تھا جنہیں ذوقِ تماشا وہ تو رخصت ہو گئے
لے کے اَب تو وعدہء دیدارِ عام آیا تو کیا
آہ! جب گلشن کی جمعیت پریشاں ہو گئی
پھول کو بادِ بہاری کا پیام آیا تو کیا
آخرِ شب دید کے قابل تھی بِسمل کی تڑپ
صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
کیا بات ہے۔
شاعری اور اقبال کی شاعری کمال ہے بھائی۔۔۔!