی جنگلوں کی طرف سے آتے اور ہمیں سلام کرتے ہوئے گزر جاتے۔ چاروں طرف پرندوں کے چہچہانے کی دلکش آوازیں آ رہی تھیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلے ہوئے اونچے اونچے درخت تمام کے تمام اوس میں نہائے ہوئے تھے اور ان کے پتّوں پر پڑے ہوئے قطرے سورج کی سنہری کرنوں میں موتیوں کی مانند چمک رہے تھے۔تا حدِ نظر کوہستانِ آنائی کا ایک وسیع و عریض سلسلہ پھیلتا چلا گیا تھا اور انہی کے درمیان کہیں شیروں کی وادی واقع تھی۔ ہمارے بائیں ہاتھ آنائی کی ندی کا پانی ایک دودھیا لکیر کی مانند بل کھاتا ہوا دور تک جنگل میں چلا گیا تھا، ندی کے اوپر آبی پرندوں کے غول کے غول پرواز کر رہے تھے۔ میں نے جلدی جلدی کافی بنائی، ناشتہ کیا اور رائفل لے کر ان پرندوں کے شکار کے لیے نکل پڑا۔ مجھے ہاشم کی یاد بری طرح ستا رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا اگر وہ اس وقت میرے ساتھ ہوتا تو کس قدر لطف آتا، پھر مجھے اس خونخوار مگرمچھ کا خیال آیا جس نے ہاشم کو ہلاک کیا تھا۔ اتنے میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو ولیم اور نکسن دونوں اپنی رائفلیں ہاتھوں میں پکڑے میری طرف آ رہے تھے اور ان کے پیچھے بوڑھا بابی ایک خچر کو ساتھ لیے آ رہا تھا۔ جب وہ قریب آ گئے تو میں نے بابی سے پوچھا، "خچر کس لیے لائے ہو؟ آخر اس کی کیا ضرورت تھی؟"
    "مالک! کیا آپ مگرمچھ کو مارنے کا ارادہ بدل چکے ہیں!"
    میں حیرت سے اس کے منہ کی طرف تکنے لگا۔ میں نے جھنجھلا کر کہا، "مگرمچھ کا اس خچر سے کیا واسطہ؟"
    "مالک! مگرمچھ مارنے کے لیے یہ خچر ہی اس وقت کام دے گا۔ وہ صبح ہی صبح اپنے شکار کی تلاش میں نکلتا ہے۔ ہم اس خچر کو اس جگہ باندھ دیں گے جہاں کل مگرمچھ نے گائے کو پانی میں گھسیٹا تھا۔ مگرمچھ خچر دیکھ کر ضرور کنارے پر آئے گا۔"
    میں نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ بالکل سیدھی بات تھی مگر دھیان ہی نہیں گیا۔ میں نے بوڑھے بابی کے کاندھے پر دوستانہ انداز میں تھپکی دی اور کہا، "مجھے تمہاری استادی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے بابا۔"
    وہ مسکرایا اور خچر کی رسی تھامے آگے بڑھ گیا۔ بالآخر ہم اس جگہ پہنچے جہاں مگرمچھ نے ہاشم کو ہلاک کیا تھا۔ بابی نے اشارے سے ہم سب کو اِدھر اُدھر دُبک جانے کا اشارہ کیا اور پھر اپنے کپڑوں کے نیچے سے لکڑی کی ایک میخ نکال کر نرم زمین میں گاڑ دی۔ رسی کا ایک سر اس نے میخ کے ساتھ باندھا تاکہ خچر بھاگنے نہ پائے۔ اس کاروائی کے بعد وہ ہماری طرف لوٹ آیا۔ ہم کنارے سے کوئی پچاس گز دور درختوں کی آڑ میں کھڑے تھے اور اب صرف مگرمچھ کا انتظار تھا۔ ہماری نظریں ندی کے پانی پر مرکوز تھیں، جو کسی ہل چل کے بغیر آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا۔
    کامل پون گھنٹہ اسی عالم میں گزر گیا۔ مگرمچھ کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔ انتظار کے یہ لمحات بھی کتنے تکلیف دہ ہوتے ہیں، یہ کسی شکاری سے پوچھیے۔ بابی بار بار اپنے منہ پر انگلی رکھ کر ہمیں خاموش رہنے کا اشارہ کرتا اور ہم کسمسا کر رہ جاتے۔ آخر ہم اکتا کر چلنے ہی والے تھے کہ یکایک خچر نے زور زور سے اچھالنا اور ہنہنانا شروع کر دیا۔ اس نے شاید خطرے کی علامات سونگھ لی تھیں، پندرہ منٹ تک خچر اسی طرح بےچینی سے اچھلتا اور کھونٹے سے آزاد ہونے کی کوشش کرتا رہا، لیکن میخ زمین میں اتنی گہری گڑی ہوئی تھی کہ اکھڑ نہ سکی۔ ہم سب سانس روکے اپنی رائفلیں تانے بالکل مستعد کھڑے تھے اور طے یہ ہوا تھا کہ مگرمچھ جونہی رینگتا ہوا کنارے پر آئے، بیک وقت تینوں رائفلوں سے اسے نشانہ بنایا جائے۔
    خچر تک پہنچنے کے لیے مگرمچھ کو ندی سے نکل کر پندرہ بیس گز دور آنا پڑتا اور ندی میں عین اس مقام پر جہاں سے خچر نزدیک ہی تھا، پانی کھولتے ہوئے تیل کی طرح جوش کھا رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مگرمچھ نے اپنی لمبی سی تھوتھنی پانی سے باہر نکالی اور سرنگ نما جبڑا کھول کر دو تین مرتبہ اِدھر اُدھر منہ گھمایا اور آہستہ آہستہ کنارے پر آ گیا۔ خدا کی پناہ! کس قدر زبردست مگرمچھ تھا، حالانکہ ہم اس سے کافی فاصلے پر تھے، پھر بھی صاف اندازہ ہوتا تھا کہ منہ سے لے کر دم تک اس کی لمبائی سولہ سترہ فیٹ سے کم نہ ہوگی۔ خچر کی حالت قابلِ رحم تھی۔ بےچارہ اسے دیکھ کر یوں سہم گیا تھا جیسے کبوتر بلّی کو سامنے پا کر سہم جاتا ہے۔کچھ ایسی دہشت خچر پر چھا گئی کہ وہ یک لخت بےحس و حرکت ہو کر مگرمچھ کو دیکھنے لگا، جو آہستہ آہستہ مکارانہ انداز میں اپنے شکار کی طرف بڑھ رہا تھا۔ خچر کے بالکل قریب پہنچ کر مگرمچھ ٹھہر گیا۔ پہلے اس نے اپنا جبڑا کھولا اور پھر تیزی سے اپنی دم کو گردش دینے لگا۔ اگرچہ وہ اب ہمارے نشانے کی عین زد میں تھا، لیکن خدشہ یہ تھا کہ اگر گولی اسے نہ لگی تو خچر کو ضرور لگ جائے گی۔ ظاہر ہے کہ فوراً ہی بےچارے خچر کا کام تمام ہو جاتا اور حالات ایسے تھے کہ خچر کو ہم کسی قیمت پر ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ویسے بھی مگرمچھ کی پشت اور جبڑے کی کھال اس قدر سخت ہوتی ہے کہ گولی اس پر اثر نہیں کرتی اور اس کو مارنے کی واحد صورت یہی ہے کہ گولی مگرمچھ کے پیٹ میں لگے۔
    مگرمچھ کا خچر پر حملہ کرنا اور خچر کا وار بچانا، اس قدر عجیب اور حیرت انگیز تماشا تھا کہ ساری زندگی یاد رہے گا۔ مگرمچھ نے اچھل کر اپنے جبڑے میں خچر کی گردن پکڑنے کی کوشش کی۔ لیکن خچر بھی غافل نہ تھا۔ اس نے گردن موڑ کر ایک دولتی اس زور سے ماری کہ مگرمچھ پشت کے بل گر گیا مگر فوراً لوٹ پوٹ کر وہ پھر خچر کی طرف لپکا اور اس مرتبہ اس نے خچر کی ٹانگ اپنے منہ میں دبا لی۔ خچر اور مگرمچھ دونوں کے حلق سے اب طرح طرح کی خوفناک آوازیں نکل رہی تھیں۔ مگرمچھ نے پوری قوت سے خچر کو گھسیٹنے کے لیے سر جھکایا اور زمین میں گڑی ہوئی میخ اکھڑ گئی۔
    میخ اکھڑتے ہی خچر کو جیسے نئی زندگی ملی، اس نے جنگل کی طرف بھاگنا چاہا اور مگرمچھ اسے ندی کی طرف لے جانا چاہتا تھا۔ کئی منٹ تک یہی کھینچا تانی جاری رہی یہاں تک کہ خچر سخت لہو لہان اور زخمی ہو کر گر پڑا۔ اب مگرمچھ نے اسے دوبارہ اپنے منہ میں پکڑا اور کنارے کی طرف پلٹا۔ ہم نے سوچا کہ خچر تو مارا ہی گیا ، اب مگرمچھ کو جانے نہ دیا جائے، ہماری رائفلوں سے بیک وقت تین شعلے نکلے اور مگرمچھ قلابازی کھا کر ڈھیر ہو گیا۔ خچر اب بھی زندہ تھا اور مگرمچھ کے جبڑے سے اپنا گلا چھڑانے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ ہم بھاگتے ہوئے ذرا قریب پہنچے تو مگرمچھ نے پھر انگڑائی لی اور خچر کی ٹانگ لپک کر پکڑ لی اور تیزی سے کنارے کی طرف بڑھا۔ کتنی زبردست قوّت اس کے جسم میں چھپی ہوئی تھی کہ تین گولیاں کھانے کے باوجود اس نے کوئی اثر نہ لیا۔ اس سے پیشتر کہ ہم قریب پہنچ کر دوبارہ فائر کریں، مگرمچھ اپنا شکار لے کر ندی میں پھرتی سے داخل ہو گیا، عین اسی وقت بابی کا ہاتھ جنبش میں آیا اور اس نے نشانہ لے کر نیزہ پوری رفتار سے مگرمچھ کی طرف پانی میں پھینک مارا۔ مگرمچھ کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔ نیزے کی نوک اس کے کھلے جبڑے کے اندر نرم گوشت میں گڑ گئی تھی۔ درد کی شدّت سے بےتاب ہو کر وہ پانی میں اچھلنے لگا۔ اس کے خون سے ارد گرد کا پانی سرخ ہو چکا تھا۔ یوں ہاشم کا قاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں، یہ گاؤں وہاں واقعہ تھا جہاں سے پانچ میل دور شیروں کی وادی کی سرحد شروع ہوتی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ مزید تاخیر کے بغیر وہاں پہنچ جائیں۔ چند مرغابیوں کو شکار کر کے ہم اپنے کیمپ کی طرف لوٹے تو چاروں مزدور غائب تھے۔ البتہ بقیہ تین خچر اور سارا سامان وہاں موجود تھا۔ گاؤں والوں نے قسمیں کھا کر یقین دلایا کہ انہوں نے مزدوروں کو نہیں چھپایا۔ بہرحال ہم نے ضروری سامان ساتھ لیا۔ خیمے اکھاڑ کر خچروں پر لادے اور باقی سامان گاؤں کے نمبردار کے پاس اس شرط پر رکھ دیا گیا کہ اگر زندہ واپس آئے تو لے لیں گے ورنہ یہ سامان اس کی ملکیت ہوگا۔
    پانچ میل کا یہ پر صعوبت سفر ہمیں یوں محسوس ہوا جیسے پانچ صدیوں کی مسافت ہے اور جب ہم آنائی کے پہاڑوں کو عبور کر کے وادی میں داخل ہوئے تو سورج کی کرنیں چوٹیوں پر الوداعی نگاہیں ڈال کر رخصت ہو رہی تھیں۔ ہم سب تھکن کے باعث چُور چُور تھے۔ فضا میں نمی کی شدّت صاف محسوس ہوتی تھی اور مچھروں کا بادل ہمارے سروں پر منڈلا رہا تھا۔ ان سے محفوظ رہنے کے لیے ہم نے ایک پہاڑی کے بلند اور فراخ ٹیلے پر اپنے خیمے جما دیے تاکہ تیز اور سرد ہوا کے تھپیڑے
    مچھروں کی فوج کو بھگاتے رہیں۔ بلند ٹیلے سے وادی کے پہاڑوں اور جنگلوں کا دور دور تک نظارہ کیا جا سکتا تھا، جو اُفق تک پھیلتے چلے گئے تھے۔ ان پہاڑوں کے اوپر سے کہیں کہیں آبشاریں گرتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں، پانی کی اس سفید چادر پر جب ڈوبتے ہوئے آفتاب کی نارنجی کرنیں پڑتیں تو وہ ہیرے کی مانند چمکتی تھیں۔ تا حدِ نگاہ تک چاروں طرف بانسوں کے اونچے اونچے جنگل سینہ تانے کھڑے تھے اور تیز ہوا جب ان کے درمیان سے گزرتی تو سیٹیاں سی بجنے لگتی تھیں۔ پانچ میل دور وہ گاؤں، جسے ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے، اس بلندی سے صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہاں جلتے ہوئے آگ کے الاؤ لمحہ بہ لمحہ روشن ہوئے جاتے تھے۔ پوری وادی میں ایسا بےکراں سناٹا اور خاموشی طاری تھی جیسے یہاں کوئی جاندار نہیں بستا، حتٰی کہ پرندوں کی اڑتی ہوئی قطاریں بھی غائب تھیں جو دن بھر دانا دنکا چگنے کے بعد سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی اپنے گھونسلوں کو واپس آتی ہیں۔ آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا بھی نہ تھا، البتہ مغربی اُفق پر پھیلی ہوئی شفق ہر لمحہ رنگین سے رنگین تر ہوتی جا رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی سرد ہوا کے جھونکے پوری شدّت سے چلنے شروع ہو گئے تھے۔ قدرت نے اس خطّے کو حسن و جمال کی جس دولت سے نوازا ہے، اس کی داد نہ دینا ناشکراپن ہوگا۔ وہ بےپناہ تھکن جس کی وجہ سے جسم کا بند بند فریاد کر رہا تھا، یکلخت غائب ہو چکی تھی اور میں اپنے آپ کو بالکل تروتازہ محسوس کرنے لگا اور یہ کیفیت میری ہی نہیں میرے ساتھیوں کی بھی تھی۔ بوڑھا بابی ہم سے ذرا فاصلے پر اپنا نیزا تھامے مشرق کی طرف منہ کیے بیٹھا کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ شاید یہ نظارے اس کے لیے نئے نہ تھے۔ یکایک وادی کے اندرونی حصّے میں شیر کے دھاڑنے کی آواز آئی اور یوں محسوس ہوا جیسے اردگرد کی پہاڑیاں لرز گئی ہوں۔ ہم سب چونکنے ہو کر اس طرف دیکھنے لگے۔
    پانچ منٹ بعد شیر کے دھاڑنے کی آواز پھر آئی۔ مگر یہ آواز اب زیادہ قریب محسوس ہوتی تھی۔ ہم سب اس بےتابی سے آواز کے رُخ دیکھ رہے تھے کہ کیا تماشا ظہور میں آتا ہے۔ دفعتاً چار فرلانگ کے فاصلے پر ایک بڑا سا بارہ سنگھا دوڑتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کا رُخ ہماری طرف تھا۔ بےتحاشا چھلانگیں لگاتا ہوا وہ آناً فاناً میں پہاڑی کے نیچے آ گیا۔ کوئی ایک منٹ بعد ہی کیا دیکھتے ہیں کہ اسی طرف سے بیک وقت دو شیر غرّاتے اور دھاڑتے نکلے اور بارہ سنگھے نے بچ کے نکل جانا چاہا، مگر شیروں نے دونوں جانب سے اسے گھیر لیا اور چند منٹ میں چیر پھاڑ کر برابر کر دیا اور اپنا آدھا آدھا حصّہ لے کر مختلف سمتوں میں روانہ ہو گئے۔ جنگل کی فضا میں پلے ہوئے یہ شیر نہایت جسیم اور طاقتور دکھائی دیتے تھے اور ایک بارہ سنگھے کے تعاقب میں دو شیروں کا نکلنا اس حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ یہ علاقہ واقعی شیروں سے پٹا پڑا ہے۔
    سورج غروب ہوتے ہی تاریکی کے غلاف نے زمین سے لے کر آسمان تک کو اپنے اندر لپیٹ لیا اور جوں جوں اندھیرا بڑھتا جاتا تھا، فضا میں خنکی اور ہوا کی تیزی میں شدّت پیدا ہو رہی تھی۔ یہاں تک کے ہم سردی کے باعث کانپنے لگے اور ہمیں خیموں کے اندر پڑے ہوئے کمبلوں میں پناہ لینا پڑی۔ ولیم کا خیال تھا کہ رات کو سردی اور بڑھے گی اس لیے آگ جلا لینی چاہیے، مگر بابی نے فوراً انکار میں سر کو جنبش دی اور ہم حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے۔
    "کیوں بابا! آگ جلانے میں کیا نقصان ہے؟ مجھ سے رہا نہ گیا تو پوچھ ہی بیٹھا۔
    "مالک! آپ یہ بھول رہے ہیں کہ یہ مقام کون سا ہے۔ کیا آدمیوں کو کھانے والے وحشی آپ کو یاد نہیں رہے؟ رات کی تاریکی میں جب وہ آگ کے شعلے دیکھیں گے تو ضرور آئیں گے۔"
    بابی کے یہ الفاظ نہ تھے، بجلی کی لہریں تھیں جو میرے جسم میں دوڑ گئیں۔ خدا کی پناہ! ان وحشیوں کو تو ہم فراموش ہی کر چکے تھے اور اب وہی مقام جو تھوڑی دیر پہلے ہمارے لیے جنّتِ نگاہ اور فردوسِ گوش بنا ہوا تھا، یک بیک ایک بھیانک مقتل کی شکل اختیار کر گیا۔ دہشت و خوف کا وہ دورہ جو ہم پانچ میل پیچھے چھوڑ آئے تھے، اب دوبارہ ہم پر مسلط ہو گیا۔ بہرحال شام کے کھانے سے فارغ ہو کر ہم اپنے اپنے کمبلوں میں دُبک گئے اور آئندہ پروگرام کے متعلق باتیں کرتے ہوئے خدا جانے کب نیند کی دیوی نے ہمیں اپنے آغوش میں لے لیا۔
    کچھ معلوم نہیں کتنی دیر سویا، لیکن اتنا یاد ہے کہ شور کی ایک ہلکی سی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ میرے دونوں امریکی دوست قریب ہی پڑے بےخبر سو رہے تھے۔ میں نے کان لگا کر یہ پراسرار شور سننے کی کوشش کی، مگر آواز اس قدر مدھم اور غیر واضح تھی کہ کچھ پتا نہ چلا کہ کدھر سے آ رہی ہے۔ بس یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوسوں میل دور کہیں ڈھول سا بج رہا ہو اور بہت سی عورتیں مل کر بَین کر رہی ہوں۔ کبھی یہ آواز مدھم ہو جاتی اور کبھی تیز، اور کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے بالکل قریب سے آ رہی ہے۔ میں آہستہ سے اٹھا، سرہانے رکھی ہوئی رائفل اور ٹارچ اٹھائی اور خیمے سے باہر نکلا۔ پچھلے پہر کا چاند آسمان کے مشرقی حصّے پر اپنا زرد چہرہ لیے حیرت سے مجھے تکنے لگا۔ چاند کی اس سوگوار اور اداس چاندنی میں جو حدِ نظر تک پھیلی ہوئی تھی۔ پہاڑ، جنگل اور وادیاں سناٹے اور خاموشی کی گہری چادر اوڑھے محوِ خواب تھیں۔
    میری چھٹی حِس مجھے بتاتی تھی کہ کوئی نامعلوم خطرہ پیش آیا ہی چاہتا ہے۔ وہ خطرہ کہاں تھا! یہ میں نہیں جانتا تھا۔ مگر لمحہ بہ لمحہ میرے حواس خود بخود معطل ہو رہے تھے اور کلیجہ اندر ہی اندر بیٹھا جا رہا تھا۔ میں بابی کو دیکھنے کے لیے دوسرے خیمے میں گیا۔ اندر ٹارچ کی روشنی ڈالی تو زمین پیروں تلے نکل گئی۔ خیمہ بالکل خالی پڑا تھا اور بابی غائب تھا۔ اس وقت بوڑھے بابی کا غائب ہونا نیک فعال نہ تھی۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا حادثہ پیش آیا، وہ کدھر گیا۔ میں اسی فکر میں گم تھا کہ میرے عقب میں ہلکی سی آہٹ ہوئی۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو دہشت سے میرے بدن میں تھرتھری سی چھوٹ گئی اور اس سردی میں بھی پسینے کے قطرے میری پیشانی پر پھوٹ نکلے۔
    دو وحشی جنہوں نے شیر کی کھالیں اوڑھ رکھی تھیں، بیس قدم کے فاصلے پر کھڑے حیرت سے مجھے گھور رہے تھے۔ ڈیل ڈول اور قد و قامت میں وہ بالکل دیو کی مانند دکھائی دیتے تھے۔ ان کی داڑھیاں اور سر کے بال حد سے زیادہ بڑھے ہوئے تھے اور آنکھیں یوں روشن تھیں جیسے اندھیرے میں شیر کی آنکھیں چمکتی ہیں۔ ایک دو سیکنڈ تک وہ مجھے دیکھتے رہے۔ ان کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہ تھا۔ میں بھی بےحِس و حرکت اپنی جگہ پر کھڑا اُن کی طرف دیکھتا رہا۔ یکا یک وہ آگے بڑھے اور میں نے ہوش میں آ کر جلدی سے رائفل سیدھی کی اور اندھا دھند فائر کر دیا۔ ایک وحشی چیخ مار کر گرا اور لڑھکتا ہوا نیچے خدا جانے کہاں جا گرا۔ دوسرا ڈر کر فوراً ایک چٹان کی آڑ میں ہو گیا اور میں نے دوبارہ اس کا مکروہ چہرہ نہیں دیکھا۔ میرے ہاتھ پیر اس غیر متوقع حادثے کی بدولت بری طرح لرز رہے تھے۔ فائر کی آواز سن کر ولیم اور نکسن بیدار ہو گئے اور رائفلیں سنبھال کر باہر نکل آئے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہمیں فوراً یہ جگہ چھوڑ دینی چاہیے۔ کیوں کہ وحشیوں نے ہمیں دیکھ لیا ہے۔ آدھی رات کو اس پراسرار وادی میں ہم تین اجنبی شخص اب اپنی جان بچانے کی فکر میں غرق تھے۔ مجھے یقین تھا کہ بوڑھا بابی ضرور ان خونخوار وحشیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ ورنہ یوں اچانک غائب نہ ہو سکتا تھا۔ وہ پراسرار آواز جو بہت دور سے آتی تھی اب قریب آ رہی تھی اور مجھے اس میں کوئی شبہہ نہ تھا کہ یہ ضرور آدم خور وحشیوں کی ٹولی ہے جو اس وقت شکار کی تلاش میں نکلی ہے۔ انتہائی بدحواسی میں اپنا تمام سامان وہیں چھوڑ کر ہم تینوں رائفلوں اور کارتوسوں سمیت وہاں سے بھاگ نکلے۔ اب سوال یہ تھا کہ جائیں کس طرف؟
    شمال کی طرف کوہستانِ آنائی کا سلسلہ ہمیں پناہ دے سکتا تھا، پس اسی طرف روانہ ہوئے۔ وہی چاندنی جو تھوڑی دیر پہلے اداس اور سوگوار نظر آتی تھی، اب ہمارے لیے نہایت مددگار ثابت ہوئی۔ ورنہ ہم اندھیرے میں ضرور کسی سینکڑوں فٹ گہرے کھڈ میں جا گرتے۔ عین اسی لمحے جنگل میں شیروں نے گرجنا شروع کر دیا۔ شاید وحشیوں کے غل غپاڑے سے ان کے آرام میں خلل پڑ گیا تھا۔ اضطراب اور پریشانی کی وہ کیفیت بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ کس طرح ہانپتے کانپتے اور دلدلوں کو پھلانگتے، ٹھوکریں کھاتے اور زخموں سے لہولہان ہوتے ہوئے ہم شمال میں ان پہاڑی غاروں کے قریب پہنچے جو خدا جانے لیل و نہار کی کتنی گردشیں دیکھ چکے تھے۔ یہ غار بالکل ویران تھے۔ ممکن ہے یہاں کبھی کبھار جنگلی درندے بارش اور طوفان میں پناہ لینے کے لیے آ نکلتے ہوں۔ہمیں یہ بھی خدشہ تھا کہ ان غاروں میں آنائی کے وہ مشہور و معروف اژدہے نہ ہوں جو چھپکلی سے مشابہ ہوتے ہیں۔
    ایک غار کے پاس رک کر ہم نے فیصلہ کیا کہ اب آگے بڑھنے کی سکت نہیں، بس یہیں پناہ لی جائے۔ یکایک ولیم کا پیر کسی چیز سے ٹکرایا اور اس نے جھک کر دیکھا تو بےاختیار اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ یہ ایک انسانی کھوپڑی تھی اور اب جو ہم غور سے چاروں طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ایسی ہی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کا خدا معلوم کتنا ذخیرہ پڑا تھا۔ اس وقت کوئی ہمارے ٹکڑے بھی کر دیتا تو یقین ہے کہ خون کا ایک قطرہ نہ نکلتا۔ اتنی ہیبت ہم پر طاری ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ ہمارے ذہن مفلوج ہو چکے تھے اور جسم حرکت کرنے سے قاصر، وہی معاملہ تھا کہ "جائے رفتن نہ پائے ماندن"۔ ابھی ہم اسی فکر میں گم تھے کہ اچانک ہمارے عین سامنے کے غار سے روشنی کی ہلکی سی کرن نمودار ہوئی اور پھر اس کے اندر سے دس بارہ وحشیوں کا ایک غول نکلا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں لکڑی کی مشعلیں تھام رکھی تھیں اور اس کے سِروں پر خدا جانے کون سی چربی مل رکی تھی جو پوری طرح جل رہی تھی۔ یہ وحشی اچھلتے کودتے باہر نکلے اور ان کے درمیان مجھے بوڑھا بابی دکھائی دیا۔ اگر ہم فوراً زمین پر نہ لیٹ جاتے تو وہ ہمیں ضرور دیکھ لیتے۔
    اس کے بعد جو منظر ہم نے دیکھا وہ اتنا لرزہ خیز تھا کہ آج چالیس برس گزر جانے کے بعد بھی میرے حافظے کی لوح پر اس کے نقوش دھندلے نہیں ہوئے۔ وحشیوں نے آگ کا ایک بڑا الاؤ دہکایا، پھر اس الاؤ کے اندر انہوں نے لوہے کی بنی ہوئی ایک گول سی ٹوپی رک دی اور آگ کے گرد وحشیانہ پن سے اچھلتے کودتے رقص کرنے لگے۔ بوڑھے بابی کے جسم سے کپڑے نوچ نوچ کر انہوں نے اسے بالکل برہنہ کر دیا تھا اور اب دو وحشی اسے بازوؤں میں تھامے کھڑے تھے۔ کامل ایک گھنٹے تک وہ اسی طرح ناچتے رہے۔ اس کے بعد ان کے لیڈر نے جو سب سے زیادہ لمبا تڑنگا تھا، لوہے کی ایک سلاخ کی مدد سے لوہے کی ٹوپی آگ کے الاؤ سے نکالی جو انگارے کے مانند سرخ ہو چکی تھی۔ ہم حیران تھے کہ آخر اس آہنی ٹوپی کو گرم کرنے سے ان وحشیوں کا مقصد کیا ہے، مگر تھوڑی دیر بعد جب انہوں نے بوڑھے بابی کو دھکیل کر درمیان میں کیا تو فرطِ خوف سے ہمارے کلیجے اچھلنے لگے۔ بابی کا برہنہ جسم خشک پتّے کی مانند لرز رہا تھا اور موت کو اس قدر بھیانک انداز میں اپنے قریب دیکھ کر کون تھا جو اپنے ہوش و حواس قابو میں رکھتا۔ یکایک وحشیوں نے وہی ٹوپی ہوا میں معلّق کی اور زور سے بابی کے سر پر رکھ دی۔ بدنصیب بوڑھے کے حلق سے اس موقعے پر جو چیخ نکلی اس کی آواز میں آج بھی سن سکتا ہوں۔ ایسامعلوم ہوا کہ جیسے کسی نے میرے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا ہے۔ یہی وہ موقع تھا جب دونوں امریکیوں کے منہ سے چیخیں نکل گئیں اور وحشیوں کی توجہ فوراً ہماری جانب مبذول ہو گئی، مجھے اپنی بزدلی کا اعتراف کرنا چاہیے کہ میں نے ان امریکیوں کو وہیں چھوڑا اور وہاں سے بےتحاشا بھاگ پڑا۔ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وحشیوں نے انہیں پکڑ لیا تھا۔ تمام رات میں مسلسل بھاگتا رہا۔ بھاگتا رہا۔ اندھا دھند۔ مجھے راستے کا کچھ علم نہ تھا۔ میرے کپڑے دھجیاں دھجیاں ہو چکے تھے اور پیر زخمی۔ آخر ایک جگہ میں بےہوش ہو کر گر پڑا۔ آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو ایک جھونپڑی کے اندر پایا۔ کچھ لوگ مجھے گھیرے کھڑے تھے۔ معلوم ہوا میں پورے تین دن بعد ہوش میں آیا ہوں اور یہ لوگ وہی ہیں جن کے گاؤں کے نزدیک آنائی ندی میں ہم نے مگرمچھ مارا تھا۔
    پڈانگ کے ہسپتال میں پڑا دو سال تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ میری دونوں ٹانگیں بےکار ہو چکی تھیں اور ڈاکٹروں نے اس خدشے کے پیشِ نظر کہ زہر جسم میں نہ پھیل جائے۔ دونوں ٹانگیں کاٹ دیں۔ میں آج زندہ ہوں لیکن مُردوں سے بدتر اور اب بھی راتوں کو سوتے سوتے یک لخت چیخنے لگتا ہوں۔ لوگ مجھے پاگل سمجھتے ہیں۔ کیا میں واقعی پاگل ہوں؟
    ٭٭٭​
     
    • زبردست زبردست × 11
  4. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    8,914
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    واہ واہ بہت خوب :)
    یہ کتاب میں نے پتہ نہیں کتی دفعہ پڑھی ہے
    شریک محفل کرنے پر ایک حج کا ثواب آپ کی نظر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,423
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    لاجواب شراکت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بہت شکریہ بہت دعائیں محترم انیس بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,479
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    انیس بھائی ابھی کے لیے رسیدحاضر ہے۔۔۔ :) تفصیلی جواب کو فی الوقت اٹھا رکھیے :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ذوالقرنین

    ذوالقرنین لائبریرین

    مراسلے:
    4,167
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت خوب انیس بھائی! برسوں بعد اس قسم کی کوئی کہانی پڑھنے کو ملا۔ داد قبول کیجئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    شکریہ۔
    مگر یہ ایک کہانی تھی۔ بقیہ 13 ابھی پوسٹ کرنا باقی ہیں۔۔۔:)

    نین بھائی پوری کتاب پڑھنے کے بعد تبصرہ کیجیے گا۔۔:)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    32,454
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جیو انیس، جی خوش کر دیا۔ تمہاری کتابوں کا نمبر لگنے سے پہلے ہی اتنی کتابیں مل جاتی ہیں کہ وہ پھر مؤخر ہو جاتی ہیں۔ خیر یہ تو مکمل کتاب ہے، اس کا تو انتطار کرنا ہی پڑے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. زبیر مرزا

    زبیر مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    رسید حاضر ہے انیس کہ جاکر تفصیلی جواب دوں گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    ۲۔ ساؤ کے آدم خور
    میری زندگی کے ناقابلِ فراموش لمحات وہی ہیں جو میں نے ساؤ کے علاقے میں بسر کیے۔ وہ زمانہ آج بھی مجھے یوں یاد ہے، جیسے کل ہی کی بات ہو۔ میں ان دنوں جوان تھا اور خطروں میں کود جانے کی اُمنگ شباب پر تھی۔ مجھے افریقہ میں جن مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا اور جو خطرے میرے گِرد منڈلاتے رہے ان کے نقوش بالکل تازہ ہیں، جن کے تصوّر سے آج جی لرزتا ہے اور میں بعض اوقات سوچتا ہوں تو ذہن میں حیرت و تعجّب کی ایک نہ ختم ہونے والی لہر دوڑنے لگتی ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ کیا واقعی ساؤ کے آدم خوروں کو میں نے مارا تھا۔ جنہوں نے کی سو مزدور ہڑپ کر ڈالے تھے۔ جنہوں نے میرا دن کا چین اور رات کی نیند حرام کردی تھی اور یہ تکلیف دہ سلسلہ پورے نو ماہ تک جاری رہا تھا۔ میں خود ان کا لقمہ بنتے بنتے کئی مرتبہ بچا اور پھر کس قدر صعوبت اور مشقّت کے بعد ان موذیوں سے خلقِ خدا کو نجات دلائی۔ یہ سب واقعات میرے حافظے کی لو پر روشن ہیں۔ ساؤ کے وہ آدم خور شیر، سیاہ گینڈے، جنگلی بھینسے جو طاقت میں ہاتھی سے کم نہ تھے اور سولہ سولہ فٹ لمبے مگرمچھ جو دریائے ساؤ میں چھُپے ہوئے اپنے شکار کی آمد کے منتظر رہتے تھے اور ان مصیبتوں کے علاوہ افریقہ کے وحشی اور جنگلی قبائل کے خونخوار باشندے جو سفید فام لوگوں کے خون کے پیاسے تھے۔ ان حالات میں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریلوے لائن کی تعمیر کا کام کس قدر دشوار اور مشکل تھا۔ جان ہر وقت سولی پر لٹکی رہتی تھی۔ تاہم ایک شکاری کے لیے ان حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لینا زیادہ محنت طلب بات نہ تھی۔
    کبھی کبھار ریلوے لائن کی تعمیر کا کام ضروری سامان وقت پر نہ پہنچنے کے باعث رک جاتا اور کی کی دن تک رکا رہتا۔ ان دنوں مجھے اِدھر اُدھر علاقے میں دور دور تک گھومنے کا اچھا موقع مل جاتا تھا۔ میں بچپن ہی سے ایسی طبیعت لے کر آیا تھا جو سکون اور بےحِسی سے ناآشنا تھی۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہنا کا سودا سمایا ہوا تھا۔ اپنی اس عادت کے باعث میں کئی مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مصیبت میں مبتلا ہوا، لیکن یہ عادت نہ بدلی۔ انہی دنوں جب کہ کام رک گیا تھا، میں نے فیصلہ کیا کہ ساؤ کا تمام علاقہ دیکھ لیا جائے۔ خدا کی پناہ! کس قدر گھنا اور تاریک جنگل تھا اور اتنا وسیع و عریض کہ بعض اوقات احساس ہوتا کہ شاید روئے زمین پر اس جنگل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
    ایک روز میں دریائے ساہا کے کنارے گھوم رہا تھا کہ دریائی گھوڑوں کا ایک جوڑا دکھائی دیا۔ وہ مجھ سے کوئی دو فرلانگ کے فاصلے پر دریا میں نہا رہا تھا۔ میں دیر تک اس قوی الجثہ اور عجیب الخلقت حیوان کو دیکھتا رہا۔ خدا کی پناہ! کس قدر زبردست اور طاقت ور جانور تھا۔ کبھی کبھی وہ دریا کی سطح پر آ کر سانس لینے کے لیے اپنا وسیع و فراخ منہ کھولتا تو میرے جسم پر چیونٹیاں سی رینگنے لگتیں۔ اس کا منہ اتنا بڑا تھا کہ میرے جیسا ڈیل ڈول رکھنے والا شخص آسانی سے اس میں سما سکتا تھا۔
    تیرتے تیرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے دریائی گھوڑے میرے بہت قریب آ گئے اور اب انہوں نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ چند منٹ تک وہ حیرت سے منہ کھولے اپنی ننّھی ننّھی آنکھوں سے مجھے یوں تکتے رہے جیسے آدمی کو دیکھنے کا پہلی بار اتفاق ہوا ہے۔ پھر انہوں نے دریا میں ڈبکی لگائی اور تیزی سے اسی طرف واپس ہو گئے، جدھر سے آئے تھے۔ قوت کا بےپناہ خزانہ ان کے جسم میں چھپا ہوا تھا، لیکن ایک نخیف و کمزور آدمی کو دیکھتے ہی خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے۔ بدقسمتی سے میرے پاس جو رائفل تھی اس سے چھوٹے موٹے جانور اور شیر چیتے تو مارے جا سکتے تھے، لیکن دریائی گھوڑے کے لیے یہ رائفل بالکل بےکار تھی۔ اس میں چھوٹے اور ہلکے کارتوس استعمال ہوتے تھے۔ بھاری رائفل کا تو فی الحال کوئی انتظام نہیں ہو سکتا تھا، البتہ اپنے مطلب کے کارتوس بنائے جا سکتے تھے۔ بارود کی وافر مقدار میرے پاس موجود تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ کم از کم ایک سو ایسے کارتوسوں میں بارود کی مقدار دوگنی ہو۔ پس میں نے سیسے کے بنے ہوئے خالی کارتوسوں میں بارود بھرنے کا کام شروع کر دیا۔ اگرچہ مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ تجربہ کامیاب رہے گا، لیکن پھر بھی کوشش کر کے دیکھنے میں کیا حرج تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہی خطرہ تھا کہ رائفل کی نالی اتنی زبردست قوّت برداشت نہ کر سکے گی اور پھٹ جائے گی۔
    ایک روز میں نے رائفل میں اپنا بنایا ہوا کارتوس بھرا اور اسے ایک درخت کے تنے سے باندھ دیا، پھر رائفل کے گھوڑے کے ساتھ میں نے سو فیٹ لمبی ڈوری باندھی اور اتنے فاصلے پر ایک دوسرے درخت کے پیچھے کھڑے ہو کر جب میں نے ڈوری کھینچ کر لبلبی دبائی تو رائفل چل گئی اور یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ رائفل کی نالی صحیح سلامت تھی۔ اب میں دریائی گھوڑوں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اس کے بعد بھی میں نے کارتوس آزمانے کے لیے کئی ایک تجربے کیے اور ان کی قوّت پر پورا اطمینان ہو گیا۔ تیس گز کے فاصلے سے اگر فولاد کی چادر پر فائر کیا جاتا تو اس میں سے بھی گولی نکل جاتی تھی اور ظاہر ہے کہ دریائی گھوڑے کی کھال فولاد کی چادر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ایک روز انہی کارتوسوں کی وجہ سے میں مرتے مرتے بچا۔ قصّہ یہ ہوا کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا خالی کارتوسوں میں بارود بھر رہا تھا کہ دفعتاً ایک کارتوس پھٹ گیا اور جلتا ہوا بارود ایک دھماکے کے ساتھ میرے چہرے پر بکھر گیا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہزارہا سوئیاں گرم کر کے میرے چہرے میں گھونپ دی گئی ہیں۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپ لیا اور سب سے پہلا خیال جو میرے دل میں آیا وہ یہ تھا کہ میں اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اندھا ہو چکا ہوں کیوں کہ میں جب بھی آنکھیں کھولتا مجھے اپنے اردگرد تاریکی معلوم ہوتی تھی، لیکن خدا کا شکر ہے یہ حالت چند گھنٹوں سے زیادہ قائم نہ رہی اور میں ایک بار پھر اسی دیکھی بھالی دنیا میں لوٹ آیا۔
    جب میں ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس ہو چکا تو ہم پانچ چھے آدمیوں کا گروہ دریاے ساباکی کی طرف روانہ ہوا۔ اس گروہ میں میرے علاوہ ایک ہندوستانی ملازم مہینا، باورچی مبارک اور ایک سقّہ شامل تھا۔ یہ ہندوستانی مزدور نہایت محنتی، نڈر اور سخت جان ہوتے ہیں اور فطری طور پر مُہم پسند بھی ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے علاوہ سامان اور کھانے پینے کی چیزیں اٹھانے کے لیے میں نے چند مقامی مزدور بھی ساتھ لے لیے۔ سیروشکار میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ہمیں اپنے کیمپ سے کئی کئی روز مسلسل غیر حاضر رہنا پڑتا۔ تاہم میں نے کبھی چھوٹے بڑے خمیے اپنے ساتھ نہیں رکھے۔ میں ہمیشہ باہر کُھلی جگہ میں رات بسر کرنا اچھا سمجھتا ہوں۔ اگرچہ خوراک کا کافی ذخیرہ ہم لے کر چلے تھے ، مگر میں راستے میں تیتر، جنگلی مُرغ اور مُرغابیاں وغیرہ شکار کرتا رہا۔ دریائے ساباکی کے کنارے کے ساتھ ساتھ دونوں جانب اونچی نیچی چٹانوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ ان چٹانوں کے اندر بہت بڑی تعداد میں چوہے کی شکل و صورت کے خرگوش ملتے ہیں۔ دور سے دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ بڑی جسامت کے چوہے ہیں۔ ان خرگوشوں کی دم بالکل نہیں ہوتی اور یہ پھُدکتے ہوئے چلتے ہیں۔ اگرچہ ان کا گوشت لذیذ ہوتا ہے۔ تاہم مقامی باشندے انہیں پسند نہیں کرتے۔ دریائے ساباکی اور دریائے ساؤ کا درمیانی علاقہ حسن و جمال کے اعتبار سے اس سرزمین کی بہشت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں ناریل کے درختوں کے جھنڈ کے جھنڈ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ فضا میں خوشگوار سی نمی کا احساس ہوتا ہے۔ان درختوں کے علاوہ یہاں کثرت سے خوبصورت اور رنگ برنگے جنگلی پھول اور پودے بھی اُگتے ہیں۔ سینکڑوں قسم کے چھوٹے چھوٹے پرندے ہر طرف اڑتے اور چہچہاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ بندر بھی ہزاروں کی تعداد میں یہاں آباد ہیں۔ لیکن یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ اس سرسبز و شاداب خطّے کو عبور کرتے ہی ہمارے سامنے ایک لق و دق صحرا آ جاتا ہے۔ جس میں خود رَو اور خاردار جھاڑیوں کے سوا کوئی شے نہیں۔ کہیں کہیں درختوں سے جھُنڈ ہیں، مگر پھولوں اور پتّوں سے بے نیاز۔ بالکل ٹنڈمنڈ جیسے ان پر موت وارِد ہو چکی ہو۔ سورج کی حدّت اور تپش یہاں اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آدمی بمشکل ایک دو گھنٹے ٹھہر سکتا ہے۔ دریائے ساؤ اس صحرا کے ایک جانب سے گزرتا ہے۔ یہاں اس کی چوڑائی کچھ زیادہ نہیں ہے۔ یوگینڈا کے دریاؤں میں ساؤ اور ساباکی بہت مشہور ہیں۔ ساؤ کا منبع کیلے منجورو کی برف پوش چوٹی ہے۔ اس چوٹی پر سال کے بارہ مہینے برف جمی رہتی ہے۔ موسمِ گرما میں یہ برف بڑی مقدار میں پگھلتی ہے تو دریا کا پاٹ حیرت انگیز طور پر وسیع ہوجاتا ہے۔ یہاں سے یہ دریا نکل کر شمال کی جانب تقریباً اسّی میل کا فاصلہ طے کر کے دریائے اتھائی میں مل جاتا ہے۔ دریاے اتھائی ساؤ اسٹیشن سے سات میل نشیب میں واقع ہے۔ اسی مقام پر دریا میں بہت سے ندی نالے آن کر ملتے ہیں اور پھر یہی دریائے ساباکی نام اختیار کر کے مشرق کی طرف بہتا ہوا مالندی کے مقام پر بحرِ ہند کی بےکراں وسعتوں میں گُم ہو جاتا ہے۔ مالندی ایک چھوٹی سی بندرگاہ ہے جو ممباسا کے شمال میں ستّر میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
    اگرچہ ہماری رفتار سست تھی، کیوں کہ قدم قدم پر جھاڑیوں اور درختوں کں کی شاخوں سے واسطہ پڑتا تھا لیکن ہم رُکے بغیر دریائے ساباکی کے ساتھ ساتھ چلتے گئے۔ دریا کے کنارے پہ کئی جگہ ہم نے مگرمچھ دیکھے جو اطمینان سے آنکھیں بند کیے اور تھوتھنیاں پانی میں ڈالے پڑے تھے لیکن ہماری آہٹ پاتے ہی وہ تیزی سے رینگتے ہوئے پانی میں غڑاپ غڑاپ کود گئے۔ کوئی دو میل اسی طرح چلنے کے بعد ہمیں ایک جگہ ریت پر دریائی گھوڑے اور گینڈے کے قدموں کے بڑے بڑے نشانات دکھائی دیے۔ یہ نشانات دیکھ کر ہمارا شوقِ جستجو اور تیز ہو گیا اور ہم زیادہ مستعدی اور ہوشیاری سے آگے بڑھنے لگے۔ یہ نشانات نصف فرلانگ تک پھیلے ہوئے تھے اور کہیں کہیں ریتیلے کنارے پر گڑھے بھی موجود تھے اور صاف پتہ چلتا تھا کہ گڑھے کسی بھاری اور قوی جسم کے گرنے سے بنے ہیں۔ شاید اس مقام پر کسی گینڈے اور دریائی گھوڑے کا آمنا سامنا ہو گیا تھا اور ان میں جنگ بھی ہوئی تھی۔ جن شکاریوں نے اپنی عمر میں کبھی کسی دریائی گھوڑے، گینڈے یا جنگلی بھینسے کو آپس میں لڑتے دیکھا ہے، وہی جان سکتے ہیں کہ یہ جنگ کس قدر خوفناک اور لرزہ خیز ہوتی ہے۔ دریائی گھوڑا فطری اعتبار سے نہایت شرمیلا اور رکھ رکھاؤ والا جانور ہے اور لڑنا بھرنا پسند نہیں کرتا لیکن ایسا موقع اگر آ بھی جائے تو پھر نہایت بہادری اور بے خوفی سے اپنے حریف کا مقابلہ کرتا ہے اور اکثر فتح یاب اور کامران ہوتا ہے۔ کرۂ ارض پر ہاتھی کو چھوڑ کر دریائی گھوڑا اس وقت سب سے زیادہ قوی اور وزنی جانور ہے۔ اس کا شمار دودھ پلانے والے حیوانوں میں ہوتا ہے۔ اس کی شکل و شباہت سؤر سے بہت ملتی ہے۔ اس کے جسم کی لمبائی عموماً چودہ فٹ اور اونچائی تین فٹ دس انچ تک ہوتی ہے اور وزن چوراسی من سے زائد ہوتا ہے۔ کان اگرچہ چھوٹے اور لچک دار ہوتے ہیں لیکن سماعت کی حس غضب کی ہوتی ہے۔ جسم موٹا، بھدّا اور پیر چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔ تیرتے وقت اس کی آنکھیں اور نتھنے پانی سے باہر رہتے ہیں، دریائی گھوڑے کا سب سے بڑا عجوبہ اور خطرناک ہتھیار اس کا غار نما منہ ہے۔ جس کے دونوں طرف بڑے بڑے دانت نظر آتے ہیں۔ اوپر کا ہونٹ نچلے ہونٹ کی نسبت بہت موٹا ہوتا ہے۔ کھال کی موٹائی دو انچ سے زائد ہوتی ہے۔ دریائی گھوڑے بیس بیس چالیس چالیس کے گروہوں کی شکل میں دریاوں کے کنارے یا ڈیلٹاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کی خوراک دریائی پودے اور جنگلی گھاس پھوس ہے۔ پکی ہوئی فصلوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور آن کی آن میں سب کچ تہس نہس کر ڈالتے ہیں۔ جزیرہ کریٹ، مالٹا، سسلی، بھارت، برما اور افریقہ کے شمالی حصّے میں بھی دریائی گھوڑوں کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ حال ہی میں جزیرۂ مڈغاسکر میں بھی ان کی ایک نئی اور ذرا چھوٹی قسم دریافت ہوئی ہے۔ مغربی افریقہ کے جنگلوں میں بھی دریائی گھوڑے ملتے ہیں لیکن ان کا قد و قامت سؤر سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔
    دریائے ساباکی کے کنارے ان گڑھوں کو دیکھ کر مجھے خود اپنا ایک چشم دید واقعہ یاد آ گیا۔ ایسا عجیب اور خوفناک واقعہ میں نے اپنی آنکھوں سے دوبارہ نہیں دیکھا۔ اس لیے میں یہاں بیان کرتا ہوں۔ یہ ایک دریائی گھوڑے اور جنگلی بھینسے کی خون ریز جنگ تھی۔ میں اس زمانے میں کانگو کے جنگل میں گھوم رہا تھا۔ ایک روز دوپہر کے وقت جنگل کے کھلے حصّے میں، جہاں سے دریائے کانگو صاف دکھائی دیتا تھا، تھرماس میں سے قہوہ نکال کر پی رہا تھا کہ یکایک ایک دریائی گھوڑا دریا میں سے نکلا اور کنارے پر آ کر جنگل کی طرف بڑھا۔ میں اسے دیکھتا رہا۔ غالباً وہ بھوکا تھا اور خس و خاشاک سے اپنا پیٹ بھرنے آیا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ میرے نزدیک آتا گیا۔ میں درخت کی اوٹ میں بیٹھا سب تماشا دیکھ رہا تھا۔ کئی مرتبہ میں نے ارادہ کیا کہ دریائی گھوڑے پر فائر کروں لیکن وہ اتنے پرسکون اور معصومانہ انداز میں گھاس اور پودے کھا رہا تھا کہ مجھے اپنے فاسد ارادے پر شرم محسوس ہونے لگی۔ یکایک میرے دائیں ہاتھ پر جھاڑیوں میں کچھ کھڑکھڑاہٹ سی پیدا ہوئی۔ میں چونکنا ہو کر اُدھر دیکھنے لگا۔ پہلا خیال جو میرے دل میں آیا وہ کسی شیر یا چیتے کا تھا۔ کیوں کہ یہ درندہ اسی طرح جھاڑیوں میں چھُپ چھُپ کر شکار کا تعاقب کرتا ہے۔ میں لپک کر اسی درخت پر چڑھ گیا۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ اگر جھاڑیوں میں چھپنے والا جانور کوئی شیر ہی ہے تو دیکھیں وہ دریائی گھوڑے پر حملہ کرتا ہے یا نہیں۔ ابھی میں بمشکل درخت پر بیٹھنے کے لیے ایک محفوظ سی جگہ تلاش کر ہی پایا تھا کہ چمک دار سیاہ رنگ کا ایک قوی ہیکل جنگلی بھینسا جھاڑیوں کو چیرتا ہوا نمودار ہوا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں اور گردن تکبّر اور غرور کے انداز میں تنی ہوئی تھی۔ اس جنگلی بھینسے کو دیکھ کر یوں تو خوف آنا لازمی تھا، مگر سب سے ڈرانے والی شے اس کے لمبے اور نوکیلے سینگ تھے۔ جن کی زد میں آ کر مشکل ہی کوئی حریف یا مقابل زندہ بچ سکتا تھا۔ بعض اوقات میں نے خود دیکھا ہے کہ جنگل کا بادشاہ بھی ان سینگوں سے ڈر کر بھاگ نکلتا ہے۔ دریائی گھوڑے نے بھی فوراً اپنے حریف کی موجودگی کو محسوس کر لیا۔ کیوں کہ اب وہ بےحس و حرکت کھڑا منہ اوپر اٹھائے اپنے عین سامنے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ اپنے موٹے اور بے ڈول پیروں سے بھد بھد کی آواز پیدا کرتا ہوا جنگلی بھینسے کی طرف بڑھا۔ میرا خیال تھا کہ جنگلی بھینسا اپنے اس زبردست مقابل کو دیکھ کر راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔ لیکن نہیں۔ وہ بھی گردن جھکا کر نہایت جارہانہ انداز میں اچھالتا ہوا دوڑا اور جاتے ہی ایک ٹکّر دریائی گھوڑے کے منہ پہ ماری۔ دریائی گھوڑے نے اس حملے سے بچنے کے لیے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا اور بھینسے کے نوکیلے سینگ اس کی گردن میں گڑ گئے۔ بھینسا اگرچہ دریائی گھوڑے کے مقابلے میں حقیر تھا، تاہم نہایت پھرتیلا اور چست ثابت ہوا۔ چند ہی منٹ میں اس نے دریائی گھوڑے کو لہولہان کر دیا۔ اس کے جسم کے ہر حصّے پر اپنے نوکیلے سینگوں سے سوراخ کر دیے۔ جن میں سے خون فوارے کی طرح اچھلتا ہوا نکل رہا تھا۔ دریائی گھوڑا نہایت وزنی ہونے کی باعث بھینسے کے حملے کو روکنے پر قادر نہیں تھا۔ اس طرح اس کا سیروں خون بہہ گیا۔ ادھر بھینسے کا جوش و خروش بڑھتا ہی جاتا تھا۔ بار بار وہ پیچھے ہٹ کر اچھلتا ہوا آتا اور پوری قوت سے اپنے سینگ دریائی گھوڑے کے جسم میں گھونپ دیتا۔ ان دونوں کے منہ سے طرح طرح کی چیخیں نکل رہی تھیں، جن سے پورے جنگل پر ایک لرزہ سا طاری تھا اور زمین ان کے قدموں کی دھمک سے بار بار کانپ اٹھتی تھی۔ میں درخت پر سہما ہوا بیٹھا یہ عجیب و غریب اور خون ریز جنگ دیکھنے میں محو تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس جنگ میں جنگلی بھینسا کامیاب و کامران ہوگا۔ آدھے گھنٹے کی لڑائی کے بعد دریائی گھوڑا بالکل بے بس اور لاچار ہو گیا۔ اب وہ قطعئ طور پر ادھ مؤا ہو چکا تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ڈھرام سے زمین پر گر گیا۔ اب جنگلی بھینسا اس کے چاروں طرف پھوں پھوں کی آوازیں نکالتا ہوا رقص کرنے لگا اور گھوڑے کے پیٹ میں سینگ گھونپتا رہا۔ دریائی گھوڑا ابھی تک زندہ تھا اور اس کا پہاڑ سا جسم خون میں لت پت ہو چکا تھا۔ میں سمجھا کہ بس یہ چند منٹ کا مہمان ہے لیکن اس کے بعد جو منظر میں نے دیکھا وہ مجھے زندگی بھر حیرت زدہ بنائے رکھنے کے لیے کافی ہے۔
    جنگلی بھینسا دریائی گھوڑے کے جسم میں مسلسل اپنے سینگ گھونپے جا رہا تھا اور اپنی طرف سے وہ دشمن پر پوری طرح قابو پا چکا تھا۔ دریائی گھوڑا دم سادھے پڑا تھا، لیکن ایک ہی مرتبہ اس نے اپنا غار سا منہ کھول کر جنگلی بھینسے کی گردن پکڑ لی اور اسے اس زور سے بھینچا کہ بھینسے کی گردن علیحدہ ہو کر دریائی گھوڑے کے منہ میں رہ گئی اور دھڑ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ چند منٹ بعد بھینسے کی سر کٹی لاش ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ دریائی گھوڑا لوٹ پوٹ کر اٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا دریا کے اندر کود کر پانی کی تہہ میں نہ جانے کدھر غائب ہو گیا۔
    دریائے ساباکی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا پاٹ کہیں بہت تنگ اور کہیں بہت وسیع ہو جاتا ہے کہ اسے عبور کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ دریا کے اندر ہی اندر بعض مقامات پر چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جن پر رات کے وقت دریائی گھوڑے آ کر لوٹ مارتے ہیں۔ میرے ملازم مہینا نے کہا کہ انہی جزیروں میں سے کسی ایک پر ہم رات کو ڈیرہ جمائیں، لیکن اس کے ساتھ ایک عظیم خطرہ یہ بھی لاحق تھا کہ دریا میں مگرمچھ بڑی تعداد میں تھے اور عین ممکن تھا کہ جب ہم پانی میں قدم رکھتے تو کوئی مگرمچھ اندر ہی اندر تیرتا ہوا آتا اور ہم میں سے کسی کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹ کر لے جاتا۔ آخر ہم نے دریا کے کنارے ایک بڑے درخت کے نیچے اپنا سامان رکھ دیا۔ دوپہر سر پر آ چکی تھی اور تھکن سے سب کا برا حال تھا۔ مبارک باورچی نے جلدی جلدی سب کے لیے کھانا نکالا۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے بقیہ لوگوں کو وہیں ٹھہرنے کی ہدایت کی اور خود مہینا کو ساتھ لے کر کسی جزیرے کی تلاش میں آگے روانہ ہوا۔ ابھی ہم بمشکل ایک فرلانگ ہی گئے تھے کہ یکایک مہینا نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔ وہ مجھ سے دس قدم آگے جا رہا تھا۔ میں رک گیا۔ وہ الٹے قدموں واپس آیا اور کہنے لگا، "وہ دیکھیے دریا کے کنارے ایک ہرن کھڑا پانی پی رہا ہے۔"
    میں نے غور سے اس طرف دیکھا۔ کیا شاندار اور پلا ہوا ہرن تھا۔ اس کی سیاہ کھال شیشے کی مانند چمک رہی تھی۔ پہلے میں نے ارادہ کیا کہ ذرا قریب جا کر نشانہ بناؤں، لیکن اس خوف سے کہ ہرن میری آہٹ پا کر فرار نہ ہو جائے میں نے وہیں کھڑے کھڑے نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی۔ فائر ہوتے ہی ہرن فضا میں اچھلا اور دریا کے اندر جا پڑا۔ ہم دونوں اس کی طرف بھاگے، مگر وہ فوراً ہی اٹھا اور پانی میں تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر چڑھ کر جنگل میں گھس گیا۔ مجھے یقین تھا کہ گولی ہرن کو لگی ہے اور اب اسے کسی قیمت پر بھی چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ پس ہم بھی مگرمچھوں کے خوف سے بےنیاز ہو کر دریا میں کود پڑے۔ خوش قسمتی سے اس مقام پر پانی زیادہ گہرا نہ تھا۔ ہم دس منٹ کے اندر اندر دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ ہم نے جلد ہی ہرن کے قدموں کے نشانات تلاش کر لیے اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ریت پر ان نشانات کے ساتھ ساتھ خون کے تازہ قطرے بھی موجود تھے، لیکن ہرن کو اس گھنے جنگل میں جہاں کئی کئی فٹ لمبی گھاس اور قد آدم جھاڑیاں کھڑی تھیں تلاش کرنا کارے وارد تھا۔ ہم دونوں دیوانوں کی طرح جنگل میں گھس گئے اور ہرن کو ڈھونڈنے لگے۔ مجھے خوف یہ تھا کہ ہرن زخمی ہونے کے باعث کمزور ہو کر کہیں گر پڑے گا اور کسی درندے کے منہ کا لقمہ بن جائے گا اور میں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ہمیں قطعاً احساس نہ ہوا کہ کتنا وقت گزر گیا اور رات کب سر پر آ گئی۔ سورج غروب ہوتے ہی تاریکی نے غلبہ پا لیا اور جنگل کی زندگی بیدار ہونے لگی۔ درختوں پر چھپے ہوئے پرندے بولنے لگے۔ بندر چیخنے لگے اور دور کہیں ہم نے کسی شیر کے دھاڑنے کی آواز بھی سنی۔
    شیر کی دھاڑ سنتے ہی ہمارے ہوش اڑ گئے۔ اگرچہ میں ایک تجربہ کار شکاری ہوں اور زندگی میں بہت سے آدم خور شیروں کا مقابلہ کر چکا ہوں۔ تاہم یہ بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ تاریک جنگل میں رات کے وقت شیر کی دھاڑ سن کر نڈر سے نڈر آدمی کا پتّہ بھی پانی ہو جاتا ہے۔ خدا نے اس درندے کی آواز میں دبدبے اور دہشت کا ایسا عنصر رکھ دیا ہے کہ دل کانپ کانپ جاتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ شیر خواہ کتنی ہی دور دھاڑ رہا ہو یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہم سے بہت قریب ہے۔
    شیر کی پکار سن کر مہینا کی حالت مجھ سے زیادہ ابتر تھی۔ بےچارہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا، "آقا! خدا کے واسطے یہاں سے نکل چلیے۔ شیر ہمارے آس پاس پھر رہا ہے۔ وہ ضرور شکار کی تلاش میں نکلا ہے۔ یہ ہرن اس کے لیے چھوڑ دیجیے۔"
    دل تو میرا بھی ڈر رہا تھا، مگر اس کے سامنے میں نے زبردستی ہنس کر کہا، "مجھے آج معلوم ہوا کہ تم خاصے بزدل آدمی ہو۔ ارے پاگل! یہ شیر جس کی آواز تم سن رہے ہو۔ یہاں سے کئی میل دور ہے۔ جتنی دیر میں وہ اِدھر آئے گا۔ ہم کہیں کے کہیں پہنچ چکے ہوں گے۔ آؤ اب واپس چلیں۔"
    خوش قسمتی سے رات اتنی اندھیری نہ تھی اور غالباً چاند نکلنے ہی والا تھا۔ ہم تیز تیز چلتے ہوئے دریا کی طرف روانہ ہوئے۔ چلتے رہے۔ چلتے رہے۔ نہ معلوم کتنی دیر ہم رکے بغیر چلے۔ دریا کا کہیں پتہ نہ تھا۔ البتہ مشرق کی طرف سے سرد ہوا کے جھونکے بار بار ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے بتا جاتے کہ دریا قریب ہی ہے۔ چاند اب اتنی بلندی پر آ چکا تھا کہ اس کی روشنی سے جنگل منوّر ہو گیا اور ہمیں کافی فاصلے کا منظر آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ ایک بھیانک خاموشی ہر طرف طاری تھی۔ البتہ کبھی کبھی کوئی بڑی چمگاڈر پھڑپھڑاتی ہوئی ہمارے سروں پر سے گزر جاتی۔ اب ہم دریا کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ لہروں کے پُرشور آواز بخوبی سنائی دے رہی تھی۔
    تھوڑی دور اور چلنے کے بعد دریا ہماری نظروں کے سامنے تھا۔ چاند کی روشنی میں اس کا پانی چاندی کی ایک لمبی سی لکیر کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور تیز ہو گئے۔ ہمیں چند قدم آگے بڑھنے پر فوراً احساس ہو گیا کہ یہ جگہ وہ نہیں ہے جہاں سے ہم نے دریا عبور کیا تھا۔ بلکہ راستہ بھول کر ہم ایسے مقام پر آ نکلے تھے جہاں دریا کا پاٹ نہایت وسیع تھا اور پانی جس رفتار سے بہہ رہا تھا، اسے دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کافی گہرا ہے اور لازماً اس میں مگرمچھ چھُپے ہوں گے۔ اب ہم وہاں کھڑے یہ سوچ رہے تھے کہ کیا کریں کدھر جائیں دریا عبور کرنا تو حماقت ہی تھی۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ کافی فاصلے پر دریا میں ایک بہت بڑا سیاہ دھبہ حرکت کر رہا تھا۔ میں نے مہینا سے کہا، "یہ کیا چیز ہے؟"
    وہ بغور دیکھنے لگا یہ دھبّہ آہستہ آہستہ بڑا ہوتا جا رہا تھا۔ یکایک وہ چیخا، "صاحب! یہ دریائی گھوڑوں کا قبیلہ ہے۔"
    میں حیرت سے اس قبیلے کو دیکھنے لگا جس میں بلا مبالغہ تیس چالیس دریائی گھوڑے تھے۔ ان کے جسم پانی کے اندر چھُپے ہوئے تھے اور صرف منہ باہر تھے۔ ان کے جلوس میں ایک بےپناہ شور اور ہنگامہ چلا آ رہا تھا۔ وہ پانی میں اچھلتے، ایک دوسرے کو منہ مارتے اور دھکیلتے آگے بڑھ رہے تھے۔ ہم کنارے سے ذرا دور ہٹ گئے اور ایک درخت کی آڑ میں کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے۔ چند منٹ بعد وہ ہمارے قریب سے گزر گئے۔ اب ہم کنارے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگے۔ ہمارا خیال تھا کہ آگے یقیناً ایسا مقام مل جائے گا، جہاں دریا کا پاٹ اتنا چوڑا نہ ہو اور ہم آسانی سے دریا عبور کر لیں۔ ایک گھنٹے تک مسلسل چلنے کے بعد آخر ایسی جگہ ہمیں نظر آ گئی۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اُن لوگوں کی تھی جنھیں میں ایک جگہ ٹھہرنے کی ہدایت کر آیا تھا وہ یقیناً ہماری گمشدگی کے باعث سخت پریشان ہوں گے اور ممکن ہے کہ وہ ہماری تلاش میں گھوم رہے ہوں۔
    اس مقام میں دریا کا پانی کمر تک تھا۔ ابھی ہم نے آدھا فاصلہ طے کیا تھا کہ دوسرے کنارے پر سامنے جنگل میں سے یکایک ایک دریائی گھوڑا نمودار ہوا اور دریا میں کود پڑا۔ اس کا رخ ہماری طرف تھا، لیکن جونہی اس نے ہمیں دیکھا وہ واپس پلٹا اور جلدی سے کنارے پر چڑھ کر جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ یہ واقعہ اتنی سرعت سے پیش آیا کہ میرا ذہن ایک لمحے کے لیے قطعی ماؤف ہو گیا۔ میری نظروں کے سامنے کوئی پچاس گز کے فاصلے پر اونچی اونچی اور نہایت گھنی جھاڑیوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا تھا اور دریائی گھوڑا ان میں سے آسانی کے ساتھ یوں گزر گیا، جیسے یہ جھاڑیاں نہ تھیں بلکہ خس و خاشاک کی معمولی سی دیوار تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہم بھی دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ ہمارے کپڑے بھیگ چکے تھے اور لمحہ لمحہ بڑھتی ہوئی خنکی میں ان بھیگے ہوئے کپڑوں کا پہنے رہنا جان بوجھ کر بیماری مول لینے کے مترادف تھا۔ اُدھر دریائی گھوڑے کا بھی ڈر تھا کہ نہ معلوم وہ کس وقت اِدھر آ جائے اور وار کرے۔ میں نے رائفل ایک طرف رکھی اور جلدی جلدی سوکھی شاخیں اور گھاس پھونس جمع کر کے آگ سلگائی۔ کپڑے اتار کر خشک کیے۔ اسی اثنا میں دو تین مرتبہ دریائی گھوڑے کی نقل و حرکت کا ہمیں علم ہوا۔ وہ کہیں قریب ہی اپنا پیٹ بھر رہا تھا۔ جھاڑیوں میں اس کے گھسیٹنے اور شاخیں ٹوٹنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ دفعتاً شیر کی ہولناک دھاڑ سے جنگل لرز گیا اور میں نے جھپٹ کر رائفل اٹھا لی۔ مہینا چلّایا، "صاحب! شیر نے ہماری بُو پا لی ہے۔ جلدی سے درخت پر چڑھ جائیے۔"
    ہم دونوں ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے ایک درخت پر چڑھ گئے۔ پچھلے پہر کے زرد چاند کی مدھم روشنی میں اردگرد کا منظر نہایت سوگوار اور خاموش دکھائی دیتا تھا۔ شیر کی آواز کا اثر دریائی گھوڑے پر فوری ہوا کیوں کہ چند منٹ تک شاخیں ٹوٹنے کی آواز رکی پھر ایک دم زمین میں تھرتھراہٹ سی نمودار ہوئی اور خشک پتّے چچرائے اور پھر جھاڑیوں کو چیرتا ہوا ایک مست ہاتھی کی مانند دریائی گھوڑا ہمارے عین سامنے نمودار ہوا۔ اس کی کھال کا سیاہ رنگ شیشے کی مانند چمک رہا تھا۔ جھاڑیوں کے اس پار آ کر وہ رکا اور اپنی موٹی بھدّی گردن اور آدھا جسم موڑ کر پیچھے دیکھنے لگا۔
    میں نے درخت کے تنے کا سہارا لے کر رائفل سے اس کی پیشانی کا نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی۔ فائر کی آواز جنگل میں گونجی اور درختوں پر بسیرا کرتے ہوئے پرندے اچانک ہزاروں کی تعداد میں اپنے اپنے گھونسلوں سے نکل کر فضا میں پرواز کرنے لگے۔ گولی دریائی گھوڑے کے بائیں کندھے میں پیوست ہو گئی، لیکن اس نے کچھ زیادہ اثر نہ لیا بلکہ مشتعل ہو کر اِدھر اُدھر دوڑنے لگا۔ پھر بھد بھد کرتا ہوا وہ دریا کی طرف بھاگا۔ میں نے دو فائر اور کیے۔ دریائی گھوڑا پھر پلٹا اور دوڑتا ہوا اس درخت کی طرف جس پر ہم دونوں چھُپے بیٹھے تھے، پوری قوّت سے آیا اور غالباً قریب سے نکلنا چاہتا تھا، مگر سنبھل نہ سکا اور درخت سے ٹکرایا اور گر پڑا۔ اب وہ درخت کے عین نیچے پڑا لوٹ پوٹ کر اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا اس کا جسم اور گردن کے اوپر کا حصّہ خون میں لت پت ہے۔ اس کا منہ پوری طرح کھلا ہوا تھا اور حلق میں سے نہایت ڈراؤنی چیخیں نکل رہی تھیں۔ اتنے میں بائیں جانب سے شیر کے دھاڑنے کی پھر آواز آئی اور خون میری رگوں میں جمنے لگا اور پھر اگلے ہی لمحے دو گینڈے اچھلتے کُودتے اور جھاڑیاں پھلانگتے وہاں آ نکلے۔ وہ دونوں خوفزدہ نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ شیر ان کے تعاقب میں یہاں تک آ گیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے گینڈے وہاں رُکے۔ پھر اسی طرح اچھلتے اور دوڑتے دریا کی طرف چلے گئے۔
    دریائی گھوڑا لوٹ پوٹ ہو کر ایک بار پھر سے اپنے پیروں کے بل کھڑا ہو گیا تھا۔ اب وہ زور زور سے ہانپ رہا تھا اور اس کے ہانپنے کی آواز اتنی اونچی تھی کہ شیر جو پہلے ہی شکار کی تلاش میں پھر رہا تھا فوراً اِدھر آیا اور میں نے پہلی نگاہ میں پہچان لیا کہ وہ شیر نہیں شیرنی ہے۔ اس کا پورا جسم جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا اور صرف چہرہ باہر تھا۔ اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں سے وہ دریائی گھوڑے کو چند لمحوں کے لیے دیکھتی رہی۔ پھر نہایت آہستہ دبے پاؤں آگے بڑھی، بالکل اسی انداز میں جیسے بلّی چوہے کو دیکھ کر چُپکے چُپکے آگے بڑھتی ہے۔ شیرنی کی لمبائی دُم سمیت دس فٹ سے کسی طرح بھی کم نہ تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے ساؤ کے علاقے میں ایسی قدوقامت اور جسامت والی شیرنی دیکھی۔ اس وقت مجھے دریائی گھوڑے پر بڑا ترس آیا۔ شیرنی کی موجودگی کا اُسے احساس ہو چکا تھا، لیکن کوئی غیر مرئی قوّت تھی جو اسے وہاں جکڑی ہوئی تھی۔ پھر میں نے دیکھا کہ شیرنی آگے بڑھی اور دریائی گھوڑے کا جسم کانپنے لگا اور جب وہ اس سے صرف پندرہ گز کے فاصلے پر رہ گئی تو دریائی گھوڑے نے یکایک زور سے جھرجھری لی اور رُخ بدل کر بےتحاشا جنگل کے اندرونی حصّے کی طرف بھاگا، مگر شیرنی بھلا کہاں جانے دیتی۔ اس نے پوری قوّت سے دو تین چھلانگیں لگائیں اور دریائی گھوڑے پر حملہ آور ہوئی۔ شیرنی نے اپنے دونوں پنجے اس کی پشت پر گاڑ دیے اور لمبے لمبے دانتوں سے اس کی گردن نوچنے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ شیرنی کے حلق سے گرجنے اور غرّانے کی آوازوں نے دریائی گھوڑے کو بالکل بدحواس کر دیا۔ زخمی وہ پہلے سے تھا۔ اب رہی سہی کسر شیرنی کے حملوں نے پوری کر دی۔ وہ دھڑام سے زمین پر گرا اور پھر اٹھ نہ سکا۔ شیرنی نے نہایت اطمینان سے اس کی گردن سے منہ لگا کر خون پیا۔ دو تین مرتبہ فاتحانہ انداز میں گرجی اور چھلانگیں لگاتی ہوئی چشم زدن میں نظروں کے سامنے سے اوجھل ہو گئی۔
    دسمبر ١٨٩٨ء میں ریلوے لائن کلندنی کے مقام تک پہنچ چکی تھی۔ کام زور و شور سے جاری تھا۔ ہزارہا مزدور اور کاریگر لگے ہوئے تھے۔ جنگل میں منگل بنا ہوا تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہ کام جلد ہی مکمل ہو جائے گا، لیکن چند ہی دنوں میں حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ صورتحال بالکل بدل گئی۔ مجھے یہاں آئے ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ دو قُلیوں کے گُم ہونے کی اطلاع ملی۔ میں نے اس خبر کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ میرے خیال میں انہیں کسی نے پیسوں کے لالچ میں قتل کر دیا تھا، لیکن لوگوں کا خیال یہ تھا کہ انہیں کسی درندے نے اپنا لقمہ بنایا ہے۔ مجھے ان کی رائے سے اتفاق نہیں تھا اور چند ہی دنوں کے بعد لوگ اس واقعے کو بھول گئے۔
    اس حادثے کے تقریباً تین ہفتے بعد ایک روز جب میں منہ اندھیرے اٹھا تو مجھے بتایا گیا کہ انگن سنگھ جمعدار کو آدھی رات کے وقت خیمے کے اندر سے ایک شیر گھسیٹ کر لے گیا اور اسے ہڑپ کر گیا۔ جمعدار انگن سنگھ میرے آدمیوں میں سب سے زیادہ محنتی، فرض شناس اور لمبا تڑنگا جوان تھا۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا۔ میں فوراً موقعۂ واردات پر پہنچا۔ بلا شبہ یہ کام شیر ہی کا تھا۔ خیمے کے باہر ریت پر شیر کے پنجوں کے نشانات موجود تھے۔
    جس خیمے سے شیر انگن سنگھ کو اٹھا کر لے گیا۔ وہ اس میں اکیلا نہیں تھا۔ بلکہ وہاں چھ سات اور بھی مزدور سو رہے تھے۔ انگن سنگھ کے قریب ہی سونے والے ایک مزدور نے شیر کے آنے اور انگن سنگھ کو اٹھا لے جانے کا دردناک واقعہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس کا بیان تھا، "صاحب! کوئی آدھی رات کا عمل تھا۔ ہم سب خیمے کے اندر پڑے بےخبر سو رہے تھے۔یکایک خیمے سے کچھ فاصلے پر میں نے شیر کی غرّاہٹ اور اس کے قدموں کی چاپ سنی اور اس سے پہلے کہ میں اپنے ساتھیوں کو بیدار کروں یا خیمے کا کھلا ہوا دروازہ بند کروں، ایک بہت بڑے شیر کا سر دروازے میں دکھائی دیا۔ انگن سنگھ دروازے کے بالکل قریب تھا۔ شیر نے آناً فاناً اس کی گردن منہ میں دبائی اور خیمے سے باہر چلا گیا۔ انگن سنگھ کی چیخوں نے سب سوئے ہوئے مزدوروں کو جگا دیا، لیکن کسی کی ہمّت نہ پڑی کہ وہ خونخوار درندے کے جبڑوں سے اسے بچانے کی کوشش کرے۔ چند لمحوں تک ہم سب اپنی اپنی جگہ دم سادھے انگن سنگھ کی چیخیں سنتے رہے۔ آہستہ آہستہ چیخوں کی آواز مدھم پڑتی چلی گئی اور ہم نے سمجھ لیا کہ انگن سنگھ ختم ہو چکا ہے۔"
    جمعدار انگن سنگھ کی اس درد ناک موت کا رنج تمام مزدوروں کو تھا۔ میں نے سب کو دلاسہ دیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، جو ہونا تھا ہو چکا۔ انگن سنگھ کی موت اسی طرح لکھی تھی۔ انہی دنوں اتفاق سے میرا ایک ہم وطن کیپٹن ہیلم ساؤ کی سیاحت پر آیا ہوا تھا۔ اسے بھی میری طرح شیر و شکار کا کا جنون تھا۔ میں نے فوراً آدمی بھیج کر ہیلم کو بلایا اور سارا واقعہ سنا کر کہا کہ اس آدم خور کو اگر جلد ٹھکانے نہیں لگایا تو وہ نہ معلوم کتنے آدمیوں کو ہڑپ کر جائے گا۔کیپٹن ہیلم اس مہم میں میرا ساتھ دینے کو تیار ہو گیا۔ پھر ہم شیر کے پنجوں کے نشانوں کے ساتھ ساتھ جنگل میں اس طرف گئے جدھر وہ انگن سنگھ کی لاش گھسیٹ کر لے گیا تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہمیں خون کے بڑے بڑے دھبّے بھی دکھائی دیے جو اس بات کا بیّن ثبوت تھے کہ شیر نے رُک رُک کر اپنے شکار کا خون پیا ہے۔ آدم خور شیر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ نیا شکار حاصل کر لینے کے بعد گوشت کھانے سے پہلے اس کے جسم کا خون چاٹتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے وہ لاش کی کھال نوچ کر گوشت کو ننگا کر ڈالتا ہے اور پھر اسے اتنا چاٹتا ہے کہ گوشت خشک ہو کر لکڑی کی مانند سخت ہو جاتا ہے۔ کئی فرلانگ تک ان نشانوں کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے ہم ایسے مقام پر پہنچے جہاں انگن سنگھ کی لاش کے بچے کچھے ٹکڑے اور سر پڑا ہوا دکھائی دیا۔ یہاں جا بجا خشک اور جمے ہوئے انسانی خون کے بڑے بڑے دھبّے بکھرے ہوئے تھے۔ آدم خور نے انگن سنگھ کی لاش نہایت بےدردی سے چیڑ پھاڑ کر ایک ایک عضو الگ کر ڈالا تھا۔ پیروں اور بازوؤں کی ہڈیاں اور پسلیوں کا ڈھانچہ ایک طرف پڑا تھا اور کوئی پندرہ گز کے فاصلے پر ہمیں اس کا سر دکھائی دیا۔ کھوپڑی اور پیشانی پر شیر کے دانتوں اور پنجوں کے نشانات اور سوراخ موجود تھے۔ ہیلم نے آہستہ سے کہا، "پیٹرسن! میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ شیر لاش کے جسم سے سر الگ کر کے اتنی دور کیوں لے گیا؟"
    ہم دونوں ایک دوسرے کو تکنے لگے، لیکن جلد ہی معاملہ حل ہو گیا۔
    انگن سنگھ کی لاش کو دو شیروں نے کھایا تھا۔ ان دونوں کے پنجوں کے نشانات وہاں موجود تھے۔ جنہیں ہم نے شناخت کر لیا اور اردگرد کا ماحول دیکھ کر فوراً اندازہ ہو گیا کہ لاش پر قبضہ کرنے کے لیے ان دونوں آدم خوروں کے درمیان خاصی کشمکش ہوئی اور آخر ایک لاش کا سر نوچ کر دور فاصلے پر لے گیا ، لیکن نہ جانے اسے کیوں کھانا پسند نہیں کیا۔ ہم نے جلد جلد انگن سنگھ کی لاش کے بچے کچھے ٹکڑے ایک ڈھیر کی شکل میں جمع کیے اور بعدِ ازاں انہیں پتھروں سے ڈھانپ دیا۔ اس کا سر ہم اپنے ساتھ کیمپ میں لے آئے تاکہ ساؤ کے سرکاری میڈیکل افسر کے سامنے شناخت کے لیے پیش کیا جائے۔
    یہ پہلا موقع تھا کہ ساؤ کے آدم خور شیروں سے میرا تعارف ہوا۔ اسی رات میں نے انگن سنگھ کے خیمے کے قریب ایک مضبوط اور بلند درخت پر شیر کا انتظار کرنے کا پروگرام بنایا اور سرِشام ہی کیل کانٹے سے لیس ہو کر وہاں پہنچ گیا۔ مجھے یقین تھا کہ شیر کسی اور انسانی شکار کی تلاش میں ضرور اِدھر آئے گا۔ میں نے مزدوروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے خیموں کے دروازے اچھی طرح بند کریں تاکہ شیر اندر داخل نہ ہو۔ میرے پاس اشارہ ٣٠٣ اور ١٢ بور کی دو بندوقیں تھیں اور میں معتصم ارادہ کیے بیٹھا تھا کہ خواہ کچھ ہو، میں ان آدم خوروں کو ختم کر کے دم لوں گا۔ رات آہستہ آہستہ اپنا سفر طے کر رہی تھی۔ یکایک شیر کی خوفناک دھاڑ سے جنگل لرز اٹھا۔ یہ آواز اگرچہ ایک ڈیڑھ میل دور سے آئی تھی، لیکن رات کے سنّاٹے میں یوں محسوس ہوا جیسے شیر درخت کے عین نیچے کھڑا ہے۔ اس کے بعد کامل دو گھنٹے تک پھر وہی بھیانک سکوت جنگل پر طاری رہا۔ میں شیر کی آواز دوبارہ سننے کے لیے مضطرب تھا۔ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ وہ ضرور دبے پاؤں اپنے شکار کی تلاش میں پھر رہا ہے اور عنقریب اِدھر آنے والا ہے، لیکن شیر نہ آیا۔
    وہ رات آنکھوں میں کٹ گئی اور جب میں دوسرے قلیوں کے ساتھ اپنے کیمپ میں پہنچا تو ایک تازہ خبر میرا انتظار کر رہی تھی۔ ریل ہیڈ کیمپ میں آدم خور شیروں نے حملہ کیا اور ایک مزدور کو پکڑ کر لے گئے۔ وقت وہی تھا۔ جب میں نے گزشتہ رات شیر کی دھاڑنے کی آواز سنی تھی۔ شیر ایک چوکیدار پر حملہ آور ہوئے، جو بےخبر سویا ہوا تھا۔ ایک رات اور ایک دن تھکن اتارنے کے بعد میں اپنی بندوقیں سنبھال کر ریل ہیڈ کیمپ کی طرف گیا اور اس مقام پر جہاں شیروں نے چوکیدار کو چیرا پھاڑا تھا۔ ایک درخت پر مچان بندھوائی۔ اس سے دس فٹ کے فاصلے پر ایک دوسرے درخت کے نیچے میں نے ایک بکرا بندھوایا۔ روشنی کے لیے میں نے تیل کی لالٹین بھی روشن کر کے ایک شاخ پر لٹکا دی۔
    بکرا پہلے تو کافی دیر تک چُپ چاپ بندھا رہا، لیکن جونہی رات گہری ہوئی وہ خوف سے چلّانے لگا۔ اس کی آواز جنگل کی خاموشی کو چیرتی ہوئی یقیناً دور دور تک پہنچ رہی تھی کیوں کہ میں نے فوراً شیر کے دھاڑنے کی آواز سنی۔ یہ آواز سنتے ہی بکرا فوراً چُپ ہو گیا۔ غالباً شیر کی دہشت سے اس کی آواز بند ہو گئی تھی۔ بکرے کا یوں چُپ ہوجانا مجھ پر نہایت شاق گزر رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ بکرا اور زور سے چلّائے تاکہ شیر اس کی آواز پر ادھر چلے آئیں۔ اسی اثنا میں آسمان پر سیاہ بادلوں کی آمد آمد ہوئی۔ پھر بادل زور سے گرجے، بجلی کڑکی اور ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی۔ میرے پاس اس بلائے ناگہانی سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا۔ سوائے اس کوٹ کے جو میں پہنے ہوئے تھا۔ میں نے کوٹ اتار کر اپنے سر اور بازوؤں کو ڈھانپ لیا۔ ہوا لمحہ با لمحہ تیز ہو رہی تھی اور جب جنگل کے گھنے حصّے میں سے گزرتی تو شائیں شائیں کی خوفناک آوازیں بلند ہوتیں۔ جیسے ہزارہا درندے چلّا رہے ہوں۔
    ہوا اور بارش کا یہ طوفان ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ میں اِتنا بھیگ چکا تھا کہ تھوڑی ہی دیر بعد میرا جسم سردی سے کانپنے لگا۔ خدا خدا کر کے بارش تھمی۔ بکرا ایک مرتبہ پھر حلق پھاڑ پھاڑ کر چلّایا۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ رات بھی ضائع ہوگئی۔ شیر اب اِدھر کا رخ نہ کرے گا۔ آدھی رات کے بعد میں نے کسی آدمی کے چیخنے کی آوازیں سنیں۔ یہ آوازیں میرے عقب سے آ رہی تھیں۔ افسوس کہ ایک بار پھر آدم خور شیروں نے نہ جانے کہاں اپنا شکار مار لیا تھا۔ ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ کارکنوں، قلیوں اور مزدوروں کے مختلف کیمپ اس وقت ساؤ میں کام کر رہے تھے۔ میرے اندازے کے مطابق یہ کیمپ ایک دوسرے سے فاصلے پر آٹھ مربع میل کے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ آدم خور بے دھڑک ہو گئے تھے۔
    ایک ہندو بنیا، جو اس علاقے میں عرصے سے تجارت کا کاروبار کر رہا تھا۔ ایک مرتبہ انہی آدم خوروں کا شکار ہوتے ہوتے معجزانہ طور پر بچا۔ یہ ہندو بنیا نہ جانے کس گاؤں سے خرید و فروخت کے بعد اپنے گھر واپس آ رہا تھا۔ گدھے پر وہ خود بھی سوار تھا اور مٹی کے تیل کے دو خالی کنستر بھی اس نے گدھے کی گردن پر باندھ رکھے تھے۔ رات کا پہلا پہر تھا۔ بنیا گدھے پر بیٹھا غنودگی کے عالم میں جا رہا تھا کہ یکایک عقب کی جھاڑی میں سے شیر غرّایا اور اس سے پیشتر کہ بنیا اپنی مدافعت کی کوشش کرتا۔ شیر نے ایک ہی دو ہتڑ میں گدھے اور بنیے کو زمین پر گرا دیا۔ شیر نے گدھے کی طرف مزید توجّہ نہ کی اور بنیے کو منہ میں دبانے کے لیے لپکا۔ نہ جانے کس طرح شیر کا پنجہ اس رسّی میں پھنس گیا جس سے ٹین کے خالی کنستر بندھے ہوئے تھے۔ شیر نے پنجہ چھُڑانے کے لیے جھٹکا دیا تو دونوں کنستر آپس میں زور سے ٹکرائے۔ ان کے ٹکرانے سے جو آواز پیدا ہوئی۔ شیر اس سے ڈر گیا اور اپنے شکار کو چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ بنیا خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ شیر جب غائب ہوگیا تو وہ جلدی سے اٹھا اور دوڑ کر پاس ہی ایک درخت پر چڑھ گیا اور دہشت کے باعث صبح تک وہیں دُبکا بیٹھا رہا۔
    اسی طرح ایک رات شیر قلیوں کے خیمے میں گھُس آیا۔ خیمہ کافی بڑا تھا۔ جس میں چودہ پندرہ قلی سوئے ہوئے تھے اور اس خیمے میں گندم اور چاولوں کی چند بوریاں بھی رکھی تھیں۔ شیر نے پہلے تو ایک قلی کے کندھے پر زور سے پنجہ مارا کہ اس بدنصیب کا کندھا جسم سے الگ ہو گیا، اس کے منہ سے چیخ نکلی تو دوسرے قلی ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھے۔ شیر بدحواس ہو گیا اور جلدی میں اپنے شکار کو چھوڑ کر چاولوں کی ایک بوری منہ میں پکڑی اور گھسیٹ کر خیمے سے باہر لے گیا۔ کافی دور جانے کے بعد جب شیر نے بوری کو چیرا پھاڑا تو اس میں سے چاول نکل کر بکھر گئے۔ شیر کو اپنی حماقت کا احساس ہوا اور وہ بوری وہیں چھوڑ کر کسی اور طرف چلا گیا۔دوسرے روز صبح چاولوں کی بوری خیمے سے ایک میل کے فاصلے پر پر پائی گی۔ یہ واقعات شروع شروع کے ہیں۔ بعد میں ان شیروں کو اپنا شکار حاصل کرنے میں بڑی مہارت ہو گئی تھی اور وہ حد سے زیادہ چالاک اور نڈر ہو گئے تھے۔
    ان نازک حالات میں جب کہ ہر شخص کو اپنی جان بچانے کی فکر پڑی ہوئی تھی، میرا خیمہ ایک کھلی جگہ پر لگا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد حفاظتی تار بھی تھا۔ ایک رات میڈیکل آفیسر ڈاکٹر روز میرے کمرے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ رات گئے تک ہم انہی آدم خوروں کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ کوئی دو بجے کا عمل تھا کہ خیمے کے باہر ہم نے ہلکی سی آہٹ سنی اور ایسا معلوم ہوا کہ کوئی جانور یا آدمی خیموں کے رسّوں سے الجھ کر گرا ہے۔ ہم نے فوراً لالٹین اٹھائی اور باہر نکلے۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ ہمیں خیال ہوا کہ شاید یہ ہمارا وہم تھا، لیکن صبح جب میں نے خیمے کے اردگرد شیر کے پنجوں کے نشانات دیکھے تو میرے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میں اور ڈاکٹر روز موت کے منہ سے بال بال بچے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیر اگر رات کو خیمے کے اندر گھُس آتا تو ہمارے پاس بچاؤ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ میں نے فوراً وہاں سے اپنا خیمہ اخڑوایا اور ڈاکٹر بروک کے خیمے کے قریب نصب کروا دیا۔ ڈاکٹر بروک ساؤ کے ضلع میں نیا میڈیکل آفیسر تعینات ہو کر آیا تھا۔
    ہم نے اپنے خیموں کے اردگرد خاردار جھاڑیوں کی شاخیں اور گھاس پھُونس رکھوا دیا تھا تاکہ شیر آسانی سے اندر داخل نہ ہو سکے۔ ہمارے یہ جھونپڑی نما خیمے دریائے ساؤ کے مشرق میں اس مقام پر واقع تھے، جہاں سے ایک بہت قدیم سڑک یوگینڈا کی طرف چلی جاتی ہے۔ ہم نے یہ انتظام بھی کیا کہ آگ کے الاؤ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ساری رات جلتے رہیں۔ ملازموں کی ایک جماعت ہر وقت ان خیموں میں موجود رہتی تھی، لیکن آدم خور شیروں کی اس قدر دہشت اور خوف ہمارے ذہنوں پر چھایا ہوا تھا کہ رات کہیں ذرا بھی کھٹکا ہوتا تو ہم رائفلوں کی طرف لپکتے اور جنگل میں سے گزرنے والا ہر جانور ہمیں شیر دکھائی دیتا۔ اگرچہ ہم نے مزدوروں اور قلیوں کے کیمپوں کے اردگرد بھی خاردار باڑیں لگوا دی تھیں، لیکن شیر کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے تھے۔ وہ رات کے سنّاٹے میں دبے پاؤں آتے اور جس جگہ سے باڑ ذرا نیچے دکھائی دیتی، وہیں سے چھلانگ لگا کر کیمپ میں گھُس آتے اور سینکڑوں مزدوروں کی موجودگی میں ایک نہ ایک آدمی کو منہ میں دبا کر بھاگ جاتے۔
    آدم خوروں کی ان ہلاکت خیز سرگرمیوں سے کیمپ کے ہزارہا مزدوروں اور قلیوں میں انتہائی بےچینی اور خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور وہ کام چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ان کیمپوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید انتظامات کیے گئے ہیں، لیکن نئے انتظامات کے باوجود آدم خوروں کو کیمپ میں گھُسنے سے باز نہ رکھا جا سکا اور ہر رات ایک دو آدمی کیمپ سے غائب ہوتے رہے۔ کیمپ کے مزدوروں اور قلیوں کے لیے ایک سفری ہسپتال کا انتظام بھی کیا گیا۔ یہ ہسپتال ایک بڑے سے خیمے میں تھا اور ہمیشہ کیمپ سے تین چار فرلانگ پیچھے رکھا جاتا تھا۔ تاکہ بیماروں کے کانوں میں کسی قسم کا شور و غل نہ پہنچے پائے۔ ہسپتال کے اِردگِرد خاردار جھاڑیوں، درختوں کی شاخوں اور لوہے کے تاروں کی ناقابلِ عبور دیوار کھڑی کی گئی تھی اور ہمیں پورا اطمینان تھا کہ شیر اس کے اندر کبھی نہ جا سکیں گے، لیکن ایک رات ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا ، جس نے میرے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا۔
     
  13. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    رات کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ ہسپتال میں مریض اپنے اپنے بستروں میں آرام سے سو رہے تھے۔ اسسٹنٹ ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھا۔ وہ اپنے خیمے میں لیمپ جلائے کوئی کتاب پڑھ رہا تھا کہ یکایک کچھ فاصلے پر اس نے آہٹ سی سنی۔ فوراً وہ چوکنا ہو گیا۔ اس نے کان لگا کر آہٹ دوبارہ سننے کی کوشش کی، مگر پھر کوئی آواز نہ پا کر اطمینان سے کتاب کے مطالعے میں مصروف ہو گیا۔ اسی اثنا میں ہسپتال کے دوسرے خیمے سے کسی مریض کے کراہنے کی آواز آئی۔ڈاکٹر نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور مریض کو دیکھنے کے ارادے سے اٹھا۔ دروازہ کھول کر جونہی وہ باہر نکلنا چاہتا تھا کہ اس کی نگاہ دس گز دور کھڑے ایک شیر پر پڑی۔ شیر کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں اور وہ چپ چاپ کھڑا ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔ ایک ثانیے تک انسان اور آدم خور ایک دوسرے کو تکتے رہے اور اس سے پہلے کہ ڈاکٹر دروازہ بند کر سکے۔ شیر نے جست لگائی اور ڈاکٹر کی طرف لپکا۔ ڈاکٹر گھبرا کر پیچھے ہٹا اور میز سے ٹکرا گیا۔ میز کے اوپر دواؤں سے بھرا ہوا بکس رکھا ہوا تھا۔ میز الٹ گئی اور بکس میں رکھی ہوئی شیشے کی بوتلیں اور شیشیاں ایک پُرشور آواز کے ساتھ فرش پر گر پڑیں۔ اس آواز نے شیر کو بد حواس کر دیا۔ اس نے گھبرا کر دوسری طرف چھلانگ لگائی اور ملحقہ خیمے کے اندر چلا گیا۔ یہاں آٹھ مریض تھے۔ شیر ان کے اوپر جا گرا۔ اس کے پنجوں سے دو مریض شدید زخمی ہوئے۔ تیسرے مریض کو شیر نے منہ میں دبایا اور باڑ کی طرف چھلانگ لگا دی اور خاردار جھاڑیوں کو چیرتا ہوا اپنا شکار لے کر صاف نکل گیا۔
    دوسرے روز مجھے اس حادثے کی اطلاع ملی اور میں نے فوراً ہسپتال کو اس مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ رات ہونے سے پہلے پہلے تمام مریضوں کو نئے ہسپتال میں بھیج دیا گیا۔ میں نے مصلحتاً پرانے خیمے وہیں رہنے دیے، کیوں کہ مجھے امید تھی کہ رات کو کسی وقت شیر پھر اِدھر کا رخ کرے گا اور میں اسے رائفل کا نشانہ بنا لوں گا۔ چناچہ رات کو ڈاکٹر کے خیمے میں تیار ہو کر بیٹھ گیا۔ آدھی رات کے بعد دفعتاً میں نے شیر کے دھاڑنے اور بہت سے مزدوروں کے چیخنے اور کنستر پیٹنے کی آوازیں سنیں۔ یہ آوازیں اس طرف سے آ رہی تھیں۔ جدھر ہسپتال نئی جگہ پر منتقل کیا گیا تھا۔
    صبح پتہ چلا کہ ہسپتال کے بہشتی کو شیر اٹھا کر لے گیا ہے۔ حالانکہ اس وقت آگ کا الاؤ روشن تھا اور کئی مزدور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ شیر نے چُپکے چُپکے خیمے کے چاروں طرف باڑ کا معائنہ کیا۔ ایک جگہ باڑ کچھ نیچی اور کمزور تھی۔ اس نے وہیں سے چھلانگ لگائی اور خیمے کے اندر آن کودا۔ باڑ کے قریب ہی ہسپتال کا بہشتی خرّاٹے لے رہا تھا۔ شیر جونہی خیمے میں داخل ہوا اس کی نظر بہشتی پر پڑی۔ شیر نے بہشتی کو منہ میں دبایا اور باہر جانے کا ارادہ کیا، لیکن دوسرے مزدوروں نے شور مچایا۔ شیر گھبرا کر مڑا۔ اسی اثنا میں بہشتی نے ہاتھ پیر مار کر شیر کے منہ سے اپنے آپ کو آزاد کرا لیا اور قریب ہی رکھے ہوئے لکڑی کے ایک بھاری صندوق کو پکڑ لیا تاکہ شیر اسے دوبارہ گھسیٹ نہ سکے، لیکن شیر نے فوراً اس کی ٹانگ منہ میں دبا لی اور زور سے جھٹکا دیا۔ بہشتی نے اب خیمے کا ایک رسّا پکڑ لیا۔ لیکن درندے کی بےپناہ قوّت کے سامنے یہ رسّا کیا وقعت رکھتا تھا۔ رسّا ایک ہی جھٹکے سے ٹوٹ گیا۔ بہشتی کے حلق سے چیخیں نکل رہی تھیں۔ ادھر شیر بھی غصّے میں گرج رہا تھا۔ دوسرے قلی اور مزدور دروازہ کھول کر فوراً باہر بھاگ گئے۔ شیر نے اس کے بعد اطمینان سے زخمی بہشتی کو منہ میں پکڑا اور چھلانگیں لگاتا ہوا جنگل میں غائب ہو گیا۔ شیر کی اس دلیری سے جو خوف و ہراس مزدوروں میں پھیلا اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ بعدِ ازاں میں نے بہشتی کے گوشت کے ریشے، نُچی ہوئی کھال کے ٹکڑے، بال اور کپڑوں کی دھجیاں خاردار باڑ میں اٹکی ہوئی پائیں۔ آدم خور بدنصیب بہشتی کو باڑ کے اندر سے گھسیٹ کر لے گیا تھا۔
    خیمے سے چار سو گز کے فاصلے پر جھاڑیوں کے پیچھے میں نے اور ڈاکٹر بروک نے بہشتی کی کھائی ہوئی لاش کے بچے کچھ اجزا دیکھے، کھوپڑی جبڑوں، ٹخنوں اور کولہے کی ہڈیاں اور دائیں ہتھیلی کا ایک حصّہ بھی جس میں دو انگلیاں باقی رہ گی تھیں۔ ان انگلیوں میں سے ایک میں چاندی کی انگوٹھی اٹکی ہوئی تھی اور اسی انگوٹھی سے ہم نے بہشتی کو شناخت کیا۔ دوبارہ ہسپتال یہاں سے ہٹا کر دوسری جگہ لے جایا گیا اور سارے مریض وہاں منتقل کر دیے گئے۔ اس کے چاروں طرف اب پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور اونچی باڑ لگائی گئی۔ پرانے ہسپتال کے قریب چند خالی خیمے چھوڑ دیے گئے جن میں سے ایک میں میں نے چند مویشی بندھوائے تاکہ شیر ان کی بُو پر آئے۔ اس کے بعد میں نے ایک خالی ویگن اِدھر منگوائی اور رات اس ویگن میں چھُپ کر شیر کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی روز دوپہر کو معلوم ہوا کہ دونوں شیر نواحی علاقے میں مختلف مقامات پر گھومتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ ساؤ سے چار میل دور انہوں نے ایک قلی کو پکڑنے کی کوشش کی جو ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلا جا رہا تھا، لیکن قلی بہت پھرتیلا نکلا اور اس لئے اس کی جان بچ گئی۔ وہ دوڑ کر ایک درخت پر چڑھ گیا اور بہت دیر تک درخت پر بیٹھا رہا۔ شیروں نے شکار ہاتھ سے جاتا دیکھا تو ان کی جھلّاہٹ کی انتہا نہ رہی۔ وہ دوڑ دوڑ کر آتے اور جست لگا کر قلی کو پکڑنے کی کوشش کرتے، لیکن وہ ان کی پہنچ سے باہر تھا۔ آخر تھک ہار کر شیر وہاں سے چلے گئے۔ شیروں کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی ادھر سے ساؤ کے ٹریفک مینیجر کا گزر ہوا۔ وہ ریل میں بیٹھا جا رہا تھا۔ اس کی نظر درخت پر بیٹھے ہوئے قلی پر پڑی۔ مینیجر نے گاڑی رکوائی اور قلی کو درخت سے اتار کر اپنے ساتھ لے گیا۔ ڈر کے مارے قلی کی گھگھی بندھی ہوئی تھی اور سارا جسم برف کی مانند سرد تھا۔ بہت دیر بعد اس کے حواس درست ہوئے۔
    بعدِ ازاں ان آدم خوروں کو ساؤ اسٹیشن پر لوگوں نے دیکھا۔ وہاں سے یہ بھاگے تو جنگل میں مزدوروں نے انہیں دیکھا۔ ڈاکٹر بروک اس وقت ہسپتال سے واپس آ رہا تھا۔ شیروں میں سے ایک نے ریل کے ساتھ ساتھ اس کا کچھ فاصلے تک تعاقب کیا اور پھر لوٹ گئے۔ پروگرام کے مطابق میں اور ڈاکٹر بروک رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ویگن کی طرف روانہ ہوئے۔ جو ہماری رہائش گاہ سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر تھی۔ اگرچہ رات کے وقت ہمارا یوں نکلنا سراسر حماقت تھی۔ تاہم ویگن تک ہم خیریت سے پہنچ گئے۔ دس بجے رات تک ہم اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ چاروں طرف بھیانک سنّاٹا چھایا ہوا تھا۔ ہم نے ویگن کے دروازے کا نچلا حصّہ بند کر رکھا تھا۔ اوپر کا آدھا حصّہ باہر جھانکنے کے لیے کھُلا چھوڑ دیا تھا۔ دفعتاً ایک آواز گونجی، جیسے کسی درخت کی شاخ ٹوٹی ہو۔ ہم دم بخود، دھڑکتے دلوں کے ساتھ کان لگا کر آہٹ سننے لگے۔ اس کے بعد ہمارے دائیں ہاتھ پر ایسی آواز آئی جیسے کوئی جانور دبے پاؤں چل رہا ہو۔ اس کے بعد یوں معلوم ہوا جیسے کوئی بھاری جسم زور سے زمین پر گرا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے چند خالی خیموں کی بےڈھنگی سی قطاریں کھڑی تھیں۔ جن کے گرد خاردار باڑیں لگی رہنے دی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک خیمے کے اندر بندھے ہوئے مویشیوں میں ہلچل مچی۔ ان کے بولنے اور اِدھر اُدھر بھاگنے کی آوازیں ہمارے کانوں تک صاف پہنچ رہی تھیں۔ اس کے بعد دفعتاً پھر پہلا سا سکوت طاری ہو گیا۔ اس موقعے پر میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ شیر یقیناً اِدھر آ گئے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ میں ویگن سے نیچے اتر کر ایک جانب لیٹ جاؤں تاکہ جونہی شیر نمودار ہو اسے آسانی سے گولی ماری جا سکے، لیکن ڈاکٹر بروک مصر تھا کہ یہیں ٹھہر کر شیر کا انتظار کرنا زیادہ بہتر ہے اور اچھا ہی ہوا کہ میں نے اس کی بات مان لی، ورنہ اس رات میں ختم ہو چکا ہوتا۔ کیوں کہ چند ہی سیکنڈ بعد شیر دھاڑتا ہوا نمودار ہوا اور بجلی کی مانند تڑپ کر ویگن کی طرف آیا۔ بیک وقت ہماری رائفلوں سے شعلے نکلے اور فائروں کی دھماکہ خیز آوازوں سے جنگل تھرّا اٹھا۔ اندھیرے میں ہم بس اتنا دیکھ پائے کہ فائر ہوتے ہی شیر زور سے گرجا اور چھلانگیں لگاتا ہوا غائب ہو گیا۔
    میری سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ ان مہیب درندوں سے کس طرح خلقِ خدا کو نجات دلائی جائے۔ ان آدم خوروں کو مارنے کی ترکیبیں سوچتے سوچتے میرا دماغ ماؤف ہو گیا۔ کئی کئی ماہ راتوں کو مسلسل جاگتے جاگتے میری صحت جواب دے گئی، لیکن میں نے ہمّت نہ ہاری۔ آخر ایک روز ایک نہایت ہی عمدہ ترکیب ذہن میں آئی۔ میں نے ریل کے سلیپر اور آہنی گارڈر جمع کیے اور پھر ایک بڑا سا پنجرہ بنایا کہ شیروں کو زندہ گرفتار کیا جا سکے۔ پنجرے کے دو حصّے تھے سامنے کا حصّہ شیروں کے لیے اور عقبی حصّہ مویشیوں یا آدمیوں کے لیے، تاکہ شیر ان کی بُو پر پنجرے میں داخل ہو اور جونہی اس کا بھاری بھرکم جسم کا بوجھ ایک کمانی دار تختے پر پڑے، اوپر سے لوہے کی سلاخوں کا دروازہ فوراً گرے اور شیر کے باہر نکلنے کی راہ بند ہو جائے۔اس کے بعد میں نے پنجرے سے ذرا فاصلے پر ایک خیمہ نصب کرایا اور اس کے چاروں طرف کانٹوں کی مضبوط باڑ لگوائی اور ہر طرح کیل کانٹے سے لیس ہو کر رات کو اس خیمے میں بیٹھ گیا۔ آپ یقین جانیے کہ میں نے تین راتیں آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ دیں اور شیر نہ آیا۔ میں مصمّم ارادہ کر چکا تھا کہ خواہ ساری زندگی اس خیمے میں بسر کرنی پڑے۔ میں یہاں سے شیر کو مارے بغیر نہ ٹلوں گا۔ چوتھی رات حسب معمول کافی کے کئی گرم گرم پیالے پی کر شیر کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ نہ معلوم کب میری آنکھ لگ گئی اور اس اثنا میں وہ موذی شیر وہاں آ پہنچا۔ میرے اندازے کے مطابق پہلے تو وہ پنجرے کو ایک نئی چیز سمجھ کر اس کا معائنہ کرتا رہا۔ شیر کو قریب پا کر پنجرے کے دوسرے حصّے کے مویشیوں میں ہلچل مچی اور وہ بدحواس ہو کر چلّانے لگے۔ پھر شیر کی نگاہ میرے خیمے پر پڑی اور وہ فوراً باڑ کے اندر گھُس آیا۔ میں شاید اس وقت اطمینان سے خرّاٹے لے رہا تھا، لیکن شیر کی گرج سن کر میری آنکھ کھُل گئی، مگر اب بچنے کا موقع کہاں تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ شیر خیمے کی رسّیوں میں الجھ گیا۔ اس نے طیش میں آ کر دو تین جھٹکے دیے تو پورا خیمہ دھڑام سے ہم دونوں کے اوپر آن پڑا۔ میرے ہوش و حواس تو پہلے ہی گُم ہو چکے تھے۔ رائفل تک اُٹھانا بھول گیا اور اسی گرے ہوئے خیمے میں لپٹ گیا۔ شیر نے جھلّا کر خیمہ نوچنا شروع کر دیا۔ میں اس بھیانک موت کے تصوّر سے لرز رہا تھا کہ ابھی چند سیکنڈ بعد شیر مزے لے لے کر میری ہڈیاں چبا رہا ہوگا۔ اپنے بچاؤ کی کوئی ترکیب ذہن میں نہیں آتی تھی۔ میں خیمے کے اندر لپٹے ہوئے بستر کی مانند چھُپا ہوا تھا۔ شیر نے مجبور ہو کر اس بستر کو منہ میں پکڑا اور باڑ میں سے گھسیٹ کر باہر لے آیا اور اس کی یہی حرکت مجھے دوبارہ زندگی بخش دینے کا باعث بنی، ورنہ کانٹوں کی باڑ ایسے نازک وقت میں عبور کرنا میرے لیے ناممکن سی بات تھی۔
    حسنِ اتفاق سے چھولداری اس کے منہ سے چھُوٹ گئی اور وہ اپنے ہی زور میں دس پندرہ گز کے فاصلے پر جا گرا۔ میں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اُٹھا اور دوڑ کر پنجرے کے اندر چلا گیا۔ کمانی دار تختے پر جونہی میرا بوجھ پڑا، اوپر سے لوہے کی سلاخوں کا دروازہ گرا اور میرے اور شیر کے بیچ حائل ہو گیا۔ آدم خور اب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا، لیکن شکار کو یوں پنجے سے نکلتا دیکھ کر اس کے غیض و غضب کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ اچھل اچھل کر پنجرے کو الٹ دینے کی کوشش کرتا اور پنجرے کے اندر ہاتھ ڈال کر مجھے پکڑنا چاہتا تھا، لیکن میں اب ادھ موؤں کی طرح ایک گوشے میں پڑا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔ صبح کاذب تک اس نے مجھے بار بار پکڑنے کی کوشش کی، آخر تھک ہار کر وہ وہاں سے چلا گیا۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا تھا کہ کاش میرے پاس رائفل ہوتی تو میں اس شیر کو یہیں بھون کر رکھ دیتا۔ اس حادثے کے بعد بھی میں نے کئی راتیں وہاں اس امید پر گزاریں کہ شاید آدم خور پھر اِدھر آئے، لیکن وہ بہت زیادہ چالاک ثابت ہوا اور وہ دوبارہ نہ آیا۔
    آہستہ آہستہ ان آدم خوروں نے اپنی سلطنت کو وسیع کرنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی ریل ہیڈ کیمپ پر حملہ کرتے، جو دس بارہ میل دور تھا اور کبھی ساؤ اسٹیشن اور ساؤ کیمپ پر چڑھ آتے اور دلچسپ بات یہ تھی کہ چاندنی راتوں میں وہ بہت کم انسانی شکار کرتے تھے۔ البتہ اندھیری راتوں میں وہ دو تین انسانوں کو ضرور ہڑپ کر جاتے۔
    ان کے شکار کا طریقہ یہ تھا کہ ہمیشہ دونوں ساتھ ساتھ آتے۔ ایک آدم خور کیمپ کی باڑ کے باہر کھڑا ہو جاتا اور دوسرا جست لگا کر کیمپ میں آن دھمکتا۔ اس کے آتے ہی مزدوروں اور قلیوں میں حشر برپا ہو جاتا۔ سبھی کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے اور ان کے سامنے آدم خور کسی موٹے تازے قلی کو پکڑ لیتا اور باڑ توڑ کر آسانی سے باہر نکل جاتا۔ جہاں اس کا ساتھی منتظر ہوتا۔ پھر وہ زیادہ دور جانے کی زحمت بھی گوارہ نہ کرتے اور وہیں بیٹھ کر شکار کو کھانا شروع کر دیتے۔ پانچ چھے فٹ موٹی خاردار باڑ کو یہ آدم خور یوں توڑ کر نکل جاتے تھے جیسے وہ تاش کے پتّوں سے بنی ہوئی دیوار ہو۔
    آدم خوروں کی خبریں ساؤ سے نکل کر افریقہ کے دوسرے بڑے شہروں اور یورپ تک پہنچ چکی تھیں۔ کئی یورپین شکاری ان آدم خوروں سے دو دو ہاتھ کرنے آئے، لیکن سب کے سب ناکام رہے، بلکہ یوں کہیے کہ شیر کو مارنا تو درکنار اپنی جانیں بڑی مشکل سے بچائیں۔ اب یہ عالم تھا کہ جونہی سورج غروب ہوتا، کیمپوں میں ہو کا عالم طاری ہو جاتا۔ مزدور اور قلی اپنے خیموں کے بجائے درختوں پر چارپائیاں باندھ کر سونے لگے اور جب درختوں میں جگہ نہ رہی تو انہوں نے زمین میں گہرے گڑھے کھودے، ان کے اندر چارپائیاں ڈالیں اور بعدِ ازاں لکڑی کے موٹے موٹے اور بھاری تختوں سے ان گڑھوں کو ڈھانپ دیا۔ یہ گڑھے ان کے لیے بہت محفوظ ثابت ہوئے، کیونکہ شیر ان کے اندر داخل ہونے پر قادر نہ تھے۔ تاہم یہ موذی روزانہ کہیں نہ کہیں سے اپنی خوراک حاصل کر لیتے تھے۔ سرِ شام ہی جنگل ان کی گھن گرج سے ہلنے لگتا۔ گویا یہ اس بات کا اعلان ہوتا کہ شیر آدمی کے خون اور گوشت کی تلاش میں نکلنے والا ہے۔ ان آوازوں کو سن کر ہر شخص کا کلیجہ بیٹھنے لگتا اور موت کے سائے اُسے اپنے چاروں طرف پھلتے ہوئے محسوس ہوتے۔ رات بھر کیمپوں میں پہرےدار نعرے لگاتے رہتے۔
    "بھائیو! خبردار رہو۔۔۔۔۔ شیطان آتا ہے۔۔۔۔۔ بھائیو! خبردار رہو۔۔۔۔۔"
    لیکن یہ نعرے بازی شیروں کے لئے قطعاً بےکار تھی۔ وہ سنسناتی ہوئی گولیوں، آگ کے الاؤ، خاردار باڑوں اور سینکڑوں آدمیوں کی موجودگی سے بھی خوف نہ کھاتے۔ کیمپوں میں آن کُودتے اور ایک دو "بھائیوں" کو منہ میں دبا کر بھاگ جاتے۔ ایک رات جب کہ میں اپنے کیمپ میں موجود تھا، ان آدم خوروں نے ریلوے اسٹیشن کے کسی آدمی کو پکڑا اور میرے خیمے کے قریب ہی اُسے کھانے لگے۔ ہڈیاں چبانے اور گوشت بھنبھوڑنے کی آوازیں میرے کانوں تک پہنچ رہی تھیں، لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ باہر اتنا اندھیرا تھا کہ دس گز کے فاصلے کی چیز بھی نظر نہ آتی تھی اور اس عالم میں شیروں کو للکارنا خود موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ میرے علاوہ چند دوسرے لوگوں نے بھی یہ آوازیں سنیں اور انہوں نے مجھ سے میرے ہی خیمے میں آ جانے کی اجازت مانگی۔ وہ سب کے سب میرے خیمے میں آ گئے۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ اپنے پیچھے ایک بیمار قلی کو تنہا چھوڑ آئے ہیں۔ میں نے اس فعل پر انہیں لعنت ملامت کی اور خود چند آدمیوں کو ساتھ لے کر وہاں گیا تاکہ اسے بھی لے آوں، لیکن افسوس میں نے وہاں اس کی لاش پائی، اس کے دل کی حرکت شیروں کے خوف اور تنہائی سے بند ہوگئی تھی۔
    مزدوروں کے تیور تو ان شیروں کی ابتدائی سرگرمیوں کے باعث پہلے ہی بگڑے ہوئے تھے، لیکن جب یہ معاملہ حد سے گزر گیا اور ساٹھ ستّر آدمی اسی طرح ہلاک ہو گئے تو ان کا ایک وفد میرے پاس آیا اور کہا، "ہم ہزاروں میل کا سفر کر کے یہاں آئے ہیں۔ ہمیں شیروں کا لقمہ بننا منظور نہیں۔ اس لیے اب ہم یہاں نہیں ٹھہر سکتے۔ ہمیں اس روپے کا کیا فائدہ جو جان ضائع کرنے پر حاصل ہو۔"
    میں نے ان لوگوں کو دلاسہ دینے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ لوگ کسی طرح نہ مانے اور سو سو اور دو دو سو کے قافلوں کی صورت میں ساؤ سے بذریعہ ریل ممباسہ جانے لگے۔ ایک مرتبہ جب ریلوے نے انہیں لے جانے سے انکار کر دیا تو وہ سب پٹری پر لیٹ گئے اور ریل روک کر زبردستی اس میں چڑھ گئے۔ ان حالات میں بھلا ریلوے لائن اور پلوں کی تعمیر کا کام کیسے جاری رہ سکتا تھا۔ تین مہینے تک کام بالکل رکا رہا۔ اس اثنا میں میں نے منّت سماجت کر کے بقیہ مزدوروں کو اس شرط پر روک لیا کہ ان کے لیے ٹن کی چادروں سے چھوٹے چھوٹے کوارٹر بنا دیے جائیں گے۔ تاکہ شیر ان میں داخل نہ ہو سکیں۔ ٹن کے یہ چھوٹے چھوٹے ٹب نما کوارٹر پانی کی بلند ٹنکیوں پر بنائے گئے تھے اور ہر کوارٹر میں چار مزدور سوتے تھے۔ اس کے علاوہ اونچے اور مضبوط درختوں پر بھی مزدور اپنی چارپائیاں باندھ کر سوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک درخت پر بہت ساری چارپائیاں باندھی گئی تھیں اور رات جب آدم خور ان درختوں کے اردگرد پھر رہے تھے کہ زور سے ہوا چلی اور کئی چارپائیاں شاخوں سمیت ٹوٹ کر نیچے گر پڑیں۔ اس وقت جو ہنگامہ ہوا اور مزدور جس طرح حلق پھاڑ پھاڑ کر چلّائے، وہ آوازیں آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ بھوکے شیروں نے فوراً دو قلیوں کو پکڑ لیا اور کیمپ سے باہر بھاگے۔ اس کے بعد جمعدار نے بندوق سے ان کی طرف کئی فائر کیے، لیکن آدم خور اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلے جب تک انہوں نے قلیوں کے خون اور گوشت سے اپنا پیٹ نہ بھر لیا۔
    مزدوروں کے کام کاج چھوڑنے سے ایک ہفتہ پہلے میں نے ڈسٹرک آفیسر مسٹر وائٹ ہیڈ کو خط لکھا تھا کہ اگر ممکن ہو تو وہ آئیں اور ان موذی شیروں کو مارنے میں میری مدد کریں اور اگر وہ اپنے ساتھ مقامی پولیس کے چند جوان بھی لا سکیں تو بہت ہی اچھی بات ہوگی۔ مسٹر وائٹ کا جواب توقع کے خلاف جلد موصول ہوا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ وہ دوسری تاریخ کو شام کے چھے بجے ساؤ کے اسٹیشن پر پہنچ رہے ہیں۔
    میں نے مسٹر وائٹ کی آمد کے روز شام کے وقت اپنے ایک ملازم لڑکے کو اسٹیشن کی طرف روانہ کیا تاکہ مسٹر وائٹ کے ساتھ جو سامان زائد ہو، وہ لڑکا اٹھا لائے۔ کوئی پون گھنٹے بعد یہ حبشی لڑکا حواس باختہ اور پسینے میں تر بھاگتا ہوا میرے پاس آیا۔ اس کا جسم سر سے پاؤں تک کانپ رہا تھا۔ لڑکا کہنے لگا، "صاحب! اسٹیشن تو سنسان پڑا ہے۔ نہ وہاں کوئی گاڑی ہے اور نہ کوئی آدمی۔ ایک بہت بڑا شیر اسٹیشن کے اندر گھوم رہا ہے۔"
    لڑکے کی کہانی پر مجھے یقین نہ آیاکہ اس بےوقوف نے راستے میں کوئی اور جانور دیکھ لیا اور ڈر کر واپس بھاگ آیا۔ چلو خیر مسٹر وائٹ خود ہی آ جائیں گے۔ وہ مانے ہوئے شکاری اور دلیر آدمی ہیں۔ میں نے اطمینان سے کھانا کھایا۔ جب میں کھانا کھا رہا تھا، اس وقت سٹیشن کی جانب سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی اس لیے کہ شیروں کو ڈرانے کے لیے اسٹیشن کے لوگ گولیاں چلایا ہی کرتے تھے۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے اپنی رائفل سنبھالی اور ایک بلند مچان پر جا بیٹھا۔
    سورج غروب ہونے میں اگرچہ دس منٹ باقی تھے، لیکن جنگل کے اندر شام کا اندھرا تیزی سے پھیل رہا تھا اور ہر شے ڈراؤنی معلوم دے رہی تھی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ جنگل کی بھیانک خاموشی تھی۔ یکایک تھوڑے فاصلے پر اونچی اونچی گھاس کے پیچھے میں نے ہڈیاں چبانے کی آواز سنائیں۔ میرے کان ان آوازوں سے خوب مانوس تھے۔ میں سمجھ گیا کہ شیر اپنا شکار کھا رہا ہے، لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ شیر نے یہ شکار اتنے چُپکے سے کس طرح حاصل کر لیا، کیوں کہ اس مرتبہ نہ تو شیر کے گرجنے اور دھاڑنے کی آواز سنی گئی تھی اور نہ آدمیوں کے چیخنے چلّانے کا کوئی ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ شیر نے کسی مقامی باشندے کو جنگل میں سے پکڑ لیا ہو۔ چند منٹ میں کان لگائے ہڈیاں چبانے، گوشت بھنبھوڑنے اور چر چر کی آوازیں سنتا رہا۔ پھر میں نے اس آواز پر ہی اپنی رائفل کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔ اس کے جواب میں شیر کی ایک زبردست گرج سنائی دی۔ پھر وہ اسی طرح دھاڑتا ہوا بہت دور چلا گیا۔ میں وہیں مچان پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے کب خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹنے لگا۔
    میری آنکھ منہ اندھیرے کھلی اور فوراً مجھے اس شیر کا خیال آیا جو رات نہ معلوم کہاں سے شکار لایا اور جس پر میں نے اندازے سے گولی چلائی تھی۔ مچان سے اتر کر میں اپنے تجسّس کی تسکین کے لیے اس مقام پر گیا جہاں شیر ہڈیاں چبا رہا تھا۔ ابھی میں بمشکل ایک فرلانگ دور ہی گیا تھا کہ درختوں کے درمیان میں سے ایک پریشان صورت اور نہایت خستہ حال، جیسے برسوں کا مریض ہو، ایک یورپین آدمی کو دیکھا جو آہستہ آہستہ میری طرف چلا آ رہا تھا۔ جب وہ قریب آیا تو یہ دیکھ کر پیروں تلے زمین نکل گئی کہ وہ تو مسٹر وائٹ ہیں۔ انہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا اور ہم دونوں رک کر ایک دوسرے کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے۔ آخرکار میں نے اس طلسمِ حیرت کو توڑا، "خدا کی پناہ! مسٹر وہائٹ! آپ کہاں سے آ رہے ہیں اور رات کہاں غائب رہے؟"
    "کرنل صاحب! آپ نے میرے استقبال کا انتظام خوب کیا۔ وہ تو یوں کہیے کہ زندگی کے چند روز باقی تھے۔ ورنہ اس ظالم نے کسر نہ چھوڑی۔" مسٹر وائٹ نے مُسکرا کر کہا۔
    "مسٹر وائٹ! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟" میں نے تعجّب سے کہا۔
    مجھے اب ان کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا تھا۔
    "ارے صاحب! کہنا کیا ہے۔ آپ کے آدم خور دوست نے ہم سے کہا کہ آج رات یہیں رک جاؤ۔ صبح تک اگر ہم نے تمہیں نہیں کھایا تو پھر تم کرنل کے پاس چلے جانا۔"
    یہ کہہ کر مسٹر وائٹ مڑے اور اپنی پشت میری نظروں کے سامنے کردی۔
    "لیجیے میری بات کی صداقت پر اب آپ کو کوئی شک نہ گزرے گا۔"
    دہشت سے میرا رُواں رُواں کھڑا ہو گیا۔ مسٹر وائٹ کی پشت گردن سے لے کر آخری حصّے تک لہو لہان تھی۔ شیر کے پنجوں کے چار گہرے نشانات تھے، جن میں سے خون رِس رِس کر جم گیا تھا۔ میں مسٹر وائٹ کو وہاں سے اپنے خیمے میں لے گیا۔ گرم پانی سے ان کے زخم صاف کیے اور دوائیں لگا کر پٹّی باندھی، کپڑے مہیّا کیے اور کھانا کھلا کر انہیں سُلا دیا، کیوں کہ بےچارے ایک تو زخمی اور دوسرے رات بھر کے جاگے ہوئے تھے۔ فوراً ہی انہیں نیند آ گئی۔
    تیسرے پہر ان کی آنکھ کھُلی اور انہوں نے اپنی رام کہانی یوں بیان کی:
    "کرنل صاحب! قصّہ یوں ہوا کہ ہماری گاڑی اتفاق سے ساؤ اسٹیشن پر بہت تاخیر سے پہنچی۔ پروگرام کے مطابق مجھے شام کے چھے بجے آپ کے پاس پہنچ جانا چاہیے تھا، لیکن گاڑی رات کے نو، سوا نو بجے پہنچی۔ میرے ساتھ میرا حبشی ملازم عبداللہ بھی تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں لالٹین اور دوسرے ہاتھ میں رائفل تھی۔ اسٹیشن سے نکل کر ہم پیدل ہی چل پڑے۔ ابھی ہم نے بمشکل آدھا راستہ ہی طے کیا ہوگا کہ یکایک ہمارے عقب سے ایک شیر آیا اور مجھ پر حملہ آور ہوا۔ اس نے اپنا پنجہ میری پشت پر مارا، وہ تو یوں کہو میں ذرا آگے جھُک گیا تھا۔ ورنہ وہ موذی تو میری کمر نوچ کر لے جاتا۔ عبداللہ نے فوراً لالٹین رکھ کر رائفل سے شیر پر کئی فائر کیے، لیکن وہ اِدھر اُدھر اچھل کر وار خالی کرتا رہا۔ کوئی گولی اسے نہ لگی۔ البتہ فائروں سے ڈر کر وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ میں نے جھپٹ کر عبداللہ کے ہاتھ سے رائفل چھینی اور شیر پر فائر کرنا ہی چاہتا تھا کہ وہ ظالم بجلی کی مانند آیا اور عبداللہ کو اٹھا کر لے گیا۔ عبداللہ کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی اور اس کے آخری الفاظ یہ تھے۔
    "آقا۔۔۔۔۔ شیر۔۔۔۔۔ شیر۔۔۔۔۔"
    تھوڑے فاصلے پر شیر رکا اور عبداللہ کو چھیر پھاڑ کر وہیں کھانے میں مشغول ہو گیا۔ میں اگرچہ خود زخمی تھا لیکن میں نے اندازاً اس سمت میں کئی فائر کیے، لیکن شیر نے ذرا پروا نہ کی اور مسلسل ہڈیاں چباتا رہا۔ میں مجبوراً ایک درخت پر چڑھ گیا اور ساری رات وہیں بیٹھا رہا اور صبح اتر کر آپ ہی کے پاس آ رہا تھا کہ آپ مجھے مل گئے۔"
    مسٹر وائٹ کی کہانی نہایت دردناک تھی۔ اُنہیں اپنے وفادار حبشی ملازم عبداللہ کے یوں مارے جانے کا بڑا صدمہ تھا۔ اس کی دو بیویاں اور دو بچے تھے، یہ خبر سن کر ان بدنصیبوں پر کیا قیامت نہ گزرے گی۔
    مسٹر وائٹ کی اس کہانی سے یہ معمّہ بھی حل ہو گیا کہ رات کو میں نے مچان پر بیٹھے بیٹھے جو آواز سنی تھی، وہی آواز تھی جب شیر عبداللہ کو ہڑپ کر رہا تھا۔ چند روز میں مسٹر وائٹ کے زخم بھر آئے اور جلد اُن کی کھوئی ہوئی قوّت بحال ہو گئی۔ انہی دنوں ممباسہ سے سپرڈینٹ مسٹر لی کوہر بھی اپنے سپاہیوں کا ایک دستہ لے کر ان آدم خوروں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے ساؤ پہنچ گئے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے جوش و خروش سے کام شروع کر دیا۔ جگہ جگہ سپاہیوں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ میں نے شیر پکڑنے کا جو آہنی پنجرہ بنایا تھا۔ اس کا معائنہ کیا گیا اور طے ہوا کہ شیر ہلاک کرنے کی یہی تدبیر ہے کہ اس کو پنجرے میں پھنسا لیا جائے۔ شام ہوتے ہی ہم سب اپنی اپنی مچانوں پر بیٹھ گئے۔ پنجرے کے عقبی حصّے میں اس مرتبہ مویشیوں کے بجائے دو سپاہیوں کو رائفلوں، کارتوس کے ایک ڈبے اور لالٹین کے ساتھ بند کیا گیا اور مسٹر لی کوہر نے ان سپاہیوں کو سختی سے حکم دیا کہ شیر جونہی پنجرے میں قید ہو جائے وہ اس پر گولیوں کی بارش کر دیں۔
    اب سب لوگ اپنی اپنی مچانوں میں چھُپے ہوئے نہایت بےصبری سے آدم خوروں کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک ایک منٹ صدیوں میں تبدیل ہو گیا تھا۔ شاید وقت ٹھہر گیا تھا۔ مصیبت یہ تھی کہ ہم ایک دوسرےک سے بات چیت بھی نہ کر سکتے تھے کہ شاید شیر خبردار ہو جائے اور اِدھر کا رُخ ہی نہ کرے۔ مسٹر وائٹ کو میں نے اپنے ہی ساتھ بٹھایا تھا۔ رات کے گیارہ بجے ہوں گے کہ دور جنگل میں شیر کے گرجنے اور دھاڑنے کی آواز سنائی دی۔ ہمارے دل دھک دھک کرنے لگے۔ خونخوار درندہ آج شکار جلد نہ ملنے پر کسی قدر مشتعل معلوم ہوتا تھا۔ چند منٹ تک وہ دھاڑتا رہا، پھر خاموش ہو گیا۔ ہم گُپ اندھرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر شیر کا سراغ پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی حیص بیص میں دو گھنٹے اور گزر گئے۔ شیر کی آواز دوبارہ سنائی نہ دی۔ جنگل پر موت کا سکوت طاری تھا۔
    دفعتاً ایک پُرشور آواز کے ساتھ پنجرے کا آہنی دروازہ گرا اور ہم سب اپنی اپنی جگہ اچھل پڑے۔ اس کے ساتھ ہی شیر کے گرجنے اور پنجرے کے ہلنے کی آوازیں سنائی دیں۔ فوراً ہی مچانوں پر لالٹینیں روشن ہوئیں اور ان کی مدھم روشنی میں ہم نے دیکھا کہ آدم خور پنجرے کے اندر پھنس چکا ہے۔ وہ سلاخوں کے اندر غیض و غضب سے اچھل رہا تھا اور اتنی قوّت سے دھاڑ رہا تھا کہ دل دہل جاتا تھا، لیکن تعجّب اس امر پر تھا کہ دوسرے حصّے میں موجود سپاہی کیوں اس پر فائر نہیں کرتے۔ کئی منٹ اسی طرح گزر گئے اور فائر کی کوئی آواز نہ آئی۔ مسٹر لی کوہر حلق پھاڑ پھاڑ کر چلّائے اور سپاہیوں کو فائر کا حکم دیا۔ آفیسر کی آواز سنی تو بےچارے سپاہیوں کی جان میں جان آئی۔ آدم خور کو اپنے اس قدر قریب پا کر ان پر اس قدر دہشت طاری ہو گئی تھی کہ رائفلیں ان کے ہاتھوں میں کانپ رہی تھیں۔ اب جو انہوں نے فائر شروع کے تو بالکل اندھا دھند۔ شیر کو تو کوئی گولی نہ لگی، البتہ ہمارے دائیں بائیں گولیاں شائیں شائیں کرتی ہوئی نکلتیں اور درختوں کی شاخوں میں پیوست ہو جاتیں۔ شیر نے اس دوران پنجرے کو ہلا ڈالا، پھر پوری قوّت لگا کر اس نے لوہے کی سلاخیں لچکا ڈالیں اور ان کے درمیان میں سے صاف نکل گیا اور یہ سارا کھیل ان بےوقوف اور بزدل سپاہیوں کی باعث کِرکِرا ہو گیا۔ یہ احمق اگر ذرا ہوش سے کام لیتے تو شیر کے جسم سے رائفلوں کی نال لگا کر تین چار فائروں میں ہی اسے ڈھیر کر سکتے تھے۔ اس ناکامی کا مسٹر لی کوہر اور مسٹر وائٹ پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ وہ دوسرے روز ہی اپنے اپنے علاقے میں واپس چلے گئے اور ایک بار پھر میں تنہا رہ گیا۔
    مسٹر وائٹ اور مسٹر لی کوہر کے واپس جانے کے تقریباً ایک ہفتے بعد کا ذکر ہے کہ میں کسی کام سے باہر نکلا تو کیا دیکھا ایک حبشی باشندہ سر پر پاؤں رکھے بےتحاشا میری جانب دوڑتا چلا آتا تھا اور حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنی زبان میں کچھ کہتا بھی جاتا تھا۔ معلوم ہوا کہ دریا کے نزدیک ایک مقام پر شیر نے اس پر حملہ کیا۔ یہ گدھے پر بیٹھا ہوا تھا۔ کسی نہ کسی طرح یہ خود تو بچ کر آ گیا، مگر شیر نے گدھے کو وہیں چیر پھاڑ کر برابر کر دیا۔ خبر دلچسپ تھی۔ میں فوراً اپنی رائفل کندھے سے ٹکا کر اس کے ساتھ اُدھر چل دیا۔ شیر وہاں موجود تھا اور غالباً نہایت بھوکا ہونے کی باعث گدھے کے بدمزہ گوشت ہی پر قناعت کر رہا تھا، میں نہایت احتیاط سے پھُونک پھُونک کر قدم آگے بڑھا رہا تھا، لیکن میرے رہنما حبشی نے اپنی حماقت سے ایک جگہ سوکھی شاخوں پر پیر رکھ دیا۔ آہٹ ہوئی تو شیر چونکنا ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اس نے اپنے قریب خطرے کی بُو سونگھ لی تھی۔ وہ غرّاتا ہوا جنگل میں گھُس گیا۔ میں واپس آیا۔ کیمپ سے چار پانچ سو قلی جمع کیے۔ جمعداروں سے کہا کہ خالی کنستر، ڈھول، باجے، ٹن غرض یہ کہ جو شے بھی مل سکے لے آؤ۔ جب یہ سامان مہیّا ہو گیا تو میں نے ان سب کو ہدایت کی کہ کنستر اور ڈھول پیٹتے ہوئے اور خوب شور مچاتے ہوئے ایک نصف دائرے کی شکل میں آہستہ آہستہ جنگل کی طرف چلو اور میں خود اسی جگہ جا کر چھُپ گیا، جہاں شیر نے گدھے کو ہلاک کیا تھا۔ قلیوں کے ہنگامے سے جنگل میں ایک قیامت برپا ہو گئی۔ چند منٹ بعد کیا دیکھتا ہوں کہ آدم خور مضطرب ہو کر جنگل سے نکلا۔ وہ تعجّب اور خوف سے اِدھر اُدھر دیکھتا۔ غالباً اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا شور و غُل اور ہنگامہ نہ سنا تھا۔ وہ چند قدم چلتا اور پھر رُک کر اپنے اردگرد دیکھنے لگتا۔ آخر وہ مجھ سے اتنا قریب آ گیا کہ میں اس کی کھال میں چبھے ہوئے کانٹے بھی بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ آدم خور نے مجھے نہیں دیکھا۔ اس کی پوری توجّہ اس ہنگامے پر مرکوز تھی۔ میں نے رائفل سے اس کی پیشانی کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔ آدم خور کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔ وہ فضا میں کئی فٹ اونچا اچھلا اور دھاڑتا ہوا میری جانب آیا۔ میں نے فوراً دو فائر اور کیے اور دونوں گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ وہ وہیں قلابازی کھا کر ڈھیر ہو گیا۔ یہ موقع ایسا نازک تھا کہ میرا نشانہ خطا ہو جاتا تو میری موت یقینی تھی۔ شیر کے ہلاک ہوتے ہی قلیوں اور مزدوروں میں مسرّت کی ایک زبردست لہر دوڑ گئی۔ پہلے تو وہ شیر کے گِرد رقص کرتے رہے، پھر انہوں نے مجھے کندھے پر اٹھا لیا اور پورا جنگل "شاباش" اور "زندہ باد" کے نعروں سے گونجنے لگا اور اس طرح ساؤ کا پہلا آدم خور جس کی لمبائی ٩ فٹ ١ انچ تھی اور جس نے ڈیڑھ سو افراد کو اپنا لقمہ بنایا تھا، کئی ماہ کی مسلسل کوششوں کے بعد اپنے انجام کو پہنچا۔ آدم خور کے مارے جانے کی خبر بہت جلد سارے ملک میں پھیل گی۔ دوستوں اور دوسرے شکاریوں کی طرف سے مبارکباد کے پیغاموں اور تاروں کا تانتا بندھ گیا، لیکن سچ پوچھیے تو مجھے اتنی خوشی نہ تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس کا ساتھی دوسرا آدم خور ابھی تک زندہ سلامت ہے اور جب تک اس کا بھی قصّہ پاک نہیں کیا جاتا، آرام سے بیٹھنا ممکن نہ ہوگا۔
    پہلے آدم خور کی لاش کئی دن تک کیمپ میں رکھی گئی۔ ہزارہا لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے تھے۔ مرنے کے بعد بھی لوگوں پر اس کا دبدبہ اور دہشت قائم تھی۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اسے "بدروح" سمجھ کر قریب آنے سے خوف کھاتے اور دور دور ہی کھڑے دیکھتے رہتے اور بلاشبہ وہ شیر تھا بھی بڑا خوفناک۔ ظالم کا قد ساڑھے تین فٹ سے بھی کہیں اونچا تھا اور وزنی اتنا تھا کہ جنگل سے پورے آٹھ آدمی اسے دو بانسوں پر لاد کر لائے تھے۔ ایک ڈیڑھ ہفتے تک ساؤ کے کیمپ میں بالکل امن و امان رہا، مزدور اور قلی بھی اطمینان سے اپنا کام کرنے لگے اور کسی آدمی کے غائب ہونے کی کوئی واردات ان دنوں پیش نہ آئی۔ مجھے بھی خیال ہوا شاید دوسرا آدم خور اپنے ساتھی کا برا حشر دیکھ کر کسی اور طرف بھاگ گیا ہوگا، لیکن چند ہی روز بعد پے در پے ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے مجھے اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔
    ایک رات آدم خور ایک انسپکٹر کے بنگلے کے برآمدے میں گھُس آیا۔ بنگلہ زمین سے کئی فٹ اونچا بنا ہوا تھا اور برآمدے تک پہنچنے کے لیے سات آٹھ سیڑھیاں چڑھنی پڑتی تھیں اور اس کے چاروں طرف لوہے کا خاردار تار بھی لگا ہوا تھا، لیکن شیر ایک ہی جست لگا کر اس تار کو عبور کر کے سیڑھیوں کے راستے برآمدے میں آ گیا۔ رات کا سنّاٹا ہر سُو پھیلا ہوا تھا۔ شیر نے انسانی شکار کو تلاش کرنے کے لیے اِدھر اُدھر سونگھا۔ گڑبڑ ہوئی تو انسپکٹر کی آنکھ کھُل گئی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ شیر برآمدے میں پھر رہا ہے۔ وہ سمجھا کہ کوئی شرابی قلی نشے میں بہک کر برآمدے میں سونے کے لیے آ گیا ہے۔ وہ وہیں سے چلّایا، "برآمدے میں کون ہے؟ دفع ہوجاؤ یہاں سے بدمعاش۔ ورنہ تمہاری اچھی طرح مرمّت کروں گا۔"
    انسپکٹر فطری طور پر کچھ آرام طلب اور کاہل آدمی تھا اور اسی عادت نے اس رات اس کی جان بچائی۔ آرام دہ بستر سے اٹھنا اور کمرے کا دروازہ کھول کر برآمدے میں آنا اس کے لیے بڑا مشکل تھا۔ پس وہ وہیں سے "شرابی قلی" کو گالیاں بکتا رہا۔ وہیں برآمدے میں انسپکٹر صاحب کی چند بکریاں بھی بندھی ہوئی تھیں۔ شیر نے پہلے ان کی طرف رُخ نہ کیا، لیکن جب اسے کھانے کے لیے آدمی کا گوشت نہ ملا تو اس نے دو بکریاں اٹھائیں اور جنگل میں چلا گیا۔
    دوسرے روز مجھے انسپکٹر کی زبانی اس حادثے کا علم ہوا۔ وہ غریب صبح جب اٹھا تو برآمدے میں بکریوں کا خون پھیلا ہوا تھا۔ شیر کے پنجوں کے نشانات برآمدے میں اور برآمدے سے باہر باڑ کے نزدیک آئے تو وہ دہشت زدہ ہو کر بغیر ناشتہ کیے میرے پاس آیا۔ پورا قصّہ سنا کر کہنے لگا، "کرنل صاحب! میرے باپ کی توبہ ہے جو میں اس بنگلے میں ایک رات بھی رہوں۔ مجھے تو آپ اپنے ساتھ ہی رکھیے۔"
    میں نے انسپکٹر کو دلاسہ دے کر اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ کیا اور خود اسی شام کو سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی انسپکٹر کے بنگلے کے نزدیک ایک خالی ڈبے میں بیٹھ گیا۔ اس سے تھوڑے فاصلے پر شیر کے پھنسانے کے لیے تین موٹی بکریاں ڈھائی سو پونڈ وزنی لوہے کی پٹری کے ایک ٹکڑے سے باندھ دی گئیں۔ ساری رات میں گھپ اندھیرے میں شیر کی آمد کا انتظار کرتا رہا۔ بکریوں نے چیخ کر سارا جنگل سر پر اٹھا رکھا تھا۔ صبح کاذب کے وقت جب میں انتظار کی یہ تکلیف دہ کیفیت ختم کرنے ہی والا تھا کہ شیر کی دھاڑ سنائی دی، پھر بکریاں زور سے چلّائیں اور ایک دم خاموشی چھا گئی۔ میں اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تکنے لگا، لیکن شیر دکھائی نہ دیا۔ میں نے اندازے سے کام لیتے ہوئے اس جانب دو تین فائر جھونک دیے۔ بعد میں پتہ چلا کہ شیر کو کوئی گولی نہ لگی۔ البتہ ایک بکری میری رائفل کا نشانہ بنی اور اس عالمِ فانی سے عالمِ جادوانی کو سدھار گئی، لیکن شیر اتنا قوی نکلا کہ آہنی ٹکڑے سمیت بکریوں کو گھسیٹ کر ایک میل دور جنگل میں لے گیا۔
    سورج کی روشنی جنگل میں پھیلتے ہی میں نے کیمپ سے چار پانچ آدمیوں کو اپنے ساتھ لیا اور آدم خور کی کھوج میں نکلا۔ شیر بکریوں کو جس راہ سے گھسیٹ کر لے گیا تھا۔ اس کا سراغ لگانا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ اتفاق دیکھیے کہ جس وقت ہم وہاں پہنچے تو شیر جھاڑیوں میں چھُپا بکریوں کو ہڑپ کر رہا تھا۔ ہمارے قدموں کی آہٹ سن کر اظہار ناراضی کے لیے وہ آہستہ سے غرّایا۔ ہم سب جس جگہ تھے وہیں رک گئے اور یہ اچھا ہی ہوا کہ شیر نے غرّا کر ہمیں پہلے خبردار کر دیا ورنہ ہم اور نزدیک چلے جاتے تو ضرور ہم میں سے ایک نہ ایک اس کے ہاتھوں مارا جاتا۔ میں نے جھاڑیوں میں فائر کرنے کے لیے رائفل سیدھی ہی کی تھی کہ آدم خور دفعتاً دھاڑتا ہوا جھاڑیوں میں سے نکلا اور ہم سب بدحواس ہو کر اردگرد کے درختوں میں پناہ لینے کے لیے بھاگے۔ میرے ساتھ میرے مددگار انجینئر مسٹر ونکلر بھی تھے۔ ان پر تو اتنی دہشت طاری تھی کہ وہیں گُم سُم کھڑے رہے۔ شیر غالباً خود بھی پریشان ہو چکا تھا۔ اس لیے اس نے ونکلر کی طرف توجہ نہ کی اور مسلسل دھاڑتا ہوا جنگل کی دوسری جانب بھاگ گیا۔ شیر کے چلے جانے کے بعد ونکلر کی جان میں جان آئی اور وہاں سے دوڑ کر ایک درخت پر چڑھ گئے۔ آدھے گھنٹے بعد ہم سب درختوں سے اتر کر ان جھاڑیوں میں گھُسے جہاں شیر چھُپا ہوا تھا۔ بکریوں کی لاشیں موجود تھیں اور شیر کو ابھی بہت کم گوشت کھانے کا موقع ملا تھا کہ ہم پہنچ گئے۔ مجھے یقین تھا کہ شیر بھوکا ہے اور وہ کسی نہ کسی وقت اِدھر آ کر ضرور اپنا پیٹ بھرنے کی کوشش کرے گا۔ میں نے جلد جلد وہاں سے دس پندرہ فٹ کے فاصلے پر مچان بندھوائی اور اپنے ذاتی ملازم مہینا کو یہ ہدایت دے کر کہ جونہی شیر کی آمد کا کھٹکا ہو، فوراً مجھے جگا دے۔ میں وہیں مچان پر لیٹ کر سو گیا۔ تیسرے پہر تک میں بےخبر سوتا رہا، پھر مہینا نے آہستہ آہستہ سے میرا شانہ ہلایا اور آہستہ سے کان میں کہا، "صاحب! شیر آ رہا ہے۔"
    میں فوراً اٹھا اور غور سے ان جھاڑیوں کی طرف دیکھنے لگا، جہاں بکریاں مری پڑیں تھیں۔ بلا شبہ جھاڑیاں ہل رہی تھیں اور درندہ چُپکے چُپکے ان میں گھُسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں دم سادھے یہ تماشا دیکھتا رہا۔ آدم خور نے ایک مرتبہ جھاڑیوں سے سر نکال کر اردگرد کا جائزہ لیا، پھر اس کا آدھا جسم باہر نکلا اور فوراً ہی میری رائفل سے بیک وقت دو فائر ہوئے اور گولیاں شیر کے کندھے پر لگیں ایک مہیب دھاڑ کے ساتھ شیر جھاڑی سے نکل کر باہر آیا اور میرے سامنے سے ہو کر دوبارہ جنگل میں گھُس گیا۔ اس کے فرار ہونے کے بعد میں اور مہینا دونوں مچان میں سے اترے اور اس مقام تک گئے جہاں شیر زخمی ہوا تھا۔ تازہ تازہ خون جھاڑیوں میں دور تک پھیلتا چلا گیا تھا۔ یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ شیر بری طرح زخمی ہوا تھا۔ خون کے بڑے بڑے دھبے جابجا بکھرے ہوئے تھے۔ دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت اس کا تعاقب کر کے معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے، لیکن شام سر پر آ گئی تھی اور جنگل کے اندھیرے میں زخمی آدم خور کا تعاقب کرنا آسان مرحلہ نہ تھا۔ میں نے یہ قصّہ کل پر اٹھا رکھا اور ملازم کے ساتھ کیمپ میں آ گیا۔
    دوسرے روز جب میں نے جنگل میں شیر کا سراغ لگانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ سر گلفورڈ مالزورتھ تشریف لا رہے ہیں۔ سر گلفورڈ بڑے نامی گرامی انجینئر تھے اور کام کا معائنہ کرنے کے لیے آ رہے تھے۔ میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور ان کے استقبال کی تیاریاں کرنے لگا۔ سر گلفورڈ آئے اور جب دوپہر کے کھانے پر ہماری بات چیت ہوئی تو میں نے دوسرے آدم خور کے زخمی ہونے کا قصّہ سنایا۔ وہ سن کر ہنسے اور کہنے لگے، "کرنل صاحب! مجھے تو شک ہے کہ ابھی پہلا آدم خور بھی نہیں مرا۔ دوسرے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔"
    میں ان کے طنزیہ فقرے کا مطلب سمجھ گیا۔ وہ دراصل مجھے اناڑی سمجھ کر مذاق اڑا رہے تھے۔ میں ہنس کر خاموش ہو گیا۔
    سر گلفورڈ دوسرے روز ممباسہ روانہ ہو گئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان کے رخصت ہوجانے کے دس دن بعد تک دوسرے آدم خور کے بارے میں مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اس نے کسی کیمپ پر حملہ کیا ہو یا کسی قلی کو اٹھا کر لے گیا ہو۔ اس کے یوں غائب ہونے کا ایک ہی مطلب تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر کہیں جھاڑیوں میں مر چکا ہوگا۔ تاہم حفاظتی انتظامات بدستور جاری تھے اور مزدور درختوں یا گڑھوں کے اندر سویا کرتے تھے۔ اس طرح ایک ہفتہ اور گزر گیا۔ تب ان لوگوں اور مجھے یقین ہو گیا کہ آدم خور کا قصّہ ہمیشہ کے لیے پاک ہو چکا ہے۔ آہستہ آہستہ مزدور اور کاریگر پھر پہلے کی طرح اطمینان اور لاپروائی سے اپنے کام پر آنے جانے لگے اور آدم خور کا ڈر گویا ان کے دلوں سے نکل گیا۔
    ٢٧ دسمبر ١٨٩٩ء کی وہ رات مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں اپنے خیمے میں لیٹا خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہا تھا کہ یکایک خیمے سے باہر کچھ فاصلے پر قلیوں کے چیخنے چلّانے کی جگر خراش آوازوں نے مجھے بیدار کر دیا۔ اس کے بعد شیر کی گرجدار آواز نے میرا دل ہلا دیا۔ خدا کی پناہ! آدم خور پھر نمودار ہو چکا تھا۔ اس وقت خیمے سے باہر نکلنا خودکشی کے مترادف تھا۔ میں نے ایک سوراخ سے باہر جھانکا۔ گھُپ اندھیرے میں مجھے کچھ سجھائی نہ دیا۔ قلی مسلسل چیخ رہے تھے۔ میں نے جلدی سے اپنی رائفل اٹھائی اور تین چار ہوائی فائر کر دیے۔ فائر وں کے دھماکوں سے جنگل گونج اٹھا اور آدم خور ڈر کر ایک جانب بھاگ گیا۔ کیوں کہ اس کے بعد میں نے قلیوں کی آواز سنی نہ شیر کی۔ صبح ہوئی تو پتہ چلا کہ فائر عین وقت پر ہوئے تھے، ورنہ آدم خور ضرور کسی کو لے جاتا۔ قلیوں کی چیخ پکار اور فائروں نے اسے خوفزدہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ درختوں اور خیموں کے قریب خاردار باڑوں کے چاروں طرف اس کے پنجوں کے نشانات موجود تھے۔ شام ہوئی تو میں رائفل لے کر ایک درخت پر چڑھ گیا۔ مجھے یقین تھا کہ آدم خور کل کی ناکامی کا بدلہ لینے ضرور آئے گا۔ خوش قسمتی سے اس رات آسمان پر بادل نہ تھے اور مہتاب سارے جنگل کو منوّر کر رہا تھا۔ آدم خور کا انتظار کرتے کرتے رات کے دو بج گئے۔ چاروں طرف ایک سوگوار سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کبھی کبھی کوئی بڑی سی چمگاڈر آسمان پر پرواز کرتی ہوئی دکھائی دیتی یا پہریداروں کی آوازیں تھیں جو ہر پندرہ منٹ بعد بلند ہوتیں۔ میں نے پہریداروں کو ہدایت کردی تھی کہ شام ہی سے آوازیں دینا شروع کر دیں تاکہ آدم خور انسانوں کی آوازیں سنے اور بےچین ہو کر سیدھا اِدھر آئے۔ رات آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی اور مجھے نیند کے جھونکے آ رہے تھا۔ پھر میں وہیں درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر اونگھنے لگا۔
    نہ معلوم کتنی دیر تک غنودگی کے عالم میں گُم رہا کہ دفعتاً میرے حواس خود بیدار ہو گئے۔ میں نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ ہر شے ساکن ساکن اور چُپ چاپ اپنی جگہ قائم تھی۔ تاہم میں نے اپنے اندر اضطراب اور بےچینی کی لہریں دوڑتی ہوئی محسوس کیں۔ یہ میری چھٹی حِس تھی جو مجھے بتاتی تھی کہ میرے نزدیک کوئی ذی روح موجود ہے۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی۔ درخت سے پندرہ گز دور گھنی جھاڑیوں پر چند منٹ تک نظریں جمائے رکھنے سے پتہ چلا کہ اس میں ہمارے پرانے دوست آدم خور صاحب چھُپے ہوئے غالباً میری نگرانی کر رہے ہیں اور کمال کی بات یہ تھی کہ ظالم اِن جھاڑیوں میں بھی ایسی احتیاط سے حرکت کرتا کہ جھاڑی ذرا نہ ہلتی تھیں۔ میں بھی مچان پر بےحِس و حرکت بیٹھا اس کی عیّاری کا جائزہ لیتا تھا، پھر میں نے اسے مزید دھوکہ دینے کے لیے اپنی آنکھیں جھوٹ موٹ موند لیں اور مصنوعی خرّاٹے لینے لگا۔ ایک آدھ منٹ بعد میں نیم باز نگاہوں سے دیکھ لیتا کہ وہ کتنا نزدیک آ گیا ہے۔ اعشاریہ ٣٠٣ بور کی بھری ہوئی رائفل میرے پاس تیّار تھی اور پھر پہلی مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ آدم خور مجھ ہی کو اپنا لقمہ بنانے کا ارادہ کر رہا تھا۔ میں جس مچان پر بیٹھا تھا، زمین سے اس کی بلندی دس گیارہ فٹ سے زیادہ نہ تھی اور شیر آسانی سے جست لگا کر اتنی بلندی پر وار کر سکتا تھا۔ خوف کی ایک سرد لہر میرے بدن میں دوڑ گئی۔ شیر اب مجھ پر حملہ کرنے کے لیے قطعی مستعد تھا۔ وہ ایک دم جھاڑیوں کو چیرتا ہوا آیا اور چھلانگ لگا کر میری جانب لپکا، لیکن میں بھی غافل نہ تھا۔ فوراً میری رائفل سے شعلہ نکلا اور گولی شیر کے بائیں کندھے میں لگی۔ ایک ہولناک گرج کے ساتھ آدم خور پشت کے بل گرا، مگر دوسرے ہی لمحے وہ اٹھا اور اچھل کر مجھ پر حملہ کیا۔ اس کا پنجہ مچان سے دو انچ نیچے ایک شاخ پر پڑا اور شاخ تڑخ کر نیچے جا پڑی۔ آدم خور کی گرج اور دھاڑ نے مجھے بدحواس کر دیا۔ میں نے بدحواسی میں اس پر دو فائر اور کیے اور یہ دونوں گولیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔ اس کا دایاں بازو تو بالکل ہی بےکار ہو چکا تھا۔ وہ تین ٹانگوں پر اچھلتا ہوا جھاڑیوں کی طرف بھاگا، لیکن اب بھاگنے کا موقع کہاں تھا۔ ظالم درندے کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ نڈھال ہو کر گر پڑا۔ اس اثنا میں کیمپ کے سینکڑوں مزدور اور قلی ہاتھوں میں ڈنڈے اور کلہاڑیاں لے کر آ گئے۔ شیر تو پہلے ہی مر چکا تھا۔ انہوں نے غیض و غضب کے عالم میں مرے ہوئے شیر ہی پر ڈنڈے اور کلہاڑیوں سے حملہ کر دیا۔ میں نے للکار کر انہیں روکا ورنہ شیر کی اس وقت تکّا بوٹی ہو گئی ہوتی۔ شیر کی لاش اٹھوا کر میں اپنے خیمے میں لے گیا۔ اس کے جسم سے چھے گولیاں برآمد ہوئیں۔ کھال تو کانٹوں نے پہلے ہی خراب کر دی تھی اور اس طرح نو ماہ کی جان توڑ کوشش کے بعد دونوں آدم خور ہلاک ہوئے جن کی ہیبت ناک یاد اتنے برس بعد آج بھی میرے دل میں روزِ اوّل کی طرح تازہ ہے۔
    ٭٭٭​
     
    • زبردست زبردست × 1
  14. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    • زبردست زبردست × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  15. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,479
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    پہلی پوسٹ تو میری پڑھی ہوئی ہے۔۔۔ بقیہ بھی ابھی پڑھتا ہوں انیس بھائی۔۔۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,840
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
  17. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    8,914
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    انیس الرحمن کیا یاد دلا دیا
    یہ کتاب بچپن میں بلامبالغہ بیسوں دفعہ پڑھی
    اور ساؤ کے آدم خوروں سے اسی کتاب کے ذریعے متعارف ہوا
    بھولی بسری یادیں تازہ کرنے کا شکریہ
    شاد و آباد رہیں
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 8, 2013
    • متفق متفق × 1
  18. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,420
    کوئی صاحب بتاسکتے ہیں کہ "سوانی پلی کا سیاہ چیتا" کس کی تحریر ہے ؟
     
  19. انیس الرحمن

    انیس الرحمن محفلین

    مراسلے:
    8,111
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    کینتھ اینڈرسن کی۔۔
    حوالہ
     
  20. راشد اشرف

    راشد اشرف محفلین

    مراسلے:
    1,420
    مگر کتاب میں کہیں ان کا نام نہیں لکھا
    کتاب اس وقت میرے سامنے ہے
     

اس صفحے کی تشہیر