ظہیراحمد غزل

  1. ظہیراحمدظہیر

    نہ وہ ملول ہوئے ہیں ، نہ ہم اداس ہوئے

    نہ وہ ملول ہوئے ہیں ، نہ ہم اداس ہوئے مزاج ترکِ تعلق پہ بے لباس ہوئے بجھائے ایسے ہوا نے چراغِ خوش نظری فروغِ دید کے موسم بھی محوِ یاس ہوئے ہم اعتراض تھے ناقد مرے قصیدوں پر جمالِ یار کو دیکھا تو ہم سپاس ہوئے مری نظر میں خود اپنے ہی نقطہ ہائے نظر نہیں جو تیرا حوالہ تو بے اساس ہوئے یہ کار...
  2. ظہیراحمدظہیر

    دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہوگئی

    دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہوگئی دل تھما تو گردشِ حالات گہری ہو گئی کیسے اندازہ لگاتا اپنی گہرائی کا میں اپنی تہہ تک جب بھی پہنچا ذات گہری ہو گئی زندگی نے ہونٹ کھولے لفظ سادہ سے کہے تجربے نے آنکھ کھولی بات گہری ہو گئی چاندنی کی آس میں ہم دیر تک بیٹھے رہے ڈھونڈنے نکلے دیا جب رات...
  3. ظہیراحمدظہیر

    جگنو شعورِ ذات کا مشعل سے کم نہیں

    اس شہرِ شب زدہ میں کہ جنگل سے کم نہیں جگنو شعورِ ذات کا مشعل سے کم نہیں اک مختصر سا لمحۂ بے نور و بے یقین تقویمِ شب میں ساعتِ فیصل سے کم نہیں اک یاد ِ مشکبو تری زلفِ سیاہ کی چشمِ شبِ فراق میں کاجل سے کم نہیں دامانِ احتیاج میں دینارِ بے کسب جوفِ شکم میں تیغ ِ مصقّل سے کم نہیں حاصل...
  4. ظہیراحمدظہیر

    کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر

    ایک بہت ہی پرانی غزل سرکلر فائل سے آپ کی نذر۔ اس کا سارا عذاب ثواب محمد تابش صدیقی کے ذمے ہے ۔ سجا کے شبنمی آنسو گلاب چہرے پر کہانی لکھ گیا کوئی کتاب چہرے پر نظر سے اٹھتا ہے برباد جنتوں کا دھواں سلگ رہے ہیں ہزاروں عذاب چہرے پر نگاہیں ساتھ نہیں دیتیں شوخیٔ لب کا جھلک رہی ہے حقیقت سراب...
  5. ظہیراحمدظہیر

    نظم ِ نو آ گیا ، انصاف نرالا دیگا

    احبابِ کرام ! ایک بارہ سال پرانی غزل پیشِ خدمت ہے ۔ شاید کوئی شعر آپ کو پسند آئے ۔ نظم ِ نو آ گیا ، انصاف نرالا دیگا بیچ کر مجھ کو مرے منہ میں نوالا دیگا فرق مٹ تو گئے مابین ِ سفید و سیہ اب اور کتنا یہ نیا دور اُجالا دیگا جس کی خاطر میں نے پہچان گنوائی اپنی اب وہی میرے تشخص کو حوالہ...
  6. ظہیراحمدظہیر

    زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہوگئے

    زندہ ہزاروں لوگ جہاں مر کے ہوگئے ہم بھی خدا کا شکر اُسی در کے ہوگئے جو راس تھا ہمیں وہی قسمت نے لکھ دیا ہم جور آشنا تھے ستم گر کے ہوگئے نکلے تھے ہم جزیرۂ زر کی تلاش میں ساحل کی ریت چھوڑ کے ساگر کے ہوگئے کچھ ایسا رائگانیٔ دستک کا خوف تھا پہلا جو در کھلا ہم اُسی در کے ہوگئے میرے ستم گروں کا...
  7. ظہیراحمدظہیر

    راہوں کا خوف ہے نہ مجھے فاصلوں کا ڈر

    ایک پرانی غزل دستیاب ہوئی ہے ۔ ایک زمانے میں چند غزلیں نئے طرز کے آزاد قوافی کے ساتھ لکھی تھیں ۔ ان میں سے ایک غزل ’’ یہ شاعری تو نہیں ہماری ، یہ روزنامہ ہے ہجرتوں کا ‘‘ آپ پہلے دیکھ چکے ہیں ۔ میں اپنی اس غزل کو کئی اور غزلوں کی طرح رد کرچکا تھا لیکن ایک دوست کے کہنے پر یہاں پیش کرنے کی جسارت...
  8. ظہیراحمدظہیر

    تازہ غزل : دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے

    دیارِ شوق کے سب منظروں سے اونچا ہے یہ سنگِ در ترا سار ےگھروں سے اونچا ہے مقامِ عجز کو بخشی گئی ہے رفعتِ خاص جو سر خمیدہ ہے وہ ہمسروں سے اونچا ہے فرازِ طور کی خواہش نہ کر ابھی اے عشق! یہ آسمان ابھی تیرے پروں سے اونچا ہے خدا مدد! کہ یہ شیطانِ نفسِ امّارہ مرے اُچھالے ہوئے کنکروں سے اونچا...
Top