1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہوگئی

ظہیراحمدظہیر نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 12, 2018

  1. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,917
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    دوستی گردش کی میرے ساتھ گہری ہوگئی
    دل تھما تو گردشِ حالات گہری ہو گئی

    کیسے اندازہ لگاتا اپنی گہرائی کا میں
    اپنی تہہ تک جب بھی پہنچا ذات گہری ہو گئی

    زندگی نے ہونٹ کھولے لفظ سادہ سے کہے
    تجربے نے آنکھ کھولی بات گہری ہو گئی

    چاندنی کی آس میں ہم دیر تک بیٹھے رہے
    ڈھونڈنے نکلے دیا جب رات گہری ہو گئی

    کیا بتاؤں چشمِ نم کا حال اُس کو دیکھ کر
    سائباں جب مل گیا برسات گہری ہوگئی

    میرے بازی جیتنے پر ہو گئے ناراض دوست
    دوستانہ کھیل تھا اور مات گہری ہوگئی

    (۲۰۱۱)
     
    • زبردست زبردست × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    15,397
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت خوب!
    ایک پیاری سی غزل۔
    بہت خوب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,785
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت عمدہ ظہیر بھائی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    14,939
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    کمال است ظہیر بھائی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,955
    بہت خوب!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    2,329
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    خوش آمدید ظہیر بھائی :) آپ کو دیکھ کر بے انتہا خوشی ہوئی :)

    بے انتہا شاندار غزل ہے۔ ہر شعر لاجواب ہے (y)(y)(y)(y)(y)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. یاسر شاہ

    یاسر شاہ محفلین

    مراسلے:
    1,500
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    السلام علیکم
    محترمی و مکرمی اس غزل کی زمین آپ نے نہایت دشوار منتخب کی ہے لہٰذا فکر سخن کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ چند تراکیب نئی درآمد ہوگئیں جیسے گردش حالات گہری ہوگئی ' مات گہری ہوگئی اور برسات گہری ہو گئی -:?

    یہ شعر خوب ہے :

    کیسے اندازہ لگاتا اپنی گہرائی کا میں
    اپنی تہہ تک جب بھی پہنچا ذات گہری ہو گئی


    البتہ ذوق دوسرے مصرع میں "مزید" یا "اور " جیسے کسی لفظ کا متلاشی ہے -


    طالب دعا

    یاسر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,917
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ یاسر بھائی ، بہت شکریہ ! توجہ کے لئے بہت ممنون ہوں ۔
    آپ جانتے ہی ہیں کہ نثر اور شعر میں وزن کے علاوہ اختصار ایک بڑا اہم اورنمایاں فرق ہے ۔ اکثر اوقات اختصار کی خاطر شعر میں کئی الفاظ حذف کردیئے جاتے ہیں اور ان سے شعر کے معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ غالب کا یہ شعر دیکھئے:

    موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    اس کو اگر نثر میں لکھاجائے تو کچھ ایسی صورت بنے گی : جب موت کا ایک دن معین ہے تو پھر نیند رات بھر کیوں نہیں آتی ؟ لیکن شعر میں "جب "اور "تو پھر "کے الفا محذوف ہیں ۔ گویا موجود ہیں لیکن پڑھے نہیں جارہے ۔ شعر کا مطلب بالکل واضح ہے اور بیانیہ مکمل ہے۔

    کیسے اندازہ لگاتا اپنی گہرائی کا میں
    اپنی تہہ تک جب بھی پہنچا ، ذات گہری ہوگئی

    دوسر ےمصرع میں "جب بھی "کے الفاظ ایک مکرراور بار بار کےعمل کو ظاہر کررہے ہیں ۔یعنی جب بھی اپنی تہہ تک پہنچتا ہوں ذات پہلے سے بھی گہری ہوجاتی ہے ۔ اس کی تہہ ملتی ہی نہیں ۔ اس پیرائے میں " پہلے سے بھی" یا "مزید" کے الفاظ محذوف ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بیانیہ مکمل ہے اور بات بغیر کسی قباحت کے واضح طور پرسمجھ میں آجاتی ہے ۔ کوئی الجھن نہیں ۔ میری ناقص رائے میں ایسی صورت میں کسی لفظ کا محذوف ہونا شعر کا سقم نہیں ہوگا کہ معنی اور اس کے ابلاغ پر کوئی اثر نہیں پڑرہا ۔

    شاہ صاحب ، مطلع کی حد تک آپ سے متفق ہوں ۔ یہ سات آٹھ سال پرانی غزل ہے میں اسے رد کرچکا تھا لیکن دوتین اشعار چونکہ ڈھنگ کے تھے اس لئے شیئر کرنے میں قباحت محسوس نہ کی ۔ مطلع نکالنا چاہتا تھا لیکن بغیر مطلع کے غزل مجھے پسند نہیں ۔ مرمت کرنے کی بھی اب ہمت نہیں۔ سو طوعاً وکرہاً یونہی رکھ لیا ۔ ۔ مات اور برسات کے بارے میں البتہ رعایت لی جاسکتی ہے ۔ گہری چال ہونا یا گہری چال چلنا شطرنجیوں کی اصطلاح ہے ۔ اسی کی رعایت سے گہری مات ہونا اتنا برا نہیں ۔ اسی طرح دھند اور کہر کا گہرا ہونا معروف ہے سو اسی کی نسبت سے برسات کا گہرا ہونا بھی قابلِ فہم ہے ۔ مسئلہ عموماً تب ہوتا ہے جب اس طرح کی ترکیب یا تو خلافِ واقعہ ہو ، غیر معقول ہو یا خلافِ محاورہ ہو ۔ مثلاً برسات گہری ہوگئی کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ برسات گہری بن گئی تو یقیناً یہ قابلِ قبول نہ ہوگا ۔ اسی طرح کی رعایت میں نے ذات گہری ہوگئی میں بھی لی ہے ۔ ذات گہری ہونا معروف نہیں ۔ لیکن شخصیت گہری ہونا معروف ہے ۔ اسی کی رعایت سے ذات کا گہرا ہونا قابلِ قبول اور گوارا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ شاعر کو لفظوں سے کھیلنے کی اجازت تو ہے لیکن حدود و قیودکے اندر۔ :):):)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,140
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    مزہ آ گیا کمال غزل بہت خوبصورت اشعار
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر