آج کا شعر - 3

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

مغزل

محفلین
خوش ہو نہ سر نوِشتۂ مقتل کو دیکھ کر
فہرست ایک اور ہے اندر لگی ہوئی
کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہِ شہر
کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئی

فراز
 

محمداحمد

لائبریرین
خوش ہو نہ سر نوِشتۂ مقتل کو دیکھ کر
فہرست ایک اور ہے اندر لگی ہوئی
کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہِ شہر
کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئی

فراز

بہت خوب!

لاؤ تو قتل نامہ مرا، میں بھی تو دیکھوں
کس کس کی مہر ہے سرِ محٍضر لگی ہوئی

(یادداشت کے سہارے لکھا ہے، اور ہماری یادداشت کا آپ کو پتہ ہے :grin: )
 

مغزل

محفلین
قیمت ہے ہر کِسی کی دُکاں پر لگی ہوئی
بِکنے کو ایک بھِیڑ ہے باہر لگی ہوئی

غافل نہ جان اُسے کہ تغافل کے باوجود
اُس کی نظر ہے سب پہ برابر لگی ہوئی

خوش ہو نہ سر نوِشتۂ مقتل کو دیکھ کر
فہرست ایک اور ہے اندر لگی ہوئی
ق
کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہِ شہر
کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئی

برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال
اب چشمِ بد ہے جانبِ خیبر لگی ہوئی

غیروں سے کیا گِلا ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے
ہے دوسروں کی آگ مرے گھر لگی ہوئی

لازم ہے مرغِ بادنما بھی اذان دے
کلغی تو آپ کے بھی ہے سر پر لگی ہوئی

میرے ہی قتل نامے پہ میرے ہی دستخط
میری ہی مُہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی


کس کے لبوں پہ نعرۂ منصور تھا فراز
ہے چار سُو صدائے مکرّر لگی ہوئی

احمد فراز کی کتاب "اے عشق جنوں پیشہ" سے انتخاب ص 157
 

محمداحمد

لائبریرین
قیمت ہے ہر کِسی کی دُکاں پر لگی ہوئی
بِکنے کو ایک بھِیڑ ہے باہر لگی ہوئی

غافل نہ جان اُسے کہ تغافل کے باوجود
اُس کی نظر ہے سب پہ برابر لگی ہوئی

خوش ہو نہ سر نوِشتۂ مقتل کو دیکھ کر
فہرست ایک اور ہے اندر لگی ہوئی
ق
کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہِ شہر
کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئی

برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال
اب چشمِ بد ہے جانبِ خیبر لگی ہوئی

غیروں سے کیا گِلا ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے
ہے دوسروں کی آگ مرے گھر لگی ہوئی

لازم ہے مرغِ بادنما بھی اذان دے
کلغی تو آپ کے بھی ہے سر پر لگی ہوئی

میرے ہی قتل نامے پہ میرے ہی دستخط
میری ہی مُہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی


کس کے لبوں پہ نعرۂ منصور تھا فراز
ہے چار سُو صدائے مکرّر لگی ہوئی

احمد فراز کی کتاب "اے عشق جنوں پیشہ" سے انتخاب ص 157

اس پیشکش کا شکریہ!

میرا لکھا ہوا شعر غالباً احمد ندیم قاسمی کا ہے، لیکن پھر وہی یادداشت۔ :(
 

محمداحمد

لائبریرین
لاؤ تو قتل نامہ مرا
سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی
تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی

رندوں کے دم میں آتش ِ مَے کے بغیر بھی
ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی

آباد کرکے شہر خموشاں ہر ایک سُو
کس کھوج میں ہے تیغ ستمگر لگی ہوئی

آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام
بازی میان ِقاتل و خنجر لگی ہوئی

“لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مُہر ہے سرِ مخصر لگی ہوئی”


فیض احمد فیضؔ​
 

مغزل

محفلین
ہر ایک لفظ کے معنی بدل چکے ہیں یہاں
لغت سے ہاتھ اٹھالو ، زباں سے چل نکلو

لیاقت علی عاصم
 

مغزل

محفلین
زندگی کیا ہے، ؟ عناصر کا ظہور ترتیب
موت کیا ہے، انہی اجزا کا پریشاں ہونا

پنڈت برج نرائن چکبست
 
آجا کے ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا
آجا کے پہاڑوں پے ابھی برف جمی ہے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تیری کمی ہے
 

مغزل

محفلین
فکرِ معاش ، شاعری ، اس پر تمھاری یاد
اک تو سزا سی زندگی، اس پر تمھاری یاد
دوکام ایک ساتھ بھلا کس طرح کروں
دن بھر کسی کی نوکری ، اس پرتمھاری یاد

قیصر وجدی
 

محمداحمد

لائبریرین
موسم موسم آنکھوں کو اک سپنا یاد رہا
صدیاں جس میں‌گزر گئیں وہ لمحہ یاد رہا
قوس و قزح کے رنگ تھے ساتوںاُس کے چہرے پر
ساری محفل بھول گئی وہ چہرہ یاد رہا
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top