میرا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہمارے بے شمار دانشوروں کا ریٹائرمنٹ کے بعد یا چپڑی اور دو دو کھا چکنے کے بعد ہی کیوں ایمان جاگتا ہے۔ شہاب صاحب کی طرح ایک اور بزرگوار "روئیداد خان" ایوب خان کے دور کا اہم ترین بیوروکریٹ تھا اور اب آمریت کے خلاف بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں آغا حشر کے کرداروں جیسا جوش و...