شہرِ لاہور کے دروازوں کی بات ہو تو ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ باکمال و لازوال اشعار ذہن میں نہ آئیں۔
دس کھاں شہر لاہور اندر
کنے بُوہے تے کنیاں باریاں نے
نالے دس کھاں اوتھوں دیاں ایٹاں
کنیاں ٹوٹیاں نے تے کنیاں ساریاں نے
دس کھاں شہر لاہور اندر
کھویاں کنیاں مٹھیاں نے تے کنیاں کھاریا ں نے
ذرا سوچ کے...
آ چنوں رل یار
پیلوں پکیاں نی وے
پیلو پک گئی ہیں، میرے دوست آ جاؤ انہیں مل جل کر اکٹھا کریں
کئی بگڑیاں کئی ساویاں پیلیاں
کئی بھوریاں کئی پھِکڑیاں نیلیاں
کئی اودیاں گلنار
کٹویاں رتیاں نی وے
یہ بہت ہی خوبصورت رنگوں کی ہیں۔ ان میں کچھ سفید ہیں، کچھ سبز اور زرد ہیں، کئی بھوری اور ہلکے رنگ کی ہیں،...
جلیل اور راجا کے ساتھ کچھ اور دلچسپ کردار بھی ہوتے تھے اس سیریز میں، جیسے ہمسائی خالہ لاؤڈ سپیکر، شنو، فتو (اپنے ہوٹل میں بہت اونچی آواز میں ڈیک چلانے والا) وغیرہ
میانِ عاشق و معشوق ہیچ حائل نیست
تو خود حجابِ خودی حافظ ازمیاں برخیز
(حافظ شیرازی)
عاشق اور معشوق کے درمیان کوئی آڑ نہیں رہی اب۔ اے حافظ تو خود ہی اپنے لئے پردہ ہے، درمیان سے اٹھ جا۔
جی جی اس شرط پہ تو ناظم بھائی بھی مان جائیں گے۔
ورنہ اگر ہیٹ میں سے کبوتر نکالنے، آگ کے دائرے سے کود کے گزرنے یا چار گیندوں کو بیک وقت اچھالنے جیسی شرائط ہوتیں تو پھر وہی ہونا تھا جیسے
کاغذ میں اک دھاگا
چھوڑ کے ناظم بھاگا
وغیرہ
:hatoff:
واہ واہ جناب۔ کیا کہنے
اسی ضمن میں ایک بے وزن شعر عرض کیا ہے
وہ جو ہمہ دم ریشہ خطمی تھا مجھ پہ، وہ تم تھے
وہ جس کی بونگیوں پہ لائکس کی بھرمار تھی، میں تھا
ماشااللہ۔ چندے آفتاب چندے ماہتاب
محترم ناظم رضا مصباحی صاحب! جیسا خوبصورت اور شاعرانہ آپ کا نام ہے، بخدا خط بھی ویسا ہی کمال ہے۔ بلاشبہ آپ میدانِ خوشخطی کے شہسوار ہیں۔
ہاہاہا
میں سب سمجھ رہا ہوں جی۔ آپ جناب سب دامِ ہمرنگِ زمیں بچھا رہے ہیں بندۂ ناچیز کی "غمگین خطی" کو شیئر کروانے کے لئے۔ لیکن یہ خاکسار تو پہلے ہی چھاچھ کا جلا ہے :thinking2:۔
واہ واہ جناب۔ کیا آئیڈیا ہے
اسی کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قلم پکڑنے والی انگلیوں کے ساتھ ایکسیلرومیٹر چسپاں کیا جائے اور دورانِ خوشخطی (احقر کے کیس میں غمگین خطی) ایکسیلرومیٹر کے بدن سے پھوٹنے والے ایرر سگنلز کو پی سی میں ان پٹ دے کر کسی ادق سی زبان میں کوڈ تحریر فرمایا جاوے جو کہ اسی خوشخطی کو...
وہی تو۔
میں اردو اور انگریزی لکھائی کی متعلقہ لڑیوں کے لئے اپنی "غمگین خطی" میں کم از کم چار چار بار الفاظ کو قلمبند کر چکا ہوں۔ لیکن شیئر کرنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ کہیں اردو محفل سے دیس نکالا ہی نہ دے دیا جائے :unsure:۔