غزل
پسِ مرگِ تمنا کون دیکھے
مرے نقشِ کفِ پا کون دیکھے
کوئی دیکھے مری آنکھوں میں آکر
مگر دریا میں صحرا کون دیکھے
اب اس دشتِ طلب میں کون آئے
سرابوں کا تماشہ کون دیکھے
اگرچہ دامنِ دل ہے دریدہ
دُرونِ نخلِ تازہ کون دیکھے
بہت مربوط رہتا ہوں میں سب سے
مری بے ربط دُنیا کون دیکھے...