جاویداقبال

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

حرف دعا
دنیامیں آنادرحقیقت آخرت کی طرف رخت سفرباندھنےکی تمہیدہے۔اس عالم رنگ وبومیں آنےوالےہرنفس نےبالآخرت موت کےجام کوپینااورقبرکےدروازہ سےداخل ہوناہے۔یہ ایک ایسااٹل قانون قدرت ہےجس سےکسی کواختلاف نہیں۔
یہ حقیقت روزروشن سےزیادہ واضح ہےاورہم روزاپنےسرکی آنکھوں سےاس کامشاہدہ کرتےہیں کہ یہ دنیااوراس کی یہ تمام چمک دمک محض ایک جلوہ سراب ہےلیکن اس باوصف آج ہم دنیااوراس کی رنگینیوں میں اس قدر کھوچکےہیں کہ بایدوشاید۔آج نگاہوں کوخیرہ کرنےوالےشان وشکوہ کےقصرزرنگار،مال ودولت کےانبار،مئےومینا،شاہدوشراب ہی انسان کامنتہائےمقصودہوکررہ گئےہیں اورعاقبت کوفراموش کردیاگیاہے۔اکبرالہ آبادی نےکہاتھا
موت کوبھول گیادیکھ کےجینےکی بہار دل نےپیش نظرانجام کورہنےنہ دیا

انسانیت موت کے دروازے پر(مولاناابوالکلام آزادرحمۃ اللہ علیہ)ایم ایس ورڈفائل

والسلام
جاویداقبال
 

عادل بھیا

محفلین
میزبان چند لمحوں کیلئے مجھے اِس کمرے میں تنہا چھوڑ گیا۔ میں اُٹھا اور حسبِ عادت کمرے میں ٹہلنے لگا۔ میری نظر کتابوں کے ایک شیلف پر پڑی جس پر مختلف چھوٹی موٹی کتابیں پڑی ہوئی تھیں۔ میں شیلف کے قریب گیا اور کتابوں کو ٹٹولنے لگا۔ اچانک میرے ہاتھ اِک چھوٹی سی ڈائری لگی جو تمام کتابوں کے عقّب میں پڑی ہوئی تھی۔ یہ ڈائری۔۔۔۔۔۔

باقی پڑھئیے
 

گیلی دھوپ

محفلین
امدادی کارروائیاں پارٹ 3

شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، الله کے کرم سے کسی حد تک یہ سکون ھے کے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے جو کچھ ہم سے ہو سکتا تھا وہ کیا، سڑکوں پہ بازاروں میں ہوٹلز کے باہر کھڑے ہو کر بھیک تک مانگی ان لوگوں کی امداد کے لیے ہمارا ضمیر مطمئن ہے کے ہر ممکنہ زریعے کو استعمال کیا جتنی محنت ہم سے ہوسکتی تھی وہ ہم نے کی الله نے بہت مدد کی اور ہم دن رات کی انتھک محنت کے بعد چار ٹرکس کا سامان جس کی مالیت تقریباً پچیس لاکھ بنتی تھی وہ ہم جمع کر پائے ۔۔۔مزید پڑھیئے
 

موجو

لائبریرین
ترقی اور کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ جیسے ہی انسان شعور کے میدان میں قدم رکھتا ہے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان، اچھے روزگار کی طلب ہو یا کاروبار کا ذکر ، یا پھر معاشرے میں اچھے مقام کی تگ و دو، زندگی کے ہر شعبے میں مقابلے اور مسابقت کا سماں ہے۔ یہ ایک فرد کا حال ہے۔ انہی افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔

اچھی بات
 

محمداحمد

لائبریرین
تجاہلِ عارفانہ

ایک گدھابہت آرام و اطمینان کے ساتھ ایک سبزہ زار میں گھاس چر رہا تھا۔ اچانک اُسے دور جھاڑیوں میں کسی بھیڑیئے کی موجودگی کا شائبہ گزرا ، لیکن یہ گمان ایک لحظہ بھر کے لئے بھی نہ تھا ، گدھے نے اسے اپنا وہم قیاس کیا اور پھر سے ہری ہری گھاس کی طرف متوجہ ہوگیا۔ کچھ دیر بعد اُسے کچھ دور جھاڑیوں میں سرسراہٹ محسوس ہوئی وہ ایک لمحے کے لئے چونکا پھر اپنے وہم پر مسکرا دیا اور اطمینان سے گھاس سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ ذرا توقف کے بعد اُسے پھر سے جھاڑیوں میں ہلچل محسوس ہوئی بلکہ اب تو اُسے بھیڑیا نظر بھی آگیا لیکن اُسے اب بھی یقین نہیں آیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔۔
 

جاویداقبال

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
حرام حلال کا تصور
راجہ گدھ بانوقدسیہ کاایک بہترین ناول ہےاس کےناول پڑھتےہوئےحرام حلال کی تھیوری جوانہوں نےپیش کی ہےمیرےخیال میں واقعی میں ایسی تھیوری کسی بھی مغرب زدہ سائنسدان کی مستعارلی ہوئی نہیں ہےبلکہ سوفیصدی مشرقی تھیوری ہےاورایساآئیڈیاہےجس پریقین کرنےکوجی چاہتاہےاوریہی وجہ ہےاس کوجب میں اپنےمعاشرےمیں لاگوکی بات کرتاہوں تویہ ڈیپریشن،خودکشیاں، یہ لڑائی جھگڑے یہ ایکدوسرےسےحسد،یہ بات بات پردوسرےبندےکوقتل کرنا،بلکہ کئی ایسی باتیں ہیں جوکہ اس آئیڈیےپرحقیقت بنتی ہیں۔ اب آپ بھی “راجہ گدھ”بانوقدسیہ صاحبہ کےاس حرام اورحلال کی تشریح پڑھیں۔
حرام حلال کا تصور (راجہ گدھ – بانو قدسیہ)

والسلام
جاویداقبال
 

جاویداقبال

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کاتب وحی تھےلیکن اس کی شخصیت کوبہت زیادہ متنازع بناکرپیش کیاجاتارہاہےحالانکہ آپ ممتاز صحابی رسول تھےاورسب سےبڑھ کرکاتب وحی تھےلیکن ان کےبارےمیں ایسی افواہیں پھیلائیں جاتیں رہیں کہ الامان اللہ۔ لیکن ہماری بھی بدقسمتی ہےکہ ہم نےبھی بجائےتحقیق کےاس پروپیگنڈےکاحصہ بنناپسندکیا۔اوران کےخلاف ایک متضادرائےقائم کرلی۔ کیونکہ پروپیگنڈہ ایک ایساہتھیارہےاوریہودی مشینری اس کواستعمال کرنابہت اچھی طرح جانتی ہےاسی وجہ سےہمارےبہت سےلوگ اس پروپیگنڈےکاشکارہوئےہیں۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ

والسلام
جاویداقبال
 

مغزل

محفلین
ایک عرصے بعد کوئی ’’ اظہاریہ ‘‘۔۔۔۔
’’بَن باس کا شیر ۔۔۔فلک شیرزمان‘‘
ایک شعری مجموعہ کا تعارف، تبصرہ
’’ شاعرِنغز گوئے خوش گفتار‘‘ کی ذیل میں موجودہ نقاد حضرات کی روش کو دوام عطا کرتے ہوئے ’’کیمیائی مساواتی‘‘(دوہرے تعاملات کے سے)انداز میں ’’ نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر ‘‘کے ’’ دامنِ قرطاس ‘‘میں’’ فصاحت ِ معانی‘‘ اور’’ بلاغتِ شعری ‘‘کی ’’بلند قامتی، پروازی خیال ، انتخاب ہائے مضامین، لطفِ جلوہ ہائے معانی ، رفعتِ فہم و تدبر، طرزِ تخاطبِ نطق، گزارشِ احوالِ واقعی، انشراح ِ واردات ِ دل‘‘(وغیرہ)کو ’’گنجینہِ ادب کے جو ہرِ تابدار ‘‘ کو’’ سزاوار ِ مدح ‘‘ کا منصب عطا کیا ہے ۔ اور ’’اہالیانِ فکرو دانش‘‘ سے ’’ اس نومولود‘‘ مگر ’’ پروقارآواز‘‘ کی رہنمائی کی طرف رجھانے اور ’’ کونپلانِ گل ِتخلیق‘‘ کی آبیاری پر آمادہ کرنے کی کوشش میں قلم کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے خون تھکوادیا۔۔ ۔۔حق مرحوم موصوف کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان پر رحم۔۔۔۔
مکمل متن ملاحظہ کیجے
 

مغزل

محفلین
“راھبر“ کا ”عظیم راہی‘‘
(از: م۔م۔مغل)
دیگر شعبوں کی طرح شعبۂ ادب بھی گزشتہ دودہائیوں سے کسی اجاڑ خلا کا منظر پیش کررہا ہے ، یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ ادبی حلقے تہذیبی رویوں سے کٹ کر تخلیق ہونے والے ”ادب“ کی بہتات اور ”ادبِ اصل “ کی روبہ زوالی کا نوحہ کرتے پھرتے ہیں جبکہ نسلِ نو پر فی الحال یہ نوحے اثر کرتے نظر نہیں آتے، امیدِ واثق ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید پڑھیں
 

جاویداقبال

محفلین
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں ، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اُٹھتی ہے ، گردُوں پہ گذر رکھتی ہے

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیرگیا نالہء فریاد مرا

جواب شکوہ - علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ

والسلام
جاویداقبال
 

مغزل

محفلین
پول:: فیصلہ کن معرکے پر ''ذوالقرنین''بادشاہ کا میدان سے فرار ۔ آپ کے نزدیک ۔۔ (اپنی رائے شامل کیجیے)
اظہاریہ :: “بادشاہ‘‘ ذوالقرنین کا کارنامہ اور مزید جگ ہنسائی
یہ واقعہ بظاہر جتناسادہ نظر آرہا ہے ویسا نہیں ، ذوالقرنین کے مختلف بیانات سے اس واقعے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اس موقع پر کچھ سوال سر اٹھاتے ہیں کہ ، کھلاڑیوں کا پاسپورٹ چونکہ بورڈ کی ملکیت ہوتا ہے تو اسے اتنی آسانی سے کیسے فراہم کردیا گیا، دوم یہ کہ پی سی بی کی انتظامیہ اس وقت سورہی تھی جب ذوالقرنین ناشتے کی میز پر نہ پہنچے اور کسی کو تشویش نہ ہوئی ، سوم یہ کہ برطانیہ کا ویزہ کیا اتنا ہی آسان ہے جیسا کہ ونڈوشاپنگ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید پڑھیں
 

مغزل

محفلین
’’ آئینہ کیوں نہ دوں ؟ ‘‘
ایک نیا اظہاریہ ۔۔ ناطقہ سے ناطق کا سفر
ناطقہ سے ناطق کا سفر ، آپ کی محبتوں اور مفید مشوروں سے ممکن ہوا ہے ، اس اظہاریہ میں‌میری کوشش ہوگی کہ معاشرے کے ناسوروں، سماجیات سیاسیات مذہبیات سمیت زندگی کے دیگر شعبوں کے مسائل اور ناہمواریوں کا احاطہ کیا جائے اور بگاڑ کی نشاندہی کے بعد درستگی کی کوشش کی جائے ،معاشرت اور سماجیات پر "کلکِ خونخوار و برق و بار " کی بننے بجائے شائستہ رویہ ۔۔۔۔۔۔ آپ کی رائے مقدم ہے
 

سندس راجہ

محفلین
عادل عدالت کا عادل فیصلہ

پیغامبر وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے، کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ سمرقند لوٹ کر پیغامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی، خط تو اُسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے اُنہیں شکایت تھی، اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ مگر پھر بھی خط لیکر مجبورا اُس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔ حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی (جمیع نام کا ایک شخص) کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔


عادل عدالت کا عادل فیصلہ مکمل یہاں سے پڑھیں
 

مغزل

محفلین
اردو اظہاریہ نویسوں کا اجتماع یا اجتماع ضدین

شعیب صاحب شادی کے بعد بھاوج سے پہلا جھوٹ
ہم خاصے خاموش رہے
مملکت ِ پاکستان کے حکمرانوں کی طرح اس بار ہمارا کوئی ایجنڈا نہ تھا
خاتون نما لڑکی نے فرنگی زبان میں تشکر آمیز کلمات ادا کیے تو ہمارے منھ سے بے ساختہ"جیتی رہو بٹیا " نکلا ۔
نتیجہ : وہی ڈھاک کے تین پات / کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنہ
مزید پڑھیں
 
Top