پرسی تو چہ حالِ دل بد روز کہ بہرت
از زلفِ تو و رنجِ شبِ تار کشیدہ است
(حافظ شیرازی)
اس بدقسمت دل کا حال کیا پوچھتا ہے جس نے تیری خاطر۔۔۔تری زلف اور تاریک رات کا رنج برداشت کیا ہے۔
خاکسار لڑیء جدید کو لڑیء قدیم کے ساتھ باہم مدغم سمجھنے کی سہو کے رفع ہونے پہ آپ کا مشکور و ممنون ہے اور تہنیتی کلمات کی ادائیگی پہ سراپائے احسان مندی ہے۔