یہ بھی آپ نے ٹھیک کہا کہ اب تک یہ عادت بن چکی ہے۔ :)
لیکن اب بھی کبھی کبھی مغالطہ ہوتا ہے اور جب کبھی انپیج پر کام کرنا پڑتا ہے تو ہم یہاں والی keys وہاں پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ :D
گاڑی چل ہی رہی ہے کسی نہ کسی طرح۔ :ROFLMAO:
خوش آمدید اویس قرنی صاحب،
ویسے
غالبِ خستہ کے بغیر کونسے کام بند تھے
جو آپ یہاں چلے آئے۔ :)
(از راہ تفنن کہا ہے صرف۔ خیال مت کیجے گا۔ )
محفل میں آتے رہیے اور یہاں کی رونق بڑھاتے رہیے۔
واہ واہ واہ
فاتح بھائی بہت خوب ! یہ چار شعر بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔
خاص طور پر یہ شعر
جن کو دولت حقیر لگتی ہے
اُف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں
خوش رہیے۔
ایک بہت خوبصورت غزل ۔ ایک بہت پیارے دوست کی۔
کیا کہنے، لفظ نہیں ہیں تعریف کے لئے۔
بہت خوبصورت، بہت اعلیٰ!
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
بہت سی محبت! میرے پیارے بھائی کے لئے۔ :rose:
سبحان اللہ مغل بھیا بہت ہی خوب!
خاکسار کو یہ غزل آپ سے براہِ راست سننے کا شرف بھی حاصل ہو چکا ہے ۔ تب بھی بہت لطف آیا تھا اور اب یہاں محفل میں پڑھ کر مزہ دوبالا ہوگیا۔
بہت خوبصورت غزل ہے اور دل پر اثر کرتی ہے۔
اللہ آپ کو شاد آباد رکھے (آمین)۔