سنگِ چہرہ نما تو میں بھی ہوں
دیکھیے، آئینہ تو میں بھی ہوں
کون پہنچا ہے "دشتِ امکاں" تک
ویسے پہنچا ہوا تو میں بھی ہوں
آئینہ ہے سبھی کی کمزوری
تم ہی کیا، خود نما تو میں بھی ہوں
میرا دشمن ہے دوسرا ہر شخص
اور وہ "دوسرا" تو میں بھی ہوں
ان خوبصورت اشعار کے خالق شبنم رومانی کے حوالے سے...
بہت خوب ۔۔۔۔۔!
یہ غزل مجھے بھی بے حد پسند ہے۔ ہر شعر اس کا لاجواب ہے۔
اور میڈم نور جہاں نے بھی بہت ہی اچھی گائی ہے یہ غزل۔ بلکہ شاید یہ میڈم کی واحد غزل ہے جو میں بہت شوق سے سنتا ہوں۔
محترم محمد حفیظ الرحمٰن صاحب،
بہت خوب ۔۔۔۔! ماشاءاللہ دونوں ہی غزلیں خوب ہیں اور بہت ساری داد کی مستحق بھی۔ :applause:
شکریہ کہ آپ نے مشاعرے کی رونقوں میں اضافہ کیا۔ خاکسار کی طرف سے ہدیہ ء تحسین پیشِ خدمت ہے۔