پکارتی ہے تمہیں بام و در کی تاریکی!
کبھی تو روشنی بخشو غریب خانے کو
کہو اندھیروں سے چاہیں تو راستہ روکیں
میں جا رہا ہوں چراغِ وفا جلانے کو
سوائے سنگِ ملامت وہ کچھ بھی لا نہ سکے
گئے تھے چاند پہ جو بستیاں بسانے کو
خدا کرے کہ سلامت رہیں ندیم مرے
تمام عمر پڑی ہے فریب کھانے کو
واہ...