ظہیراحمد غزل

  1. ظہیراحمدظہیر

    کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی

    احبابِ محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش ہے۔ آپ سب کے حسنِ ذوق کی نذر! گر قبول افتد زہے عز و شرف! ٭٭٭ کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں نئی مشعل ِ تمنا ترے نام کی جلائی اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی...
  2. ظہیراحمدظہیر

    آخر میں کھلا آکر یہ راز کہانی کا

    احبابِ کرام ، محفل پر اپنا پرانا کلام لگانے کا سلسلہ ایک تعطل کے بعد پھر سے شروع کررہا ہوں ۔ نوید یہ ہے کہ اب سات آٹھ یا اتنی ہی اور غزلیں باقی بچی ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ ہی دنوں میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچے گا ۔ دو تین تازہ غزلیں بھی اپنی باری کا انتظار کرہی ہیں ۔ :):):) ۔ ایک غزل آپ احباب کے...
  3. ظہیراحمدظہیر

    یقینِ نور ہو دل میں تو شب گوارا ہے

    احبابِ بزمِ سخن! آپ کی خدمت میں ایک دوغزلہ پیش کررہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے ۔ یقینِ نور ہو دل میں تو شب گوارا ہے سحر نے رات کے اُس پار سے پکارا ہے نہ کھاؤ خوف طلسماتِ منظرِ شب سے فریبِ شعلۂ ظلمت ہے جو نظارہ ہے بندھا ہوا ہے نگاہوں سے مہرِ تاباں تک چلے چلو...
  4. ظہیراحمدظہیر

    مشعلِ حرف لئے نور بکف ہوجائیں

    احبابِ گرامی قدر! ایک اور پرانی غزل پیشِ خدمت ہے ۔ اس کے کچھ اشعار شاید مبہم سے محسوس ہوں کہ پانچ چھ سال پہلے کے حالات اور پس منظر میں کہے گئے تھے۔ امید ہے کہ دو چار اشعار آپ کو پسند آجائیں گے۔ ٭ مشعلِ حرف لئے نور بکف ہو جائیں کاش ہم اپنے زمانے کا شرف ہوجائیں عقل کہتی ہے چلو ساتھ زمانے کے...
  5. ظہیراحمدظہیر

    اِن غزالوں کو بھلا کس کے ٹھکانے کی خبر

    محترم احبابِ محفل کی خدمت میں ایک اور غزل حاضر ہے۔ یہ تقریباً تین سال پرانا کلام ہے ۔ امید واثق ہے کہ آپ صاحبانِ ذوق کو ایک دو اشعار ضرور پسند آئیں گے ۔ ٭ اِن غزالوں کو بھلا کس کے ٹھکانے کی خبر پوچھئے خارِ مغیلاں سے دِوانے کی خبر خاک چھانوں تری گلیوں کی بتا میں کب تک دے مرے شہر کوئی یار...
  6. ظہیراحمدظہیر

    اُجلی رِدائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ

    دو سال پرانی ایک غزل آپ احباب کے حضور پیشِ خدمت ہے ۔ اس میں چند اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ شاید آپ کو پسند آئیں ۔ آپ کی باذوق بصارتوں کی نذر! ٭ اُجلی رِدائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ آئینہ مت دکھائیے ، جھوٹا کہیں گے لوگ شاخیں گرا رہے ہیں مگر سوچتے نہیں پھر کس شجر کی چھاؤں کو سایہ کہیں گے...
  7. ظہیراحمدظہیر

    کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں

    ایک اور پرانی غزل احبابِ بزمِ سخن کے ذوق کی نذر! شاید ایک دو اشعار ڈھنگ کے ہوں اور آپ کو پسند آجائیں ۔ گر قبول افتد ۔۔۔۔۔ کب سے لگی ہے اُس کی نشانی کتاب میں کاغذ مڑا ہوا ہے پرانی کتاب میں خلقِ خدا میں ٹھہری وہی سب سے معتبر لکھی نہ جا سکی جو کہانی کتاب میں طاقت ہے کس قلم میں...
  8. ظہیراحمدظہیر

    راہبر دیکھ لئے ، راہ گزر دیکھ آئے

    احباب کرام ! ایک پرانی غزل پیشِ خدمت ہے ۔ اس کے اکثر اشعار چند سال پہلے پاکستان سے واپسی کے سفر کے دوران لکھے گئے تھے۔ اگر آج کل کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر اتنےپرانے محسوس نہیں ہوتے ۔ شاید آپ کو پسند آئیں ۔ راہبر دیکھ لئے ، راہ گزر دیکھ آئے بیچ رستے سے ہم انجامِ سفر دیکھ آئے...
  9. ظہیراحمدظہیر

    اپنوں نے بھی منّت کی ، غیروں نے بھی سمجھایا

    ایک اور پرانی غزل کے کچھ اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔ آپ احباب کی بصارتوں کی نذر! اپنوں نے بھی منّت کی ، غیروں نے بھی سمجھایا کرنا تھا جو اِس دل نے کیا ، باز نہیں آیا نالہ كبهی کھینچا ہے ، تو گیت كبهی گایا نازِ شبِ ہجراں تو كسی طور نہ اُٹھ پایا دیکھا تھا کبھی جس کی گلیوں میں...
  10. ظہیراحمدظہیر

    ناخداؤں کے کھلے کیسے بھرم پانی میں

    آج پھر ایک پرانی غزل آپ احباب کے ذوقِ لطیف کی نذر کررہا ہوں ۔ ایک دور میں مشکل زمینوں میں طبع آزمائی کا شوق ہوا تھا ۔ یہ انہی دنوں کی یادگار ہے۔ شاید آپ کو کچھ اشعار پسند آئیں ۔ ناخداؤں کے کھُلے کیسے بھرم پانی میں کیا سفینے تھے کئے غرق جو کم پانی میں شہر کا شہر ہوا گریہ کناں مثلِ...
  11. ظہیراحمدظہیر

    روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے

    احبابِ کرام ! ایک غزل آپ کی بصارتوں کی نذر اِس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی لفظ باریابِ ذوق ہوجائے ۔ روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے جل رہے ہیں جو چراغ اُن کو شرف سے دیکھئے اِس طرح ہو جائے شاید دوست دشمن کی تمیز اپنے لشکر کو کبھی دشمن کی صف سے دیکھئے سازشوں کے سلسلے چارہ گری کے...
  12. ظہیراحمدظہیر

    کسی بھی عشق کو ہم حرزِ جاں بنا نہ سکے

    ایک اور پرانی غزل احبابِ محفل کی خدمت میں ! اب کچھ زیادہ کلام نہیں بچا ۔ چند غزلیں اور دو ایک نظمیں اور باقی ہیں جو باری باری آپ کے ذوق کی نذر کرنے کا شرف حاصل کروں گا۔ غزل کسی بھی عشق کو ہم حرزِ جاں بنا نہ سکے انا کا بوجھ تھا اتنا کہ کچھ اٹھا نہ سکے فصیلیں ساری گرادیں جو درمیان...
  13. ظہیراحمدظہیر

    کس کس کی زد پہ ہوں مجھے معلوم تو ہوا

    احبابِ کرام ! ایک اور پرانی غزل آپ کے ذوقِ سخن کی نذر ہے۔ شاید ایک آدھ مصرع آپ کے ذوقِ لطیف کو سیراب کردے ۔ غزل ویسے میں ہر حلیف سے محروم تو ہوا کس کس کی زد پہ ہوں مجھے معلوم تو ہوا کھوئے ہوئے کھلونے کی انتھک تلاش میں دنیا سے آشنا کوئی معصوم تو ہوا بکھرا ہوا تھا میرا فسانہ مری طرح اشعار...
  14. ظہیراحمدظہیر

    قصّہ مرا بھی تشنہء انجام رہ گیا

    ایک پرانی غزل احبابِ کرام کی خدمت میں ! کارِ وفا محال تھا ، ناکام رہ گیا قصّہ مرا بھی تشنہء انجام رہ گیا شب کوبھی میں چھڑا نہ سکا رہن ِدرد سے دن بھی اسیر ِگردشِ ایّام رہ گیا ظلمات ِپُرفریب میں اُلجھی رہی نظر محروم ِ دید ماہ ِ سر ِ بام رہ گیا تکتا ہوں چھوٹ کر بھی کمیں گاہِ دہر کو دل...
  15. ظہیراحمدظہیر

    اک شخص شہر ِ ہجر میں گمنام مرگیا

    ایک غزل آپ احبابِ ذوق کی خدمت میں پیش کرتا ہوں - شاید آپ کو کچھ اشعار پسند آجائیں ۔ اپنی متاعِ خواب مرے نام کرگیا اک شخص شہر ِ ہجر میں گمنام مرگیا ترکِ جنون کرکے بیاباں سے گھر گیا بازی نبردِ عشق کی دیوانہ ہر گیا اِس رقص ِگردبادِ غم ِ روزگار میں ہر جامہء لحاظ بدن سے اتر گیا سورج کو...
  16. ظہیراحمدظہیر

    چراغِ شام جلا ہے کہ د ل جلا کوئی

    ایک غزل جو پچھلے سال لکھی تھی آج مختلف کاغذوں سے صفحہء ویب پر منتقل کررہا ہوں ۔ احبابِ ذوق کی خدمت میں پیش ہے ۔ گر قبول افتد ۔۔۔ غزل چراغِ شام جلا ہے کہ د ل جلا کوئی حصارِ ضبطِ فغاں سے نکل چلا کوئی نہ کوئے یار میں آوارہ کوئی دیوانہ نہ بزمِ یار میں باقی ہے منچلا کوئی بدل گیا ہے سراسر مزاجِ...
  17. ظہیراحمدظہیر

    ہواؤں کی زد پہ دیا زندگی کا

    ایک نسبتاً تازہ غزل احبابِ ذوق کی خدمت میں پیش ہے ۔ ہواؤں کی زد پہ دیا زندگی کا! وطیرہ یہ ہم نے رکھا زندگی کا عدم سے ملا ہے سرا زندگی کا مکمل ہوا دائرہ زندگی کا یہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں پھر جب آگے سے پردہ ہٹا زندگی کا ستم بھی دکھائے سبھی تیرے غم نے سلیقہ بھی مجھ کو دیا زندگی...
  18. ظہیراحمدظہیر

    نہ وہ ملول ہوئے ہیں ، نہ ہم اداس ہوئے

    نہ وہ ملول ہوئے ہیں ، نہ ہم اداس ہوئے مزاج ترکِ تعلق پہ بے لباس ہوئے بجھائے ایسے ہوا نے چراغِ خوش نظری فروغِ دید کے موسم بھی محوِ یاس ہوئے ہم اعتراض تھے ناقد مرے قصیدوں پر جمالِ یار کو دیکھا تو ہم سپاس ہوئے مری نظر میں خود اپنے ہی نقطہ ہائے نظر نہیں جو تیرا حوالہ تو بے اساس ہوئے یہ کار...
  19. ظہیراحمدظہیر

    دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہوگئی

    دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہوگئی دل تھما تو گردشِ حالات گہری ہو گئی کیسے اندازہ لگاتا اپنی گہرائی کا میں اپنی تہہ تک جب بھی پہنچا ذات گہری ہو گئی زندگی نے ہونٹ کھولے لفظ سادہ سے کہے تجربے نے آنکھ کھولی بات گہری ہو گئی چاندنی کی آس میں ہم دیر تک بیٹھے رہے ڈھونڈنے نکلے دیا جب رات...
  20. ظہیراحمدظہیر

    جگنو شعورِ ذات کا مشعل سے کم نہیں

    اس شہرِ شب زدہ میں کہ جنگل سے کم نہیں جگنو شعورِ ذات کا مشعل سے کم نہیں اک مختصر سا لمحۂ بے نور و بے یقین تقویمِ شب میں ساعتِ فیصل سے کم نہیں اک یاد ِ مشکبو تری زلفِ سیاہ کی چشمِ شبِ فراق میں کاجل سے کم نہیں دامانِ احتیاج میں دینارِ بے کسب جوفِ شکم میں تیغ ِ مصقّل سے کم نہیں حاصل...
Top