آج کا بلاگ - آپ کے بلاگ پر نئی پوسٹ کا اقتباس!

سارہ پاکستان نے 'اردو بلاگنگ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 30, 2009

  1. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
  2. nazar haffi

    nazar haffi محفلین

    مراسلے:
    156
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    یہ تتلی فاحشہ ہے، پھول کے بستر پہ سوتی ہے
    یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافر ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. منصور مکرم

    منصور مکرم محفلین

    مراسلے:
    1,961
    جھنڈا:
    Pakistan
  4. nazar haffi

    nazar haffi محفلین

    مراسلے:
    156
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
  5. منصور مکرم

    منصور مکرم محفلین

    مراسلے:
    1,961
    جھنڈا:
    Pakistan
    اگر یہ تبصرہ بلاگ پر ہے تو میرے خیال میں تو پھر یہ تبصرہ اسی صفحے پر کیا جانا چاہئے تھا ،تاکہ موضوع کے نیچے ہی آجاتا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. nazar haffi

    nazar haffi محفلین

    مراسلے:
    156
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
  7. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed

    ایک عرصۂ دراز گزر چکا اس دور کو جب استاد کا حکم ہی عزت ہوا کرتا تھا شاگرد بھی در حقیقت شاگرد ہی ہوتے تھے جن میں مہارت حاصل کرنے جذبہ تو ہوتا تھا مگر سیکھنے سکھانے پڑھنے پڑھانے کے بعد اس منزل تک پہنچنا پسند کرتے تھے، شاگرد کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو جائے استاد سے چھوٹا ہی رہتا تھا، ریاست میں سیاست تھی نہ دماغوں میں غلاظت تھی۔ جو کچھ تھا تو وہ طبیعت اور لہجے کی نفاست تھی جس سے دلوں پر قابو پایا جاتا تھا، نہ کوئی بادشاہ علماء سے کچھ پوچھ لینے کو بے عزتی محسوس کرتا تھا نہ کوئی نواب کسی استاد شاعر سے اپنی شاعری پر اصلاح لینے میں شرم محسوس کرتا تھا۔ ایسی اور اس جیسی سیکڑوں باتیں تاریخ نے تاریخ دانوں کے ہاتھوں رقم کروائی ہیں۔
    مگر ”دور “ تو دور ہے جو دوڑ تا ہے اور یک لخت ہی پلٹ جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ رفتہ رفتہ جو جو وقت چلتا ہوا ترقی ہوتی گئی، وسائل بڑھتے چلے گئے، فرصتیں گھٹتی چلی گئیں ۔ قربتیں فرقتوں میں بدل گئیں، عزت و عظمت کے وہ رنگ نہ رہے، فن کی وہ حیثیت نہ رہی، اور ”ہیرے کی قدر جوہری ہی جانے“،” گدھا کیا جانے زعفران کا مزہ“ اور ”ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔۔۔ الخ“ جیسی مثالیں بچوں پر صرف اپنا دبدبہ اور رعب ڈالنے کی حد تک ہی رہ گئیں۔

    محمد یعقوب آسی
    محمد اسامہ سَرسَری
    الف عین
     
    • زبردست زبردست × 2
  8. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,037
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    محسن وقار علی کی فرمائش پر اپنے بلاگ کی تازہ لیکن پرانی تحریر کا ربط شئیر کر رہا ہوں۔
    خلافت چاہئے جی
    تحریر جس موڈ میں لکھی گئی تھی اقتباس دینے سے اس کا مطلب کچھ اور نکل سکتا ہے اس لیے صرف ربط دے رہا ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. محسن وقار علی

    محسن وقار علی محفلین

    مراسلے:
    12,013
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    شکریہ شاکر بھائی:love:
     
  10. دوست

    دوست محفلین

    مراسلے:
    13,037
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Fine
    سماجی شناخت اور فکری قحط سالی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  11. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
    آزادی سے پہلے 1600 سال تک حکمرانی کرتے رہنے کے باوجود انگریزوں کی غلامی میں 200سال تک جکڑ جانے میں بھی ہمارے یہی عوامل کار فرما تھے۔یہ الگ بات ہے کہ مورخین اور تجزیہ کار اسے مغلوں کی نا اہلی ،معیشت کی تباہ حالی یا پھر اورنگ زیب کی کٹر پالیسی جیسی وجوہات سے تعبیر کرتے ہیں۔معاملہ چاہے جو بھی ہو اس پر ہمیں فی الحال بحث نہیں کرنی ، لیکن اگر اس کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو کہیں نہ کہیں ہمارے یہ رویّے ضرور سامنے آتے ہیں، جس سے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ بہر حال غلطی ہماری رہی تھی۔ اس غلطی کے احساس کے بعد گرچہ ملک کو آزاد کرانے کے جتن کئے گئے اور ہمیں اس میں کامیابی بھی ملی، لیکن ہماری حالت ،اور ہماری فکر میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔بلکہ ہماری اسی نا اہلی کے سبب دشمنوں کی سازشیں کامیاب ہوئیں اور ملک کا بٹوارہ ہو گیا،ہم اقلیت میں آ گئے۔ اور بھی قومیں اقلیت میں آئیں لیکن انھوں نے سیاست ،معیشت ہر اعتبار سے اپنے آپ کو مضبوط کیا اور ہم ساٹھ سال میں اور بھی بد سے بد تر ہوتے گئے۔ہم نے کبھی اپنے حالات میں سدھار لانے کی کوشش نہیں کی۔ اس بات کا تجزیہ کرنا گوارہ ہی نہیں کِیا کہ اب تک ہم نے کیا پایا ،کیا کھویا اور پھر آگے کیا کرنا ہے۔ غصہ کرنا ہے، بے صبری کا مظاہرہ کرنا ہے، محض ایک دوسرے پر الزام لگانا ہے، اپنے ہی نظریات کو صحیح سمجھنا ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نا نہ ہوں ،چند کھوٹے سکوں کی خاطر ہماری ہی بیخ کنی کرنے والی پارٹیوں کا آلہ کار بنے رہنا ہے یا پھر یہ سب چھوڑ کر واقعی مسائل پر غور کرنا ہے۔
    2014 مرکزی انتخابات :کیا کریں اور کدھر جائیں مسلمان؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  12. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
  13. فخرنوید

    فخرنوید محفلین

    مراسلے:
    3,211
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    مجھے اپنوں نے مروایا تم سے تو نمٹ ہی لیتا
    کسی قصبے میں ایک شخص اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔وہ وہاں کے سماجی ومعاشی حالات کی وجہ سے تنگ دست و فاقی کشی کا شکار ہو گیا۔اسے نا کوئی روزگار ملتا اور نہ ہی خاندان والوں کی طرف سے اسے اپنا یا جاتا۔ آخر وہ دل شکن ہو کر قصبے کو چھوڑ کر جنگل کی طرف چلا گیا اور جیسے تیسے زندگی کے باقی ماندہ دن گزارنے لگا اور اپنے اللہ سے آہ و گریہ زاری کرنے لگا۔ اسی طرح دن رات گزرتے رہے۔
    ایک دن وہ بندہ جنگل میں آہ و گریہ زاری کر رہا تھا کہ اس کے سامنے انسانی روپ میں ملک الموت حاضر ہو گئے اور اس بندے سے پوچھا تم اس بیابان جنگل میں کیا کر رہے ہو تمہیں اپنی جان عزیز نہیں ہے تم کیوں یہاں مرنا چاہتے ہو۔ جس پر وہ بندہ بولا قصبے میں بھی تنگ دستی و فاقی کشی سے جان جانی تھی تو یہاں بھی چلی جائے میں تو پہلے ہی جینا نہیں چاہتا اپنی زندگی سے تنگ ہوں۔ اس کی یہ بات سن کر ملک الموت نے اس بندے سے سارا ماجرا بیان کرنے کو کہا۔ بندے نے اپنے ساتھ بیتے تمام حالات کی کہانی ملک الموت کے گوش گزار کر دی جسےسن کر ملک الموت کو بھی بہت تکلیف ہوئی آخر کار ملک الموت نے اس بندے کو راضی کرنے لگا کہ وہ زندگی کی طرف واپس لوٹ جائے اور قصبے میں واپس رہائش اختیار کر لے۔
    لیکن وہ بندہ مُصر تھا کہ وہ قصبے میں واپس کیوں چلا جائے اور وہاں تو پہلے ہی معاشی حالات بہت خراب ہیں اور وہ بھی انہی مشکلات میں واپس نہیں جانا چاہتا جس پر ملک الموت نے اسے کہا کہ میں تمہارا ساتھ دوں گا اورتمہیں اچھا روزگار مل جائے گا۔
    مزید تفصیل:مجھے اپنوں نے مروایا تم سے تو نمٹ ہی لیتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
    نتائج پر اگر نظر ڈالی جائے کہ کتنے مسلم بچوں نے 90فیصد تک نمبر حاصل کئے ہیں تو اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں لیکن حقیقت سے آنکھیں چراتے ہیں۔90 فیصد تو دور کی بات معدودے چند بچے ہی 75 فیصد کے امتیازی نشان تک پہنچ پائے ہیں۔اور اگر اردو میڈیم اسکولوں پر نظر ڈالیں یہ نتائج اور بھی ناگفتہ بہ نظر آتے ہیں۔اور چند طلبا و طالبات ہی پہلے ڈویژن یعنی 60 فیصد کے ہندسے کو پار کر پاتے ہیں۔کئی اردو میڈیم اسکولوں کے پرنسپل نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے جس میں انھوں نے بر ملا یہ کہا کہ اس سال دیگر سالوں کے مقابلہ مقدار( کوانٹٹی) تو بہتر ہے لیکن معیار(کوالٹی) نہیں۔اس لئے اس جانب توجہ دینی ہوگی اور جائزہ لینا ہوگا کہ کمی کہاں رہ گئی ہے۔امتحان میں صرف پاس ہو جانے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ جب یہ مسلم بچے کالج یا یونیورسٹی جائیں گے تو وہاں داخلہ کے لئے محض مسلمان بچوں کی میرٹ ہی جاری نہیں کی جائے گی بلکہ سبھی طلبا کا مقابلہ ایک ساتھ ہوگا۔حق تعلیم قانون کے نفاذ نے بچوں کو پاس ہونے کی فکر سے آزاد کر دیا ہے اور اب ہمیں اپنے نتائج کو بلند کرنے کی فکر کرنی ہی ہوگی ۔
    http://alamullah.blogspot.in/
     
  15. فخرنوید

    فخرنوید محفلین

    مراسلے:
    3,211
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    وی ایل سی پلئیر کی مدد سے نیٹ ورک پر لائیو سٹریم چلانا
    وی ایل سی پلئیر ایک میڈیا پلئیر ہے جو کہ عصر حاضر کے دیگر میڈیا پلئیر کی نسبت بہت بہتر اور مشہور ہے۔ اس کا استعمال انتہائی آسان اور صارف دوست ہے۔ وی ایل سی پلئیر میں ویڈیوز اور آڈیوز کو سٹریم کرنے کے لئے بہت ہی آسان اور شاندار فیچر شامل ہے جس کی [ بقیہ پڑھیں]
     
  16. سید محمد نقوی

    سید محمد نقوی محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
  17. سید محمد نقوی

    سید محمد نقوی محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    قومی زبان

    آجکل ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کر لی ہے. وقت, مکان, فاصلہ, سرحدیں و غیرہ کوئی رکاوٹ نہیں ہیں. آپ جہاں بھی ہوں, بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے انٹرنیٹ کی دنیا میں داخل ہو کر دنیا کے ہر کونے تک آسانی سے اپنی بات, اپنا پیغام اور اپنی فکر پہنچا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
     
  18. محمد علم اللہ

    محمد علم اللہ محفلین

    مراسلے:
    5,832
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Daring
  19. سید محمد نقوی

    سید محمد نقوی محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
  20. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ہارڈی میری مین کی تحریر ’’عوامی مزاحمت کے تین حقائق: اتحاد، منصوبہ بندی اور نظم و ضبط‘‘ کا اردو ترجمہ جس میں مصنف نے تشدد سے پاک تحریکات کا مختصر جائزہ، ان کے کردار، فوائد اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔
     

اس صفحے کی تشہیر