شاد

  1. کاشفی

    سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں - خوشبیر سنگھ شادؔ

    غزل (خوشبیر سنگھ شادؔ) سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں مگر ساحل پہ ٹوٹی کشتیاں کچھ اور کہتی ہیں ہمارے شہر کی آنکھوں نے منظر اور دیکھا تھا مگر اخبار کی یہ سُرخیاں کچھ اور کہتی ہیں ہم اہلِ شہر کی خواہش کہ مِل جُل کر رہیں لیکن امیرِ شہر کی دلچسپیاں کچھ اور کہتی ہیں
  2. فرخ منظور

    تمنّاؤں میں الجھایا گیا ہوں ۔ شاد

    غزل تمنّاؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں ہوں اس کوچے کے ہر ذرّے سے واقف ادھر سے عمر بھر آیا گیا ہوں دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم میں خود آیا نہیں، لایا گیا ہوں سویرا ہے بہت اے شورِ محشر ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے بھری محفل سے اٹھوایا گیا...
  3. کاشفی

    آکے تربت پہ بہت روئے ، کیا یاد مجھے - شاد پیر و میر

    غزل (شاد پیر و میر) شیخ محمد جان نام، تخلص شاد ، مشہور بہ شاد پیر و میر ، باپ کا نام شیخ وارث علی، دادا شیخ فضل علی لکھنؤ کے قدیم شیخ زادے تھے۔ حضرت محمد بن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل سے تھے۔ اجداد مذہب حنفی سنی رکھتے تھے۔ مگر عہد شاہی میں شیعہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔ شاد پیر...
Top